لنک-37

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

شبو دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتی ہے تو دیکھتی ہے کہ پپو اپنے بازو پر ہیروئن کا ٹیکہ لگارہا ہے۔ شبو شدید ناراضگی کا اظہار کرتی ہے اور پپو کو کمرے سے نکال دیتی ہے، پپو اس کے اس روئیے پر پریشان ہو جاتا ہے، اسے شبو کا یہ رویہ کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ باہر کافی اندھیرا اور سردی ہے، پپو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا ہے اور جیب میں سے سرنج نکال کر سوئی بازو میں گھسیڑ دیتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں اس کا موڈ بدل جاتا ہے، وہ گُنگنانے لگتا ہے۔

دوسری طرف پوتنی دا اور اس کی نئی گرل فرینڈ ’گلابو‘ پپو کے کمرے میں موجود چپس، سینڈوچ، پیزا وغیرہ کھا رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ٹی وی دیکھ رہے ہیں۔ ’گلابو‘ بجلی کی طرح بدصورت نہیں ہے۔ شبو پوتنی دا اور گلابو کی طرف دیکھتی ہے جو اِردگرد کے ماحول سے بے خبر انجوائے کر رہے ہیں۔ شبو اُن کو چھوڑ کر باہر آ جاتی ہے۔ پپواب بھی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے نشے میں دھت بیٹھا ہے، اس کے بازو میں سرنج لگنے کی جگہ ایک سرخ لکیر سی نظر آرہی ہے۔ خون بہہ رہا ہے لیکن پپو کواس بات کی ہر گز کوئی پرواہ نہیں۔ شبو خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ جاتی ہے اور ٹک ٹک اس کی شکل دیکھنا شروع کر دیتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد پوتنی دا اور گلابو کمرے سے نکلتے ہیں اور شبو کومخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’ ہم ذرا باہر گھوم پھر کر آتے ہیں‘‘۔ شبو اُن کی بات سنی ان سنی کر دیتی ہے اور وہ باہر نکل جاتے ہیں۔ شبو پپو کو سہارا دے کر اندر کمرے میں لے آتی ہے اور گدے پر لٹا دیتی ہے۔ یہ سب کچھ اسے اچھا نہیں لگتا، وہ یہاں سے چلی جانا چاہتی ہے لیکن یہ بات زبان پر لانے کی ہمت نہیں پڑتی۔ اپنی توجہ ہٹانے کیلئے ٹی وی دیکھنے لگتی ہے۔

صبح کے چار بجے دروازہ زور زور سے کھٹکتا ہے، پوتنی دا اور گلابو زور زور سے چلا رہے ہوتے ہیں کہ اُن کو اندر آنے دیا جائے۔ پپو سوچتا ہے کہ اسے جواب نہیں دینا چاہیے، وہ لوگ تنگ آ کر خود ہی چلے جائیں گے۔ پپو کے اندازے کے برعکس دروازہ پیٹنے کا شور مسلسل جاری رہتا ہے۔ شور شرابے سے بیزار ہو کر ہمسائے باہر نکل آتے ہیں اور لعنت ملامت کرنے لگتے ہیں۔ ہمسائیوں کا ہلہ گلہ بڑھتے دیکھ کر پپو سوچتا ہے کہ اس سے مشکل پیش آ سکتی ہے۔ پپو مجبور ہو کر پوتنی دا اور گلابو کو اندر آنے کیلئے کہتا ہے۔ تھوڑی دیر کی کچ کچ کے بعد سب سو جاتے ہیں اور خاموشی چھا جاتی ہے۔

دوپہر کو پپو کی آنکھ کھلتی ہے تو شبوغائب ہے۔ وہ الصبح پپو کے نام رقعہ لکھ کر جا چکی ہوتی ہے۔ رقعہ جس میں لکھا ہوتا ہے ۔

