وہ کہاں کہاں سے گزر گیا

تعارف

یہ گھر سے بھاگنے والے نوجوان کی کہانی ہے جو کہ آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ اسے پڑھتے ہوئے آپ خود کو مرکزی کردار کی جگہ رکھیں گے۔ پہلے چیپٹر میں ایک نوجوان اپنے گھر سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ کہانی جب جب اہم موڑ پر پہنچتی ہے تب تب اُسے اپنی بقا کیلئے اہم فیصلہ کرنا ہوتا ہے جو کہ کسی بھی نوجوان، جو سڑکوں پر زندگی بسر کر رہا ہے کو کرنے پڑتے ہیں: کیا اُسے کھانا کوڑے سے اٹھا کر کھانا پڑے گا؟ کیا وہ کسی کو لوٹے گا؟ کیا وہ جسم فروشی سے اپنا پیٹ پالے گا؟ اس کہانی کو آپ خود آگے بڑھائیں گے، آپ سمجھ لیں کہ آپ ہی گھر سے بھاگنے والے نوجوان ہیں! اور اس مہم جوئی کے دوران بہت نازک لمحات آتے ہیں جب آپ کو اپنی کھال بچانے کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ آپ سوچتے ہیں کہ میں کیا کروں؟ کدھر جاؤں؟ سوچتے ہیں کہ اپنی عزت نفس بیچ دوں؟ کیا اپنا جسم بیچ دوں؟ ہر ٹرننگ پوائنٹ پر ایک کلک کی مدد سے آپ ایک نئی کہانی دریافت کرتے ہیں۔

ہر کلک ایک نیا تجربہ سامنے لاتی ہے۔ ایک نئی کہانی، نئے حالات نئی پیچیدگیاں اور پھر آپ کرتے ہیں ایک اور فیصلہ اور جو آپ کی بے چینیوں کو راستہ دیتا ہے۔ آپ جو کلکس چنتے ہیں انہی سے نئی سے نئی کہانیاں پرت در پرت کھلتی چلی جاتی ہیں۔ ممکنہ طور پر نت نئے موڑ لے کر آپ کے سامنے کئی کہانیاں آتی ہیں۔ ہر فیصلہ ایک نئی دنیا میں لے جائے گا، نئے تجربات سامنے آئیں گے اور نئی مشکلات اس کے ساتھ جڑ جائیں گی اور پھر چند قدم آگے چل کر نئی مشکل کے پیشِ نظر ایک اور فیصلہ کرنا ہو گا۔ کہانی کیسے آگے بڑھتی ہے اس کا انحصار آپ کے فیصلوں پر ہے، یہ فیصلے آپ کو بیس سے زیادہ ممکنہ انجام تک پہنچا سکتے ہیں۔آپ کو خود کو کہانی کے مرکزی کردار کی جگہ رکھ کر سوچنا ہو گا۔جب آپ ایک کہانی کے انجام تک پہنچتے ہیں اور آپ کا سامنا ایک دردناک صورت حال سے ہوتا ہے جیسے کہ بھوک پیاس، بے عزتی، استحصال اور نشے کی بیماری میں اوور ڈوز سے آپ کو موت سامنے نظر آتی ہے یا معلوم نہیں ہوتا ہے کہ رات کو سر پر صرف آسمان کی چھت ہو گی تو آپ کو گھر، ماں باپ اور بہن بھائی سب یاد آنے لگتے ہیں ایسے میں آپ واپس شروع میں جا کر سوچتے ہیں کہ اگر آپ کوئی مختلف فیصلہ کرتے تو کیا ہوتا، آپ اطمینان کا سانس لیتے ہیں۔ معاملات پر نظر ثانی کی آسانی اور سہولت اُن لڑکوں اور لڑکیوں کو قطعی حاصل نہیں ہوتی جو سوچے سمجھے بنا گھر سے بھاگ اُٹھتے ہیں۔

نوجوانوں کے گھر سے بھاگنے کے موضوع پر ڈاکٹرصداقت علی کی ویڈیو دیکھنے کیلئے اس لنک پر کلک کیجئے۔

کیا آپ کے دل میں بھی گھر سے بھاگ جانے کا شوق انگڑایاں لیتا رہتا ہے؟ ہاتھ بڑھائیے اور کلک کیجئے۔

بھاگ پپو بھاگ

اس کہانی کا مرکزی کردار ایک نوجوان لڑکا ہے جس کا نام پپو ہے، وہ ایف ایس سی پری میڈیکل کا طالب علم ہے۔ اس کا تعلق فیصل آباد کے ایک امیر گھرانے سے ہے۔ آسائشِ زندگی کی فراوانی کے باوجود پپو کے تعلقات اپنے گھر والوں سے ٹھیک نہیں ہیں۔ وہ پریشان رہتا ہے اور اپنے جیسے نوجوانوں کی طرح بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ ایک دن حالات کے پیشِ نظر وہ گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ بدقسمتی سے اُسے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

ایک رات پپو کی اپنے والد سے جھڑپ ہو جاتی ہے۔ پپو پانی پینے کے لیے کچن کی جانب جاتا ہے اور بوتل کو منہ لگا کر پانی پی رہا ہوتا ہے۔ جیسے ہی وہ بوتل کو منہ لگائے پیچھے کی جانب مڑا تو سامنے ہی اسکے والد شیخ جلال دین ماتھے پر سلوٹیں ڈالے کھڑے تھے۔ پپو انکو دیکھ کر وہاں سے جانے لگتا ہے تو وہ پیچھے سے غصے میں بولنے لگ جاتے ہیں۔

والد: تمہیں تو اتنی بھی تمیز نہیں کہ باپ کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔
پپو: اب میں نے آپ کو کیا کہہ دیا؟ میں تو خاموشی سے کمرے میں جا رہا تھا۔
والد: ہاں تو، کوئی سلام دعا کرنا بھی سیکھا ہے کہ بس باپ کے پیسے پر عیاشی کرنا ہی آتا ہے۔
پپو: (غصے سے باپ کو دیکھتا ہے)۔
والد: باپ کو آنکھیں دکھا نے سے قبل یہ بھی سوچ لیا کرو کہ تم میرے گھر میں کھڑے ہو، میرے پیسوں پر پل رہے ہو۔ اسکا کوئی احساس بھی ہے کہ میں تم لوگوں کے لیے کتنی محنت سے کماتا ہوں
پپو: ہاں تو، کماتے ہیں تو کیا احسان کرتے ہیں؟
والد: تم جیسی نکمی اولاد جن کو بغیر کسی محنت کے سب کچھ مل جائے ان پر احسان ہی ہوتا ہے۔
پپو: اس گھر میں تو رہنا کیا، پانی پینا تک دوبھر ہو چکا ہے۔
والد: ہاں تو، کوئی تمہیں زبردستی یہاں روکے ہوئے نہیں ہے۔
پپو: ہاں میں ویسے ہی چلا جاتا ہوں ادھر سے اور اس گھر سے ہمیشہ کے لیے۔
والد: اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی؟ تمہارے جانے سے تو ہم واپس دنیا میں آ جائیں گے ، تمہارے جیسی اولاد ہونے سے تو بے اولاد ہونا ہی بہتر ہے۔ جاؤ چلے جاؤ، دفعہ ہو جاؤ اور دوبارہ مجھے کبھی اپنی شکل نہ دکھانا۔
پپو: ہاں! ہاں! میں ابھی دفعہ ہوجا تا ہوں۔
والد: میری نظروں سے دور ہو جاؤ، جاؤ اپنے کمرے میں مرو۔ حرام زادہ، اُلو کا پٹھا، باتیں کس قدر آتی ہیں تمہیں۔ کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا۔

رات گئے تک پپو کروٹیں بدلتا رہتا ہے۔ فجر سے کچھ دیر پہلے اسکی آنکھ لگ جاتی ہے۔ رات بھر اسکی ماں بھی نہ سوئی، بار بار کمرے میں جھانک کر اس دیکھتی رہی۔
شیخ جلال دین جو کہ فیصل آباد کے نامی گرامی کاروباری فرد ہیں، اپنی کاروباری مصروفیت کے سلسلے میں انہیں اکژ شہر سے باہر جانا پڑتا ہے۔ سہ پہر کے وقت پپو کی والدہ سو رہی ہیں اور گھر کے باقی افراد گھریلو کاموں میں مصروف ہیں۔ پپو یہ ’’سنہری موقع‘‘ کھونا نہیں چاہتا۔ وہ بیگ اٹھاتا ہے اور شیخ جلال دین جو کہ فیصل آباد کے نامی گرامی کاروباری فرد ہیں، اپنی کاروباری مصروفیت کے سلسلے میں انہیں اکژ شہر سے باہر جانا پڑتا ہے۔ سہ پہر کے وقت پپو کی والدہ سو رہی ہیں اور گھر کے باقی افراد گھریلو کاموں میں مصروف ہیں۔ پپو یہ ’’سنہری موقع‘‘ کھونا نہیں چاہتا۔ وہ بیگ اٹھاتا ہے اور اس میں مختلف چیزیں ٹھونسنا شروع کر دیتا ہے، آج وہ اپنے گھر سے بھاگنے کا حتمی فیصلہ کر چکا ہے۔

آپ نے گھر سے بھاگ جانے والے نوجوانوں کے بارے میں سُن رکھا ہو گا۔ آپ یقیناً سمجھ سکتے ہیں کہ وہ لوگ کیسا محسوس کرتے ہوں گے؟ جب وہ کالج کیفے ٹیریا میں بیٹھے یا کسی دوست کے گھر یا اپنے ہی بیڈروم میں کہتے ہیں کہ ’’باتیں تو بہت ہو چکیں اب عمل کرنا چاہیے‘‘ تو اس سے معاملے کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے۔

پپو کے ذہن میں یہ سوالات اُمڈ رہے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ کیا لے کر جائے؟ اُسے یہ بیگ کتنی دیر تک اٹھانا ہو گا؟ آخر کتنا سامان وہ مسلسل اٹھائے رکھ سکتا ہے؟ اور اگر اُسے تمام دن یہ سامان اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھنا ہوا تو۔۔۔؟ وہ خیال کرتا ہے کہ شاید اُسے اپنی بہت سی پسندیدہ چیزوں کو چھوڑ کر جانا ہو گا۔۔۔ وہ چیزیں جو اس کیلئے بہت قدروقیمت رکھتی ہیں جیسے کہ اُس کی میوزک سی ڈِیز، اُس کے پسندیدہ لوگوں کی تصویروں کے پوسٹر۔۔۔ کیا وہ یہ سب سامان چھوڑ سکتا ہے جس سے جدا ہونے کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔۔؟

پپو اپنی باقی ماندہ پسندیدہ چیزوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اپنے آپ کو تسلی دیتا ہے اور سوچتا ہے کہ جب وہ یہاں سے چلا جائے گا تو اُسے اس سے بھی زیادہ بہتر زندگی اور اشیاء میسر آئیں گی۔ پپو کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ اُسے تو ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے کی عادت ہے تو کیا وہ کچھ کھانا بھی اپنے ساتھ لے سکتا ہے؟ اس خیال سے اس کا ذہن چونک اٹھتا ہے اور وہ کچن میں موجود چاکلیٹ، بسکٹ، چپس، نمکو وغیرہ اُٹھا کر اپنے بیگ میں رکھ لیتا ہے۔

پپو کے اندر کا انسان اس سے سوال کرتا ہے کہ آخر وہ کتنا کھانا اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے؟ آخر اُس کے ذہن میں کیا ہے؟ کیا وہ ساری زندگی کیلئے اِس گھر کو چھوڑ دینا چاہتا ہے؟ رقم کا کیا ہو گا؟ کیا اُسے کچھ رقم بھی اپنے ساتھ لے جانا ہو گی؟ یہ ایک مشکل گھڑی ہے۔۔۔ پپو سوچتا ہے کہ گھر میں موجود رقم کچھ اس کے والد کی اور کچھ گھر میں موجود باقی لوگوں کی ہے لیکن بہرحال ایمرجنسی کی صورتِ حال ہے اور اِس کے پیشِ نظر کچھ رقم لے جانا جائز ہے۔

پپو اپنی تیاری مکمل کر کے گھر سے کچھ فاصلے پر موجود بس سٹاپ پر کسی سواری کے انتظار میں ہے، وہ اپنا بھاری بھر کم بیگ زمین پر رکھ دیتا ہے۔ مستقبل میں آنے والی مشکلات کے خوف سے پپو ایک جھرجھری لیتا ہے اور اُس کے دل میں لوٹ جانے کا خیال منڈلانے لگتا ہے لیکن پپو سوچتا ہے کہ لوٹ کر پھر اُسی زندگی کی طرف جانا پڑے گا جس سے وہ بھاگ جانا چاہتا ہے۔ پپو تصور کرتا ہے کہ وہ ایک نئی زندگی کی طرف رواں دواں ہے جہاں وہ اپنے لیے ایک نیا گھروندہ بنائے گا جو سردیوں میں اُسے گرمائش اور گرمیوں میں ٹھنڈک دے سکے گا۔
یہ سب کس لیے ہے؟
وہ یہ سب کچھ کیوں کر رہا ہے؟
وہ یہ سب کچھ کیوں کر رہا ہے؟
وہ ان حالات کی وجہ ایک لمبے عرصے سے جانتا ہے لیکن اُس نے کسی کو نہیں بتایا، یہ اُس کا راز ہے۔۔۔ گہرا راز۔

پپو بس سٹاپ پر کھڑا خوف محسوس کر رہا ہے، اُس کا دل تیز تیز دھڑک رہا ہے، اُس کے جسم میں خون کی گردش بھی تیز ہے اور اُس کا ذہن عجیب و غریب خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ پپو کے دل میں خیال آتا ہے کہ شاید جنگ میں فوجیوں کو بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہو گا۔ جب وہ سنسناتی ہوئی گولیوں کے بیچوں بیچ اپنے مورچے سے نکلتے ہوں گے تو شاید انہیں بھی ڈر محسوس ہوتا ہوگا لیکن پھر بھی وہ اپنے محاذ سے پیچھے نہیں ہٹتے اور انہیں جو کرنا ہوتا ہے آخر وہ کر کے ہی دم لیتے ہیں۔ جنگ کے بعد انٹرویو دیتے ہوئے بہت سے قومی ہیرو اپنی بہادری بارے ایسے کارنامے بتاتے ہیں جیسے کہ وہ سپرمین ہوں لیکن کچھ تھوڑی دیر کیلئے دل میں چھپے ڈر کو مان بھی لیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اُنہیں یہ یقین نہیں ہوتا تھا کہ کیا وہ واقعی سنسناتی گولیوں کے بیچوں بیچ مورچے سے نکل کر دشمن پر ٹوٹ پڑے ہیں۔
پپو خود کلامی کرتا ہے کہ وہ کوئی فوجی تو نہیں ہے، نہ ہی یہاں کوئی سنسناتی یا ترتڑاتی گولیاں چل رہی ہیں، نہ ہی کوئی مورچے بنے ہوئے ہیں، وہ تو صرف ایک نوجوان ہے جس نے اس نئی دُنیا میں ابھی پہلا قدم رکھا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ چونکہ اس کا اپنے والدین کے ساتھ ہمیشہ ہی جھگڑا رہا ہے اس لیے اُس کے حالات کبھی بھی ٹھیک نہیں رہے، اُسے اب کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا۔
آپ کا کیا خیال ہے وہ کیا کرے گا؟

ممکنہ اقدامات

وہ ایک دوست کے گھر جا سکتا ہے، اگر آپ اس خیال سے متفق ہیں تو لنک-2 پر جائیے

اُسے ایک موٹل میں چلے جانا چاہئیے ، اِس پر کچھ اخراجات تو ہوں گے لیکن اُسے سوچنے کا وقت م جائے گا کہ اب اُسے کیا کرنا چاہئیے۔ اگر آپ کے خیال میں یہ بہتر قدم ہے لنک-3 پر چلے جائیے

اُسے رقم سمیت کسی بس پر چڑھ جانا چاہئیے تاکہ وہ کسی دوسرے شہر جا سکے لنک-4 پر چلے جائیے۔

کچھ نہیں بگڑا اُسے فوراً اپنے گھر لو ٹ جانا چاہئیے۔اگر آپ کے خیال میں یہ مناسب ہے لنک-5 پر چلے جائیے۔

ہم تو ڈوبے ہیں صنم

بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نِکلے

کچھ ہی دیر میں وہ اپنے بہت گہرے دوست بنٹی کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے، بنٹی ایک بہت مشہورِ زمانہ فزیشن کا بیٹا ہے اور امیر خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ پپو بیگ کے وزن سے تھک چکا ہے ۔ بنٹی دراوزے پر آتا ہے اور پپو کو وہاں دیکھ کر بہت حیران ہوتا ہے۔

’’میں گھر سے بھاگ آیا ہوں، کیا میں یہاں رہ سکتا ہوں؟‘‘ پپوکے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔
’’اوہ! تم گھر سے بھاگ آئے ہو‘‘ وہ متجسس انداز میں کہتا ہے۔
’’اندر آجاؤ۔‘‘ بنٹی کہتا ہے ۔
وہ اُس کو چپکے سے اپنے کمرے میں لے جاتاہے اور ڈیک اونچی آواز میں چلا دیتا ہے تاکہ اس کے والدین اُن کی گفتگو نہ سن سکیں۔

’’میرا بھی دل چاہتا ہے کہ تمہارے ساتھ گھر سے بھاگ جاؤ‘‘ بنٹی کہتا ہے۔
’’ہاں کیوں نہیں ؟ تم کیوں نہیں بھاگ سکتے ، اس میں تو بہت مزہ آئے گا۔ ہم دونوں اکٹھے بھاگیں گے اور بہت انجوائے کریں گے۔ ہمت کرو اور سامان باندھو، میں تمہاری مدد کروں گا۔‘‘ پپو بنٹی کی ہمت بندھاتے ہوئے کہتا ہے۔پپواب پہلے سے بہتر محسوس کر رہا ہے۔

’’ہرگز نہیں آخر ہم سوئیں گے کہاں؟‘‘ بنٹی پریشانی کے عالم میں پوچھتا ہے۔
’’ہم کوئی نہ کوئی جگہ ڈھونڈ ہی لیں گے۔‘‘پپو اُسے تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے۔

’’کیا مطلب؟ ہم کیسے جگہ ڈھونڈ لیں گے، تمہیں جگہ چاہئیے تو تم میری طرف آگئے اور اگر ہم یہاں سے چلے گئے تو پھر کس کے گھر جائیں گے؟ ‘‘بنٹی مزید پوچھتا ہے۔
’’ہمیں کسی گھر کی ضرورت نہیں ہے، ہم باہر کہیں بھی خیمہ لگا کر سو جائیں گے۔۔۔ بہت مزہ آئے گا‘‘پپو انگڑائی
لیتے ہوئے کہتا ہے۔

’’عقل کے اندھے۔۔۔ باہر تو بہت سردی ہے اور پھر کتنے سال ایسا کرو گے؟آخر ہم کھائیں گے کہاں سے؟ ‘‘ بنٹی سوالات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔

’’بھئی ہم اپنے ہی گھر سے جب وہاں کوئی موجود نہ ہو کھانا چوری کرسکتے ہیں۔‘‘پپو بنٹی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہتا ہے۔پپو سوچ رہا ہے کہ وہ بنٹی کو منا رہا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ،اصل میں وہ اپنے آپ کو تیار کر رہا ہے۔
’’سنو !میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں مگر میں تمہارے ساتھ جانے کے لیے تیار نہیں ہوں، چلو چل کر میری امی سے پوچھتے ہیں کہ تم یہاں رات رُک سکتے ہو یا نہیں؟ ہم اُنہیں کہیں گے کالج کے کسی پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں ۔ ‘‘بنٹی کہتا ہے۔

ان کا یہ منصوبہ کارآمد ثابت ہوتا ہے اور باقی کی ساری رات پپو کو بنٹی کے والدین دوبارہ نظر نہیں آتے۔ویڈیو گیم کھیلتے کھیلتے ایک دم بنٹی رُک جاتا ہے اور پپو سے پوچھتا ہے۔
’’تم کیا سمجھتے ہو جب انہیں تمہارے بھاگنے کا معلوم ہو گاتو تمہارے گھر والے کیا سوچیں گے،‘‘بنٹی سمجھاتے ہوئے پوچھتا ہے
۔پپو لاجواب ہو جاتا ہے۔
’’وہ یقیناًغصے میں اور گھبرائے ہوئے ہوں گے کیونکہ تمہارے اس قدم نے انہیں خوفزدہ کر دیا ہوگا‘‘ بنٹی کہتا ہے۔ ’’کیا تم پریشان نہیں ؟‘‘بنٹی پپو کے چہرے کی طرف بغور دیکھتے ہوئے پوچھتا ہے۔
’’نہیں تو!‘‘ پپو جھوٹ بولتا ہے۔

