بچوں کو اتنا ہی پیار دیں جتنے کہ وہ حق دار ہیں اور اتنی ہی گرفت کریں جتنی کی ضرورت ہے۔

آپ کے مالی اور جذباتی وسائل محدود ہیں اور اگر یہ ایک اٹل حقیقت ہے تو بہتر ہے یہ بات آپ نوجوانوں کو اکثر و بیشتر یاد دلاتے رہیں۔ آپ کچھ چیزیں جوبچوں کے چاہے بنا ہی مہیا کرتے رہتے ہیں اور یہ جو آپ واپسی میں اپنے بچوں سے مہربانیوں کا بدلہ نہیں چاہتے تو اس طرح آپ اپنے ہاتھوں انہیں غیر ذمہ دار بنانے کے ذمہ دار بن جاتے ہیں۔ ایک طرف تو آپ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا پوری طرح اعتراف کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں دوسری طرف آپ انہیں اپنی محبت بغیر کسی شرط کے بانٹتے رہتے ہیں۔

ایسے تو آپ اپنی انمول محبت کو خود ہی بے قیمت بنا دیتے ہیں! جب کوئی چیز مفت میں ملتی ہے تواس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے کہ آپ اپنی محبت بیچ نہیں سکتے لیکن اس میں کیا شک ہے کہ آپ اپنے بچوں سے محبت کے بدلے میں شکریہ، احترام اور تعاون کی توقع تو بہرحال رکھتے ہی ہیں۔ جب تک کسی گھر میں محبت اور تعاون کا بارٹر سسٹم کام نہیں کرتا، بدتمیزی اور ہنگامہ آرائی جیسے مسائل سراُٹھاتے رہتے ہیں۔

جتنا آپ بچوں کو مفت میں مہربانیاں کرتے ہیں اتنا ہی وہ ان چیزوں کو اپنا قدرتی حق تصور کر لیتے ہیں۔ ایسے میں جب کبھی وہ کوئی مطالبہ کرتے ہیں اور آپ پورا نہیں کر پاتے تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا حق غصب کر لیا گیا ہے اور وہ احتجاج کرتے ہوئے آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ آپ کو طعنے دینے پر اتر آتے ہیں اور آپ خود پر ناحق پریشان کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

اس کیلئے خود آپ کو اپنی جذباتی حدود کا احترام کرنا پڑے گا، اپنے جذبات کو مجروع کر کے آپ صرف رنج پائیں گے۔ آپ کیلئے بہتر ہے کہ آپ اولاد کے سامنے کھلم کھلا اس حقیقت کو مان لیں کہ آپ کے مادی اور جذباتی حدود محدود ہیں۔ پھر ان سے یہ تقاضا بھی کرنا چاہئے کہ وہ ہر حالت میں اپنی حد کے اندر رہیں کیونکہ والدین اور اولاد اپنی اپنی حد میں رہیں تو ایک دوسرے کو زحمت سے بچا سکتے ہیں۔

یہ بات صد فیصد درست ہے کہ اولاد کا وجود آپ کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہ آپ کیلئے خوشیوں کا سرچشمہ ہیں، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ محبت کے حقدار ہیں، لیکن بارہا وہ آپ کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ جیسے وہ تو محض کانچ کے کھلونے ہیں اور ہر دم ٹوٹنے کیلئے تیار رہتے ہیں، سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا والدین گوشت پوست کے انسان نہیں ہوتے؟ کیا ان کے سینے میں دل نہیں دھڑکتا؟ کیا ان کے کوئی حقوق نہیں ہوتے؟ والدین کے بھی احساسات اور ضرورتیں ہیں جن کی طرف نوجوانوں کو توجہ دینی چاہئے۔ جب آپ نوجوانوں سے تقاضا کریں گے تب ہی وہ آپ کو عزت سے نوازیں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تقاضا کرنے میں ہم اتنی دیر کیوں کرتے ہیں؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ نشہ کے بیمارکی حیثیت سے انہیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے لیکن یہ کس کتاب میں لکھا ہے کہ آپ ان کی خاطر پل پل جھوٹ بولیں، ان کی پردہ پوشیاں کریں، ان کے تاوان بھریں اور جب وہ قانون ہاتھ میں لیں تو ان کیلئے رہائی خریدیں۔ آپ کی ایسی کون سی مجبوری ہے کہ آپ ایسے تمام موقعوں پر جب قدرت کی طرف سے انہیں راہ راست پر آنے کیلئے اشارے مل رہے ہوتے ہیں آپ نجات دہندہ بن کر اپنی’’مدد‘‘ فراہم کرتے ہیں اور سب کچھ درہم برہم کردیتے ہیں؟ خاص طورپر اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں لیکن دل کی گہرائیوں میں آپ اس سوال کا جواب اچھی طرح جانتے ہیں۔ اگر آج اور ابھی آپ کو اس بات کا ہلکاسا شعور بھی ہو چکا ہے تو کیوں نہ آپ اپنے نشے سے بیمار بچوں کو کھل کر بتا دیں کہ نشہ کی بیماری سے نجات کیلئے خود ان کی طرف سے شدید کوششوں کی ازحد ضرورت ہے۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • اگلا صفحہ:
  • 4