’’پپو! تم مجھے تلاش کرنے کی کوشش نہ کرنا، میں تمہیں کہیں نہیں ملوں گی۔ میں اپنے قدموں کے سارے نشان مٹا کر جا رہی ہوں۔ میں نے تمہیں کہا تھا کہ تمہیں نشہ چننا ہو گا یا پھر شبو کو، تم بظاہر کہتے رہے کہ تمہیں مجھ سے بہت پیار ہے، جبکہ کڑوا سچ یہ ہے کہ تم نشے کو ہی اپنا سب کچھ سمجھتے ہو۔ تمہارا رخ سورج مکھی کے پھول کی طرح ہمیشہ نشے کی طرف ہی رہتا ہے۔ نشہ ہی تمہارا خدا ہے۔ میں ایسے بندے کے پیچھے نہیں چل سکتی جو نشے کے پیچھے چلتا ہے۔ میں ایسی جگہ جا رہی ہوں جہاں سے تم چاہو یا میں چاہوں، میری واپسی ممکن نہیں ہو سکتی۔ تم غلط سوچ رہے ہو، میں مرنے نہیں جا رہی، مجھے جینے کی خواہش ہی دربدر لئے پھر رہی ہے۔ ایک دن میں وہ زندگی ضرور گزاروں گی جسے جینا کہتے ہیں۔ میرا دل چاہتا رہے گا کہ جب وہ دن آئے، صبح سورج کی کرنوں سے میری آنکھیں کھلیں تو تم میرے سامنے کھڑے ہو۔ خدا تمہیں غلط ارادوں سے باز رکھے۔
تمہاری شبو‘‘

پوتنی دا اور گلابو نشے میں دھت زندہ لاشوں کی طرح زمین پر بکھرے پڑے ہوتے ہیں۔
پپو گڑبڑا جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ جیسے وہ ڈراؤنا خواب دیکھ رہا ہے، پپو یہ منظر دیکھ کر بہت رنجیدہ ہے، پپو کا دِل کام پر جانے کو نہیں چاہ رہا۔ پپو کی آنکھوں کے گرد حلقے اور بھی گہرے نظر آنے لگتے ہیں۔ وہ سیل فون نکال کر کال ملاتا ہے۔

’’ہیلو! صادق پہلوان میں پپو بول رہا ہوں‘‘، ’’ میں بہت بیمار ہوں، میں ابھی ڈاکٹر کو دکھا کر ہی آ رہا ہوں، ڈاکٹر نے کہا ہے کہ میں بستر پر مکمل آرام کروں۔ مجھے الٹیاں اور دست لگے ہوئے ہیں۔‘‘
’’اپنا دھیان رکھا کرو‘‘ صادق جواب میں کہتا ہے۔ ’’میں نے تو تمہیں کئی دفعہ سمجھایا ہے، لیکن تم میری سنتے ہی نہیں۔‘‘

پپو ایسے کال کاٹ دیتا ہے جیسے خود ہی کٹ گئی ہو۔ پپو پھر سے نشہ شروع کر دیتا ہے۔ پپو جانتا ہے کہ اسے کام پر جانا ہے لیکن وہ بہت خوفزدہ ہے۔ پوتنی دا سے نشہ خریدنے میں تمام پیسے خرچ ہو جاتے ہیں۔ صادق کے ہوٹل میں پپو کی تنخواہ کا لفافہ انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ اگرچہ اُس نے پچھلے ہفتے چند دن ہی کام کیا تھا لیکن پیسے تو پیسے ہی ہوتے ہیں، تھوڑے ہوں یا زیادہ۔