’’کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ اپنے آپ کو کوس رہے ہوں گے کہ وہ تمہارے ساتھ بہتر رویہ رکھتے تو اچھا تھا؟۔وہ تمہاری اس حرکت پرخود کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہوں گے، یا پھر تمہیں ایک بگڑا ہوا بچہ سمجھ رہے ہوں گے؟‘‘بنٹی پپو سے پوچھتا ہے۔
کافی دیر بعد جب پپو سونے کیلئے لیٹا تو یہ سب سوال یعنی ’’تمہارے گھر والے کیا محسوس کر رہے ہوں گے؟‘‘
اُس کے ذہن میں پھر سے ابھرنے لگتے ہیں۔ ’’کیا آج رات بھی تم مجھے اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دو گے؟‘‘
صبح سویرے پپو بنٹی کے ساتھ بس سٹاپ کی طرف جانے لگا تو راستے میں پُرامید لہجے میں اُس نے بنٹی

صبح سویرے پپو بنٹی کے ساتھ بس سٹاپ کی طرف جانے لگا تو راستے میں پُرامید لہجے میں اُس نے بنٹی سے پوچھا۔ ’’سنو! میں کسی مصیبت میں پھنسنا نہیں چاہتا، کیا تم کسی اور کے ساتھ نہیں رہ سکتے؟‘‘بنٹی نے بڑی مشکل سے جواب دیا۔

اسی طرح دوستوں کے گھر والوں سے مختلف بہانے کرتے ہوئے پپو کو تین دن گزر جاتے ہیں یعنی تین دن اور تین مختلف دوست۔ پپو کو اپنے اِن سب دوستوں پہ بڑا مان ہوتا ہے، اُس کا خیال ہے کہ اُس نے ان دوستوں کے لیے اتنا کچھ کیا ہے کہ جب کبھی بھی اُسے ضرورت پڑے وہ دل و جان سے مدد کے لیے تیار ہوں مگر اس کا اپنے دوستوں پر اعتماد پاش پاش ہوگیا۔ وہ اُن کے رویوں پر بہت افسردہ ہوتا ہے۔

اُس کا ہر دوست ایک رات پپو کو اپنے گھر ٹھہرا کر پھر کچھ پیسے دے کر گھر سے رخصت کر دیتا ہے۔ اس طرح تین دنوں کے اختتام پر اُس کے پاس چار ہزار روپے روپے جمع ہوگئے جو کہ آنے والے چند دنوں کے لیے استعمال میں لائے جا سکتے ہیں۔
پپو سوچتے ہوئے ببلو کے گھر کی طرف بڑھتا ہے جو کہ فیصل آباد کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کا بیٹا ہے۔ ببلو بھی پپو سے گہری دوستی کا دم بھرتا ہے اور پپو ببلو کے ہاں ایک رات قیام کرتا ہے۔ صبح سویرے اُٹھ کر وہ ببلو کے فیملی ممبرز کے ساتھ ناشتہ کرتا ہے۔

’’لڑکو! تمہارا پراجیکٹ کیسا جا رہا ہے؟‘‘ ببلو کی ماں دونوں سے استفسار کرتی ہیں۔
ببلو کی والدہ جو ایک پولیس آفیسر کی اہلیہ ہیں اور جو مستقبل میں آنے والے خطرات کے بارے میں کچھ شکوک رکھتی ہیں۔ ابھی پپو جواب دینے کیلئے لب کھولتا ہے کہ اچانک فون کی گھنٹی بجتی ہے، ببلو کی والدہ فون اٹھاتی ہیں ، ہیلو کہتی ہیں اور پھر پپو پر شک بھری نظر ڈالتی ہیں۔

’’اچھا! تو یہ بات ہے!‘‘ ببلو کی والدہ فون پر کہتی ہیں۔
اب ببلو کی والدہ پپو کو گھورنا شروع کر دیتی ہیں۔
’’پپو یقیناًیہیں ہے۔‘‘ وہ جواب دیتی ہیں۔
پپو یہ گفتگو سنتے ہی اپنے بیگ پر جھپٹتا ہے اور تیزی سے دروازہ کھول کر فرار ہو جاتا ہے۔ سڑک پربھاگتے بھاگتے اُس کی سانس پھول جاتی ہے۔ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ سانس لینے کے لیے ایک گھر کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاتا ہے۔
’’تمہارے گھر والے تمہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔‘‘ ایک آواز آتی ہے۔

وہ لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے سر اُٹھاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کا ایک پڑوسی تشویش کے ساتھ اُس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ پپو اُس کو دیکھتے ہی اُلٹے پاؤں بھاگ پڑتا ہے اور بالآخر ایک عمارت کے عقب میں چھپ جاتا ہے۔ کچھ دیر کے بعد وہ آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر وہ محسوس کرتا ہے کہ سڑک پر خاموشی چھائی ہوئی ہے اور رات گہری ہوتی جا رہی ہے، وہ بڑے محتاط انداز میں قدم اٹھاتا ہے اور اپنے گردونواح کا جائزہ لیتا ہے۔ بادل چھانے لگتے ہیں اور پورے شہر میں اندھیرے کی چادر بچھ جاتی ہے ۔ سورج کی روشنی مدھم ہوتے ہوتے اب مکمل طور پر غائب ہو جاتی

وہ لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے سر اُٹھاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کا ایک پڑوسی تشویش کے ساتھ اُس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ پپو اُس کو دیکھتے ہی اُلٹے پاؤں بھاگ پڑتا ہے اور بالآخر ایک عمارت کے عقب میں چھپ جاتا ہے۔ کچھ دیر کے بعد وہ آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر وہ محسوس کرتا ہے کہ سڑک پر خاموشی چھائی ہوئی ہے اور رات گہری ہوتی جا رہی ہے، وہ بڑے محتاط انداز میں قدم اٹھاتا ہے اور اپنے گردونواح کا جائزہ لیتا ہے۔ بادل چھانے لگتے ہیں اور پورے شہر میں اندھیرے کی چادر بچھ جاتی ہے ۔ سورج کی روشنی مدھم ہوتے ہوتے اب مکمل طور پر غائب ہو جاتی ہے۔ خاموش عمارتیں، خالی گلیاں یہاں تک کہ ہر چیز سرمئی نظر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ پپو کو ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کوئی بلیک اینڈ وائٹ فلم دیکھ رہا ہو، یہاں تک کہ فیصل آباد کا گھنٹہ گھر بھی اُجڑااُجڑا سا نظر آ رہا ہے۔

پپو کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ اب کیا کرے ؟ جبکہ اُس کے اہل خانہ شہر میں ہر شخص سے رابطہ کرکے پپو کے بارے میں کرید کرید کر پوچھ رہے ہیں۔ اُس کے دوست پپو کی مدد کرنے کی بجائے اس پریشانی میں ہیں کہ کہیں اس کی وجہ سے وہ بھی مشکل میں نہ پڑ جائیں۔ بہرحال پپو اُن کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ گھر سے بھاگنا پپو کا ذاتی فیصلہ ہے اور اُسے اپنے اوپر ہی انحصار کرنا چاہئیے۔ پپو کو اپنے دوستوں کی اب کوئی پرواہ نہیں اور وہ اچانک شہر سے غائب ہو کر اُن کو حیران و ششدر کرنا چاہتا ہے۔

پپو کے لیے اب فیصل آباد چھوڑنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ پپو اپنی آنکھوں کو زور سے بند کرتے ہوئے سوچتا ہے اور اپنے ذہن پر زور دینے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ پپو کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر صداقت علی نشئی رویوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ ویڈیو دیکھنے کیلئے اس لنک پر کلک کیجئے۔

آپ کے خیال میں پپو کیا کرے گا؟

وہ عقلمندی کا ثبوت دے گا اور سیدھا گھرلوٹ جائے گا۔اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تولنک-6 پر جائیے۔
پپو کسی شاہراہ پر جا کر شہر سے باہر جانے کے لیے کسی گاڑی سے لفٹ لے گا۔ اگر آپ کے خیال میں پپو ایسا کرے گاتو لنک-7 پر جائیے۔

بھاگتے چور کی لنگوٹی

غافِل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی ، گَر تو نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی

پپو گھر سے چرائی ہوئی کافی رقم ساتھ لاتا ہے اور کسی ہوٹل میں قیام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ چنیوٹ بازار فیصل آباد کے اُن سات بڑے بازاروں میں سے ایک ہے جو گھنٹہ گھر کے پاس ہیں وہ چنیوٹ بازار کے ’نور ہوٹل‘ میں جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔

پپو چنیوٹ بازار سے کئی دفعہ گزرا تھا لیکن نور ہوٹل میں رہائش کرنے کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں اور اب اس کی ضرورت اُس کو یہاں کھینچ لائی تھی۔ نور ہوٹل پہنچنے پر پپو دیکھتا ہے کہ اُس کی دیواروں سے جگہ جگہ پینٹ اُکھڑا ہوا ہے، ٹیوب لائٹس ٹوٹی ہوئی ہیں اور ہوا میں جھُول رہی ہیں۔ استقبالیہ کے شیشے والے کیبن میں ایک چھوٹی سی کھڑکی ہے اور استقبالیہ کے بائیں جانب سیڑھیاں اوپر دوسری منزل کی طرف جارہی ہیں۔

پپو سوچتا ہے کہ وہ چند دن کے لیے کوئی کمرہ کرائے پر لے لے اور پھر اُس میں بند ہو کر بیٹھ جائے۔ پپو دل ہی دل میں ڈر رہاہے۔ اُس کی یہ پریشانی عروج پرہے کہ کہیں کسی کو شبہ نہ ہو جائے کہ وہ گھر سے بھاگا ہوا ہے۔ وہ ہمت کر کے استقبالیہ کلرک کی طرف بڑھتا ہے۔پپوشیشے کے کیبن میں موجود ادھیڑ عمر شخص کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ شخص اخبار پڑھنے میں مگن ہے اور پپو کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا۔ پپو زور سے شیشہ کھٹکھٹاتا ہے جس پر وہ شخص ناگواری سے پپو کی طرف دیکھتا ہے۔

’’مجھے ایک کمرہ چاہئیے‘‘ پپو سہمے ہوئے انداز میں اپنا مدعا بیان کرتا ہے۔

’’کیا تم فیصل آباد کے رہنے والے ہو؟ میں فیصل آباد کے رہائشی کو کمرہ کرائے پر نہیں دیتا‘‘ اُس شخص نے ناپسندیدہ انداز میں پپو کو گھورتے ہوئے بتایا۔

’’لاؤ اپنا شناختی کارڈ دکھاؤ‘‘ وہ شخص اپنا ہاتھ شیشے کے کیبن سے باہر نکالتا ہے۔

’’میں شیخوپورہ سے آیا ہوں‘‘ پپو جھوٹ بولتا ہے۔

یہ سن کر وہ شخص کہتا ہے کہ صدرِ پاکستان کی آمد متوقع ہے اس لیے کوئی بھی کمرہ کرائے پر نہیں دیا جا رہا۔ یہ سن کر پپو اُس سے بحث کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ آخر تنگ آکر وہ شخص پپو کی بے عزتی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اسی وقت ہوٹل سے نکل جائے۔ پپو کو بڑی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ گھر ہی صرف ایسی جگہ ہے جہاں مکمل تحفظ حاصل ہوتا ہے اور گھر سے بھاگنے والے اسی طرح ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔
’’یہ دیکھو، میں یہ ساری رقم تم کو دے دوں گا، بس مجھے ایک کمرہ دے دو۔۔۔‘‘ پپو اپنی جیب میں سے ایک بڑی رقم نکال کر اُس شخص کودکھاتاہے۔

اتنی بڑی رقم دیکھ کر بھی وہ شخص پپو کو کمرہ دینے پر رضامند نہیں ہوتا اور اسے بتاتا ہے کہ اس سے پہلے بھی اسی طرح ایک لڑکا اُس کا ٹی وی اور دو کرسیاں چُرا کر بھاگ گیا تھا۔ پپو کو اس کے اس رویے پر بہت غصہ آتا ہے مگر وہ بے بس ہوتا ہے اس لیے ہوٹل سے باہر کی طرف چل پڑتا ہے۔

ہوٹل کے ایک کونے میں مولوی صاحب یہ سب تماشا دیکھ رہے ہیں۔ وہ اِن دونوں کے درمیان ہونے والی تمام گفتگو بھی سن چکے ہیں۔ پپو جیسے ہی ہوٹل سے باہر نکلتا ہے تو اُسے اپنے شانے پر ایک دوستانہ گرفت محسوس ہوتی ہے۔

پپو پیچھے مڑکر دیکھتا ہے تو وہ گرفت ایک باریش بزرگ کی ہے، جو پپو کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ وہ بزرگ پپو کو ایک دوسرے ہوٹل میں لے جاتا ہے اور اُسے اپنا بیٹا ظاہر کر کے ایک کمرہ لے دیتا ہے۔ جس میں ایک ڈبل بیڈ، ایک ڈریسنگ ٹیبل اور ایک ٹی وی پڑا ہوتا ہے۔ وہ بزرگ بھی کمرے میں ٹھہرنے کیلئے ضد کرتے ہیں۔ پپو کو اس بات سے بہت اُلجھن ہوتی ہے مگر وہ بے بس ہے کیونکہ اس شخص کی بدولت ہی اُس کو یہ کمرہ ملا ہے۔

پپو ٹی وی پر فلم دیکھنے لگتا ہے، فلم دیکھتے دیکھتے پپو پر نیند غالب آتی ہے تو وہ اُٹھ کر ٹی وی اور لائٹ بند کرکے کھڑکی سے پردے کو تھوڑا سا ہٹا دیتا ہے اور بیڈ پر لیٹ جاتا ہے۔

یہاں آنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ گھر والوں سے تھوڑی دیر کیلئے چھپ جائے اور دیکھے کہ وہ کیا کرتے ہیں؟پپو کھڑکی میں سے باہر جھانکتا ہے تو اُسے دھند کی دبیز چادر نظر آتی ہے اور اُسے مختلف لوگ اِدھر اُدھر اپنے کاموں میں مشغول نظر آتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ لوگوں کی یہاں آنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ گھر والوں سے تھوڑی دیر کیلئے چھپ جائے اور دیکھے کہ وہ کیا کرتے ہیں؟پپو کھڑکی میں سے باہر جھانکتا ہے تو اُسے دھند کی دبیز چادر نظر آتی ہے اور اُسے مختلف لوگ اِدھر اُدھر اپنے کاموں میں مشغول نظر آتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں یہ سب کیوں ہوتا ہے؟ کیا اپنے حالات کے سب لوگ خود ذمہ دار ہوتے ہیں؟ کیا وہ زندگی میں غلط فیصلے کرتے ہیں؟

یہی باتیں سوچتے سوچتے وہ اپنے بارے میں سوچنے لگتا ہے کہ کیا اُس نے صحیح فیصلہ کیا ہے؟ اُسے مستقبل کا بھی لائحہ عمل بنانا چاہیے، اس لیے وہ بستر پر لیٹ کر آنے والے دنوں کے بارے میں سوچتا ہے، سوچتے سوچتے آنکھ لگ جاتی ہے۔

صبح ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے سے پپو کی آنکھ کھل جاتی ہے، ابھی وہ مزید سونا چاہتا ہے لیکن اُس کو اطلاع دی جاتی ہے کہ گیارہ بجے اُس نے کمرہ چھوڑنا ہے اور اب ساڑھے گیارہ بج چکے ہیں، اگر وہ ایک دن اور ٹھہرنا چاہتا ہے تو اسے مزید رقم جمع کروانی ہوگی۔

پپو اُٹھ کر اُن مولوی صاحب کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر بے سود۔ وہ شخص اُسے چکر دے کر رات کے کسی پہرتقریباً ساری رقم لے کر بھاگ جاتا ہے۔ کچھ رقم شاید اس لئے چھوڑ جاتا ہے کیونکہ ہوٹل میں اُسی کا پتہ درج ہے۔ پپو سمجھ جاتا ہے کہ وہ شخص باقاعدہ پروگرام بنا کر پپوکو یہاں لے کر آیا اور اسے لوٹ کر چلتا بنا۔ اب تو پپو کے پاس زیادہ رقم بھی نہیں بچی۔ شایدپپو پر مصیبتیں نازل ہونا شروع ہوچکی ہیں۔

’’ابھی بھی واپس گھر چلے جاؤ‘‘ پپو کو یہ خیال پھر ستاتا ہے، ہو سکتا ہے اگر وہ خود واپس چلا جائے تو اُس کے گھر والے اُسے معاف کردیں۔ اگر یہ صحیح حل ہے اورآپ کے خیال میں پپو اس خیال پر عمل پیرا ہوگا تو لنک-6 پرچلے جائیے۔

وہ سوچتا ہے کہ اُسے ایک بس پکڑ کر اس شہر سے ہی دُور چلا جانا چاہئیے جو اِس کیلئے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ اگر آپ کے خیال میں یہی مناسب حل ہے تو جائیے لنک-7 پر۔

جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر

لنک -1 لاہور، لاہور اے، جنے لاہور نہیں ویکھیا او جمیا ای نئی۔

پپو شہر سے باہر جانے کیلئے مختلف لوگوں سے بسوں کے اڈے کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے جس پر ایک شخص اُسے نیازی بس اڈے کا پتہ بتاتا ہے۔ پپو جب نیازی اڈے پر پہنچتا ہے تو وہ وسیع و عریض احاطے میں لوگوں کا ایک جم غفیر دیکھتا ہے۔ پپو بھی انتظار گاہ میں ایک طرف بیٹھ جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس کی جیب میں اتنی رقم تو موجود ہی ہے جس سے وہ کم از کم لاہور تک تو پہنچ ہی سکتا ہے۔
پپو ٹکٹ لینے کے لیے ٹکٹ بوتھ پر پہنچ جاتا ہے اور ایک گھنٹہ قطار میں انتظار کرنے کے بعد پپوکو معلوم ہوتا ہے کہ لاہور جانے والی بس تین گھنٹے بعد رات کے دس بجے روانہ ہوگی۔ یہ سُن کر پپو بہت مایوس ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے خوابوں کے شہر ’لاہور‘ میں ایک ہی پَل کے اندر پہنچ جانا چاہتا ہے۔

لاہور کو سب سے زیادہ پُررونق شہر سمجھا جاتاہے اور یہاں پہنچ کر ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ فلموں اور ڈراموں میں لاہور کا چرچا اس طرح کیا جاتا ہے کہ جیسے یہاں پر پہنچ کر کنگلے، راتوں رات لاکھ پتی بن جاتے ہیں اور بے پناہ شہرت ان کے قدم چومنے لگتی ہے۔

پپو سوچتا ہے کہ کامیابی کیلئے طلسمی شخصیت کا ہونا ضروری ہے اور اگر اُس کے پاس کچھ بھی نہیں تو کم از کم وہ پُرکشش شخصیت کا مالک تو ضرور ہے۔

پپو بس کا ٹکٹ پکڑے اور بیگ کندھے پر لٹکائے ہجوم کو چیرتا ہوا بس میں سوار ہوتا ہے تو بُو کا ایک بھبھکا اس کے ناک سے ٹکراتا ہے ۔پپو کو بس کے اندر کا ماحول پراگندہ محسوس ہوتا ہے۔ زیادہ تر مسافر گھوڑے بیچ کر سوئے ہوتے ہیں۔ پپو اپنی سیٹ پر بیٹھ جاتا ہے جبکہ اُس کی ساتھ والی سیٹ پر ایک ناتواں عمر رسیدہ شخص بیٹھا ہے۔ عمر رسیدہ شخص پپو سے اپنے آپ کو متعارف کرواتے ہوئے اپنا نام عجب خان بتاتا ہے۔

’’مجھے اُمید ہے کہ بس کے نچلے حصے میں میرا سامان محفوظ رہے گا؟‘‘ عجب خان پپو سے پوچھتا ہے۔

’’سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہے گا، آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ پپوعجب خان کو تسلی دیتے ہوئے جواباً کہتا ہے۔

تین گھنٹوں پر محیط پاکستانی فلم ’’مولا جٹ‘‘ دیکھنے کے بعد پپو شدید سردرد محسوس کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ جیسے وہ ایک چلتے پھرتے قیدخانے میں بند ہو۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ کاش! وہ اپنے ساتھ کوئی کتاب یا میگزین لے آتا تو سفر اچھا گزر جاتا۔ وہ تصور کرتا ہے کہ جب وہ لاہور پہنچے گا تو اُس کے جیب میں تھوڑے سے پیسے رہ جائیں گے اور اس کے پاس صرف کپڑے اور ایک ٹوتھ برش ہوگا۔

بس کے اندر پپو کو اپنے اردگرد پریشانِ حال چہرے نظر آتے ہیں جن میں سے کچھ لوگ ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں بھررہے ہوتے ہیں۔ دورانِ سفر پپو کی آنکھ لگ جاتی ہے، کافی دیر بعد اچانک وہ ہربھڑا کر اُٹھ بیٹھتا ہے اور وقت معلوم کرنے کیلئے بے تاب ہوجاتا ہے۔

