لنک-33

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

بلڈنگ کی آڑ میں پاؤڈر سونگھنے کے بعد پپو ہوش کھو بیٹھتا ہے۔
’’تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ وہ نوجوان اپنی جینز کی زپ بند کرتے ہوئے کہتا ہے۔ وہ لمبے بالوں والا نوجوان قریباً چالیس کے لگ بھگ ہو گا۔

’’کسی کام کو اچھے طریقے سے کرنا ہی سب سے بڑی بات ہے۔‘‘وہ نوجوان پپو کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔’’جلدی سے مجھے یہاں سے نکالو اور میرا سودا بھی مجھے دو‘‘ وہ پپو سے الجھنے کے انداز میں بات کرتا ہے۔

’’تمہاری چیزیں گیس ٹینک میں ہیں اور وہ تمہاری سائیڈ پہ ہے اُتر کے لے لو، اس جگہ میں تمہیں نہیں دے سکتا۔۔۔‘‘پپو جواب دیتا ہے۔ وہ نوجوان اپنا سامان نکال کر رفو چکر ہو جاتا ہے۔

جھاجھو کے یوں غائب ہونے سے پپو بہت اکیلا پن محسوس کرتا ہے۔ پپو کی چال بے ڈھنگی، جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے۔ منشیات فروشی، جسم فروشی، چار پیسے ملنے چاہئیں، اسے کسی چیز پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ آج بھی وہ اسی مشن پر تھا، بادشاہی مسجد کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر وہ سوچوں میں گم ہے کہ ایک سفید رنگ کی ہونڈا کار اُس کے پاس آ کر رُکتی ہے۔ بھاؤ تاؤ ہونے لگتا ہے۔

تھوڑی دیر کے بعد فورٹ روڈ سے وہ دونوں شاہدرہ کی طرف جاتے ہیں۔ راوی کے پُل پر ٹول پلازہ کراس کرنے کے بعد پپو اُس شخص کو گاڑی روکنے کیلئے کہتا ہے۔ وہ گاڑی سے باہر نکلتا ہے تو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بہت بھلا لگتا ہے۔ اس جگہ سے اُسے تقریباً آدھے لاہور کا منظر نظر آ رہا ہے۔ تھوڑی دیر میں سورج بھی نکل آئے گا۔

پپو گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ لاک ہے۔ گاڑی زناٹے سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ ایک دم پپو کو سمجھ نہیں آتا کہ اُس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ جلد ہی دُھول اور مٹی بیٹھ جاتی ہے پھر چاروں طرف خاموشی چھا جاتی ہے۔’’ اب غصہ کرنے سے کیا فائدہ؟ اُسے پہلے ہی محتاط ہونا

چاہئیے‘‘، آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وہ سوچتا ہے،’’ اُسے پیسے لئے بغیر گاڑی سے اترنا ہی نہیں چاہئے تھا‘‘۔ وہیں ریسٹورنٹ کے آس پاس ہی رہتا تو اچھا تھا۔ جو جھک مارنی تھی وہیں مار لیتا۔ چلتے چلتے پپو کو عجیب و غریب خیالات آتے ہیں۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ کسی کو مار دے، کبھی دل چاہتا ہے اپنا ہی سر دیوار میں پھوڑ لے۔۔۔
ایک گھنٹے بعد وہ نیازی چوک کراس کر رہا ہے۔ صبح صبح کا وقت ہے، بہت زیادہ رش ابھی نہیں ہے۔ کچھ لوگ سواریوں کے انتظار میں بس سٹاپ پہ کھڑے ہیں۔ کچھ لوگ ٹمبر مارکیٹ کی طرف سے آ رہے ہیں، انہی کے درمیان پپو کو جھاجھو نظر آتا ہے۔

پپو تیزی سے بھاگ کر جھاجھو کی طرف لپکتا ہے، گلے ملتا ہے اور پوچھتا ہے کہ وہ جیل سے کب رہا ہوا۔
’’تقریباً ایک ماہ پہلے۔‘‘ جھاجھو جواب دیتا ہے ۔