نہاتے ہوئے پپو کو کمرے سے شور کی آواز آتی ہے۔ یہ کسی شخص کی بجائے کسی اوزار کی آواز ہوتی ہے۔ پپو تولیا لپیٹ کر کمرے میں آتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اچھو پہلوان آیا ہوتا ہے۔ اچھو پہلوان کے ہاتھ میں ایک بہت بڑا ٹول بکس ہے۔
’’میں تو کھڑکی لگانے آیا تھا لیکن یہاں تو حالت ہی بہت خراب ہے، آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، ہر طرف گند ہی گند ہے اور یہ دونوں کون ہیں؟‘‘ اچھو پہلوان پوتنی دا اور گلابو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھتا ہے۔
’’اچھو پہلوان، گرمی کھانے کی ضرورت نہیں، یہ میرے خالہ ذاد بہن بھائی ہیں‘‘، پپو کو جھوٹ بولنے میں بہت مہارت حاصل ہو چکی ہے۔

’’کیا یہ ڈاکٹر ہیں؟‘‘ اچھو جھک کر سرنج کو اٹھاتے ہوئے پوچھتا ہے۔
’’ہاں! ‘‘پپو بے شرمی سے ہنستا ہے۔’’ محبت کا مریض ہوں یہ میری ڈاکٹر ہے‘‘ پپو گلابو کی گال پر چٹکی کاٹتا ہے۔
گلابو دبی دبی ہنسی کے ساتھ نزاکت دکھاتی ہے لیکن پوتنی دا اندر سے تپ رہا ہے۔
’’چلو پہلوان یہاں سے نکلو، ٹھوکا ٹھاکی کرنے پھر کبھی آ جانا۔ کسی کے گھر میں آنے کا بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے؛‘‘ پوتنی دا اس بات سے بے خبر تھا کہ اچھو پہلوان کون ہے۔
’’بہت اچھے! مجھے دھمکا رہے ہو؟ اچھو پہلوان کو؟ تم لوگ یہاں سے نکلنے کی کرو!‘‘ اچھو پہلوان غصے سے دھاڑتا ہے۔
’’ میں چھ ماہ سے یہاں رہ رہا ہوں، اچھو پہلوان! تم مجھے یوں چٹکی پھٹکی میں بے دخل نہیں کر سکتے۔ اس کیلئے تمہیں قانونی چارہ جوئی کرنا پڑے گی۔‘‘ پپو ترکی بہ ترکی جواب دیتا ہے۔

’’کیا کرو گے تم؟ تم مجھے جانتے نہیں؟ تم ذرا سخت ہڈی کے لگتے ہو، پہلے تو میں تمہاری چھترول کروں گا، اس سے تمہاری ہڈی نرم ہوجائے گی، پھر بھی اگر تم لوگ ایک گھنٹہ میں اس جگہ کو خالی نہیں کرو گے تو میں بہت برا پیش آؤں گا اور تمہیں جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔ ‘‘صادق پہلوان دھمکیاں دیتے ہوئے بھاری قدم اُٹھاتا ہوا باہر نکل جاتا ہے۔

پپو ہکا بکا رہ جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ اُسے فوراً اپنی تنخواہ لینے صادق ہوٹل جانا چاہیے، اس سے پہلے کہ صادق کا بھائی وہاں پہنچے اورا سے تمام باتوں کا پتہ چل جائے اسے اپنی رقم وصول کر لینی چاہئے۔ جب وہ ہوٹل پہنچتا ہے تو اتنی زیادہ چھٹیاں کرنے پر صادق پپو کو برا بھلا کہتا ہے، پہلے تو پپو برداشت

کرتا ہے لیکن جب صادق پہلوان کی لعن طعن حد سے بڑھ جاتی ہے تو پپو بھی بے دید ہو جاتا ہے اور تُو تکار پر اتر آتا ہے، ’’صادق پہلوان، تم اپنی نوکری اپنے پاس رکھو، تمہیں ملازم بہت، مجھے نوکریاں بہت، میرے پیسے میری ہتھیلی پر رکھو تو میں یہاں ایک منٹ نہیں رکوں گا۔ غریب کا کوئی نہیں بنتا!‘‘