لاہور پہنچنے پر وہ ایک بیگ اٹھائے بہت ہی تھکا ماندہ نظر آتا ہے، لمبے سفر کی وجہ سے پپو کے بال ابتر ہیں اور کپڑوں پر بہت سی شکنیں بھی پڑی ہوئی ہیں۔ جلد ہی اُسے احساس ہوتا ہے کہ آدھی رات سے زیادہ کا وقت ہو چکا ہے۔ لاہور کے بارے میں اسے قطعاً کوئی معلومات نہیں ہیں۔

پپو کو گلیوں میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ اُسے عمارتیں خالی اور پراسرار نظر آتی ہیں جن کی کھڑکیوں میں روشنی کی کوئی کرن تک نظر نہیں آتی۔ پپو کو ہر طرف جمی ہوئی کالک نظر آتی ہے جس سے شہر جنگ بندی کے بعد کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں پپو کو صرف بس کا اڈہ روشنی اور سرگرمی کا گہوارہ نظر آتا ہے۔

’’اب کیا ہوگا؟‘‘ پپو کو یہ سب کچھ ایک ڈراؤناخواب لگتا ہے۔ رات کو شدید سردی تھی، پپو کو سفر کی وجہ سے تھکاوٹ بھی بہت ہوچکی تھی اور اُس کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ لاری اڈے سے کس طرف رُخ کرنا ہے۔ لاہور کی فلم انڈسٹری لالی ووڈ کے علاوہ پپو لاہور کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتا تھا۔

پپو باری سٹوڈیوز جانے کیلئے پَر تولتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کیلئے اس سے بہتر اور کوئی جگہ پپو باری سٹوڈیوز جانے کیلئے پَر تولتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کیلئے اس سے بہتر اور کوئی جگہ نہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ لالی ووڈ چونکہ ہر وقت پُر رونق رہتا ہے اس لیے رات کے اس پہر میں بھی وہاں پر لوگ اور محافظ موجود ہوں گے۔ پپو راستے بارے پوچھتا ہے اورپیدل ہی چل پڑتا ہے اور اسے شدید بھوک بھی محسوس ہو رہی ہے۔

باری سٹوڈیو پہنچنے پر چوکیدار کی کرسی کے نزدیک کھڑا ہو جاتا ہے۔ اسی اثناء میں بہت سی گاڑیاں اُس کے پاس سے گزر کر اندر سٹوڈیو میں چلی جاتی ہیں۔ چوکیدار جو کہ کافی بھاری بھر کم ہے اُن گاڑیوں کو بغیر پارکنگ پرمٹ جاری کیے اندر جانے دیتا ہے۔ وہ اُن پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے کی بھی زحمت گوارہ نہیں کرتا۔ یہ چوکیدار نیلے رنگ کی وردی میں ملبوس ہوتا ہے اور سرمئی رنگ کی مونچھوں کا مالک اور آرام سے کرسی پر بیٹھا ایف ایم 100 سے محظوظ ہورہا ہے۔ پپو چوکیدار کی طرف بڑھتا ہے لیکن وہ اس پر بالکل توجہ نہیں دیتا۔ پپو اپنی ذات کو نظرانداز ہوتے ہوئے دیکھ کر طیش میں آجاتا ہے اور سوچتا ہے کہ اُس نے تو ایسے بے ہودہ لالی ووڈ کا تصور بھی نہیں کیا تھا، یہ لوگ کتنے خوشامد پسند ہوتے ہیں۔
’’ایکس کیوز می!‘‘ پپو بڑی شائستگی کے ساتھ چوکیدار کو مخاطب کرتا ہے۔
’’ہاں! کیا بات ہے؟‘‘ وہ پپو پر ایک غصیلی نظر ڈالتا ہے اور گستاخانہ انداز میں پوچھتا ہے۔
چوکیدار نے پپو کی طرح کئی بچوں کو کندھوں پر بیگ لٹکائے شہرت حاصل کرنے کیلئے لالی ووڈ آتے ہوئے دیکھا تھا، اُسے بھلا پپو کی پرواہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

پپو کو چونکہ شدید بھوک لگی ہوئی ہے اس لیے وہ سوچ رہا ہے کہ چوکیدار اُسے صرف کسی ریستوران یا بیکری کے متعلق ہی بتا دے لیکن بدقسمتی سے پپو کو اُس کی آنکھ میں شرارت نظر آتی ہے اور اُس کی طنزیہ ہنسی سے پپو بے بسی کی تصویر بن جاتا ہے۔

پپو مایوس نہیں ہوتا کیونکہ آخر کار جیت اُسی کی ہوگی۔
’’اس وقت کون سے ہوٹل سے کھانا مل جائے گا؟‘‘ پپو چوکیدار سے پوچھتا ہے۔
چوکیدار ہنستے ہوئے اُسے بائیں جانب کی گلی کی ایک بلند عمارت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

پپو اپنا بیگ کندھے پررکھ کر ریستوران کی تلاش میں چل پڑتا ہے۔ گلی کے باہر ٹھنڈی ہوا پپو کے چہرے کو چھوتی ہے۔ اُس کو وہاں پر کوئی بھی نظر نہیں آتا جس سے وہ پریشان ہو جاتا ہے۔ پھر وہ ایک چوراہے پر آجاتا ہے، اُسے چند مدھم روشنیاں نظر آتی ہیں وہ مایوسی کے عالم میں لالی ووڈ کی تیز پپو اپنا بیگ کندھے پررکھ کر ریستوران کی تلاش میں چل پڑتا ہے۔ گلی کے باہر ٹھنڈی ہوا پپو کے چہرے کو چھوتی ہے۔ اُس کو وہاں پر کوئی بھی نظر نہیں آتا جس سے وہ پریشان ہو جاتا ہے۔ پھر وہ ایک چوراہے پر آجاتا ہے، اُسے چند مدھم روشنیاں نظر آتی ہیں وہ مایوسی کے عالم میں لالی ووڈ کی تیز اور آنکھیں چندھیا دینے والی روشنیوں کو تلاش کرتا ہے۔

پپو کچرے اور کوڑے کرکٹ سے اٹی ہوئی گلیوں میں چلنا شروع کر دیتا ہے۔ ان گلیوں سے گزرتے ہوئے پیشاب کی متعفن اور چبھنے والی بدبو سے پپو کا سانس لینا دوبھر ہو جاتا ہے۔ کچھ قدم آگے آگ لگنے سے کوڑا سلگ رہا تھا۔ رات کے سناٹے میں عجیب و غریب ٹھٹھوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ان گلیوں میں کس قسم کے لوگ آتے ہوں گے، پپو کو اس کا اندازہ ہو رہا تھا۔ پپو کو شبہ ہونے لگا تھا کہ کیا یہ واقعی لالی ووڈ ہے ؟

پپو خیال کرتا ہے کہ اس نے بسوں کے اڈے کو چھوڑ کر بہت بڑی بیوقوفی کی ہے۔ اب اُسے واپس وہیں جانا چاہئیے۔ وہ واپس مڑتا ہے تو ایک شخص انتہائی گندے کپڑوں میں فٹ پاتھ پر لیٹا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر پپو مزید تیز قدموں کے ساتھ بس اڈے کی طرف چلنا شروع کر دیتا ہے۔ اس دوران پپو محسوس کرتا ہے کوئی شخص اُس کا پیچھا کر رہا ہے اور اسے پکڑنے کی کوشش میں ہے۔ پپو کا خیال صحیح ثابت ہوتا اور کچھ دیر بعد ایک شخص اس کو زبردستی جکڑ لیتا ہے اور اُس کی جیب سے تمام پیسے نکال لیتا ہے اور بھاگ جاتا ہے۔ اس شخص کے مضبوطی کے ساتھ جکڑنے سے پپو کا نازک جسم درد کے مارے چٹخ رہا ہوتا ہے۔ پپو لڑکھڑاتا ہوا چلنا شروع کر دیتا ہے، اس دوران ایک گاڑی تیزی سے اس کے پاس سے گزرتی ہے۔ پپو اُس کو رُکنے کا اشارہ کرتا ہے لیکن وہ رُکنے کی بجائے کسی اور سمت میں چلی جاتی ہے۔ پپو بسوں کے اڈے کی طرف بھاگنا شروع کر دیتا ہے۔

بسوں کے اڈے پر پہنچتے ہی اسے تین سیکورٹی گارڈ ملتے ہیں۔ پپو لڑکھڑا کر اُن میں سے دو کے ہاتھوں میں گِر جاتا ہے۔ اُس کے منہ میں سے جھاگ نکل رہی ہوتی ہے اور گلا خشک ہو رہا ہوتا ہے۔ وہ گارڈ پپو کو ایک طرف ڈال دیتے ہیں، پپو صبح تک وہیں پڑا رہتا ہے۔ صبح کے وقت جب نیا گارڈ اپنی ڈیوٹی پر آتا ہے تو وہ پپو سے کہتا ہے’’تمہارے پاس نہ ہی ٹکٹ ہے اور نہ ہی کوئی سازوسامان تو پھر اڈے پر موجود رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اس لیے تم یہاں سے چلے جاؤ‘‘۔

پپو کو کسی سپاہی کو تلاش کرکے اُس کی مدد حاصل کرنی چاہیے، اس سے پہلے کہ اسے کوئی نقصان پہنچے۔ لنک-8 پر جائیے۔

صبح کا اُجالا ہے اور پپو اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے۔’’ بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے سفر کو جاری رکھے‘‘۔ لنک-9 پر جائیے۔

کعبے کس منہ سے

جذبہء بے اختیار شوق دیکھا چاہیے۔۔۔۔۔سینہء شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

پپو اپنے کندھے جھٹکتا ہے اور اپنا سامان اُٹھا کر واپس اپنے گھر کی طرف چل پڑتا ہے۔ وہ اپنے کمرے میں واپس آکر سارا سامان بیگ سے باہر نکالتا ہے ۔ کپڑے اور باقی سب چیزیں اُسی طرح سنبھال کر واپس رکھ دیتا ہے۔ پھر وہ لائٹ بند کر کے اپنے بستر پر لیٹ جاتا ہے۔ اُس کا دل زار و قطار رونے کو کرتا ہے مگر وہ ضبط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتاکیونکہ وہ گھر سے بھاگنا چاہتا ہے مگر نہیں بھاگ سکتا۔ اُسے خود پر غصہ آرہا ہوتا ہے اور اس کا دل کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی طریقے سے سخت اذیت میں مبتلا کرے لیکن وہ اپنے اس خیال کو بھی تھپکی دے کر سلا دیتا ہے کیونکہ اُسے معلوم ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا۔وہ سوچتا ہے کہ میں اتنا بہادر نہیں ہوں کہ گھر سے بھاگنے کا رِسک لے سکوں اور نہ ہی اتنا دلیر ہوں کہ ان سب آسائشوں کو ٹھوکر مار کر چلا جاؤں۔

کیا معلوم کہ حالات بدل جائیں اور میں اپنے اس ارادے سے باز آجاؤں لیکن ہوسکتا ہے کہ مجھے گھر والوں سے قطع تعلق ہو نا پڑے، یہی سوچتے سوچتے پپو کی آنکھ لگ جاتی ہے۔سورج کی روشنی سے پپو کی آنکھ کھلتی ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ وہ کپڑے بدلے بغیر ہی سوگیا ہے۔اپنا کمرہ ، کھڑکی سے آتی ہوئی روشنی اُسے زندگی کا پیغام نظر آتی ہے۔

لنک-47 پرجائیے۔

لوٹ کے بدھو

لنک -3 لنک -2 اب ہو گی گھر والوں کے ہاتھوں پپو محترم کی نکی جئی بِستی

جب پپو گھر پہنچتا ہے تو سارے گھر والے اس پر لعن طعن کرتے ہیں۔

’’تم نے ہمیں پاگل کر دیا ہے! اس سارے واقعے کے پیچھے تمہارے دماغ میں کیا خرافات آرہی ہیں؟‘‘ پپو اپنے گھر کے لِونگ رُوم میں بیٹھا گھر والوں کے عتاب کا نشانہ بن رہا ہے

پپو سخت پریشان ہے اور باتھ روم جانے کی ضرورت محسوس کر رہا ہے لیکن وہ ڈرتا ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو اس کے گھر والے اس بات کو بدتمیزی گردانیں گے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ گھر والے اس بات کو بہانہ نہ سمجھیں اور یہ نہ سوچنے لگیں کہ وہ دوبارہ گھر سے بھاگنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ پپو ڈرتے ڈرتے ان سے باتھ روم میں جانے کی اجازت طلب کرتا ہے۔ سب گھر والے اس کو ناگوار انداز میں دیکھتے ہوئے اجازت دے دیتے ہیں۔ اس سارے واقعے کے بارے میں پپو باتھ روم میں اکیلے بیٹھے ہوئے سوچتا ہے کہ یہ اس نے کیا کِیا ہے اور اس کا کیا مطلب ہے؟ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اس نے اپنے گھر والوں پر یہ بات واضح کر دی کہ وہ اپنی زندگی اور اپنے معاملات سے خوش نہیں ہے اور محض اس کا گھر واپس آجانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سارے معاملات درست ہیں۔ پھر بھی وہ باہر رہنے کی بجائے گھر میں رہنے سے خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔

لنک-47 پر جائیے۔

کھینچے ہے مجھے کفر

لنک -3 لنک -2″ایکس کیوز می! میں اس طرح کا لڑکا نہیں ہوں”

پپو مایوسی کے عالم اپنے ہی شہر کی سڑکوں پر آوارہ گردی کرتے ہوئے محسوس کرتا ہے کہ شاید وہ لوگوں کی نگاہ کامرکز بنا ہوا ہے۔ پپو اپنے کاندھے پر بیگ لٹکائے اِدھر اُدھر بھٹک رہا ہے۔ اور سوچتا ہے کہ کیا میں گھر سے بھاگاہوا ہوں؟ کیا یہ میری عقلمندی ہے؟ میرے کسی بھی دوست نے میرا ساتھ نہیں دیا اور گھر سے بھاگنے کا حوصلہ نہیں کیا۔ کیا وہ مجھ سے زیادہ سمجھدار ہیں؟

میری آدھی سے زیادہ مشکلات اِس شہر کی وجہ سے ہیں، مجھے ہر روز اِنہی احمق لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر میں کسی اور شہر چلا جاؤں تو وہاں اپنے ساتھی خود چُن سکتا ہوں۔ مجھے یہ فکر نہیں ہوگی کہ لوگ مجھے جانتے ہیں۔ میں اپنے آپ کو کچھ بھی ظاہر کر سکوں گا اور لوگ صرف اُتنا ہی جانیں گے جتنا کہ میں اُن کو اپنے بارے بتاؤں گا۔ میں اُنہیں کچھ بھی کہہ سکتا ہوں، کچھ بھی بتا سکتا ہوں، کسی بھی شہر کا نام لے سکتا ہوں، اپنے لباس کا انداز بدل سکتا ہوں تاکہ کسی کو میرے بارے کچھ معلوم نہ ہوسکے۔ میں ساری رات اِدھر اُدھر گھوم سکتا ہوں، سارا دن سو سکتا ہوں، کچھ بھی کر سکتا ہوں، اب میں آزاد ہوں ۔

سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے پپو فیصلہ کرتا ہے کہ اگر وہ یہ شہر چھوڑ کر کسی دوسرے شہر چلا جائے گا تو وہ کامیاب ہوجائے گا۔ پپو سڑک کے کنارے کھڑا ہوجاتا ہے تاکہ کسی گاڑی سے لفٹ لے سکے۔ تھوڑی ہی دیر بعد ایک ٹرک اُس کے سامنے آکر رُکتا ہے جس کے پیچھے کچھ فرنیچر، گھریلو سامان اور چند ڈبے لدے ہوئے ہیں۔ پپو ٹرک کی طرف لپکتا ہے، اِسی اثناء میں ٹرک میں موجود ادھیڑ عمر ڈرائیور، پپو کیلئے دروازہ کھولتا ہے۔ پپو ٹرک پر سوار ہو جاتا ہے اور ٹرک چل پڑتا ہے۔ پپو اتنی جلدی مدد مل جانے پر خوش ہوتا ہے اور اُس کے دل میں خیال آتا ہے کہ شاید خدا بھی یہی چاہتا ہے۔

’’میں طُور خان ہوں‘‘ ڈرائیور اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہتا ہے۔
طُور خان لمبے قد اور مضبوط جسم کا مالک ہے۔ گھنے گہرے بالوں میں وہ دلکش نظر آ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے طُور خان کوئی طرم خان ہے۔ اُس نے کھدر کی شلوار قمیض زیب تن کر رکھی تھی۔

’’میرا نام نونی ہے‘، لِفٹ دینے کا شکریہ‘‘ پپو اپنا نیا نام چنتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔
’’کیا یہ اب مجھ سے پوچھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں اور کہاں جارہا ہوں؟‘‘ پپو کے ذہن میں سوال اُبھرتا ہے جس سے وہ تھوڑا سا پریشان ہوجاتا ہے۔
ٹرک میں ایک خالی پنجرہ پڑا ہوتا ہے اور ہرے رنگ کے کچھ ڈبے فرش پر بکھرے ہوتے ہیں اور ٹرک میں ہلکی سی بدبو بھی پھیلی ہوئی تھی لیکن پپو سوچتا ہے خیر ہے، اُسے لِفٹ تو ملی۔
’’مجھے خوشی ہے کہ میری نظر تم پر پڑ گئی، مجھے بھی سفر میں کوئی ساتھ چاہئیے تھا، میں پچھلے چھ گھنٹے سے مسلسل گاڑی چلا رہا ہوں اور عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کو سُن سُن کر اب تو میرا دماغ پکنے لگا تھا۔۔۔ میں لاہور جا رہا ہوں، تمہیں جہاں تک جانا ہے بتا دینا، میں تمہیں وہاں اُتار دوں گا۔‘‘ طُور خان کے لب و لہجے میں شرارت جھلک رہی تھی جو پپو نے محسوس نہیں کر پاتا ۔
’’آپ کا شکریہ‘‘ یہ کہہ کر پپو سکون سے ٹیک لگا کر اپنا بیگ ٹانگوں کے درمیان رکھ لیتا ہے اور کھڑکی سے باہر اپنے شہر کو نظروں سے اوجھل ہوتے ہوئے دیکھنے لگتا ہے۔

’’آپ نے طوطا پال رکھا ہے؟‘‘ پپو پوچھتا ہے۔
’’ہاں! تو تمہیں اندازہ ہوگیا‘‘ طُور خان مسکرا دیتا ہے۔‘‘

یہ بندہ مجھے کچھ ٹھیک لگتا ہے، یہ بھی میری طرح گھر سے بھاگا ہوا ہے لیکن ذرا مختلف انداز میں۔ اِس کے ساتھ لاہور تک جانے میں مزہ رہے گا۔ لگتا ہے سب گھروں سے بھاگ کر لاہور ہی جاتے ہیں۔ تھوڑا آگے چل کر اگر دونوں کی جوڑی جمی تو اس سے پوچھوں گا کہ رات کہاں بسر کرنی ہے، شاید طُور خان کے ساتھ ایک رات یا زیادہ وقت گزار نے کا موقع مل سکے۔ ‘‘ پپو سوچتا ہے۔

’’چند گھنٹے کے بعد ٹینکی خالی ہو جائے گی‘‘ طور خان ایک جمائی لیتے ہوئے اپنی نظر پٹرول کی سوئی پر ڈالتا ہے۔
’’کاش میں پٹرول میں تمہارے ساتھ حصہ ڈال سکتا، لیکن میرے پاس پیسے نہیں ہیں مگر میں ٹرک سے سامان اتارنے میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں ‘‘ پپو معذرت خواہانہ لہجے میں کہتا ہے۔
’’شکریہ! اس تکلف کی ضرورت نہیں۔طُور خان پپو کو آنکھ مارتا ہے جس پر وہ تھوڑا سا گھبرا جاتا ہے۔

وہ اپنی جیب میں سے چرس کا ایک سگریٹ نکالتاہے اور پپو کو اِسے سلگانے کیلئے کہتا ہے۔پپو کے ہچکچانے سے وہ خود ہی سگریٹ سُلگا لیتا ہے ۔سگریٹ سلگنے سے پورے ٹرک میں ایک گندی بو پھیل جاتی ہے۔
’’تم کیا پی رہے ہو؟‘‘ پپو سوال کرتا ہے۔
’’میں چرس بھرا سگریٹ پی رہا ہوں‘‘ طُور خان پپو کو بتاتا ہے۔

پپو اِس سارے ماحول میں گھٹن محسوس کرنے لگتا ہے لیکن وہ کچھ بھی تو نہیں کر سکتا اِس لیے خاموش رہتا ہے، اُس کی بے بسی دِیدنی تھی۔ اِس وقت اُس کے ذہن میں خیالات اُبھر رہے تھے کہ وہ کیسے گھر میں ذرا ذرا سی بات پر چیختا چلاتا تھا، اُس کو یاد آ رہا تھا کہ کیسے ایک دن جب اُس کے دادا ابو کھانے کے وقت اُس کے قریب بیٹھ کر حقہ پینے لگے تھے تو وہ بدتمیزی پر اُتر آیا تھا اور برتن توڑ دئیے تھے۔

