* میرے ساتھ طے شدہ پہلی ملاقات پرعدیل نہ پہنچ سکا بلکہ اس کی بجائے اس کے والدین آئے۔ وہ اپنے بائیس سالہ برخوردار کے روئیے پر نالاں تھے اور مایوسی کے عالم میں بیٹھے تھے۔انہوں نے وقت سے پہلے ہی عدیل کو مطلع کر دیا تھا کہ انہوں نے امراض منشیات کے ماہر کے ساتھ اس کی ملاقات کا بندوبست کیا ہے جس پر خفگی کا اظہار کر کے وہ گھر سے نکل گیا تھا۔ انہیں رات گئے تک اس کے متعلق کچھ خبر نہ تھی، انہوں نے رات کا زیادہ حصہ اس کے متعلق وسوسوں میں پریشان رہ کر گزارا، انہیں رات کچھ زیادہ ہی لمبی لگ رہی تھی۔

عدیل کے والدین نے مجھے جو کہانی سنائی وہ میں ہزاروں مرتبہ سن چکا تھا پھر بھی انہماک سے سنتا رہا۔ عدیل کا بچپن عام بچوں کی طرح تھا، اس کے بہت سے دوست تھے، سولہ سال کی عمر تک وہ ایک پیارا، ذہین اور ’’بیبا‘‘ بچہ تھا۔ اس کے بعد اس نے پرانے دوستوں کو چھوڑ کر نئے دوست بنا لئے، پھر 14اگست کو وہ بھی اُن سینکڑوں نوجوانوں میں شامل تھا جو یوم آزادی پر موٹر سائیکل کا اگلا پہیہ اٹھا کر لاہور کی سٹرکوں پر بمبار طیاروں کی طرح لوگوں کوہراساں اور زخمی کر رہے تھے۔ اس میں بھی بے چینی ، ناراضی، بدتمیزی ، لاتعلقی اور عدم دلچسپی کی علامتیں نمایاں طور پر نظر آنے لگیں۔

حالات بہت زیادہ بگڑنے سے پہلے ہی عدیل کے والدین کو پتا چل گیا ۔ اس کے کمرے سے چرس اور سگریٹ بنانے والے کا غذبرامد ہوئے۔ باز پرس کرنے پر اس نے کہا’’ میرے سب دوست یہی کرتے ہیں، اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟‘‘ اس کا دو ٹوک فیصلہ تھا کہ جب اس کا دل چاہے گا وہ چرس پئے گا، اس میں ہرج ہی کیا ہے؟

جب اس کے والدین مجھ سے ملاقات کرکے گھر پہنچے تو وہ واپس آچکا تھا اور اپنے کمرے ہی میں تھا۔ حاجی محمد صدیق نے عدیل کواپنے ساتھ میرے پاس آنے کیلئے کہا۔ عدیل کا وہی ایک جواب تھا ’’نہیں! میں کیوں جاؤں؟ مجھے کوئی تکلیف نہیں، آپ کو ہے، آپ سو دفعہ جائیں۔‘‘ جب حاجی صاحب نے اصرار کیا تو اس نے پھر گھر سے چلے جانے کی دھمکی دی۔ حاجی صاحب نے اطمینان سے جواب دیا’’تم گھر سے جانا چاہتے ہو، یہ اس مسئلے کا حل نہیں، اگر یہ تمہارا سوچا سمجھا فیصلہ ہے تو میں تمہیں نہیں روکتا تاہم گھر میں رہنے کی صورت میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر ضرور جاؤں گا۔‘‘

حاجی محمد صدیق عدیل کے چند گھنٹے بعد ہی لوٹنے کی وجہ جانتے تھے کیونکہ میرے ساتھ ٹریننگ میں نوجوانوں کے گھر سے چلے جانے کی دھمکی پرصحیح ردعمل سیکھ چکے تھے، وہ سب کچھ شعوری طور پر کر رہے تھے۔ یہ صورتحال عدیل کیلئے غیر متوقع تھی، وہ پاؤں پٹختا ہوا باہر نکل گیا لیکن تھوڑی ہی دیر بعد اپنی ماں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا اور میرے پاس آنے کیلئے تیار ہو گیا۔ وہ اپنے والد کے بدلے ہوئے تیور دیکھ چکا تھااور اسے اس بات کا بھی احساس تھا کہ وہ سڑکوں پر مارا مارا نہیں پھر سکتا، چاروناچار وہ مجھ سے ملنے پر رضامند ہو گیا۔

عدیل نے یوں ظاہر کیا کہ گویا وہ سب جانتا ہے اور اسے مدد کی ضرورت نہیں، اس کے رویے میں میرے اور والدین کیلئے واضح ناپسندیدگی جھلک رہی تھی۔ تنہائی میں بات چیت کرنے اور یہ جاننے کے بعد کہ والدین اسے علاج کے بغیر گھر لے جانے کیلئے تیار نہیں تو اس کا رویہ جارحانہ ہو گیا مگر کچھ ہی دیر میں وہ ہسپتال داخل ہونے پر آمادہ ہو گیا۔ آج حاجی محمد صدیق کہتے ہیں ’’میرے ساتھ زندگی میں ہونے والی سب سے خوبصورت چیز عدیل کی ’’واپسی‘‘ہے۔‘‘