لنک-28

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

اُس رات شیرنی پپو کو ہیروئن کا ٹیکہ لگانے کو کہتی ہے۔
’’ اگر تم مسلسل ہیروئن کا ٹیکہ لگاتی رہو گی تو کیا تم ایڈز کا شکار نہیں ہو جاؤ گی؟‘‘ پپو شیرنی سے پوچھتا ہے۔

’’ایڈز صرف کسی دوسرے شخص کی استعمال شدہ سوئی سے ہوتی ہے، کل کلینک سے نئ سوئیاں منگوا لیں گے‘‘ شیرنی جواب دیتی ہے۔
’’کیا سوئی مسلسل بازو میں رہنے سے تمہیں تکلیف نہیں ہوتی‘‘ پپو پھر اس سے سوال کرتا ہے۔

’’کیوں؟ کیا تم مجھے روزانہ نشہ کرتے ہوئے نہیں دیکھتے؟۔۔۔ اب تو میں عادی ہو چکی ہوں۔‘‘ شیرنی مسکراتے ہوئے جواب دیتی ہے۔دونوں باتیں کرتے کرتے سو جاتے ہیں۔ صبح اُٹھ کر دونوں ناشتے کیلئے جیلے کی دوکان پر جاتے ہیں اور نان چنے کا ناشتہ کرتے ہیں۔ اسی دوران وہ دونوں بہت سی علاقائی خبریں سنتے ہیں۔

اُنہیں پتا چلتا ہے کہ بلا قصائی جیل سے باہر آ چکا ہے اور دوبارہ گوالمنڈی پہنچ چکا ہے۔ آدھے سے زیادہ نوجوان لڑکے نئے ہوتے ہیں اور بلا قصائی کو نہیں جانتے۔ پرانے ساتھی بلا قصائی کو دیکھ کر خوش نہیں ہوتے اور پریشان ہو جاتے ہیں۔ بلا قصائی اپنے ساتھیوں سے گلہ کرتا ہے کہ تم لوگوں کی آنکھیں بدل گئی ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت چاچا کے ساتھ گزارنے لگا۔

ایک نئے لڑکے کو اس خاندان کا ممبر بنانے کیلئے چاچا کے سامنے لایا جاتا ہے۔ اسی طرح شیرنی بھی ایک نئی لڑکی کو ممبر بنانے کیلئے لاتی ہے جس کو دیکھ کر تمام لڑکے آپس میں لڑنے لگتے ہیں ۔ بلا قصائی ان کو ڈانٹ کر کہتا ہے کہ یہ لڑکی چاچا کی سرپرستی میں رہے گی۔

چاچا اس چودہ سالہ نئی لڑکی کے ساتھ ہر رات گزارتا ہے اور کوئی بھی شخص اس بارے میں بات نہیں کرتا۔ پپو بھی اس معاملے پر خاموشی کا اظہار کرتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کیلئے کوئی مسئلہ بنے۔

ہے۔ دو راتوں کے بعد ایک اور گھر سے فرار ہونے والی سولہ سالہ لڑکی چاچا کے بستر پر ہوتی ہے اور وہ بھی کچھ نہیں کہہ پاتی اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔

اس فٹ پاتھی خاندان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور اب پپو سینئر ممبر بن چکا ہوتا ہے، اس کی اہمیت بھی اب پہلے کی نسبت زیادہ ہو جاتی ہے۔ چاچا نہیں چاہتا کہ ’نئی زندگی‘ کے لوگ اُن کے پاس آئیں اس لیے وہ پپو اور پوتنی دا کو کہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ لوگ ادھر آئیں تم دونوں جا کر اُن سے کھانا لے آؤ۔ عمران جو نئی زندگی کا نمائندہ ہے اور جس نے سیاہ رنگ کی لیدر جیکٹ پہنی ہوئی ہے، وہ ان دونوں کو کھانا دینے سے انکار کر دیتا ہے، وہ دونوں مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے واپس آ جاتے ہیں۔

وہ لڑکی بھی کسی قسم کااحتجاج نہیں کرتی اور حاملہ ہونے کے بعد ’نئی زندگی‘ چلی جاتیہے۔ دو راتوں کے بعد ایک اور گھر سے فرار ہونے والی سولہ سالہ لڑکی چاچا کے بستر پر ہوتی ہے اور وہ بھی کچھ نہیں کہہ پاتی اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔

اس فٹ پاتھی خاندان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور اب پپو سینئر ممبر بن چکا ہوتا ہے، اس کی اہمیت بھی اب پہلے کی نسبت زیادہ ہو جاتی ہے۔ چاچا نہیں چاہتا کہ ’نئی زندگی‘ کے لوگ اُن کے پاس آئیں اس لیے وہ پپو اور پوتنی دا کو کہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ لوگ ادھر آئیں تم دونوں جا کر اُن سے کھانا لے آؤ۔ عمران جو نئی زندگی کا نمائندہ ہے اور جس نے سیاہ رنگ کی لیدر جیکٹ پہنی ہوئی ہے، وہ ان دونوں کو کھانا دینے سے انکار کر دیتا ہے، وہ دونوں مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے واپس آ جاتے ہیں۔

چاچا کی دھمکیوں کے باوجود نووارد لڑکے اور لڑکیاں ’نئی زندگی‘ کے ادارے کا رُخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں سے کھانا، نہانے کو پانی اور پہننے کو کپڑے ملتے ہیں۔ جب ایک دفعہ ’نئی زندگی‘ کے نمائندے لڑکوں کو قابو کر لیں تو پھر وہ انہیں نہیں چھوڑتے۔ پپو نہانے کیلئے نئی زندگی جاتا ہے اور عمران کو گوالمنڈی کی زندگی کے بارے کچھ راز بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ لفنگوں کو کھانا نہ دیا کرے کیونکہ یہ لڑکے سارا دن غنڈہ گردی کرتے ہیں، لوگوں کو پیسوں سے محروم کرتے ہیں اور نشہ بھی کرتے ہیں لیکن تمام سہولیات ’نئی زندگی‘ سے لیتے ہیں۔

عمران اعتراف کرتا ہے کہ یہ تمام باتیں ٹھیک ہیں لیکن ان سہولیات کے ذریعے ہم بہت سے ایسے بچوں کی زندگیوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ابھی مکمل طور پر اپنے رستے سے نہیں بھٹکے ہوتے۔ کیا تم ایک ایسی مثال نہیں ہو جو اِدھر اُدھر مارا مارا پھر رہا تھا؟ ہم کبھی بھی اپنے مقصد سے نہیں ہٹتے اور یہ بچے بھی ہمارے دل کی دھڑکن ہوتے ہیں اور کوئی بھی بچہ ایسا نہیں ہوتا جو ٹھیک نہ ہو سکے۔ ایک اور لڑکا جو نہانے کیلئے نئی زندگی آیا ہوتا ہے عمران کو بتاتا ہے کہ چاچا لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔ عمران جواب میں کہتا ہے کہ تمہیں اپنی فکر کرنی چاہئیے۔

پپو عمران کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتا ہے لیکن اس دوران اس کے نہانے کی باری آ جاتی ہے اور جیسے ہی وہ نہا کر نئی زندگی سے باہر نکلتا ہے اسے نشے کی طلب ہوتی ہے۔
چند دن کے بعد پولیس گوالمنڈی میں موجود ان کے اڈے پر چھاپہ مارتی ہے اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو دارالشفقت بھیج دیتی ہے۔ اُن میں وہ لڑکی بھی ہوتی ہے جو آج کل چاچا کے ساتھ رہ رہی ہوتی ہے۔ اگلے دن وہ بچے پھر واپس آ جاتے ہیں لیکن اُن میں وہ لڑکی شامل نہیں ہوتی۔

ایک دن پوتنی دا وہاں پر موجود ایک لڑکے کے سامان کی چوری کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے۔ بِلاّ قصائی اور وہ لڑکا جس کی چوری ہوئی ہوتی ہے پوتنی دا کو چاچا کے پاس لے کر آتے ہیں۔ چاچا تمام واقعات سنتا ہے اور پوتنی دا کی طرف دیکھتا ہے، پوتنی دا اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہہ پاتا۔ چاچا فیصلہ سناتے ہوئے وہاں پر موجود لڑکوں کو کہتا ہے کہ پوتنی دا کو اتنا مارو کہ اس کو نانی یاد آ جائے۔ چاچا کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ وہاں پر موجود سب لڑکے اُس پر پل پڑتے ہیں اور اس کی جوتوں، بوتلوں اور لکڑی سے ٹھیک ٹھاک دھنائی کرتے ہیں۔ پپو بھی اس نیک کام میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوتا ہے اور یہ بھی سوچتا ہے کہ وہ اپنے ہی دوست کی پٹائی کیوں کر رہا ہے؟