’’کیا اِسے پینے سے تمہیں نیند آتی ہے؟‘‘ پپو نے پوچھا۔
’’ہرگز نہیں، یہ تو مجھے جگا دیتی ہے‘‘ طور خان لائٹر اپنی جیب میں رکھتے ہوئے کہتا ہے۔
پپو تھوڑی سی کھڑکی کھولنے کی کوشش کرتا ہے جس پر طُور خان اُسے جھڑک دیتا ہے۔ پپو سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ آخر گھر سے بھاگنے کے بعد اُسے یہ کس طرح کی آزادی نصیب ہوئی ہے؟

جلد ہی پپو کو خیال آنے لگتا ہے کہ کاش اُس کے پاس بھی جگانے کیلئے کوئی چیز ہوتی! تھوڑی دیر بعد طُور خان پپو کو اپنی زندگی کی داستان حیات سناتاہے، پپو خاموشی سے سنتا رہتا ہے اور دل ہی دل میں خوش ہورہا ہوتا ہے کہ طور خان نے پپو سے اس کی ذاتی زندگی بارے کوئی سوال نہیں کیا، ورنہ وہ اسے اپنے بارے کیا بتاتا؟ پپو سِیٹ میں دھنس گیا اور چرس کے دھوئیں سے اسے نیند آنے لگی تھی وہ آنکھیں بند کر کے سو جاتا ہے۔
’’کیا ہوا؟‘‘ بریکوں کی چرچڑاہٹ پر پپو گھبرا کر اُٹھ جاتا ہے۔

یار وہ، سڑک پر ایک کتا تھا، بڑی مشکل سے اُسے بچایا ہے‘‘ طُور خان بھاری لہجے میں جواب دیتا ہوا گاڑی آگے بڑھا دیتا ہے۔
پپو آنکھیں ملتا ہوا سیدھا ہوکر بیٹھ جاتا ہے۔
’’یار مجھے اپنا طوطا بہت یاد آرہا ہے‘‘ طُور خان بُڑبڑاتا ہے۔

اندھیرا ہے ، سڑک ویران اور سنسان پڑی ہے۔
’’وقت کیا ہوا ہے؟‘‘ پپو پوچھتا ہے۔
صبح کے تین بج گئے ہیں طور خان جمائی لیتے ہوئے کہتا ہے۔
طور خان کی ڈرائیونگ سے پپو کو ایسا لگ رہا تھا جیسے طُور خان سیدھا لاہور پہنچ کر ہی دم لے گا۔
’’اچھا ہوا، تم اُٹھ گئے‘‘ طُور خان پپو کی طرف لال سرخ آنکھوں سے دیکھتا ہوا کہتا ہے۔

’’کوئی بات نہیں، خیر اب تم اُٹھ ہی گئے ہو تو میرے احسان کا بدلہ دے سکتے ہو‘‘ طور خان شیطانی لہجے میں کہتا ہے۔
’’یقیناًکیوں نہیں، بتاؤ میں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں؟‘‘ پپو سادہ سے لہجے میں پوچھتا ہے۔
’’تم میرے لیے بڑا خاص کام کر سکتے ہو‘‘ طور خان کے لہجے میں بدنیتی نمایاں ہوتی ہے۔
’’کیا۔۔۔؟‘‘ پپو غنودگی میں پوچھتا ہے۔
(اندھیرے میں پپو کا ہاتھ اپنی شلوار میں رکھ دیا ۔)
’’معصوم مت بنو، کیا تم نے پہلے یہ کام کبھی نہیں کیا؟‘‘ طور خان پپو کو طنزیہ لہجے میں کہتا ہے۔

’’ایکس کیوزمی! میں اس طرح کا لڑکا نہیں ہوں‘‘ پپو پریشانی کے ساتھ ہربڑا کر چلاتا ہے۔
ایک دم بریک لگنے سے زوردار چیخ بلند ہوتی ہے اور پپو سیدھا ڈیش بورڈ سے جا ٹکراتا ہے۔
’’دفعہ ہو جاؤ‘‘ طُور خان چنگھاڑتے ہوئے ٹرک روک دیتا ہے ۔
’’کیا تم مجھے اس ویران جگہ اتار دو گے؟‘‘ پپو گھبرا کر اُس کی طرف دیکھتا ہے۔
’’بھاڑ میں جاؤ، دفعہ ہو جاؤ یہاں سے‘‘ طُور خان غصے میں اپنی بات دہراتا ہے۔

طور خان تیزی سے پپو کی طرف بڑھتا ہے جیسے وہ پپو کو مارنے لگا ہو۔ پپو ڈر کے مارے جلدی سے دروازہ کھول کر نیچے اُتر جاتا ہے اور ٹرک تیزی سے کھلے دروازے کے ساتھ ہی آگے بڑھ جاتا ہے۔ پپو کی قسمت اچھی تھی کہ وہ اپنے بیگ سمیت عزت کے ساتھ ٹرک سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا لیکن دائیں بائیں دیکھتے ہی اس کی پریشانی میں اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ یہ ایک سنسان جگہ تھی اور چار سو اندھیرا چھایا ہوا تھا۔

پپو حیرانی کے عالم میں سوچنے لگا کہ ابھی تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا، طُور خان تو شکل سے اچھا خاصا شریف انسان لگ رہا تھا، یہ اچانک کیا ہوا؟

پپو سڑک کے بیچ کھڑا اُن گاڑیوں کو دیکھنے لگا جو تھوڑے تھوڑے وقفے کے ساتھ تیزی سے گزر رہی تھیں۔ پپو سوچنے لگا کہ اگر وہ اسی حیرانی و پریشانی کے عالم میں سڑک پر کھڑا رہا تو کوئی بھی گاڑی اُسے ٹکر مار سکتی ہے، وہ تیزی سے سڑک کے کنارے ہوجاتا ہے۔ پپو سوچتا ہے کہ آزادی خوفناک ہے لیکن تھوڑی دیر بعد وہ اپنے آپ کو قائل کرلیتا ہے کہ یہ اُس سے پھر بھی بہتر ہے جو وہ پیچھے چھوڑ آیا ہوں اور ویسے بھی میں اپنی حفاظت خود کرسکتا ہوں۔

ٹھنڈ کافی بڑھ چکی تھی خاص طور پر جب کوئی گاڑی پاس سے گزرتی تو ہوا کا تیز جھونکا ٹھنڈ کی شدت میں اضافہ کر دیتاہے۔ پپو اپنے ہاتھوں کو رگڑ کر ٹھنڈ سے نبرد آزماہوتا ہے۔

’’میں بھی کتنا احمق ہوں؟ یہاں کھڑے کھڑے مجھے گاڑی میں کون بٹھائے گا،
اِس کیلئے مجھے لِفٹ مانگنی چاہیے ‘‘ پپو اپنے آپ کو کوستا ہے اور آنے والی ایک گاڑی کو دیکھ کر اپنا انگوٹھا ہوا میں لہراتا ہے۔

پپو کے ہاتھ ٹھنڈ سے نیلے پڑنے شروع ہو جاتے ہیں اور وہ سوچنے لگتا ہے کہ دو گھنٹے گز گئے ہیں لیکن کوئی بھی اسے لِفٹ دینے کو تیار نہیں۔ پپو محسوس کرتا ہے کہ یہ سب کچھ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ دوسرے شہر جانے کا یہ طریقہ انتہائی احمقانہ ہے، آخر اس طرح ویرانے میں کھڑے انجان لڑکے کو کوئی لِفٹ کیوں دے گا؟ کوئی کیسے جان سکتا ہے کہ جس کو لفٹ دی جار ہی ہے وہ ابھی ابھی کوئی جرم کر کے یا جیل سے بھاگ کر نہیں آیا ہے۔

پپو کا ذہن بے لگام سوچیں سوچ رہا تھا۔کوئی فلمی واقعہ بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ کوئی قاتل جیل سے بھاگ کر کسی کی آبروریزی کرے، لوگوں کو قتل کر کے اطمینان سے اپنے ہاتھ دھوئے اور پھر اس طرح سے لِفٹ لینے کیلئے سڑک کے کنارے کھڑا ہو اور پھر بہت سی گاڑیوں کے بعد ایک گاڑی رُکے جس میں قاتل خاتون سوار ہو جو لوگوں کو لِفٹ دینے کے بعد قتل کر دیتی ہو۔ ایسے میں دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ کوئی نہ کوئی کارروائی کرنے کی کوشش کریں گے، پھر دونوں اپنی ناکامی کی وجہ سے ایک دوسرے پر فدا ہو سکتے ہیں اور شادی کر کے اسلام آباد سیٹل ہو سکتے ہیں لیکن فلمی باتیں ہیں، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

تھوڑی دیر بعد ایک گرے رنگ کی پرانی مرسڈیز رُکتی ہے۔ گھنٹوں انتظار اور بُری سوچوں کے بعد اب پپو گاڑی میں بیٹھنے سے گھبرا رہا تھا لیکن ٹھنڈ سے اُس کی ہڈیاں کڑکڑانے لگی تھیں اور وہ سوچ رہا تھا کہ اس ٹھنڈ میں مرنے سے اچھا ہے کہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ جائے۔ پپو یہ دیکھ کر سُکھ کا سانس لیتا ہے کہ گاڑی میں ایک عمر رسیدہ جوڑا بیٹھا تھا۔

’’آجاؤ، آجاؤ،تمہیں ٹھنڈ لگ جائے گی‘‘ وہ دونوں مسکراتے ہوئے اُسے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہیں ۔

’’تم کب سے یہاں کھڑے ہو؟‘‘ عمر رسیدہ شخص پپو سے سوال کرتاہے۔
’’ہم اپنے ایک پرانے رشتہ دار سے ملنے جا رہے ہیں اور اِس وقت ہم شیخوپورہ میں ہیں اور تھوڑی ہی دیر میں لاہور پہنچ جائیں گے۔ ‘‘ بڑے میاں طُور خان کی طرح پپو کے جواب کاانتظار کئے بغیر اُسے بتانا شروع کر دیتا ہے۔
’’میں جب جوان تھا تو اکثر اِسی طرح پیدل لاہور کیلئے نکل پڑتا تھا، میرے بڑے بھی بہت پیدل سفر کیا کرتے تھے، میں بھی اُن کی طرح پیدل چلنے کا شوقین ہوں‘‘بوڑھا آدمی کہتا ہے۔

لیکن پپو سوچتا ہے کہ شاید اپنے بڑوں کے نقشِ قدم پرچلنا اِس کیلئے مذہبی عقیدت جیسی حیثیت رکھتا ہو لیکن پھر بھی گاڑیوں کی موجودگی میں یہ کوئی خاص عقلمندانہ قدم نہیں۔ چیزیں تو بڑی تیزی سے بدل جاتی ہیں لیکن شاید انسان اتنی تیزی سے تبدیلی اختیار نہیں کرتا۔ اپنے خوابوں کا پیچھا کرنے پر ابھی مجھے نہ جانے کیا کیا بھگتنا پڑے گا لیکن طور خان کی نسبت اس بوڑھے جوڑے کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنا ٹھیک لگ رہا ہے، شاید خدا اب بھی مدد کر رہا ہے۔ انہی سوچوں میں گم پپو کی نہ جانے کب آنکھ لگ گئی۔

’’اُٹھو اُٹھو لاہور آگیا ہے‘‘ وہ اِسے جھنجھوڑ کر اٹھاتے ہیں۔
سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ وہ اُسے ٹیکسالی گیٹ کے نزدیک اُتار دیتے ہیں اور دعائیں دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پپو انتہائی لاپرواہی سے اِدھر اُدھر دیکھتا ہے تاکہ کسی کو یہ شک نہ ہو کہ وہ لاہور کا رہنے والا نہیں ہے۔اس کے دائیں بائیں لوگوں کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔

پپو تھکاوٹ محسوس کرنے لگا تھا، وہ ایک گلی میں داخل ہوگیا جہاں ایک دکان پر سجے گٹار اور موسیقی کا دوسرا سامان دیکھنے لگا۔ اس اثناء میں اُس کے سامنے سے دو لڑکے گزرتے ہیں جن میں سے ایک نے ڈی وی ڈی پلیئر اپنے بغل میں دبا رکھا ہے۔
’’اس بندے کو یہ پرواہ نہیں کہ اِسے کوئی سامان کہاں سے لاکر دیتا ہے‘‘ جس لڑکے نے ڈی وی ڈی اٹھایا ہوا ہے اپنے ساتھی سے کہتا ہے۔
’’میرے خیال میں تو یہ سامان یہاں بیچتا بھی نہیں ہے لگتا ہے کسی ٹرک وغیرہ میں رکھ کر بیچنے کیلئے کہیں اور لے جاتا ہوگا‘‘ دوسرے نے جواب دیا۔
غور کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ کوئی پان کی دکان نہیں بلکہ ایک میوزک سنٹر ہے۔ اب پپو کو یقین ہوگیا کہ وہ لاہور میں ہے۔
’’کاش میرے پاس بھی بیچنے کیلئے کچھ ہوتا‘‘ پپو سوچنے لگتا ہے۔

اُسے چاہئیے کہ وہ کہیں بیٹھ کر آئندہ کا لائحہ عمل بنائے۔ لنک-10 پر چلے جائیے۔
لگتا ہے پپو بہت زیادہ شش و پنج کا شکار ہے اور اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوچکی ہے، اسے کسی سے بات کرنی چاہئیے تاکہ کوئی اس کی مدد کر سکے۔ اگر آپ اس بات سے متفق ہیں تولنک-11 پر چلے جائیے۔

میں اِلزام اُن کے دیتا تھا قصور اپنا نِکل آیا

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست نا صح…کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غمگسار ہوتا

پپو کے دل میں بس اڈے سے نکل کر مدد کیلئے پولیس اسٹیشن جانے کا خیال آیا اور پھر وہ لوگوں سے پتہ پوچھ کر پولیس اسٹیشن پہنچ گیا، وہاں متعلقہ افسر موجود نہ تھا، ایک سپاہی نے پپو کو بینچ پر بیٹھ جانے کو کہا۔ ایک گھنٹے بعد جب متعلقہ افسر پولیس سٹیشن پہنچا تو اُس نے پپو کی مدد کرنے کی بجائے اُس سے اُلٹا گھر چھوڑنے کی وجہ پوچھی جس پر پپو گھبرا گیا اور آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ پپو کے اس طرح بغلیں جھانکنے پر پولیس والے اس کو مجرم تصور کرنے لگے۔
’’میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا!‘‘ پپو احتجاج کرتا ہے لیکن پولیس افسر اُس کی ایک نہیں سنتا اور اسے حوالات میں بند کر دیتا ہے۔ پپو کا بھوک کے مارے بُرا حال ہوتا ہے وہ ایک سپاہی سے کچھ کھانے کو مانگتا ہے، وہ سپاہی اسے ایک امیر گھرانے کا فرد سمجھتے ہوئے ترس کھاکر ایک برگر لادیتا ہے جس سے وہ اپنے پیٹ کے دوزخ کی آگ بجھاتا ہے۔ تمام رات پپو کے ناک میں مچھروں نے دم کیے رکھا اور رہی سہی کسر سخت اور کھردرے فرش نے پوری کردی۔ پپو کا جسم مٹی کا ڈھیر بن چکا تھا اور وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ نہ جانے اب آنے والے کل میں اس پر کیا بیتے گی؟ آہستہ آہستہ اُس کے دماغ نے بھی اس کا ساتھ دینا چھوڑ دیا اور وہ گہری نیندسو جاتا ہے۔

اگلے دن پولیس پپو کو دارلشفقت چھوڑ آتی ہے۔ وہاں کی انچارج خاتون اس کو دیکھ کر زیادہ خوش نہیں ہوتی اور بادل نخواستہ پپو کو ایک کمرے میں لے جاتی ہے اور نہانے دھونے کے لیے تولیہ اور صابن فراہم کر دیتی ہے۔ پپو جب نہا کر باہر نکلتا ہے تو وہ اس کے اور اس کے گھر والوں کے متعلق مختلف سوالات کرتی ہے اور پپو اس کو صاف صاف سب کچھ بتا دیتا ہے۔ رات کو پپو دارالشفقت کے اسی کمرے میں دوبارہ لمبی تان کر سو جاتاہے۔

پپو پریشان ہوتا ہے کہ کل کیا ہونے والا ہے، اور یہ سوچتے سوچتے گہری نیند میں چلا جاتا ہے۔

لنک-24 پر جائیے

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا

ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا……نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا

پپو بس اڈے سے نکل کر منزل مقصود سے بے خبر ایک ویگن میں سوار ہو جاتا ہے جو مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہے، پپو بمشکل اپنے لیے اُس میں جگہ بنا پاتا ہے۔

’’یہ ویگن کہاں جا رہی ہے؟‘‘ پپو اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک مسافر سے پوچھتا ہے۔
’’مینار پاکستان‘‘ مسافر جواب دیتا ہے۔
کچھ دیر کے بعد کنڈیکٹر پپو کے قریب پہنچتا ہے اور کرائے کا تقاضا کرتا ہے لیکن پپو کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں ۔

’’اگر کرایہ نہیں ہے تو پھر تم نے ویگن میں بیٹھنے کی جرأت کیسے کی؟‘‘ کنڈیکٹر نے پپوکو ڈانٹتے ہوئے پوچھا۔
پپو اس کی ڈانٹ پھٹکار سُن کر پریشان ہوجاتا ہے اور خاموشی اختیار کرلیتا ہے۔ کنڈیکٹر ویگن رکوا کر پپو کو دھکا دے کر نیچے اُتار دیتا ہے اور پپو فٹ پاتھ پر گر جاتا ہے۔ پپو کا نقاہت کے مارے بُرا حال ہوتا ہے وہ بمشکل اُٹھتا ہے اور بغیر کچھ سوچے سمجھے مایوسی کے عالم میں سر جھکائے سڑک کے ایک طرف چلنا شروع کر دیتا ہے۔

پپو کو اس طرح چلتے ہوئے ایک گھنٹہ گزر جاتا ہے، رات کے اندھیرے گہرے ہونے لگے ہیں، پپو سوچتا ہے کہ اُس کو لاہور میں قدم قدم پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔وہ تمام دن دھوپ میں لاہور کی سڑکوں پر مارا مارا پھرتا رہا تھا اور ابھی تک اُسے کوئی ٹھکانہ میسر نہ آیا۔ پپو کو اپنے والد صاحب کی یہ بات بڑی شدت سے یاد آرہی تھی کہ ’’گھر سے بھاگ جانے والوں کیلئے کوئی پناہ گاہ نہیں ہوتی۔‘‘ پپو کا پاؤں اچانک فٹ پاتھ پر پھسل جاتا ہے اور وہ ڈھلوان سے لڑھکتا ہوا کانٹے دار جھاڑیوں میں پھنس جاتا ہے۔ پپو اب لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو چکا ہے۔ پپو اپنے آپ کو جھاڑیوں سے نکالتا ہے اور سخت کھردی زمین پرلیٹ جاتا ہے۔ پپو کو ہوا ٹھنڈی لگ رہی ہے اور زمین اُس سے بھی زیادہ ٹھنڈی۔ پپو کو بڑی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ اُس کو گھر سے بھاگنا نہیں چاہیے تھا۔ وہ سوچتا ہے کہ میری زندگی میں کتنی بے یقینی کی کیفیت ہے لیکن ایک بات یقینی ہے کہ میں اب کبھی بھی گھر سے نہیں بھاگوں گا۔

اگر مجھے دوستوں نے بھی مجبور کیا تو بھی میں اُن کی نہیں مانوں گا۔ یہ سوچتے سوچتے کچھ دیر بعد پپو کی آنکھ لگ جاتی ہیں۔ رات کے پچھلے پہر اچانک اس کی آنکھ کھل جاتی ہے،ابھی اندھیرا ہی چھایا ہوتا ہے اور ٹھنڈ میں مزید اضافہ ہوچکا ہوتا ہے۔ وہ غور کرتا ہے توخود کو زمین پر لیٹا ہوا پاتا ہے، تب اُسے زندہ دفن ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اسے خوف محسوس ہوتا ہے کہ کوئی بھی شخص وہاں پر آ سکتا ہے اور اُس کا گلا کاٹ کر ذبح کر سکتا ہے۔ پپو کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش اس کا کوئی دوست بھی اُس کا ساتھ دیتا۔ پپو پھر اس طرح کے خیالات میں گُم سوجاتا ہے۔ صبح سورج کے کرنوں کی تپش سے پپو بیدار ہوتا ہے اور جھاڑیوں سے نکل کر دوبارہ فٹ پاتھ پر آجاتا ہے۔

پپو کسی چھپر ہوٹل کی تلاش میں اِدھر اُدھر نگاہ دوڑاتا ہے تاکہ وہ منہ ہاتھ دھوسکے اور اپنے کپڑوں کو اُتار کر جھاڑ سکے کہ کہیں رات کو جھاڑیوں میں سوتے ہوئے اس کے کپڑوں میں کوئی زہریلا کیڑا تو نہیں گھس گیا جس کے ڈسنے سے اس کی موت واقع ہوسکتی ہے۔

کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد پپو کو ایک چھپر ہوٹل کھلا ملتا ہے جس کے باہر موجود ٹوٹے پھوٹے باتھ روم میں جانے کے لیے اُسے کسی اجازت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جب پپو جوتے اُتار کر باتھ روم میں داخل ہوتا ہے تو ٹھنڈے فرش کی وجہ سے ایک سرد لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی کو سنسناتے ہوئے گزر جاتی ہے اور سخت ٹھنڈے پانی کی وجہ سے اس کے دانت میوزک بجانے لگتے ہیں۔ باتھ روم میں تعفن اور بدحالی نمایاں ہے، دیواریں کسمپرسی کا حال بیان کررہی ہیں۔ دیواروں پر بہت گندی گندی باتیں لکھی تھیں، پپو سوچتا ہے کہ جب چیزوں کی دیکھ بھال نہ کی جائے تو اُن کا یہی انجام ہوتا ہے۔بھوک کے مارے پپو نڈھال ہوجاتا ہے اور اس کے اندر پیٹ کا دوزخ بھرنے اور منہ کا کسیلا ذائقہ دور کرنے کے لیے کچھ کھانے کی طلب ہوتی ہے۔ اس دوران ہوٹل کے عقب سے کسی بھاری بھر کم لوہے کی چیزکے گھسٹنے کی آواز آتی ہے۔ پپو کی عمر کا ایک لڑکا اور ایک لڑکی، اُس دھات کو کھینچ کر کوڑے کے ڈھیر کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ لڑکی پپو سے مدد مانگتی ہے، پپو اُن کی مدد کردیتا ہے اور وہ اُس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ لڑکا سرمئی شلوار قمیض میں ملبوس ہوتا ہے جبکہ لڑکی نے نیلے رنگ کا لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔ وہ دونوں جسمانی لحاظ سے پپو سے بھی زیادہ ابتر حا لت میں ہوتے ہیں۔ ان کی باتوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے قریبی دوست ہیں۔ وہ دونوں پپو کی حالتِ زار دیکھ کر اُسے بھی اپنے جیسا سمجھنے لگتے ہیں۔ لڑکی پپو سے پوچھتی ہے کہ وہ یہاں کیا کر رہا ہے؟ پپو اُس کو بتاتا ہے کہ وہ مجبوراً اس جگہ آگیا ہے اور اپنے بارے میں سب کچھ اُن دونوں کو بتا دیتا ہے۔

’’میرا نام ’بجلی‘ ہے اور یہ ’پوتنی دا‘ ہے۔‘‘ لڑکی اپنا اور لڑکے کا تعارف کرواتے ہوئے کہتی ہے۔
’’ناموں میں کیا رکھا ہے۔۔۔!‘‘ ’پوتنی دا‘ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر میں ہاتھ مارتے ہوئے کہتا ہے۔
’’مجھے کل سے اس کوڑا کرکٹ کے ڈھیر میں کوئی کام کی چیز نہیں ملی۔‘‘

وہ پپو کو ساتھ لے کر لاہور میں گھومتے پھرتے ہیں اور ایک حلوائی کی دُکان پر رُک جاتے ہیں، تینوں کا بھوک سے بُرا حال ہوتا ہے۔ ’بجلی‘ انہیں داتا صاحب چلنے کا مشورہ دیتی ہے۔ جب وہ وہاں پہنچتے ہیں تو ایک جگہ ’لنگر‘ تقسیم ہو رہا ہوتا ہے اور لوگوں کا ایک جمِ غفیر دھکم پیل کر رہا ہوتا ہے۔ پوتنی دا، پپو اور بجلی دونوں کو ہجوم میں دھکیل دیتا ہے۔ کافی دیر بعد جب وہ واپس آتے ہیں تو شاپنگ بیگ کھولتے ہیں جس میں چاول ہوتے ہیں۔ تینوں کا بھوک کے مارے بُرا حال ہوتا ہے اس لیے وہ تمام چاول جلدی سے نگل لیتے ہیں۔ اُس کے بعد وہ تینوں لوگوں سے بھیک مانگنے کا منصوبہ بناتے ہیں اور مختلف جگہوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پپو کو اُن دونوں کی نسبت زیادہ بھیک ملتی ہے۔

تھوڑی دیر بعد ایک ہٹا کٹا لڑکا غصے سے گالیاں بکتا ہوا پپو کی طرف لپکتا ہے اور اُسے دھکا مار کر ایک جنرل سٹور کی دیوار کے ساتھ لگا دیتا ہے اور بھتہ مانگتا ہے۔ پپو اُس کے غصیلے رویے، کپڑوں سے نکلنے والے تعفن اور سانس کی بدبو سے پریشان ہو جاتا ہے۔

’پوتنی دا‘ اُس ہٹے کٹے بدمعاش لڑکے کو پیچھے ہٹنے کا کہتا ہے اور اُس کو بتاتا ہے کہ پپو اُن کا ساتھی ہے۔ یہ سُن کر ہٹا کٹا لڑکا پپو کو چھوڑ دیتا ہے اور ’پوتنی دا‘ سے معافی مانگتے ہوئے کہتا ہے کہ اُس نے پپو کو پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

’پوتنی دا‘ پپو کو تسلی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ علاقہ‘ اُس کاہے اور بھتہ وصول کرنے کا حق صرف اُسی کو ہے۔ پھر وہ پپو سے کہتا ہے کہ آؤ دیکھیں آج ہم نے کتنی کمائی کی ہے؟ پپو چالیس روپے نکالتا ہے جب کہ ’پوتنی دا‘ پندرہ روپے اور ’بجلی‘ ان دونوں کی ریزگاری اپنی جیبوں میں ٹھونسنے لگتی ہے۔ پپو اپنے روپے غائب ہوتے دیکھ کر کہتا ہے کہ اُسے سخت بھوک لگی ہے۔ اس پر ’پوتنی دا‘ قہقہہ لگاتے ہوئے اُسے ’پکھا بٹیرا‘ کہتا ہے۔ اس دوران پپو ’بجلی‘ سے اُس کے ہاتھ پر پڑے ہوئے دھبوں کے بارے میں پوچھتا ہے تو وہ جواباً اُن دھبوں کو قسمت کی لکیروں کا نام دیتی ہے۔

رات کے اندھیرے میں ایک سفید رنگ کی وین اُن تینوں کی طرف بڑھتی ہے اور ’پوتنی دا‘ دیوانہ وار چِلّاتا ہے ’’ نئی زندگی! نئی زندگی!‘‘

اُن کے قریب پہنچ کر ویگن کی بریکوں سے چڑچراہٹ اُبھرتی ہے اور ویگن رُک جاتی ہے۔ بجلی وین کو دیکھ کر خوشی سے تالیاں بجانے لگتی ہے۔ اُس کا خیال ہوتا ہے کہ کھانے کا انتظام ان لوگوں سے ہو جائے گا اور مانگے ہوئے پیسوں سے وہ کشکول خرید سکیں گے۔ویگن کے اندر ایک خاتون موبائل فون پر کسی سے گفتگو کر رہی ہوتی ہے اور اپنی سائیڈ کی کھڑکی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے بجلی اور ’پوتنی دا‘ کا حال چال پوچھتی ہے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ خاتون اُنہیں پہلے سے جانتی ہے۔ وہ خاتون پپو کو دیکھ کر مسکراتی ہے اور اپنا نام ’مریم‘ بتاتی ہے۔ پھر وہ پپو کے ہاتھ میں سفید کارڈ تھماتے ہوئے اُس کا نام پوچھتی ہے۔ ’بجلی‘بات کاٹتے ہوئے اُس کا نام’پکھا بٹیرا‘ بتاتی ہے اور ساتھ ہی کھانے کے بارے میں پوچھتی ہے۔

ویگن کا ڈرائیور گاڑی کا انجن بند کردیتا ہے اور پچھلے حصے سے کھانے کے ڈبے ان تینوں پکڑاتا ہے۔ پپو جھپٹ کر اپنا ڈبہ پکڑ لیتا ہے اور جلدی جلدی کھانا شروع کر دیتا ہے۔

’’کیا تم کو ہمارے ادارے ’نئی زندگی‘ بارے کچھ علم ہے؟‘‘ مریم پپو سے پوچھتی ہے۔

’’نہیں!‘‘ پپو کھانا کھاتے کھاتے اشارتاً جواب دیتا ہے۔

مریم پپو کو اپنے ادارے ’نئی زندگی‘ بارے تفصیلاً بتاتی ہے کہ اُن کا ادارہ بے گھر بچوں کی صحت کا مرکز اور پناہ گاہ ہے۔ اگر اُسے کسی مدد کی ضرورت ہو تو وہ ٹول فری نمبرپر رابطہ کر سکتاہے اور اگر تم وہ جگہ ابھی دیکھنا چاہو تو ویگن میں جلدی سے بیٹھ جاؤ، عام طور پر مجھے جلدی نہیں ہوتی لیکن ابھی میں نے بس اڈے سے چند اور بچوں کو لینے جانا ہے۔

پپو اس ادارے کے بارے میں جان کر بہت خوش ہوتا ہے اور اپنے کٹے پھٹے جوتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
’’مجھے اُمیدہے کہ تمہارے سائز کے جوتے بھی مل جائیں گے، آؤ اندر بیٹھ جاؤ‘‘ خاتون پپو کے جوتوں پر نظر ڈالتے ہوئے کہتی ہے۔

بجلی‘ پپو کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے جانے سے روکنا چاہتی ہے لیکن ۔۔۔

پپو ویزٹنگ کارڈ لیتا ہے اور بعد میں فون کرنے کاارادہ ظاہر کرتا ہے۔ لنک-12 پر جائیے۔
پپو ویگن میں سوار ہوجا تاہے۔ لنک-17 پر جائیے۔

آسماں سے گِرا ،کھجور میں

بے یقینی کی کیفیت میں لٹکے رہنے کا بھی الگ ہی مزہ ہے

پپو ایک چوراہے پر پہنچ کر بند جنرل سٹور کے تھڑے پر بیٹھ جاتا ہے اور پریشانی کے عالم میں سوچ و بچار کرنے لگتا ہے۔ گاڑیاں چیختی چنگھاڑتی ہوئی اس کے پاس سے گزر جاتی ہیں۔ اُس کے تخیل میں عجیب و غریب لوگ آنا شروع ہو جاتے ہیں اور ٹریفک کی سُرخ، پیلی اور سبز بتیاں اُس کے ذہن پر سوار ہو جاتی ہیں۔ پپو اپنے دماغ کی پردہ سکرین پر دیکھتا ہے کہ ایک بلی چوہے کے بچے کو پکڑ کر فخریہ انداز میں باورچی خانہ کے فرش پر چھوڑ دیتی ہے، پھر پکڑتی ہے اور چھوڑ دیتی ہے، وہ ابھی تک زندہ ہے اور پریشان اور ڈر سے کانپتا ہوا نڈھال پڑا ہے۔ بھوک کی وجہ سے پپو کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ پپو سوچتا ہے کہ اُس نے کبھی غذا کو نشے کے طور پر نہیں لیا تھا لیکن اب اس کے ذہن میں ایسے لوگوں کا تصور آرہا تھا جو کھانا چھن جانے کی صورت میں ایک نشے کے عادی شخص کی طرح اُسے واپس حاصل کرنے کیلئے چھینا جھپٹی کرنے لگتے ہیں لیکن میں کیا کرسکتا ہوں؟ پپو پریشان اور مفلوک الحال محسوس کرتا ہے۔ پھرپپو سوچتا ہے کہ گھر سے بھاگ جانا بہت سی قربانیوں کا تقاضا کرتا ہے اور آخر وہ آزادی مل جاتی ہے جو کہ گھر پر میسر نہیں تھی۔ اب مجھ سے کوئی بھی پوچھ گچھ کرنے والا نہیں ہے اور اب مجھے حساب کے مشکل سوالات بھی حل نہیں کرنے پڑیں گے۔

’’کسی چیز کی ضرورت؟ تمہیں بھوک لگی ہوئی ہے؟‘‘ پپو سے تھوڑی سی عمر میں بڑا نوجوان پوچھتا ہے۔
’’نہیں، مہربانی‘‘ پپو اپنی خیالوں کی دُنیا سے باہر آتے ہوئے حیرت بھرے لہجے میں جواب دیتا ہے۔
’’اوہ! کوئی نشہ آور گولیاں؟‘‘ وہ پپو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پھر پوچھتا ہے۔
وہ شخص ہتھیلی کھولتا ہے جس میں نشہ آور گولیوں کاپیکٹ ہوتا ہے۔

پپو گھبرا جاتاہے، ابھی پپو اُس نوجوان کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ دو اور لڑکوں نے پپو کو تنگ کرنا شروع کر دیا لیکن اُس نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور انہیں نظر انداز کر دیا۔ لڑکوں کے چلے جانے کے بعد پپو کو اپنے سکول کے دن یاد آنے لگے جب وہ دوسرے لڑکوں کو ڈرایا دھمکایا کرتا تھا اوراُن سے پیسے لے لیا کرتا تھا۔ اس خیال کے ساتھ ہی اُس نے جیبوں میں ہاتھ ڈالا تو اُسے ایک دردناک حقیقت کا سامنا کرنا پڑا، اُس کی جیبیں خالی تھیں، اس کی جیب بھی کٹ چکی تھی۔

انتہائی بھوک اور مکمل صدمہ کی حالت میں پپو کو اُمید کی کرن نظر آتی ہے جب ایک نئی ہنڈا سوِک میں بیٹھا ایک ادھیڑ عمر شخص اُس کی طرف مسکرا کر دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’اوئے! تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘
پپو محسوس کرتا ہے کہ اُس کی آواز اگرچہ اتنی شائستہ نہیں مگر دوستانہ ضرور تھی۔ ابھی پپو شش و پنج میں ہوتاہے

کہ کیا جواب دے بڑے میاں دوبارہ گفتگو کرتے ہیں ۔
’’اوہ! برا نہ مناؤ، میں نے تمہیں اپنا بچہ خیال کیا، میں ایک ہائی سکول میں انگریزی کا استاد ہوں۔ تم کسی خیال میں کھوئے ہوئے ہو، خیریت تو ہے ؟
’’مجھے بھوک لگی ہے‘‘ پپو نقاہت سے جواب دیتا ہے۔
’’ چلو میں تمہیں برگر کھلاتا ہوں‘‘ بڑے میاں اس کو پیشکش کرتے ہیں۔

پپو خدا پر بھروسہ کر کے جلدی سے گاڑی میں بیٹھ جاتا ہے۔ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد اچانک پپو کو یہ خیال پریشان کرنے لگتا ہے کہ کسی اجنبی کو برگر کی پیشکش کرنے کا مطلب کیا ہوسکتا ہے؟ لیکن پھر وہ اُس شخص کی عمر اور اس کی انگلی میں شادی والی انگوٹھی دیکھ کر کچھ بہتر محسوس کرتا۔ اگرچہ اس کی سانس میں سے سگریٹ کی بو آرہی تھی لیکن پپو نے اس سے بڑے میاں کی شخصیت کا بُرا اثر نہیں لیا۔ پپو اُس سے گپ شپ شروع کردیتا ہے۔

وہ پپو سے کہتا ہے ’’تم ایک اچھے لڑکے ہو‘‘۔ میرا خیال ہے ہماری دوستی خوب نبھے گی۔ وہ اپنا ہاتھ پپو کی ران پر رکھ دیتا ہے اوروہیں پڑے رہنے دیتا ہے۔ پپو کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔ اب کیا ماجرا ہے؟ پہلے ٹرک میں طُور خان سے واسطہ پڑا اور اب اس گھناؤنے آدمی کے رحم و کرم پر ہوں۔ پپو کو بھوک لگی ہوئی اور وہ کچھ نہ کچھ کھانا چاہتا تھا۔ پپو نے سوچا کہ برگر والی جگہ پر اور بھی لوگ ہوں گے لہٰذا مجھے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ برگر کھانے کے بعد وہ میں اس سے چھٹکارا حاصل کرلوں گا۔
’’مکڈونلڈ‘‘ پر پپو کار سے اُتر جاتا ہے۔ بڑے میاں کار سے اُتر کر پپو کے کندھے پر دوستانہ انداز میں ہاتھ رکھ دیتے ہیں اوریوں پپو کو اپنے پہلو میں لیے ہوئے ریسٹورنٹ کے اندرچلے جاتے ہیں۔ اندر پہلے سے موجود ایک اورمنحوس شکل ادھیر عمر شخص پپو پر سرتاپا نظر ڈالتا ہے اور بڑے میاں کو مخاطب کرتے ہوئے مبارک باد دیتا ہے۔

’’چنگیزی تم ہمیشہ ہی زبردست ہاتھ مارتے ہو‘‘ عمر رسیدہ شخص پپو پر ہوس بھری نظر ڈالتے ہوئے کہتا ہے۔
چنگیزی ڈرامائی انداز میں آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کر زیرِ لب کچھ بڑبڑاتا ہے۔

’’خدا شکر خورے کو شکر ہی دیتاہے، تمہاری بھی تو پانچوں گھی میں رہتی ہیں‘‘ دونوں آدمی زیر لب مسکراتے ہیں اور کاؤنٹر پر کھانے کا آرڈر دیتے ہیں۔ کاؤنٹر کے پیچھے کرسی پر بیٹھا منحنی سا نوجوان ان کی جانب دیکھتا ہے۔ اُس نے نیلے رنگ کی قمیض اور سفید رنگ کی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ وہ انتہائی دبلا پتلا اور لمبی ناک والابندہ تھا۔
’’کام کیسا جا رہا ہے؟‘‘ کاؤنٹر انچارج عمر رسیدہ شخص سے سوال کرتا ہے۔
’’ٹھیک ٹھاک‘‘ عمر رسیدہ شخص جواب دیتا ہے۔

’’آپ اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہیں؟ پروفیسر آپ کے ساتھ ہیں، وہ اپنے کام میں ماہر ہیں اور انہوں نے کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں‘‘ وہ پھر پوچھتا ہے۔
’’جو نوجوان میرے ساتھ تھا اُسے پولیس والے دو گھنٹے پہلے لے گئے تھے‘‘ عمر رسیدہ شخص جواب دیتا ہے۔
پپو پریشان تھا کہ اُس نے انجانے میں ایک ایسے شخص کو دوست بنالا ہے جو جسم فروشی کے دھندے میں ملوث لگتا ہے۔ پپو اپنے گردونواح کا جائزہ لیتا ہے۔ اُس کیلئے ناقابل یقین بات تھی کہ لڑکے بھی جسم فروشی کے دھندے میں ملوث ہیں۔

’’کیا یہاں خواتین جسم فروشی کرتی ہیں؟‘‘ پپو برگر کا لقمہ لیتے پروفیسر سے پوچھتا ہے۔
’’اچھا خواتین بھی جسم فروشی کرتی ہیں!‘‘ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہو، پروفیسر ہنستے ہوئے کہتا ہے۔

’’جسم فروش خواتین کہاں پائی جاتی ہیں؟‘‘ پپو انتہائی تعجب کے ساتھ پوچھتا ہے۔
’’ٹبی گلی میں، اب سڑکوں پر زیادہ نہیں آتیں کیونکہ وہ اتنی نمایاں ہوتی ہیں کہ پولیس والے اُن کو پہچان لیتے ہیں۔ فاحشہ عورت کو دُور ہی سے پہچانا جا سکتا ہے جب کہ ہم جنس پرستوں کو پہچاننا مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ تمہاری اور میری طرح کے ہی ہوتے ہیں۔ ‘‘
دو لڑکے پپو کی میز کے پاس سے گزرتے ہے، ان میں سے ایک دوسرے لڑکے کو بازو پر تھپکی دے کر کہتا ہے کہ نیلے رنگ کی مرسیڈیز بالکل تیار کھڑی ہے۔

اُن میں سے ایک لڑکا مرسیڈیز والے آدمی کے ساتھ چلا جاتا ہے اور جاتے جاتے اپنے ساتھی لڑکے سے کہتا ہے کہ اگر کوئی اس کا پوچھے تو بتا دینا کہ میں غسل خانے میں ہوں اور مسکراتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔

تھوڑی دیر بعد وہ لڑکا لوٹ آتا ہے اور دوسو روپے لہراتا ہوا ایک عجیب سی ہنسی ہنستا ہے اور وہ آدمی واپس چلا جاتا ہے۔ عمر رسیدہ آدمی معمول کے مطابق گفتگو کر رہے تھے، گفتگو بہت عجیب و غریب تھی اور وہ ان دونوں نوجوان لڑکوں کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ جب پپو اور پروفیسر کھانا کھا لیتے ہیں تو واپس پارکنگ میں موجود اپنی گاڑی کی طرف چل پڑتے ہیں، پارکنگ میں چند بچے گاڑیوں کے پاس بیٹھے خوش گپیاں کر رہے تھے ۔ پپو کویہ سب کچھ بہت عجیب لگتا ہے۔