پپو کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر صادق پہلوان کا دل پگھل جاتا ہے۔ صادق پہلوان اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے،’’ تو میرا پتر ایں یار، میں تمہیں نہیں جھڑکوں گا تو اور کون چھڑکے گا؟ چل میرا پُتر، اندر چل، یہ پکڑ اپنی تنخواہ‘‘۔ صادق پہلوان پپو کو بھینچ کر سینے سے لگا لیتا ہے۔ وہ اچھو پہلوا ن کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کرتا ہے۔ پوتنی دا اور گلابو کو وہاں سے جانا پڑتا ہے لیکن پپو کا ٹھکانہ پکا ہو جاتا ہے۔
وقت گزرتا رہتا ہے۔ پپو کی زندگی کا پہیہ ایسے گھومتا رہتا ہے جیسے کوئی گاڑی دلدل میں پھنسی زور لگا رہی ہوتی ہے۔

’نئی زندگی‘الحمراء حال میں بہت بڑے فنکشن کا انعقاد کرتی ہے، کنیرڈ کالج اور لمز یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ جس کے کھانے کے تمام انتظامات بندو خان گلبرگ کے سپرد ہیں، صادق پہلوان اپنے دوست کی مدد کیلئے پپو کو ذمہ داریاں سونپتا ہے۔ صادق پہلوان خود پپو کے ہمراہ تمام انتظامات کی نگرانی کر رہا ہے۔

پپو شبو کو ایک دفعہ اور دیکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ وہ سرخ رنگ کی ٹیوٹا کرولا میں آئی ہے۔ پروگرام میں شبو کو بطور مقرر بلایا گیا تھا۔ وہ سوشیالوجی میں پی ایچ ڈی کر چکی ہے۔ اُس کی کل کائنات ہی بدل چکی ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی میں لیکچرار ہے۔ پپو حیران اور ششدر رہ جاتا ہے۔ ’’اب پتا چلا کہ شبو کہاں غائب ہو گئی تھی‘‘۔ اُس کے ساتھ ایک بارہ تیرہ سالہ لڑکا سیٹ پر بیٹھا ہے۔ پپو کو زور کا جھٹکا لگتا ہے ’’ کہیں وہ بچہ اس کا تو نہیں ہے؟‘‘ پپو ایک گندی سی جیکٹ میں ملبوس ہے۔ اس کی شیو بڑھی ہوئی ہے۔ بال کٹوائے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ شاید شبو اُسے پہچان لے لیکن شبو نے اسے نہیں پہچانا۔
پپو نہیں جانتا کہ شبو وہاں پر کیا کرنے آئی ہے؟ اسے ایک جھٹکا اور لگنے والا ہے۔ شبو کو مائیک پر بلوایا جاتا ہے اور وہ بولنا شروع کرتی ہے۔

’’آج آپ ایک ایسی عورت کو دیکھ رہے ہیں جس نے دس سال تک چپ سادھے رکھی، زبان کو تالا لگائے رکھا، لیکن اب سبھی کچھ بدل گیا ہے، میں بولنے لگی ہوں، میں نے کھل کر جینا شروع کر دیا ہے۔ میری عمر اب 36 سال ہے۔ ابھی کل ہی ایک نوجوان لائن مار رہا تھا، ’’میں تمہیں پھر سے نوجوانی کا احساس دے سکتا ہوں۔ بے چارہ نہیں جانتا تھا کہ جوانی میرے لئے ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ شاید میں دنیا کی واحد عورت ہونگی جو دوبارہ لڑکی ہونے کے تجربے سے گزرنا نہیں چاہے گی۔‘‘
(پپو سرکتا ہوا اسٹیج کی طرف بڑھنے لگا)

’’16 سال کی عمر میں، میں گھر سے بھاگ نکلی اور 25 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے میں نے کئی تباہ کن تجربات اوربھیانک نتائج بھگتے۔ کیا آپ میں کوئی ہاتھ کھڑا کر کے بتا سکتا ہے کہ اُس نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی؟ یا ایسا کچھ نہیں کیا جس سے پچھتاوا ہوا ہو؟
(ہال میں بہت سے ہاتھ کھڑے ہو جاتے ہیں)