پپو یہ جواب سن کر حیران ہوتا ہے، وہ سمجھتا تھا کہ جھاجھو اُس کا بہت اچھا دوست ہے مگر اب اُسے لگتا ہے کہ وہ کسی پہ یقین نہیں کر سکتا۔ پپو جھاجھو کو اپنی کہانی سناتا ہے اور پھر اُس کی کہانی سنتا ہے۔ جھاجھو بتاتا ہے کہ اُسے ایک لڑکا جیل میں ملا تھا جس کا نام لَکی ہے وہ اُسے اپنے ساتھ ہی لے گیاتھا۔ لَکی کے دوست کا کال سینٹر ہے جس میں لَکی کام کرتا ہے۔ کال سینٹر لبرٹی کے قریب پاک ٹاور میں ہے۔ وہ پیسے اچھے دے رہے ہیں اس لیے جھاجھو نے بھی وہاں کام کرنا شروع کر دیا اور رہنے کیلئے جھاجھو لَکی کا فلیٹ استعمال کرتا ہے۔

اب لَکی کو اُس کی ماں واپس سوات لے گئی ہے اور اُس کی جگہ اب پپو رہ سکتا ہے۔
دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔
’’چلو داتا دربار چلتے ہیں۔‘‘ تھوڑی دیر بعد جھاجھو کہتا ہے۔
یہ خاص داتا یاترا جھاجھو اُس وقت کرتا ہے جب اُس کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ وہ فورٹ روڈ کی گلیوں سے ہوتے ہوئے داتا صاحب پہنچتے ہیں۔ داتا صاحب کھانے پینے کی چیزوں کی بہتات رہتی ہے۔ پلاؤ، قورمہ، زردہ، حلیم اور نہ جانے کیا کیا۔ لاہور میں رہنے والے پردیسیوں کیلئے یہ کھابہ گیری کیلئے بہترین جگہ ہے۔
’’تم تو ویسے ہی صبح سے پیدل چل رہے ہو اور میں مزید چلا پھرا کر زیادتی کر رہا ہوں۔۔۔‘‘فورٹ

روڈ پر چلتے چلتے جھاجھو پپو سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔
’’نہیں کوئی بات نہیں، کوئی وقت تھا کہ میں ایک قدم گاڑی کے بغیر چلنے کو تیار نہ تھا، اب تو چلتے چلتے جوتیاں گِھس جاتی ہیں اور پتا تب چلتا ہے جب اچانک پاؤں زمین سے چھونے لگتا ہے۔‘‘پپو اُسے مطمئن کر دیتا ہے۔

’’معلوم نہیں کیوں داتا صاحب کی طرف پیدل جانا مجھے پُرسکون کر دیتا ہے۔‘‘ جھاجھو پھر کہتا ہے۔
پپو، جھاجھو کی بات سن کر گہری سوچ میں گم ہوجاتا ہے۔ اُسے حیرت ہوتی ہے کہ دوسروں کی طرح خود اسے ایسی روحانی چیزوں سے کوئی دلچسپی کیوں پیدا نہیں ہوتی؟
’’پپو، تم کال سینٹر میں میرے ساتھ ہی کام کیوں نہیں کرنے لگ جاتے‘‘۔تھوڑی دیر بعد جھاجھو اسے صلاح دیتا ہے۔

’’تم لِکی کی جگہ نوکری کر سکتے ہو، اس طرح تم میرے ساتھ فلیٹ میں بھی رہ سکتے ہو اور کرایہ بھی میرے ساتھ شیئر کر سکتے ہو۔‘‘ جھاجھو پپو کی طرف غور سے دیکھتا ہے۔
پپو مان جاتا ہے اور دونوں جھاجھو کے فلیٹ کی طرف چل پڑتے ہیں۔
فلیٹ پپو کو اچھا لگ رہا ہے حالانکہ جس گھرانے سے اُس کا تعلق ہے وہاں ملازموں کے کمرے بھی اس سے بہتر ہیں۔

فلیٹ میں ٹی وی، مائیکروویو اوون، فریج غرضیکہ سب کچھ ہے مگرکھانے پینے کو کچھ نہیں ۔ ایک غسل خانہ اور شاور ہے مگر شاور کرٹن نہیں ہے، کمرے کے فرش پہ میٹرس ہے مگر چادریں نہیں ہیں۔

پپو پوچھتا ہے کہ اُس نے یہ سامان کہاں سے لیا؟ جھاجھو بتاتا ہے کہ یہ سب چوری کیا ہے اور کپڑے لَکی کے ہیں۔
جھاجھو کا باس خواجہ شمس چالیس کے لگ بھگ ہے۔ وہ جھاجھو کو بتاتا ہے کہ اگر پپو نے ٹیسٹ پاس کر لیا تو تب ہی وہ اُسے نوکری دے گا کیونکہ پپو اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں ہے لہٰذا وہ ٹیسٹ میں فیل ہو جاتا ہے۔ اس پر پپو بہت مایوس ہوتا ہے مگر جھاجھو اُسے سمجھاتا ہے اور خواجہ شمس کو ایک موقع دینے کیلئے منا لیتا ہے ۔