’’میں اب چلتا ہوں،برگر کا بہت بہت شکریہ‘‘ پپو پروفیسر سے جانے کی اجازت مانگتا ہے۔
’’اِدھر آؤ، بیٹھو، میں ایک منٹ کیلئے تم بات کرنا چاہتا ہوں، تمہارا زیادہ وقت نہیں لوں گا‘‘ پروفیسر اپنی کار کا دروازہ کھولتے ہوئے کہتا ہے۔
پپو یہ سوچتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ جاتا ہے کہ وہ کبھی بھی گاڑی میں سے نکل کر بھاگ سکتا ہے۔

پپو پروفیسر کی بات مان لیتا ہے اور اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے کیونکہ اسے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ لنک-13 پر جائیے۔
مجھے اب اس دوزخ سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔ لنک-14 پر جائیے۔

اِک شرر دِل ہے، اُس سے کوئی گھبرائے کیا

ے نیازی حد سے گزری بندہ پرور ‘کب تک ہم ‘کیا؟کہیں گےحالِ دِل اور آپ فرمائیں گے

پپو بے چینی سے ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے ۔جس کے نزدیک ہی ایک مسجد ہے۔ یہ واحد گھر ہے جو روشن ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں دروازہ کھلتا ہے اور ایک عمر رسیدہ شخص باہر جھانکتا ہے۔ اُس شخص کے بال سفیدی مائل ہیں، وہ دیکھنے میں اچھے قد کا لگتا ہے مگر چہرے سے سختی عیاں ہے۔ آنکھوں پر اُس نے موٹے موٹے شیشوں والی عینک لگائی ہوئی ہے۔ پپو اپنی ضرورت کے تحت اُسے جلدی جلدی اپنے بارے میں بتاتا ہے۔

’’یہ لسٹ لے لو‘‘ وہ شخص دروازے کے پاس میز کے دراز سے ایک لسٹ نکالتے ہوئے کہتا ہے۔
یہ لسٹ دیکھنے میں ہی بوسیدہ نظر آتی ہے، وہ شخص اُس کاغذ کے ٹکڑے کو پپو کی طرف بڑھاتے ہوئے کہتا ہے اس پر اُن تمام ہوٹلوں کے پتے ہیں جہاں تم رہ سکتے ہو۔
اُس شخص کے اس رویے سے پپو کو محسوس ہوتا ہے کہ اُس کی کہانی کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
’’دروازے پہ کون ہے؟۔‘‘پپو کو ایک عورت کی آواز سنائی دیتی ہے جو کہ اُس شخص سے دریافت کر رہی ہے ۔
’’کوئی نہیں‘‘ وہ شخص جواب دیتا ہے۔

وہ عورت چلتی ہوئی دروازے کے پاس آتی ہے اور جھانکتی ہے۔
’’ہم تمہارے لیے کیا کر سکتے ہیں؟۔‘‘پپو پرنظر پڑتے ہی عورت پیار سے پوچھتی ہے ۔
’’میں گھر سے بھاگ کے آیا ہوں اور مدد کیلئے آپ لوگوں کی مدد چاہتا ہوں۔‘‘پپو دردمندانہ لہجے میں کہتا ہے۔
’’اندر آجاؤ‘‘ وہ عورت پپو کو اندر بلا لیتی ہے۔
اس بات پر اُس شخص کے ماتھے کی تیوریاں مزید گہری ہو جاتی ہیں۔وہ عورت پپو کو لاؤنج میں بٹھا دیتی ہے، فضا میں عجیب سی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔
’’میں چولہے پہ ہانڈی رکھ کر آئی ہوں، تم اطمینان سے بیٹھو، میں ابھی آتی ہوں‘‘ وہ پپو کو اپنے شوہر کے پاس بٹھا کر کہتی ہے۔
وہ شخص اب بھی پپو کو ناپسندیدہ نظروں سے گھور رہا ہے۔

’’تمہارے ماں باپ کا ٹیلیفون نمبر کیا ہے؟۔‘‘ وہ شخص سخت لہجے میں پپو سے دریافت کرتا ہے۔
’’میرے گھر والوں کو فون مت کرو‘‘ پپو منت سماجت کرتا ہے۔
’’خیر، ہم تمہارے گھر والے نہیں ہیں اور نہ ہی تمہیں اپنے پاس رکھ سکتے ہیں، دوسری صورت میں مجھے پولیس کو فون کرنا پڑے گا‘‘۔ وہ شخص سرد لہجے میں کہتا ہے۔
’’کیا میں آپ کا غسل خانہ استعمال کر سکتا ہوں۔‘‘پپو بات کاٹتے ہوئے پوچھتا ہے۔
’’غسل خانہ گھر کے پچھلے دراوزے کے ساتھ ہے۔ ‘‘وہ شخص بتاتا ہے۔

اُس طرف جاتے ہوئے ایک لمحے بھر کو پپو سوچتا ہے کہ یہاں سے بھاگ جانا چاہئیے مگر ساتھ ہی وہ اپنا ارادہ ترک کر کے غسل خانے کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ پپو غسل خانے کا جائزہ لیتا ہے بظاہر اسے سب کچھ ٹھیک نظر آتا ہے۔

پپو کو لگتا ہے کہ یہ شخص اُس کے گھر فون کر سکتا ہے، پپو کو تو مدد چاہئیے ،اگر گھر والوں سے بات ہی کرنی ہوتی تو وہ گھر کو چھوڑتا ہی کیوں؟ پپو ہاتھ دھوتے ہوئے سوچتا ہے کہ وہ عورت قدرے بہتر ہے، اگر پپو کو اُس سے بات کرنے کا موقع مل جائے تو شاید وہ اُس کی مدد کیلئے تیار ہو جائے۔ پپو ہاتھ سکھانے کیلئے تولیہ تلاش کرتا ہے تو ایک سائیڈ پر تولئے قرینے سے رکھے نظر آتے ہیں، پپو انہیں استعمال کرنے کے بجائے اپنی قمیض سے ہی ہاتھ صاف کر لیتا ہے۔

لِونگ روم کی طرف جاتے ہوئے وہ ایک چھوٹے سے سٹڈی روم میں سے گزرتا ہے، اس کمرے میں دو اونچی کرسیاں اور ایک سائیڈ ٹیبل پر ایک ٹی وی اور ڈی وی ڈی پر پپو کی نظر پڑتی ہے۔

ایک لمحے کو پپو کادل چاہتا ہے ڈی وی ڈی اُٹھا کے، پچھلے دروازے سے باہر نکل جائے اور ٹکسالی گیٹ میں اُسی دکان پہ جا کر بیچ دے تاکہ کچھ پیسے ہاتھ آجائیں۔ اگر یہ حل آپ کے نزدیک مناسب ہے تو جائیے لنک-15 پر۔

پپو اپنی اس سوچ کو چپکے سے سلا دیتا ہے اور سوچتا ہے کہ اُس کی زندگی تو پہلے ہی مسائل سے بھری پڑی ہے۔ اُس میں مزید اضافہ کر نے کے بجائے اُسے کوشش کرنی چاہیے کہ وہ شخص، اپنی بیوی سے پپو کو بات کرنے دے۔ اگر یہ مناسب حل لگتا ہے تو جائیے لنک-16 پر۔

دھندہ ہے پر گندا ہے یہ

آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک جانے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے

پپو’نئی زندگی‘ کے نمائندوں سے کارڈ لے کر رکھ لیتا ہے اور ان کی اس مہربانی کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد اندھیرا چھا جاتا ہے ۔ ’بجلی‘ اور ’پوتنی دا‘ پپو کو ایک نئی جگہ ’گوالمنڈی‘ لے گئے۔ وہاں پر وہ پپو کا تعارف ایک کٹے پھٹے چہرے والے لڑکے ’چن چیتا‘ سے کراتے ہیں جو گوالمنڈی کے ایک چوک میں بھتہ لینے کیلئے کھڑا ہے۔ چن چیتا پپو کو اپنی جگہ پر تھوڑی دیر کے لیے کھڑا ہونے کو کہتا ہے اور خود بجلی اور پوتنی دا کو ساتھ لے کر ایک طرف چل پڑتا ہے۔

گوالمنڈی ایک ایسی جگہ ہے جو ہسپتال روڈ کے نزدیک واقع ہے، جس کے فٹ پاتھ پر بہت سے لوگ سو رہے ہیں، پپو سوچتا ہے کہ شاید یہ سب بھی اُس کی طرح گھر سے بھاگ کر آئے ہوئے ہیں لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ سب لوگ پپو جیسے حالات سے دوچار نہ ہوئے ہوں۔ پپو کے خیالات کا تانا بانا اس وقت منتشر ہوتا ہے جب چن چیتا کا ایک ساتھی لڑکا پپو کو آواز دیتا ہے اور اپنے ساتھ چن چیتا کی رہائش گاہ پر چلنے کیلئے کہتا ہے۔ وہ لڑکا پپو کو ایک بڑے سے مکان میں لے جاتا ہے جہاں روشنی بہت ہی کم ہوتی ہے، پپو دیکھتا ہے کہ بائیں جانب کافی سارے گدے ایک قطار میں بچھے ہوتے ہیں۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر جھلملاتی ہوئی موم بتیوں کے اردگرد نوجوان گروہ بنائے ہیروئن پی رہے ہوتے ہیں۔ ایک لڑکا قینچی سے ایک نوجوان کے بال کاٹ کاٹ کر آگ میں پھینک رہا ہے جس کی بدبو سے پورا ہال نما کمرہ بھرا ہوا ہے۔

’’تم کون ہو؟‘‘ ایک بھاری بھر کم آواز پپو کے کانوں میں گھونجتی ہے۔
’’میرا نام ’پپو‘ ہے، میں ’بجلی‘ اور ’پوتنی دا‘ کا ساتھی ہوں۔‘‘ پپو جواباً کہتا ہے۔
’’میں بِلّاقصائی ہوں اور یہاں کا انچارج ہوں‘‘ وہ شخص بھاری ہاتھ پپو کے کندھے پر رکھتے ہوئے کہتا ہے۔

وہاں پر موجود نوجوان اپنے ہئیر سٹائل سے مختلف کارٹونوں کے کردار لگ رہے ہوتے ہیں۔ پپو اس ماحول میں خوف محسوس کرتا ہے اور دل ہی دل میں خدا کو یاد کر تا ہے۔ اُس کے چہرے پر موجود گھبراہٹ کے آثار رات ہونے کی وجہ سے نمایاں نظرنہیں آتے۔ اسی اثناء میں ایک طرف سے پپو کی عمر کا ایک نوجوان لڑکا نمودار ہوتا ہے۔ جسے دیکھ کر حجامت بنانے والا لڑکا (ہوا میں قینچی لہراتے ہوئے)کہتا ہے کہ اب تمہاری باری ہے۔ وہ لڑکا حجامت بنانے والے لڑکے سے اپنے بالوں کا اچھا سا اسٹائل بنانے کی عاجزانہ درخواست کرتا ہے۔

’’تم کیا کام کرتے ہو؟‘‘ حجام اُس خوبصورت لڑکے کے بال کاٹتے ہوئے سوال کرتا ہے۔
’’بِلاّقصائی اور میں فورٹ روڈ پر لوگوں سے بھتہ وصول کرتے ہیں‘‘ لڑکا جواب دیتا ہے۔
’’بِلاّ قصائی کا نام بہت مشہور ہے، اُس کی بڑی دہشت ہے، اُس کے نام پر لوگ پیسوں کی بارش کردیتے ہیں، بِلاّ نے ایک دفعہ ایک نوجوان کو مار مار کر لہولہان کردیا تھا‘‘ لڑکا حجام کو مزید بتاتا ہے۔

تھوڑی دیر بعد بِلاّ قصائی، پوتنی دا اور بجلی واپس آجاتے ہیں، بِلاّ قصائی ایک گدے پر لیٹ جاتا ہے، پوتنی دا اور بجلی بھی اس کے دونوں اطراف میں آکر لیٹ جاتے ہیں۔ پھر بِلاّ قصائی پپو کو اپنے پاس بُلاتا ہے اور خود چرس بھرا سگریٹ سلگا لیتا ہے۔

’’یہ نیا لڑکا میرے اعصاب پر سوار ہوگیا ہے، میں اس کا کیا کروں؟ ‘‘ پوتنی دا بِلاّقصائی سے شکایت کرتا ہے۔
’’ میں اسے ابھی ٹھیک کیے دیتا ہوں، کہاں ہے وہ؟ ‘‘ بلاّ قصائی پپو سے سوال کرتا ہے۔
’’وہ اپنے بال کٹوا رہا ہے‘‘ پپو جواب دیتا ہے۔
’’ اس کے تمام بال کاٹ دو‘‘ بلاّ قصائی حجام کو حکم دیتا ہے جس پر پوتنی دا خوش ہو کرقہقہہ لگاتا ہے۔
’نئی زندگی‘ کے لوگ روزانہ وہاں آتے ہیں اور پپو کو اپنے ساتھ چلنے کیلئے زور لگاتے ہیں۔ ’نئی زندگی‘ کا نمائندہ عمران پپو کو سمجھاتا ہے کہ یہ جگہ اس کیلئے خطرناک ہے لیکن بِلاّ قصائی درمیان میں کود پڑتا ہے اور پپو کی دیکھ بھال کی ذمہ داری خود قبول کرلیتا ہے۔ ’نئی زندگی‘ کے نمائندے مایوس ہو کر واپس چلے جاتے ہیں اور بلاّ قصائی، بجلی اور پوتنی دا دوبارہ گپ شپ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد اچانک بجلی کی نظر کونے میں موجود ایک لڑکی جس کا نام شبو ہے ، پر پڑتی ہے جو پپو کے ساتھ پینگیں بڑھا رہی ہوتی ہے۔بجلی غصے سے آگ بگولہ ہو کراول فول بکنے لگتی ہے اور اس لڑکی کو ’چنگڑی‘ کا خطاب دیتی ہے۔بجلی بِلاّ قصائی سے شبو کی شکایت کرتی ہے اور اس کو موقع پر سزا دینے کا کہتی ہے لیکن بِلاّ قصائی نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے فیصلہ اگلی صبح تک کیلئے ملتوی کر دیتا ہے۔

کیا پپو اس ماحول سے بھاگ جائے گا ؟ اور نئی زندگی کے نمائندوں سے ہیلپ لائن پر رابطہ کرے گا؟ تو لنک-17 پر جائیے۔
شبو کا ساتھ دے گا تو لنک-18 پر جائیے۔
خاموش رہے گا، لنک-19 پر جائیے۔

آؤٹ آف دی فرائی پین

حتمی طور پر جل جانے کا یقین، بھسم ہو جانے کا خوف پیدا کرتا ہے۔

پپو نے پروفیسر کو من مانی کا موقع دیا۔ وہ اس وقت مزاحمت نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ اُس وقت اُسے بہت ذلالت کا احساس ہو رہا تھا۔ جب پروفیسر مطمئن ہوگیا تو پپو نے اُس سے روپے جھپٹے اور غسل خانے کی طرف لپکا۔ تلاش کرنے پر پپو کو بہت ہی بوسیدہ اور چھوٹا سا غسل خانہ نظر آیا ،خستہ حالی کے باوجود اُس کا دروازہ لاک ہوسکتا تھا۔ پپو نے غسل خانے کا سرسری جائزہ لیا تو صابن دانی کو خالی پایا۔ پپو نے اِسی کو غنیمت جانا اور جلدی سے اپنے آپ کو صاف کرنا شروع کیا۔ تھوڑا سا پانی چھلک کر پینٹ پر گر گیا جسے چھپانے کیلئے پپو نے اپنی شرٹ باہر نکال لی۔

غسل خانے سے باہر جاتے ہوئے اچانک اُس کی نظر اُس گھسے پٹے آئینے پر پڑی جس میں اپنے چہرے پر نظر پڑتے ہی اسے عجیب سا احساس ہوا۔بظاہر اُس کا چہرہ تو باکل پہلے جیسا ہے۔ اُس نے جو کچھ بھی کیا تھا اس کے باوجود وہ بہت زیاد ہ شرمندہ نہ تھا۔
اُس نے سوچا، وہ سینکڑوں لوگوں کے درمیان آرام سے چہل قدمی کرسکتا ہے صرف اُسے ہی معلوم ہے کہ آگے بڑھنے کیلئے وہ کیا کررہاہے۔

غسل خانے سے باہر نکل کر پپو اُس نوجوان کو تلاش کرتا ہے جس نے اسے کمرہ شےئر کرنے کی پیشکش کی تھی۔ پپو سوچنے لگا کہ کہیں وہ لڑکا بھی باقی آدمیوں کی طرح ہم جنس پرست تو نہیں؟ یا پھرخود اُس کی طرح محض گھر سے بھاگا ہواایک نوجوان ہے۔ اِن سب خیالات کو جھٹک کر وہ سوچنے لگا کہ وہ نوجوان خاصا دوستانہ رویہ رکھتا ہے پپو کو ایسے لوگوں سے بات کر کے اچھا لگنے لگا۔ کافی لوگ وہاں موجودہیں اور بہت سے لوگ آ جا رہے ہیں مگر اُن سب میں اُسے وہ نوجوان کہیں نظر نہیں آرہا۔ پپو سوچتا ہے کہ اب کسی ہوٹل کے کمرے کا کرایہ خود ہی دینا پڑے گا۔ یہ سوچتے ہوئے وہ اُس جگہ سے آدھا کلومیٹر دُور ایک ہوٹل کے سامنے پہنچ جاتا ہے۔
انتظامیہ کی کھڑکی کے سامنے وہ ایک بڑی عمر کے شخص کو دیکھتا ہے جو اپنا بل ادا کر رہا ہے۔

اچانک اُس کی نظر ایک راہ داری کے دروازے پر پڑتی ہے، وہاں اُسے ایک خوبصورت اور چنچل لڑکی نظر آتی ہے ۔ اُس کے لمبے سرخ بال اُس کے گالوں کو چھوتے ہوئے بڑی شان سے اُس کےکندھوں تک آتے ہیں۔ اپنی دو انگلیوں کے درمیان ایک نقلی پلک پکڑے ہوئے وہ ٹکٹکی باندھے خاموشی سے پپو کو دیکھ رہی ہے۔ جب وہ پپو کو دوسری دفعہ اپنی طرف متوجہ دیکھتی ہے تو اسے اپنے پاس بلانے کیلئے اشارہ کرتی ہے۔ اتنی دیر میں پپو کی باری آجاتی ہے اور بکنگ کاؤنٹر پر کھڑا شخص ایک نظر اُس پہ ڈالتا ہے اُس سے170 روپے مانگتا ہے۔ پپو اُس شخص کی توجہ ایک چھوٹی سی تختی کی طرف دلاتا ہے جس پر 135 روپے لکھا ہوا ہے۔ وہ شخص پپو کی بات کو نظرانداز کر کے دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو جاتا ہے۔ وہ لڑکی پپو کو اپنی طرف بلاتی ہے اور بتاتی ہے کہ اس جگہ پر سب ہوٹل والے آنے والے نوجوانوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں۔ وہ پپو کو اپنے کمرے میں آنے کی دعوت دیتی ہے۔ پپواُس کے بوسیدہ کمرے میں جھانکتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کمرہ تو 100 روپے کے قابل بھی نہیں ہے۔

’’کبھی کبھار تو آنے والوں کیلئے وہ بستر کی چادریں بھی نہیں بدلتے یہ ہوٹل والے جانتے ہیں کہ یہاں آنے والے سب نوجوان گھروں سے بھاگے ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ بہت سے نوجوان تو اٹھارہ سال کے بھی نہیں ہوتے۔ اُنہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسے نوجوانوں کے پاس کیش بھی ہوتا ہے۔ اِن میں سے بعض ہوٹل والے کمرے تو دے دیتے ہیں مگر پھر یہ دو نمبر کام کرواتے ہیں۔‘‘لڑکی تفصیل سے بتاتی ہے۔

’’یہ دنیا بے ہودہ انسانوں سے بھری ہوئی ہے،جو ایسے لوگوں کا خون چوستے ہیں، ان کے وسائل چھین لیتے ہیں اور انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں،ظلم کی ایسی داستانیں رقم ہوتی ہیں کہ انسان کی روح تک چھلنی ہو جاتی ہے‘‘ پپو سوچتا ہے۔
’’میں نے آج صبح ہی اپنے کمرے کا کرایہ ادا کیا ہے، میں ابھی سو کر اُٹھی ہوں اور اب باہر جانے کا سوچ رہی تھی تاکہ کچھ پیسے بنا سکوں اور اپنے لئے نشہ خرید سکوں۔ میری سہیلیاں بھی مجھ سے بات نہیں کررہیں، اس بات پر میں اتنی بیزار ہوں۔‘‘لڑکی پریشانی کے عالم میں پپو کو بتاتی ہے۔وہ پپو سے التجا کرتی ہے ’’ہم دونوں تمہارے پیسوں سے نشہ کرلیتے ہیں اور پھر تم میرے ساتھ کمرے میں رہ سکتے ہو۔آج میری سالگرہ بھی ہے، تم بہت پیارے لگ رہے ہو، کیا تم میرے ساتھ رہو گے؟‘‘ وہ پپو کے گال پربوسہ دیتے ہوئے کہتی ہے۔