میرا خیال صحیح نکلا، 16 سال کی عمر میں آپ نے بھی بہت سی غلطیاں کی ہونگی، غلط راستے چنے ہونگے، غلط بندے سے محبت کر ڈالی ہو گی، لو یو اور مِس یو کا کھیل کھیلا ہو گا، سچے دوستوں کی جگہ حواری چنے ہوں گے، اسٹودنٹ ہونے کا ڈھونگ رچایا ہو گا، صبح و شام والدین کی بے عزتی کی ہو گی، چھپ چھپ کر کچے پکے سگریٹ پئے ہوں گے، میں نے بھی یہ سب کچھ کیا، ساری حدیں پھلانگ ڈالیں اور کبھی اپنی عزت نہ کر سکی۔ کیا آپ اپنی عزت کرتے ہیں؟ میری زندگی حیران کن اور انوکھے واقعات سے بھری پڑی ہے۔‘‘
(پپو سائیڈ لائن سے آگے بڑھ رہا ہے)

’’گھر سے بھاگ جانا میرے لئے ایک سہانا خواب تھا اور پھر میں جس قسم کے تجربات سے گزری آپ یقیناًاس سے محفوظ ہو رہے ہوں گے، کیونکہ آپ گھروں سے کبھی نہیں بھاگے ہوں گے، اگرچہ من ہی من میں یہ شوق آپ کے اندر بھی انگڑائیاں لیتا رہا ہو گا۔ کسی تکلیف دہ جگہ سے بھاگ جانا، بہت عام سی بات ہے۔ لیکن سڑک کی زندگی اب گھمبیر ہو گئی ہے جہاں کسی بھی سخت جان لڑکی یا لڑکے کی چیخیں نکلنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ خجل خواریوں، ذلتوں اور بدنامیوں کے معیار بدل گئے ہیں، کوئی زمانہ تھا کہ مجھ جیسی گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کی داستان اخباروں کی زینت بنا کرتی تھی۔ آج سب کچھ بدل کر رہ گیا ہے۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے اسے بدنام اور بہت گھناؤنا بنا دیا ہے۔ پہلے لوگ صرف پس پردہ باتیں کرتے تھے، اب تو بات نکلتی ہے تو بہت دور تک جاتی ہے۔ ٹیکنالوجی نے کیچڑ اچھالنے اور پتھر پھینکنے والوں کو بہت طاقتور بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے بدنامی کو گھناؤنا بنا دیا ہے۔ مجھے منہ چھپانے کو جگہ نہ مل رہی تھی۔ انسانوں کے معاشرے میں بہت سوں نے مجھے دیکھا، لیکن بہت ہی کم تھے جنہوں نے مجھے پہچانا، زیادہ تر لوگوں کیلئے یہ بھول جانا بہت آسان تھا کہ یہ عورت بھی ایک ’’انسان‘‘ ہے، جس کے اندر ایک روح بھی ہے جو اب مکمل طور پر شکستہ ہے۔ گھر میں پیار سے سب مجھے شبو کہتے تھے۔ اب سبھی لوگ مجھے ’’لاہور ہوٹل‘‘ کہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں اس کا مطلب کیا ہو سکتا ہے؟ مجھے کیا کچھ نہیں کہا گیا

آوارہ، بدچلن، ٹیکسی ،گشتی، اور نہ جانے کتنے ہی ایسے خطابات ہیں جو میرے لئے چنے گئے جن کو ادا کرنے کیلئے میری زباں اجازت کی دہلیز پار نہیں کر سکتی۔ ‘‘
(پپو اسٹیج کے قریب بائیں جانب کھڑا غور سے شبو کی باتیں سُن رہا ہے)