شروع شروع میں پپو کو بہت مشکل ہوتی ہے مگر آہستہ آہستہ جھاجھو اُسے کام سکھا دیتا ہے۔ جب پپو کو پہلی تنخواہ ملی تو اس نے نشہ کی مقدار مزید بڑھا دی۔ آخر کار اُن دونوں کے پیسے نشے کیلئے کم پڑنے لگتے ہیں۔ وہ دوبارہ گاہکوں کی تلاش میں فورٹ روڈ جانا شروع ہو جاتے ہیں ۔اسی طرح ایک دن شراب پی کر غُل غپاڑہ کرتے ہوئے جھاجھو پولیس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے، پولیس اسے پکڑ کر ساتھ لے جاتی ہے۔ نشہ پپو کے اعصاب پر سوار رہتا ہے۔ نشہ کرنے کیلئے پیسے اکٹھے کرنا، نشہ خریدنا، پھر نشہ کرنا اور پھر نشہ نہ ملے تو تروڑک برداشت کرنا ہی پپو کے شب و روز بن گئے ہیں۔

نشے کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ کام کاج کے قابل نہیں رہااوراس پر طرہ یہ کہ وہ اس قابل بھی نہیں ہوتا کہ گاہک تلاش کر سکے۔ آخر ایک دن تنگ آ کر وہ دفتر چلا جاتا ہے۔ خواجہ شمس اُس کو دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے اور پوچھتا ہے کہ’’جھاجھو کہاں ہے؟‘‘

’’وہ سرکاری مہمان بن گیا ہے۔‘‘ پپو بتاتے ہوئے خواجہ شمس سے نظریں نہیں ملاتا ہے۔

’’چلو میرے ساتھ میں تمہیں کہیں لے جانا چاہتا ہوں۔‘‘خواجہ شمس اُسے پیار سے کہتا ہے ۔
’’کیا تم بھی میرے طلب گار ہو؟‘‘پپو اُس سے پوچھتا ہے ۔ شرم و حیا نام کی کوئی شئے اُس کے پاس نہ تھی۔
’’میں ایک منٹ دفتر بند کر لوں پھر چلتے ہیں، میں تمہیں ایک خاص جگہ لے کر جانا چاہتا ہوں‘‘ پپو کی بات کا جواب دئیے بغیر خواجہ شمس کہتا ہے۔’’ میں تمہیں اُن نشیؤں کی میٹنگ میں لے جانا چاہتا ہوں جو نشے سے تائب ہو چکے ہیں۔‘‘

خواجہ شمس پپو کو سمجھاتا ہے’’تمہیں کچھ نہیں کرنا، صرف چپ بیٹھنا ہے اور وہاں سے فارغ ہونے کے بعد میں کھِلانے لے جاؤں گا تمہیں۔‘‘
’’میں نشئی نہیں ہوں‘‘پپو کہتا ہے

’’نشئی تو نہیں ہو مگر نشہ تو کرتے ہو، تمہارے چہرے سے سب کچھ عیاں ہے، تمہیں وہاں کچھ نہیں کرنا۔۔۔ صرف ایک گھنٹے کی بات ہے، اُس کے بعد ہم مزیدار کھانا کھائیں گے‘‘۔خواجہ شمس اسے لالچ دیتا ہے۔

’’مجھے بھوک تو بہت لگی ہے‘‘، پپو کھانے پینے کے لالچ میں میٹنگ میں بیٹھنے کیلئے آمادہ ہو جاتا ہے ۔
یہ سن کر خواجہ شمس دفتر بند کرنا شروع کر دیتا ہے ۔
پپو خواجہ شمس کی نظر بچا کر ایک ٹیلی فون سیٹ اور ہیڈ فون اُٹھا لیتا ہے اور خاموشی سے کھسکا لیتا ہے جائیے لنک-43 پر۔
پپو سوچتا ہے کہ میٹنگ تو بیکار ہو گی، تاہم کھانا کھانے کو ملے گا۔ پھر اس کے بعد وہ نشہ کرنے کیلئے ’’آزاد‘‘ ہو گا۔ جائیے لنک-44 پر۔