اُس کا یہ کہنا کام دکھا جاتا ہے اور پپو اُس کے ساتھ رہنے پر رضامند ہو جاتا ہے۔ وہ اُس کےکمرے میں بیٹھ کے ٹی وی دیکھ رہا ہے جبکہ وہ نشہ خریدنے کیلئے باہر گئی ہوئی ہے ۔ پپو نے نشے میں دھت ہونے کا کوئی پروگرام نہیں بنایاتھا۔ وہ صرف کمرے میں بیٹھ کر پروفیسر کو بھلانا چاہتا ہے، مگر یہ تو سب سے ہی بہتر ہے کہ اُسے ایک ایسا خوبصورت ساتھی مل گیا جس سے وہ بات بھی کر سکتا ہے۔

اب اس لڑکی اور نشے کی مدد سے وہ پروفیسر کو آسانی سے بھُلا سکتا ہے۔ اسی اثناء میں وہ لڑکی واپس آجاتی ہے اور اُس کے پاس نسواری رنگ کا پاؤڈر بھی ہے۔ وہ پپو کے سامنے اس پاؤڈر کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتی ہے کہ اس سے انسان کے جسم میں طاقت ایسے آجاتی ہے جیسے بجلی بھر گئی ہو۔
پپو اُس لڑکی کے ساتھ بہت سی باتیں کرتا ہے جو اپنا نام بینا بتاتی ہے۔ ایک سال پہلے اُسے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔پپو بینا سے گھر سے نکلنے کی وجہ پوچھتا ہے لیکن بینا اُس کے ساتھ اٹھکیلیاں شروع کر دیتی ہے۔
پپو کئی گھنٹوں کی نیند سے بیدار ہوتا ہے۔ بینا شاور لے رہی ہے۔ اُس کے کپڑے کمرے کے فرش پر ہر جگہ بکھرے پڑے ہیں اور اُن کپڑوں کے ساتھ ہی ایک سُرخ رنگ کے بالوں کی وِگ بھی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ بینا کے اصل بال کیسے لگتے ہوں گے، وہ متجسس تھا کہ ابھی تھوڑی دیر میں وہ بینا کو اپنی اصل حالت میں دیکھ لے گا۔ یہ سوچ کر پپو مسکراتا ہے۔

پپو نشے کی حالت سے تو واپس آجاتا ہے مگر اُسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسیاُس کے ہوش ٹھکانے نہیں، دراصل پپو نے حد سے زیادہ ہی نشہ کرلیا تھا۔ پپو گزشتہ رات کے بارے میں سوچتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ گزری ہوئی رات ایک بہت بُرے دن کا اچھا اختتام تھی۔ پپو زندگی کے اُتار چڑھاؤ کو سمجھنے لگ جاتا ہے اور یہ کہ زندگی کو پُرلطف کیسے بنایا جا سکتا ہے۔

گڈ مارننگ! کیا مجھے کچھ اور محبت نہیں ملے گی؟ پپو غسل خانے کے دروازے سے پکارتا ہے۔
’’کیوں نہیں‘‘ پپو کو آواز سنائی دیتی ہے اور ساتھ ہی دروازہ تھوڑا سا سرکتا ہے اور اُس میں سے بینا کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ پپو نے بینا کے ہاتھ کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا، دونوں ایک جھٹکے سے بستر پر گر پڑتے ہیں۔ پپو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ ایک چِکنا سا لڑکا اُس کے اوپر ہے۔ وہ پپو سے اٹھکیلیاں کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ پپو اُسے دھکا دے کر اپنے سے الگ کرتا ہے اور قالین پرجا گرتا ہے۔

ایک دُبلا پتلا نوجوان پپو کو گھور رہا ہے۔
’’خوب! مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا،میرے علم میں تھا کہ تم حقیقت سے آگاہ نہیں ہوگے،تم یہاں پر نئے ہو نا‘‘ بینا ہنستے ہوئے کہتی ہے۔
’’اوہ خدایا‘‘ پپو بینا کو اصل حالت میں دیکھ کر کہتا ہے، اُسے واقعی سمجھ نہیں آ رہا کہ اُسے اِس بات کا کیا جواب دینا چاہئیے۔
’’میرا خیال ہے کہ تم تو ہم جنس پرست نہیں ہو، میں نے تمہیں میکڈونلڈزمیں دیکھا اور تم مجھے اچھے لگے تھے۔‘‘
’’کیا یہاں پہ سب لوگ ہم جنس پرست ہیں‘‘ پپو نے دہشت زدہ لہجے میں پوچھا۔
’’زیادہ تر لڑکے ایسے ہی ہیں‘‘ اُس نے جواب دیا۔
’’کیونکہ ان سب کو بھی اُن کے والدین نے اِسی طرح گھر سے نکال دیا تھا جیسے کہ مجھے میرے والدین نے نکالا ہے۔‘‘
میرا خیال ہے میرے پورے شہر قصور میں صرف میں ہی واحد ہم جنس پرست ہوں،اسی لیے لاہور آگیا، کیونکہ میں نے لالی ووڈ کے بارے میں سنا ہوا ہے۔ یہاں فورٹ روڈ پر میرا پورا خاندان ہم جنس پرستوں کاہے ، ابھی تو وہ مجھ سے ناراض ہیں کیونکہ میں نے اُن کا کرایہ نشے میں اُڑا دیا لیکن کچھ دِنوں میں وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘
وہ کرسی پہ بیٹھ کر اپنے بال سکھانے لگتا ہے۔’’ میرے باپ نے تو مجھے کہہ دیاتھا کہ میں کچرا ہوں اور مجھے گٹر میں ہونا چاہئیے اور دیکھو۔۔۔ میں یہاں ہوں۔‘‘یہ وہ جگہ ہے جس سے میرا گہرا تعلق ہے۔ مجھے پتا ہے یہ بات اچھی نہیں لگتی۔ ’’سچ یہی ہے ۔کڑوا سچ‘‘۔
وہ ہنستے ہنستے سنجیدہ ہوگیا۔
’’تمہیں چاہئے تھا کہ یہ بات مجھے پہلے ہی بتا دیتے‘‘پپوشکوے کے انداز میں بات کرتا ہے۔
’’میں نے کل رات تمہیں پارکنگ میں دیکھا ۔ میں سمجھا تم بھی شاید میری طرح لاپرواہ ہو، میرا مطلب یہ ہے کہ ہم سب کی زندگیاں اُلجھی ہوئی ہیں۔ میں ہم جنس پرست کا لفظ بار بار استعمال نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ کچھ راتیں ایسی ہوتی ہیں جب میرا دل کسی جوشیلے شخص کے ساتھ لیٹنے کوچاہتا ہے ، جو میرے دل کو لبھائے اور کبھی میں صرف اٹھکیلیاں کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

وہ شیشے کی طرف مُڑ کے اپنے بال سنوارتا ہے۔
’’بہرحال میں معافی چاہتا ہوں ۔ تمہیں پتہ نہیں ہے، تم واقعی بہت خوبصورت ہو اس لیے میرا دل بے ایمان ہوگیا‘‘وہ بستر پر آکر پپو کے سر کو کنگھے سے تھپکتا ہے اور پوچھتا ہے۔
’’کیا کھانے کا موڈ ہے؟‘‘

’’ایک اوربے ہودہ‘‘ ……پپو طنزیہ انداز میں کہتا ہے۔ ’’تمہیں صرف میرے روپے چاہئیے تاکہ تم اُس سے نشہ خرید سکو اور اب باقی کے بچے ہوئے روپوں سے تم کھانا کھانا چاہتے ہو، کیا میرے کچھ پیسے بچے بھی ہیں؟‘‘ پپو نے پوچھا۔

’’جانو! تمہارے پیسے تو سب ختم ہوگئے، کل ہم نے بہت زیادہ ہیروئن استعمال کی تھی، تمہیں بالکل اندازہ نہیں کہ ہیروئن کی قیمت کیا ہے؟ لیکن میرے پاس اتنے پیسے ضرور ہیں جن سے ہم کھانا کھا سکیں ‘‘بینا نے حساب دیتے ہوئے کہا۔
’’اب مجھے جانا ہے‘‘ پپو کہتا ہے اور پلٹ جاتا ہے۔
’’اوئے، بڑے ہو جاؤ‘‘ وہ شیشے میں پپو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔
’’مجھے یہ مت کہنا کہ کل میرے ساتھ تمہیں کوئی لطف نہیں آیا، ہم نے بہت مزہ کیا، مجھے تم پسند ہو اور تمہیں بھی میں پسند ہوں ،اب مجھے یہ باتیں مت سنانا کیونکہ میں ایک لڑکا ہوں، یہ بالکل نامعقول بات ہے۔‘‘بینا شکایتاً کہتا ہے۔

’’کیا تم مذاق کر رہے ہو؟‘‘ پپو نے کہا۔
’’ تم بھی تو اُن میں سے ایک ہو، جو بھوکے مرتے ہیں، بہت سے لوگ جو ہم جنس پرست نہیں ہوتے۔ انہیں روزمرہ کی زندگی گزارنے کیلئے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ سب کچھ بھولنا ہی تمہارے لیے بہتر ہے، آخر یہاں اس کی پرواہ بھی کون کرتا ہے؟‘‘بینا جینز پہنتے ہوئے سمجھاتا ہے۔

پپو پریشانی کے عالم میں ہوٹل سے نکلتا ہے اور کسی تنہائی والی جگہ کی تلاش کرتا ہے۔ شاید وہ جانتا ہے کہ آخر وہ اس حال کو کیسے پہنچا؟ کیونکہ وہ بے سازوسامان ہے اور اُس کے پاس کوئی ملازمت نہیں ہے۔ اُس کے پاس جو واحد چیز ہے وہ اُس کا جسم ہے اور عمر رسیدہ شادی شدہ مرد اپنی بیویوں سے پسِ پردہ، اُس کے جسم سے لطف اندوز ہونے کیلئے اُسے کچھ بھی دینے کیلئے تیار ہیں۔ اس کو اچھی طرح معلوم ہے زندگی کی گاڑی کو آگے چلانے کیلئے اُسے سب طرح کے کام کرنے پڑیں گے۔

شاید اُسے واپس چلے جانا چاہئیے اور جاکر اُس لڑکی بینا سے کھانا لے لینا چاہئیے۔ ویسے بھی یہ خرچہ اُن پیسوں سے بہت کم ہوگا جو بینا نے نشہ خریدنے کیلئے پپو سے ہتھیا لیے تھے۔ ہو سکتا ہے وہ نشہ حاصل کرنے میں بھی پپو کا مددگار ثابت ہو، تا کہ پپو کو جسم فروشی میں کوئی عار نہ محسوس ہو۔ لنک-20 پر جائیے۔

بہتر ہے کہ وہ چالاکی سے معاملہ طے کرلے،کسی کو بوائے فرینڈ بننیمیں کامیاب نہ ہونے دے گا۔ وہ کچھ منٹوں میں کوئی مصیبت پالے بغیر ہی پیسے کما سکتا ہے۔ یہ کوئی اُس کا نیا شوق نہیں بس مجبوری ہے۔ پپو کو کسی میکڈونلڈز پر گاہک ڈھونڈنے کیلئے چلا جانا چاہئیے۔ لنک-21 پر جائیے۔

چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بناڈالا

عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا……جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا

پپو دروازے کو جھٹک کر کھولتاہے اور بجلی کی مانند باہر نکل جاتاہے۔ وہ پیچھے مڑے بغیر تیز تیز قدموں کے ساتھ چلنا شروع کر دیتاہے۔ میکڈونلڈز ریسٹورنٹ سے چند قدم آگے ڈیمونٹ مورنسی کی عمارت کے سامنے ایک چھوٹی سی دیوار پر بیٹھ جاتاہے۔ اُس کی آنتیں قل ھو اللہ پڑھنے لگتیں ہیں۔ اُسے وقت کے بھاری پن کا احساس ہونے لگتاہے۔

نیلے رنگ کی ہنڈا سِوک پپو کے قریب آکر رُکتی ہے۔ اُس میں بیٹھا ہوا جوان آدمی کھڑکی کا شیشہ نیچے کرتاہے۔ وہ ایک معتبر شخص معلوم ہوتا ہے۔ وہ پپو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لیکن پپو اُسے نظرانداز کر دیتا ہے۔ وہ پپو کو دوبارہ بلاتا ہے لیکن اس دفعہ پپو دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ مایوسی کے عالم میں وہ رفو چکر ہوجاتا ہے۔

اس دوران کئی گاڑیاں پپو کے پاس سے گزر تی ہیں، گاڑیوں میں اکثر ادھیڑ عمر سوار نظر آتے ہیں۔ جب پپو اُ ن سے بے توجہی برتتا ہے تو وہ ایک لمحے کے لیے انتظار کرتے ہیں اور پھر روانہ ہوجاتے ہیں۔پپو تصور کرتا ہے، بر گر کی دکان پر بچہ نے دس منٹ میں پانچ سو روپے کما لئے تھے۔ پپو دس منٹ کی خستہ حالی کا کسی ہوٹل کے کمرے میں تمام رات سونے سے موازنہ کرتا ہے۔

کسی بھی اُدھیڑ عمر کے شخص کے ساتھ رات گزارنے کا خیال اُسے بیزار کر دیتا ہے لیکن پپو ان لوگوں کو منفی انداز میں جواب دیتا ہے۔ پپو جانتا ہے کہ جب تک وہ یہاں پر بیٹھا رہے گا وہ لوگ آتے رہیں گے اور اس کے کسی بھی گاڑی میں بیٹھنے کے امکانات روشن ہورہے ہیں لیکن وہ ہمیشہ کی طرح انہیں نظرانداز کرتا ہے۔ اگر وہ مسلسل یہاں بیٹھا رہا تو جلد یا دیر سے بھوک، تھکاوٹ اور مایوسی کے عالم میں کسی بھی گاڑی میں سوار ہو سکتا ہے۔ اور پھر۔۔۔

اس سے پہلے کہ پپو کو کوئی پچھتاوا ہو اس نے بہتر سمجھا کہ وہ اس جگہ کو خیر باد کہہ دے۔ اضطراب کے عالم میں پپو ایک چھوٹی سی گلی میں پیدل چلنا شروع کر دیتا ہے۔

پپو ایک بے یار و مددگار شخص کی تصویر بنا ہوا ہے، وہ بھوک سے نڈھال ہوتا ہے اور جیب میں ایک پائی بھی نہیں ہوتی۔ لوگ پپو کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھا تے ہیں۔ کیا وہ اُس ٹی وی کمرشل کا تصور کر سکتا ہے جس میں افریقہ میں رہنے والا ایک سولہ سالہ لڑکا بھوک سے نڈھال موت کی آغوش میں ہے اور اس کا چہرہ مکھیوں اور مٹی سے بھرا پڑا ہے۔ تب ایک سفید فام ادھیڑ عمر شادی شدہ شخص جو کہ ریلیف ورکر ہے ایک ہاتھ چاول کی پیالی لیے نظر آتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے اس کو پراگندہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

’’ تو تمہیں کھانا چاہئیے !‘‘
’’کیا تم جانتے ہواُس کیلئے تمہیں کیا کرنا ہے؟‘‘
یہ ایک کائناتی اُصول ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ پاکستان ہے اور بھوکا نوجوان پپو فیصل آبادی ہے۔
صبح کے تقریباً تین بج چکے ہیں۔مختلف نوعیت کے جوڑے ایک سٹور کے سامنے سگریٹ لیتے ہوئے پپو کا مذاق اُڑاتے ہیں اور اُسے کوئی کام کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ پپو اُن کو جواباً چِلّا کر کہتا ہے کہ درحقیقت وہ پہلے ہی
’’ کام‘‘ کو مسترد کر چکا ہے۔

ایک اسّی سالہ بڑھیا سبز رنگدار لباس میں سٹور سے باہر نکلتی ہے اور پپو سے بات کرنے کے لیے رُکتی ہے۔
’’ہائے رے تمہاری قسمت !‘‘
’’بیٹے! تم اتنے سہمے ہوئے کیوں ہو؟‘‘
’’اپنے آپ کو سنبھالو اور کام کرو‘‘
’’محنت کرو اور پھر اس کا پھل کھاؤ‘‘اُس نے مزید کہا۔

’’صبح کے تین بج چکے ہیں‘‘ وہ پپو کو وقت کا احساس دلاتی ہے۔
پپو اپنا اُترا ہوا چہرہ ملتے ہوئے کہتا ہے ’’آپ میرے بارے میں کچھ نہیں جانتیں‘‘
’’میں کیا نہیں جانتی؟‘‘ وہ کہتی ہے۔
’’زندگی کے مواقع سے فائدہ ضروری اُٹھانا چاہیے ‘‘

پپو کی آنکھیں امید کی کرن دیکھ کر چمک اُٹھتی ہیں۔
اُف میرے خدایا! آپ ٹھیک کہتی ہیں۔
’’کیا شاندار لیمونیڈ ہے!‘‘
’’میں آپ کا کیسے شکریہ ادا کروں؟‘‘

ارے واہ! وہ زوردار طریقے سے کہتی ہے۔
’’تم طعن و طشنیہ سے کیوں باز نہیں آتے؟
’’میں جو کہتی ہوں وہ کر گزرتی ہوں‘‘۔

’’میرے والد صاحب 1947ء میں کشمیر کی جنگ میں وفات پاگئے۔ میں انہیں کبھی بھلا نہ پاؤں گی کیونکہ اُن سے میرا خصوصی لگاؤ تھا۔ احساسِ بے چارگی میں جوان ہوئی۔ 1965ء کی جنگ میں خاوند کو بھی کھو دیا۔ تنہائی کے عالم میں بیٹیوں کی پرورش کی، جس میں سے ایک23 سال کی عمر میں چھوڑ گئی۔ اگر کسی کو گلہ شکوہ کرنا چاہئے تو وہ میں ہوں۔ مجھے زندگی میں حوصلہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے ملا‘‘۔

پپو بھیک مانگنا چھوڑ دیتا ہے اور سٹور کے پیچھے ایک گندگی کے ڈھیر سے کچھ ڈھونڈنے لگتا ہے۔ اس سے دودھ کی بدبو آ رہی تھی۔ سب سے اوپر اُسے پیزا کا ڈبہ نظر آتا ہے ا ور اس کے اندر ’’پیزا‘‘ کے پس خوردہ تازہ ٹکڑے ہیں۔ پپو انہیں کھاتا ہے اور چھوٹی سی دیوار پر بیٹھ جاتا ہے۔ ’’کیا یہی میری زندگی ہے؟ دوسرے لوگ پیزا کھائیں اور میں اُن کے پس خوردہ ٹکڑوں پر گزارا کروں۔‘‘

پپو تھک ہار کر چکنا چور ہوجاتاہے ، اُس کے جسم سے ٹیسیں اُٹھنے لگتیں ہیں ، وہ درد سرسے کراہتاہے۔ پپو پر نیند کا غلبہ اتنا ہے کہ اسے بھوک پس منظر میں جاتی ہوئی محسوس ہوتی۔ سچ ہے نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے۔ نیند بھری آنکھوں کے ساتھ وہ آناً فاناً دیوار کی ٹھنڈی اینٹ پر اونگنے لگتا ہے۔

’’تم مجھے اجنبی لگتے ہو!‘‘ایک بوڑھے شخص نے اپنی کارکا شیشہ نیچے کرتے ہوئے کہا۔’’اوہ! تم کب سے نہیں سوئے؟‘‘

کب سے نہیں سوئے؟‘‘
تم جیسے نوجوان بچے کا اس طریقے سے سونا مناسب نہیں۔ اس بڑی عمارت سے آگے ایک ہوٹل ہے۔ میں وہاں کوئی کمرہ دیکھتا ہوں۔
وہ گاڑی میں بیٹھ جاتا ہے اور اس گلی سے ہر صورت جانا چاہتا ہے۔ پپوسوچتاہے ، ’’کہ شاید وہ اچھا انسان ہے ، شاید یہ خیال غلط ہو لیکن میرے بارے میں بہت فکر مند نظر آتاہے۔

وہ کمرے کا کرایہ دیتا ہے دروازہ کھولتا ہے اور غسل خانے چلا جاتا ہے۔ کچھ ہی دیر بعد وہ ’’نیک آدمی ‘‘ بغیر کپڑے پہنے باہر آجاتا ہے۔ وہ بہت پُراسرار نظر آتاہے ۔ پپو کو واضح نظر آتا ہے کہ اُس کے ساتھ کوئی برا کام ہونے والا ہے۔ پپو کوئی مذاحمت نہیں کرتا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ پپو کوچھچھوری ہڈی کی طرح پرے پھینک دیتا ہے۔ پپو خود کو پراگندہ محسوس کرتا ہے اور صاف ستھرا ہونا چاہتا ہے۔ غسل خانے میں جانے کی باری اب پپو کی تھی ۔ واپسی پر اسے اپنے آپ سے نفرت محسوس ہوتی ہے۔ وہ ذہنی طو ر پر اتنا پریشان ہوتا ہے کہ رات کو اُسے نیند نہیں آتی۔کروٹیں بدلتے بدلتے وہ نیند کی آغوش میں چلاجاتا ہے۔