’’ میں ہر گز نہیں جانتی تھی کہ گھر سے بھاگنا بھی ایک بیماری کا شاخسانہ ہے۔ آج میں اپنی آپ بیتی کے کچھ حصے آپ کو بتانا چاہتی ہوں۔ میں بتانا چاہتی ہوں کہ اچھے بھلے آرام دہ گھر میں رہتے ہوئے میں کس طرح ٹھنڈے دودھ کو پھونکیں مارتی تھی اور متاع کوچہ و بازار بن کر میں نے کیا کیا تکلیفیں اُٹھائی ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ میرے منہ کھولنے سے اوروں کیلئے تکلیف اٹھانے سے پہلے ہی بچاؤ کے خوبصورت راستے بن جائیں گے۔ میں بتانا چاہتی ہوں کہ گھر کی دہلیز پار کرتے ہی کتنی تیزی سے بدنامی کے اندھیروں میں اتر گئی، ہر روز ایک نئے زاویے سے میری عزت نفس مجروح ہوئی۔ میں نے سب کچھ کھو دیا، ایک موقع پر تو میری متاع حیات بھی بس کرنے والی تھی۔‘‘

’’میں آپ کیلئے کچھ تصویر کشی کرتی ہوں۔ میں نے ایک نشئی سے پیار کی پینگیں بڑھا لی تھیں، منشیات ہی اُس کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ یہ دسمبر کی ایک سرد شام تھی جب منشیات کی بڑی مقدار کے ساتھ، میں پولیس کے ہتھے چڑھ گئی۔ پپو جسے میں نے اپنا سب کچھ مانا تھا، وہ منشیات فروشی کے گورکھ دھندے میں پھنسا ہوا تھا۔ قانون کے رکھوالوں کو دینے کیلئے میرے پاس کیا تھا، یہ آپ اچھی طرح جانتے ہوں گے۔ تھانے میں تعینات ہرایک نے مجھ سے علیحدہ علیحدہ تفتیش کی اور پھر مجھے بے گناہ قرار دے کر بے عزت بری کر دیا۔ کسی کو دینے کیلئے میرے پاس ایک دھیلا نہ تھا، پر لوگوں نے خود ہی میری چیک بک تلاش کر لی تھی، میرے ساتھ یہ سب کچھ باقاعدگی کے ساتھ ہو رہا تھا۔ اپنی یا کسی دوسرے کی نظر میں میری کوئی عزت نہ تھی۔ جلد ہی میں جھوٹے وعدوں پر یقین کرنے لگی۔ میں ہر پل ڈوب رہی تھی اور میرے لئے تنکے کا سہارا بھی بہت ہوتا تھا۔‘‘
(پپو نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ اس میں شبو سے ملنے کی تاب نہیں ہے)

