نشے سے علاج تک

عادت کا مرحلہ

اس مرحلے میں لطف اٹھانے، تھکن بھگانے اور چستی لانے کے لیے نشہ کیا جاتا ہے۔ابتدا میں نشہ کے استعمال سے کارکردگی بڑھ جاتی ہے اور فی الحال نشہ مجبوری نہیں بنتا ہے۔ صبح اٹھنے کے بعد مریض کو متلی سی ہوتی ہے اور طبیت میں کھچاؤ بھی محسوس ہوتا ہے۔ دن گزرنے کے ساتھ ساتھ نشہ کرنے کا رجحان بڑھتا ہے۔ جہاں پہلے ہفتے میں ایک دفعہ نشہ کیا جاتا تھا وہاں نشہ روز کا معمول بن جاتا ہے۔ نشئی بڑی بے چینی سے اگلے دن کا انتظار کرتا ہے۔اسے راتوں کو پسینے آتے ہیں اور نشے کے علاوہ باقی چیزوں میں دلچسپی کم ہوتی جاتی ہے۔ شروع میں وہ دوستوں کے ساتھ یا تنہائی میں کسی خاص وقت پر نشہ کرتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ وہ وقت اور جگہ کا لحاظ کیے بغیر نشے میں دھت ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے میں مریض خود کو دنیا کا مظلوم ترین شخص سمجھتا ہے لہذٰا جب اسے روکا جائے تو وہ مسائل کو نشہ کرنے کی وجہ قرار دیتا ہے۔ وہ بے چینی، بے آرامی اور بے سکونی ختم کرنے کے لیے سکون آور گولیوں کا استعمال شروع کر دیتا ہے۔

انحصار کا مرحلہ (ایڈکشن)

اس مر حلے میں مریض کا نشے پر بھروسہ بڑھ جاتا ہے۔ وہ زیادہ تر وقت نشہ کرنے یا نشے کی تلاش میں گزارتا ہے۔ آس پاس کے لوگوں کو اس کی حالت گڑبڑ نظر آتی ہے اور وہ اس کے بارے میں چہ مگوئیاں کرنے لگتے ہیں۔ مریض لوگوں کے دباؤ کے نتیجے میں وقتی طور پر نشہ چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن چند دن بعد ہی واپس پلٹ آتا ہے۔ وہ بار بار توبہ توڑ دیتا ہے۔ اب وہ نشے کے پرانے مریضوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔ اس کی یاداشت میں گڑبڑ ہو جاتی ہے اور اسے بھولنے کے دورے پڑتے ہیں۔ حتٰی کہ مریض کی گھریلو زندگی تلخ ہو جاتی ہے اور گالم گلوچ اور ہاتھا پائی تک کی نوبت آ جاتی ہے۔اسی طرح ملازمت سے غیر حاضری، بدتمیزی اور جھگڑوں میں اٖضافہ ہوتا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں دوستیاں ٹوٹنے لگتی ہیں اور نشہ کرنے والوں کے علاوہ اس کے باقی دوست احباب کھسکنے لگتے ہیں۔

بربادی کا مرحلہ

اس مرحلہ میں جسمانی تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ نشہ نہ ملنے کی صورت میں شدید جسمانی بے چینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مریض کو سردی زیادہ لگتی ہے اور نزلہ، زکام کی بیماریاں اس کے پیچھے پڑ جاتی ہیں۔ مریض کو بھوک بھی کم لگتی ہے۔ معدے اور کمر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ وہ نشے میں دھت ہو کر جگہ جگہ گرتا ہے اور اس کا جسم خراشوں سے بھر جاتا ہے۔ جسم کے مختلف حصے سوج جاتے ہیں اور پسلیاں سن ہو جاتی ہیں۔اب وہ چوبیس گھنٹے نشے میں دھت رہتا ہے۔ اس کی ظاہری حالت سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہ نشے کا مریض ہے۔

ابتدائی علاج

اس مرحلے میں مریض اپنے دوست احباب کی کوششوں، پیشہ ورانہ رہنمائی اور مداخلت کی وجہ سے علاج کرانے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ وہ خود بھی جسمانی تکلیفوں اور مالی و معاشرتی پریشانیوں کی وجہ سے تنگ آ چکا ہوتا ہے۔ علاج کے پہلے مرحلے میں اسے علاج گاہ میں داخل کیا جاتا ہے۔ جہاں اس کا جسمانی علاج کیا جاتا ہے تاکہ اسے علاماتِ پسپائی کی تکالیف نہ سہنا پڑیں، اس دوران مریض کو دوائیں دی جاتی ہیں۔ عموما اس مرحلے پر مریض کو خود پر غصہ آتا ہے اور وہ پچھتاوے اور شرمندگی کا اظہار کرتا ہے۔

تعلیم نو

اس مرحلے میں مریض کو نشے کی بیماری کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے جس سے مریض کی جسمانی تکلیفیں دور ہوتی ہیں۔ اسے نشے کے بغیر زندہ رہنے کے گر سکھائے جاتے ہیں۔ شروع میں مریض جذباتی ہوتا ہے اور نشے کا مریض ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔ اسی دوران اسے مرض کے بارے میں معلومات اور مواد مہیا کیا جاتا ہے۔ وہ گروپ تھراپی میں شرکت کرتا ہے جس سے آہستہ آہستہ وہ اپنے مرض کو پہچاننے کے قابل ہو جاتا ہے اور وہ کھل کر مان لیتا تھا کہ وہ نشے کی بیماری میں مبتلا ہے۔ وہ نشے کہ مرض سے لڑنے کا ہنر سیکھتا ہے اور ذمہ دار انسان بننا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ واضح طور پر جان لیتا ہے کہ نشے سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا ہی اس مرض سے نجات کا واحد حل ہو سکتا ہے۔ اس کی زندگی میں اعتماد، حوصلے اور امید کی شمعیں روشن ہو جاتی ہیں۔ غصے، پچھتاوے اور مایوسی کے بادل چھٹ جاتے ہیں۔

بحالی

یہ علاج کا آخری مرحلہ ہے۔ مریض علاج گاہ سے فارغ ہو جاتا ہے اور وہ فالواپ میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ این اے میٹنگ میں باقاعدگی سے شرکت کرتا ہے اور ساتھی مریضوں کی مدد کرتا ہے۔ وہ بحالی کے پروگرام میں شریک ہو جاتا ہے۔ اب وہ غیر مشروط طور پر نشہ ترک کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو صحت مند نشے کا مریض سمجھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اب بھی نشہ کرنے کے قابل نہیں ہے اور نشہ کرنے کی صورت میں وہ پھر برباد ہو جائے گا۔ مریض نشے سے ہمیشہ کے لیے دور رہنے کا ارادہ کرتا ہے اور بحالی کے پروگرام کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔ گویا اب وہ اپنی زندگی کی بھاگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لے کر ہوش مندی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