پوتنی دا درد سے چیختا ہوا بلا قصائی سے رحم کی بھیک مانگتا ہے لیکن بلا قصائی کہتا ہے کہ تم نے بہت بڑا جرم کیا ہے، یاد رکھو! تم اپنے ہی خاندان میں چوری نہیں کر سکتے۔ بجلی بھی چند قدم کے فاصلے پر کھڑی یہ سب کچھ دیکھ رہی ہوتی ہے لیکن وہ پوتنی دا کی مدد کیلئے آگے نہیں بڑھتی۔ تھوڑی دیر بعد سب تتر بتر ہو جاتے ہیں اور پوتنی دا یہ سوچتا ہے کہ اُس نے یہ غلط قدم کیوں اٹھایا جس کی وجہ سے اُسے آج اتنی مار کھانی پڑی۔

پپو سوچتا ہے کہ اُسے بھی ’خاندان‘ کے لیے کمائی کر کے لانی چاہیے اور کچھ نہ کچھ حصہ ڈالتے رہنا چاہئیے، ورنہ کہیں اس کا حال بھی پوتنی دا جیسا نہ ہو جائے۔

روزنامہ جنگ سے ایک لیڈی رپورٹر ’خاندان‘ کے بارے میں کہانی لکھنا چاہتی ہے۔ اُسے اس جگہ بارے کیسے معلوم ہوا؟ یہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ وہ تمام کرداروں سے انٹرویو کرتی ہے اور یہ آرٹیکل اخبار میں چھپ جاتا ہے۔ اس میں چاچا کا خاکہ بھی پیش کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اُس نے تمام جرائم پیشہ بچوں کی ذمہ داری لی ہوئی ہے جو کہ حقیقت میں سچ نہیں ہے۔

ٹی وی چینلز سے بھی پروڈیوسرز آتے ہیں اور گلیوں میں پھرنے والے بچوں پر فلمیں بناتے ہیں۔ ایک رات اخبار والے پپو کا انٹرویو لیتے ہیں، وہ اُن کو بتاتا ہے کہ اسے نوکری نہیں ملتی جس کی وجہ سے اسے بھیک مانگنی پڑتی ہے۔ اس کے فوراً بعد پپو ’’نئی زندگی‘ سے اپنے لیے کھانا لے کر آتا ہے اور نشہ کرنے کیلئے بھیک مانگنے چلا جاتا ہے۔

پپو سوچتا ہے کہ اب اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ تمام زندگی یہیں گزار دے اور پھر ایک دن چپکے سے موت کی آغوش میں جا سوئے، وہ سوچتا ہے کہ اب مجھ میں مزید ہمت اور توانائی نہیں ہے کہ میں اور کچھ کرنے کے بارے میں سوچ سکوں۔

تین دن کے بعد دو پولیس والے پپو کو موہنی روڈ پر روکتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ چاچا نے ایک لڑکی کی عصمت دری کی ہے، کیا تم اس سلسلہ میں اپنا بیان قلمبند کرواؤ گے؟

پپو سوچتا ہے کہ اگر اُس نے بیان دیا تو بِلاّ قصائی اور چاچا ناراض ہو جائیں گے، ہو سکتا ہے وہ اُس کومار ہی ڈالیں۔ دوسرا خوف اُس کو یہ تھا کہ اگر ’خاندان‘ کو یہ بات پتہ چلی تو اس کے کیا نتائج ہوں گے؟

اچھا ٹھیک ہے لیکن یہ راز رہنا چاہئیے۔ لنک-39 پر جائیے۔
’’یہ سب جھوٹ ہے‘‘ وہ کہتا ہے، چاچا تو ہمارے باپ کی طرح ہے۔ لنک-40 پر جائیے