’’بھوک لگے تو داتا صاحب میں کھابے ہر وقت دستیاب تھے، موہنی روڈ، گوالمنڈی، فورٹ روڈ، ٹبی گلی، شاہ نور اسٹوڈیو اور کرشن نگر میری کل دنیا تھی۔ یہاں ایک چھوٹا سا جزیرہ تھا جسے میں محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتی تھی۔ لوگ تب بھی دوسروں کی مصیبتوں کا مزہ لیا کرتے تھے لوگ آج بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ تب بھی بدنام زیادہ برے ہوتے تھے اور آج بھی۔ میں بھی جس حد تک گِر سکتی تھی گر چکی تھی۔ میں زندگی سے عاجز آ چکی تھی، میں مرنا چاہتی تھی اور نئی زندگی کے کونسلر مجھے باز رکھنا چاہتے تھے۔ میں شدید ڈپریشن میں تھی۔ ہر وقت میری نگرانی ہوتی ، مجھے باتھ روم کا دروازہ بھی بند نہ کرنے دیا جاتا۔ اچانک ایک واقعے نے سب کچھ بدل دیا۔ ایک رات مجھے خبر ملی کہ بجلی نے اپنے آپ کو پنکھے سے لٹکا کر خود کشی کر لی ہے۔ یہ میرے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا تھا۔ میری نگرانی اور بھی سخت کر دی گئی۔ اگلے دن اور پھر اس سے اگلے دن، میں نے دیکھا کہ بجلی کے مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ بجلی ہر وقت سوچتی تھی کہ لوگ کیا سوچتے ہوں گے؟ لوگ کیا کہتے ہوں گے؟ اسے لوگوں کی بہت پرواہ تھی، وہ زمانے کو بہت معتبر سمجھتی تھی۔ وہ کسی سے آنکھ ملا کر بات نہ کرتی تھی۔ بجلی کی کہانی اس کی گندگی تصویروں کے ساتھ سوشل میڈیا پر اچھالی گئی۔ چند سال پہلے تک کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ یہ انٹرنیٹ کی دنیا ہمیں آخر کار کہاں لے جائے گی۔ تب سے اب تک انٹر نیٹ نے ناقابل یقین طریقوں سے لوگوں کو ملایا ہے، لوگوں کو جوڑا ہے، کئی خوبصورت انقلابوں کو جنم دیا ہے لیکن کیچڑ اچھالنے کا کام لوگ خود سے کرتے ہیں اور وہ کمال کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ اس میں بھی لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ چیزیں اچھی یا بُری نہیں ہوتیں، ہم انہیں اچھا یا بُرا بنا دیتے ہیں۔ بجلی کی کردار کشی آن کی گئی لیکن اس نے خودکشی آف لائن کی۔ زمانے کی وجہ سے اُس نے جان دے دی، لیکن اس کے مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ آج مری کل دوسرا دن۔ کوئی فرق نہیں پڑا۔ لوگوں نے اس کا ذکر کرنا بھی گوارہ نہ کیا۔ اس ساری سوچ سے مجھے بہت فرق پڑا۔ میں نے دنیا کی پرواہ نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے زندہ رہنے کا فیصلہ کر لیا۔‘‘
(پپو مسلسل پیچھے ہٹ رہا ہے)

’’ان گنت والدین آگے بڑھ کر اپنے بچوں کی زندگی نہیں بچا پاتے۔ بعض کو تو اپنی اولاد کی تکلیفوں اور ذلت بھرے حالات کا پتا ہی تب چلتا ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ بجلی کی بے معنی موت سے میں نے بہت سے معنی اخذ کئے۔ یہ میری زندگی کا رخ موڑنے کیلئے ایک نکتہ آغاز ثابت ہوا۔ میرا زاویہ نگاہ بدل گیا۔ میں نے اس در در کی زندگی سے یہ جانا کہ خوشی، غمی اور غصے کا جذبہ اتنا شدید نہیں ہوتا جتنا کہ ذلت کا احساس ہوتا ہے، کئی لوگ اس احساس تلے دب کر مرنے سے بہت پہلے ہی مر جاتے ہیں۔‘‘
(پپو واپس اُسی جگہ پہنچ چکا ہے جہاں پہلے کھڑا تھا)
’’میں نے ابھی تک آپ کو یہ نہیں بتایا کہ میں نے کن حالات میں گھر کو چھوڑا؟ دراصل اب

اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے جب ہم حالات کی تپش سے گھبرا کر بھاگ اُٹھتے ہیں تو یہ دراصل حالات کا مقدر نہیں ہوتا، حقیقت میں ہم بھگوڑے ہوتے ہیں۔ ہم اچھا سوچ نہیں پاتے، اچھا بول نہیں پاتے۔ سوچنا اور بولنا ہی ہمیں ممتاز کرتا ہے۔ ویسے گھر سے زیادہ ٹھنڈی جگہ کوئی اور نہیں ہوتی لیکن گھروں میں رہنے والے گرم مزاج ہوتے ہیں، گھر سے باہر ہر جگہ میں تپش ہوتی ہے۔ کوئی لحاظ نہیں کرتا، پپو نے مجھے کہا کہ مجھ پر بھروسہ کرو۔ جب میں نے اسے بتایا کہ میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہوں تو بولا کہ تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ یہ بچہ میرا ہے؟ اس دن میں بدل گئی تھی۔ جب میں نے اس بچے کو جنم دینے کا فیصلہ کیا تو سب نے کہا کہ حرامی بچے کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا، میں نے کہا کہ کوئی بچہ حرامی نہیں ہوتا، لوگ حرامی ہوتے ہیں۔ میں نے بہت عزت دار حرامی دیکھے ہیں۔ میری ماں نے کہا کہ تمہیں قبول کر سکتے ہیں تمہارے حرامی بچے کو نہیں۔ اُنہوں نے مشورہ دیا کہ اسے ایدھی فاؤنڈیشن کو دے دو وہ اس سے کسی کی گود ہری کر دیں گے اور تمہیں معقول پیسے بھی ملتے رہیں گے۔ میرادل بہت ٹوٹ کر رویا۔ آج میرا بیٹا دس سال کا ہے اور میں اس کی تربیت ایسے کر رہی ہوں کہ وہ چٹان بن کر اپنی حقیقت کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ میں بچے کی پرورش نہیں کر رہی، محبت کا مینار نو تعمیر کر رہی ہوں۔ ہمیں واپس اس قدر کی طرف جانے کی ضرورت ہے جسے ہم گدازی کہہ سکتے ہیں۔ اسے سادہ لفظوں میں یہی کہہ سکتے ہیں کہ کسی دوسرے کا خیال کرنا اور صرف انسا ن ہی ایسا کر سکتے ہیں۔ ہم بہت باتیں کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری شنوائی ہو جائے، ہم نیک نیتی سے بات نہیں کرتے بلکہ توجہ اپنی جانب رکھنے کیلئے ہی بولتے ہیں۔ کسی کی جگہ ہو کر سوچ لیں اور جان لیں کہ جوتا اسے کہا ں سے دُکھتا ہے تو دنیا میں رہنے کا مزہ آنے لگے۔‘‘
(پپو تیزی سے چلتا ہوا ہال سے باہر نکل جاتا ہے)

’’میں لوگوں کو ہرانا چاہتی تھی، میں خود ہار گئی۔ میں اپنے آپ سے بہت سوال کرتی رہی ہوں، کیا؟ کیوں؟ کیسے ؟کب؟ کیونکر؟ میں کیوں گھر سے بھاگی؟ میں نے غلط لوگوں سے ناطہ کیوں جوڑا؟ میں نے حدیں کیوں پھلانگیں؟ لوگوں کو حدیں کیوں پھلانگنے دیں؟ میں نے ذمہ داری کیوں نہ اُٹھائی؟ میں نے انجام کا کیوں نہ سوچا؟ بس ایک ہی جواب ہے ، ایسا ہوتا ہے۔ ایسا ہوتا ہے۔ میں نے وقت کی لگام تھام لی ہے۔ میرے لئے صرف اپنے آپ کو بچانا کافی نہیں،اس طرح غلطیوں کا کفارہ ادا نہ ہو گا۔ جس نے بھی ذلت کو سہا ہے اس کیلئے میرا پیغام یہی ہے : آپ دوبارہ عزت نفس پا سکتے ہو، یہ آسان نہیں ہو گا، انتظار بھی کرنا ہو گا، درد بھی سہنا ہو گا۔بس آپ کو اس بات پر اصرار کرنا ہو گا کہ آپ اپنی کہانی کو نیا موڑ دیں گے۔ اپنے لئے خود گدازی کا بیج بونا ہو گا۔ ہم سب کو گداز لمحوں کی گود میں چین ملتا ہے۔ ہمیں یہیں رہنا ہو گا، آن لائن بھی اور آف لائن بھی۔ توجہ سے سننے کا شکریہ۔‘‘
(تالیوں کے شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی)
لنک-47 پر جائیے۔