روزمرہ کام کاج میں جن لوگوں سے آپ کا واسطہ پڑتا ہے بالآخر وہ بھی آپ کی لاپرواہی کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔ آپ کے سونے جاگنے میں ربط نہیں رہتا حتیٰ کہ آپ کے احساسات کھو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوچ سہارا دے سکتی ہے کہ
والدین کے
مادی و جذباتی
وسائل محدود ہوتے ہیں!

یہاں یہ محسوس کرلینا بھی ضروری ہے کہ وہی معاشرہ جو والدین کو بچوں کی خاطر ہر حالت میں تلخیاں جھیلنے کا سبق دیتا ہے، بڑی سادگی سے نوجوانوں کے غلط رویوں، تلخیوں اور زور زبردستیوں کو محض ان کی نفسیاتی مشکلات قرار دے کر ان کو شہ دے دیتا ہے! اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین ذمہ داری کے جس عہدے پر ’’فائز‘‘ ہوتے ہیں قدرتی طور پر ہم ان سے زیادہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں لیکن ہمیں ایسا کرتے ہوئے والدین کے محدود مادی و جذباتی وسائل کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے۔

اس سے شاید کسی کو اختلاف ہو کہ والدین کے وسائل محدود ہوتے ہیں لیکن آپ بچوں کے تباہ کن روئیے جس طرح برداشت کرتے ہیں اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آپ کی سوچ کی کسی تہہ کے نیچے یہ خیال بسا ہوا ہے کہ والدین کے وسائل لامحدود ہوتے ہیں اور وہ چاہیں تو ضرورت سے زیادہ بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ صاف طور پر اس حقیقت کو پہچاننے کی کوشش کریں تو آپ کو پتا چلے گا کہ آپ جس طرح ایڑیاں اٹھا اٹھا کر اولاد کیلئے کوششیں کرتے ہیں، وہ اولاد سے آپ کی محبت اور لامحدود خواہشات کا اظہار ہے۔ والدین جب اپنی خواہشات اور فرائض کو یکساں تسلیم کر لیتے ہیں اور اندھادھند بچوں کو خوش کرنے میں لگے رہتے ہیں تو ایک دن انہیں کہنا پڑتا ہے کہ بس! یہ ہماری آخری حد ہے!

بچوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے ہم اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلا لیتے ہیں۔ جب بچے اپنے رویوں سے ہمیں دکھ دیتے ہیں اور بے جاغم و غصہ کرتے ہیں تو بھی ہم اس امید پر اپنے بچوں کے ساتھ مہربانیاں کرتے رہتے ہیں کہ شاید کسی دن وہ ہمیں پسند کرنے لگیں اور اپنے رویوں میں کوئی بہتری لے آئیں۔ اُن کی خوشنودی کی خاطر آپ اتنی دور تک چلے جاتے ہیں کہ جہاں سے واپسی بہت مشکل نظر آتی ہے۔

اپنے جذبات کے اظہار میں بھی کچھ حدود کا خیال رکھیں، انتہاؤں کو چھونا خود مریض کیلئے بہتر نہیں۔

مریض مذاکرات کرتا ہے اور گھر والے انہیں رعایات دیتے رہتے ہیں۔ اگر بچہ غلطی کرنے پر معذرت کرتاہے تو والدین فوراً معاف کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں تھوڑے سے تحمل کے مظاہرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جلد راضی باضی ہونا درست نہیں۔ آپ کے راضی ہونے پر مریض پرانے رویوں کی طرف واپس لوٹنے لگتا ہے۔

مریض کی رائے کی آپ کی نظر میں زیادہ اہمیت نہیں ہونی چاہئے۔ مریض سے اپنی جذباتی ضروریات کی تسکین نہ چاہیں ۔ والدین کی حیثیت سے اپنے وزن اور عہدے کو محسوس کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کس مقام پر دیکھ رہا ہے۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3
  • 4