اتنی دیر میں فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ پپو کو اندازہ ہوتا ہے کہ دوپہر کے دو بجے ہیں لیکن ابھی اُس کی نیند ادھوری ہے اور وہ ایک اورمکمل دن بھی سو سکتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اُسے جانا ہوگا۔

پپو تیز دھوپ میں دوپہر کو پھر گلی میں چل پڑتا ہے اور تیکھی نظروں سے گہما گہمی سے بھرپور ایک قصبے کا نظارہ کرتا ہے۔ ہر طرف تیزی سے چلتی ہوئی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔ لوگ سٹورز میں جلدی جلدی آ رہے ہیں اور تیزی سے باہر نکل رہے ہیں۔ پپو بدحواس ہے اور آہستہ آہستہ پیدل چل رہا ہے۔ اُس کا لباس متعفن ہے۔ اب وہ کیا کرتا۔اُسے خیال آتا ہے کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اپنے کپڑے ہوٹل میں دھو کر خشک کرلیتا لیکن اس میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا، وہ خود کو کوستا ہے، بدبخت ، تیرے ساتھ ’’یہی ہونا تھا‘‘۔
بھوک کے مارے وہ نڈھال ہوجاتا ہے۔ پپو خیال کرتا ہے ’’ لوگ روزانہ کیوں کھاتے ہیں؟ وہ گاڑیوں کی طرح ہفتہ میں ایک دفعہ ہی پیٹ کیوں نہیں بھرلیتے؟‘‘

پپو خواہش کرتا ہے کہ کاش اُسے ایسا ساتھی مل جائے جو اس سے پرانی فلموں، کھیلوں اور خبروں سے متعلق باتیں کرے اور اس کاساتھ دے۔اسی اثناء میں ایڈز کی بیماری کے متعلق ہدایات اور ایچ آئی وی کی تربیت دینے والے کونسلرز رونما ہوتے ہیں۔ دونوں کونسلر پپو کو ایک کونے میں لے جاتے ہیں اور ایڈز کے بارے میں ڈرا دینے والی تفصیلات بتانے لگتے ہیں۔

کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ پپو کے نزدیک آکر اپنا تعارف جاوی اور سلیم کے نام سے کرواتے ہوئے اور گویا ہوتے ہیں،’’ مرکز سے آئے ہیں اور ہم جنس پرستوں کو ایڈز کے بارے معلومات دینا چاہتے ہیں‘‘ اتنی دیر میں جاوی پپو کو پیکٹ دیتی ہے۔

پپو غصے میں چلاتا ہے کہ کیا وہ انہیں ہم جنس پرست نظر آتا ہے اور پیکٹ کو اٹھا کر زور سے زمین پر دے مارتا ہے۔

جاوی کہتی ہے ، ’’ایڈز میں مبتلا ہونے کیلئے ہم جنس پرستی ضروری نہیں‘‘۔

پپوانہیں چلے جانے کیلئے کہتاہے اور وہ رفو چکر ہوجاتے ہیں۔ ایک گاڑی وہاں آکر رُکتی ہے اور ایک بوڑھا شخص جھک کر بڑے اشتیاق کے ساتھ کھڑکی سے باہر جھانکتا ہے۔ پپو دروازے پر ٹھوکر مارتا ہے اور چلاتا ہے، میری نظروں سے دور ہوجاؤ۔ کار تیزی کے ساتھ چلی جاتی ہے۔ کچھ فاصلے پر پپو ہی کی عمر کا ایک نوجوان جلدی سے گاڑی میں بیٹھ جاتا ہے اور دوسرا نوجوان وہیں کھڑا رہتا ہے۔ پپو گزرتے ہوئے اس پر ایک نظر ڈالتا ہے ۔ وہ نوجوان شراب کے نشے میں دھت نظر آتا ہے۔

پپو ایک دوکان کے سامنے بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے۔ چند گھنٹوں میں وہ اتنے پیسے اکٹھے کرلیتا ہے کہ برگر اور فرائزلے سکے، اس کے باوجود اس کے پاس اتنے پیسے بچ گئے ہوتے ہیں جن سے وہ ایک فلم دیکھ سکتا ہے۔ فلم کے دوران وہ سو جاتا ہے، روشنیاں جلنے پر اُس کی آنکھ کھل جاتی ہے، وہ دوبارہ گلی میں چلنے لگتا ہے، جلد ہی اسے بھوک لگ جاتی ہے۔ ابھی اس کے پاس اتنے پیسے ہو تے ہیں کہ وہ بریانی کی پلیٹ کھاسکے۔

موسلا دھار بارش ہونے لگتی ہے اور اس کے ذہن میں شراب کے نشے میں دھت نوجوان کی تصویر ابھی تک گردش کر رہی ہوتی ہے۔ وہ اسی عمارت کے قریب دیوار پر بیٹھ کر کسی گاڑی کے آنے کا انتظار کرتا ہے۔
اس کو کوئی راہ سُجھائی نہیں دیتی۔ وہ باقاعدہ بھکاری بن جانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ لنک-22 پر جائیے۔
پپو شراب کے نشے میں دھت ہو جاتا ہے تاکہ وہ جوبھی گندہ کام کرنا پڑے اسے رکاوٹ نہ ہو اور جلدی سے کچھ روپے حاصل کر سکے اور پھر کسی ہوٹل میں چلا جائے۔

لنک-23 پر جائیے۔

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

یارب وہ نہ سمجھے ہیں، نہ سمجھیں گے میری بات…دے اور دل اُن کو،جو نہ دے مجھ کو زباں اور

پپو ڈی وی ڈی پلیئر اُٹھا کے پچھلے دروازے سے باہر نکل جاتا ہے۔ باہر نکلتے ہی پپو کو چاروں طرف اونچی جالی نظر آتی ہے۔
’’کیا یہ لوگ کسی پر یقین نہیں کرتے‘‘ پپو جالی کو دیکھ کر سوچتے ہوئے کہتا ہے۔

اب وہ چھپتا چھپاتا گھر کی سائیڈ سے گیراج کی طرف بڑھتا ہے۔ جیسے ہی وہ گاڑی کی طرف بڑھتا ہے، دروازے میں سے ایک ہاتھ نکلتا ہے اور بہت زور سے پپو کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ پپو اِس نئی مصیبت کیلئے بالکل بھی تیار نہیں تھااور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے مگر بے سود، وہ شخص پپو کو زبردستی اندر دھکیلتا ہے اور قالین پر گرا دیتا ہے اور اُس کے ہاتھ سے ڈی وی ڈی چھین لیتا ہے ۔

’’مجھے معلوم تھا کہ تم چوری ضرور کرو گے، اب اگر تم اپنی جان بخشی چاہتے ہو تو مجھ سے رحم کی اپیل کرو، ورنہ بعد میں تم بہت پچھتاؤ گے‘‘۔وہ شخص دھمکی آمیز لہجے میں کہتا ہے۔

آدھے گھنٹے کے بعد پولیس وہاں پہنچ جاتی ہے اور پپو کو اپنے ساتھ تھانہ ٹبی لے جاتی ہے۔ جہاں اُسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کاؤنسلر کے گھر میں ہے۔کاؤنسلر میاں محمودعرف مودا ہے اور وہ شخص پپو کے خلاف بہت سے مقدمے دائر کرنے کا کہتا ہے۔ اس دوران ایک افسر اس بات کا انکشاف بھی کرتا ہے کہ پپو کے گھر سے بھاگنے کے اگلے دن اس کے گھر والوں نے رپورٹ بھی درج کروائی ہے۔

کاؤنسلر پپو کے گھر والوں سے بات کرتا ہے اور جب اُس کے گھر والے کاؤنسلر کوپپو کا خیال رکھنے کا کہتے ہیں تو وہ اس بات پر حیران رہ جاتا ہے ۔

’’پپو کو ایک رات حوالات میں بند کر دو اور اس کی خوب خاطر تواضع کرو تاکہ اس کو معلوم ہو جائے کہ خوش قسمتی کس کو کہتے ہیں۔‘‘میاں مودا پولیس کو کہتا ہے۔

تھانے میں پپو کو معلوم ہو جاتا ہے کہ میاں مودا تو رشوت لینے میں بہت بدنام ہے۔ پولیس افسر

تھانے میں پپو کو معلوم ہو جاتا ہے کہ میاں مودا تو رشوت لینے میں بہت بدنام ہے۔ پولیس افسر اُسے ساری رات حوالات میں بند رکھتے ہیں اور ڈی وی ڈی چرانے پر اُس کا بہت مذاق اُڑاتے ہیں۔ پپو کے لیے یہ حالات ناقابلِ برداشت ہیں کیونکہ اُس کے ساتھ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔

دوسری طرف پپو کے گھر والے اسے رہا کروانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ پولیس افسر اُن سے ایک لاکھ روپے رشوت لے کر پپو کو چھوڑنے پر آمادہ ہوتا ہے اور بعد میں افسران اور میاں مودا اُس قیمت کو آدھا آدھا اپنے درمیان بانٹ لیتے ہیں۔بلاآخرپپو اپنے والدین کی بھرپور کوششوں کے نتیجے میں گھر پہنچ جاتا ہے۔
پڑھئے لنک-47

اس کی خطا نہیں یہ میراقصور تھا۔

کرپٹ لوگوں سے بھری دنیا کا نظام چند اچھے لوگوں کی وجہ سے چلتا ہے۔

جیسے ہی پپو غسل خانے سے نکل کر لونگ روم میں واپس جانے لگتا ہے، کاؤنسلر کی بیوی پپو کو کچن میں لے جاتی ہے۔ وہ اُسے کھانے پینے کیلئے ایک بڑا سا کیک کا ٹکڑا اور فریج سے ایک گلاس دودھ کا نکال کر دیتی ہے ۔

’’اگر تمہیں واقعی گھر میں بہت زیادہ مسائل کا سامنا ہے جن کی وجہ سے تم وہاں نہیں رہنا چاہتے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں !، تمہیں وہاں نہیں رہنا چاہئیے‘‘۔کاؤنسلر کی بیوی پپو کو سمجھاتی ہے ۔

’’مگر، تم ابھی بہت چھوٹے ہو اور اپنا خیال خود نہیں رکھ سکتے ، چاہے تم خود کو جتنا بھی سمجھدار سمجھو۔۔۔ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جیسے تمہارے والدین اوررشتہ دار یہاں تک کہ سماجی کارکن بھی جو تمہارا خیال رکھنا چاہتے ہیں۔ تم ان لوگوں کو پسند نہیں کرتے، ویسے بھی یہ لوگ بہترین نہیں ہیں۔ اگر یہ لوگ تمہیں نقصان پہنچا رہے ہیں تو تمہیں ان لوگوں سے دُور رہنا چاہئیے ‘‘ وہ بے ہنگم انداز میں مسکراتے ہوئے کہتی ہے۔

’’تمہیں راز کی بات بتاؤں، میں تو کافی عرصے سے سیاست میں ہوں۔ تم ایسا کرو اپنا کیک ختم کرو جب تک میں اپنی ڈائری سے ایسے لوگوں کے فون نمبرز ڈھونڈتی ہوں جو گھر سے بھاگنے والے بچوں کی مدد کرتے ہیں ۔‘‘وہ عورت ڈائری ٹٹولتے ہوئے کہتی ہے۔

پپو یہ بات سن کر گھبرا جاتا ہے اور گھبراہٹ میں اُس کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس فرش پر گر جاتا ہے، جس پر وہ عورت پپو کو دودھ صاف کرنے کیلئے ٹشو پیپر دیتی ہے۔
’’تم پریشان مت ہو، ابھی کل ہی مجھ سے ایسی غلطی ہوئی ہے میں نے تو دودھ کی بھری ہوئی کیتلی ہی گرا دی تھی ۔‘‘وہ عورت پپو کو تسلی دیتے ہوئے کہتی ہے۔
اُس عورت کا شفقت بھرا لہجہ سن کر پپو کا دل چاہتا ہے کہ وہ یہیں اس گھر میں رہ جائے۔
اس اثناء میں کاؤنسلر نمودار ہوتا ہے۔
’’یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘ وہ کرختگی سے پوچھتا ہے۔

’’تم جاکر ٹی وی دیکھو۔۔۔‘‘وہ عورت بغیر اُس کی طرف دیکھے ہوئے جواب دیتی ہے۔
کاؤنسلر پپو کو گھورتا ہوا منہ میں کچھ بڑبڑاتا ہوا واپس پلٹ جاتا ہے۔ فرش صاف کرنے کے بعد وہ عورت اپنی ڈائری نکالتی ہے اور نمبر ملاتی ہے۔ پانچ چھ لوگوں سے بات کرنے کے بعد، ایدھی کے دفتر سے ایک شخص، پپو سے بات کرنے پر راضی ہو جاتا ہے۔ وہ شخص بہت سے سوالات پوچھتاہے۔
’’کیا کوئی پپو کو اُن کے دفتر جو کہ موہنی روڈ پر واقع ہے پہنچا سکتا ہے۔‘‘وہ شخص عورت سے پوچھتا ہے۔
’’ہاں ہاں ضرور۔۔۔ میرا شوہر پہنچا سکتا ہے‘‘۔وہ عورت جواب میں کہتی ہے۔
پپو اُس کے شوہر کے ساتھ جانا پسند نہیں کرتا۔پپو کی پریشانی دیکھ کے وہ عورت ارادہ کرتی ہے کہ وہ خود ہی پپو کو پہنچا دے ۔ وہ چولہا بند کرتے ہوئے برتن سمیٹنے لگتی ہے۔
’’چلو پچھلے دروازے سے چلتے ہیں‘‘۔ وہ عورت پپو کو پچکارتے ہوئے کہتی ہے ۔

تھوڑے سے سفر کے بعد دونوں ایک گھر کے دروازے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں جو گلی کے باقی گھروں ہی کی طرح ہے۔
’’یہ گھر سے بھاگنے والے بچوں کاادارہ ہے؟‘‘ پپو پوچھتا ہے۔
اُسے نہیں معلوم کہ آگے اُس کے ساتھ کیا ہوتا ہے، مگر باہر سے یہ اُسے باقی گھروں کی طرح عام سا گھر ہی لگتا ہے۔دروازے پر ہی سنٹر کی انچارج خاتون اُنہیں خوش آمدید کہتی ہے اور انہیں اندر ایک آرام دہ لوِنگ روم میں لے آتی ہے۔
’’تم بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہو۔۔۔ آؤ میں تمہیں تمہارا کمرہ دکھا دوں‘‘۔گھر میں موجود عورت پپو کو دیکھتے ہوئے کہتی ہے۔
’’کل ناشتے کے بعد جب باقی سب بچے اپنے کاموں میں مشغول ہو جائیں تو تمہیں شبانہ سے ملنے کا موقع ملے گا۔۔۔جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا، اس وقت تم اُسے سب کچھ بتا سکتے ہو ۔۔۔‘‘وہ بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہے۔
کاؤنسلر کی بیوی پپو کو گلے لگا کر بہت پیار کرتی ہے اور بہت ساری دعائیں دے کر رخصت ہو جاتی ہے۔
پپو اُس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایدھی سنٹرکی انچارج خاتون کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف بڑھ جاتا ہے۔
آگے پڑھنے کیلئے جائیے لنک-24 پر۔

شمع ہر رنگ میں جلتی ہےسحر ہونے تک

ایک در بند تو 100 در کھلے، پھر کھڑکیاں اور روشندان اس کے علاوہ

عمران اور مریم جو ’نئی زندگی‘ کے نمائندے ہیں۔ وہ پپو کو اپنے دفتر میں لے آتے ہیں اور اُسے ایک لڑکے راحیل کے پاس چھوڑ دیتے ہیں۔ راحیل پپو کے کھانے کیلئے فروٹ جوس اور چکن چیز سینڈوچ لے آتا ہے جو پپو فوراً کھانا شروع کر دیتا ہے۔

پپو کے ساتھ والے صوفہ پر ایک دبلا پتلا لڑکا خون میں لت پت پٹیاں باندھے ایک صوفہ پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس دفتر کے ساتھ چھوٹے چھوٹے کیبن بنے ہوئے تھے اور ہر کیبن میں ایک ڈیسک پڑا ہوا تھا آفس کے دائیں طرف کا دروازہ بند تھا۔ اتنی دیر میں ایک لڑکی اندر آتی ہے، راحیل پپو سے اس کا تعارف کرواتے ہوئے اس کا نام فاطمہ بتاتا ہے۔ راحیل پپو سے معذرت کرتا ہے کہ اُسے فوراً کسی ضروری کام سے جانا ہے اورباہر نکل جاتا ہے، کسی کام کا کہہ کر فاطمہ بھی ساتھ ہی اُٹھ جاتی ہے، پپو اس دوران کھانا کھاتا ہے اور میگزین پڑھتا رہتا ہے۔

تھوڑی دیر بعد فاطمہ واپس آتی ہے اور پپو سے گپ شپ کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتی ہے۔ پھر وہ موبائل پر کسی سے بات کرنا شروع کر دیتی ہے۔ اتنی دیر میں راحیل بھی آجاتا ہے۔ راحیل کو دیکھ کر فاطمہ سخت غصے کے عالم میں چند شکایات کرتی ہے۔ آپس میں گفتگو کرنے کے تھوڑی دیر بعد وہ دونوں پپو سے حقیقت جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ پپو اُسے گھر چھوڑنے کی وجہ بتاتا ہے۔ وہ کیسے یہاں پہنچا اور وہ اب تک کیا کرتا رہا ہے؟

تھوڑی دیر بعد راحیل ایک فلاحی ادارے کے انچارج سلمان کو فون کرتا ہے اور اُس کو پپو سے متعلق تفصیل سے آگاہ کرتا ہے لیکن سلمان ادارے میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے معذرت کرلیتا ہے۔ راحیل پھر تین اور فلاحی اداروں میں فون کرتا ہے لیکن تمام ادارے کھچا کھچ بھرے ہوتے ہیں۔ ایک فلاحی ادارے کی انچارج نے پپو پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی لیکن پپو صرف اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اُس نے چرس والے سگریٹ کے چند کش لئے تھے اور باقی سوالوں کا نفی میں جواب دیتا ہے۔ انچارج پپو کو رکھنے کیلئے رضامند نہیں ہوتی۔ راحیل پپو کو تسلی دیتا ہے کہ اس ادارے کی انچاج ابھی بالکل نئی ہے اس لیے اس نے انکار کردیا ہے لیکن اُسے گھبرانے کی کوئیضرورت نہیں ہے وہ ضرور اس مسئلے کا حل تلاش کرلے گا۔ پھر وہ کچھ اور فلاحی اداروں کو فون کرنا شروع کر دیتا ہے لیکن جواب ’نہیں‘ میں ہوتا ہے۔ آخر کار ایک فلاحی ادارے کی ا نچارج خاتون پپو کو اپنے مرکز میں رکھنے پر آمادہ ہوجاتی ہے۔

راحیل اور فاطمہ پپو سمیت تمام بچوں کو ویگن میں بٹھا دیتے ہیں۔ زخمی بچے کو وہ جناح ہسپتال اتار دیتے ہیں۔ پھر راحیل اور فاطمہ پپو کو اس فلاحی ادارے میں چھوڑ آتے ہیں جس سے انہوں نے فون پر بات کی تھی۔ راحیل پپو سے ہاتھ ملاتے ہوئے دعائیں دیتا ہے اور پھر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر موبائل فون سننے لگتا ہے۔ فاطمہ راحیل کو کسی کافی شاپ پر جانے کا کہتی ہے۔

راحیل دروازہ بند کرتاہے، کھڑکی سے ہاتھ ہلا کر پپو کو خدا حافظ کہتا ہے اور پھر ویگن چل پڑتی ہے۔

لنک-24 پر جائیے۔

کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا

در دل لکھوں کب تک ، پاؤں اُن کو دکھلا دوں، انگلیاں فگار اپنی، خامہ خونچکاں اپنا

پپو شبو کے ساتھ رات کو بھاگ جانے کا پروگرام بناتا ہے اور دونوں رات کے اندھیرے میں اس جگہ سے نکل پڑتے ہیں۔

’’تمہار نام کیا ہے؟‘‘ شبو سڑک پر چلتے چلتے پپو سے سوال کرتی ہے۔
’’میرا نام پپو ہے لیکن مجھے پیار سے ’’پُکھابٹیرا‘‘ کہتے ہیں‘‘ پپو جواب دیتا ہے۔
شبو پپو کے اس نام پر کھل کھلا کر ہنس پڑتی ہے۔

’’تم کیا کام کر تی ہو؟‘‘ پپو شبو سے سوال کرتا ہے۔
’’ابھی بِلاّ قصائی نے مجھے کوئی کام نہیں سونپا‘‘ شبو مسکرا کر جواب دیتی ہے۔
’’یہ دوسرے لڑکے تمہارے ساتھ مخلص نہیں ہیں‘‘ پپو شبو سے کہتا ہے۔
’’ کیا تم جلتے ہو؟‘‘ شبو پوچھتی ہے۔
’’کس چیز سے؟ سنو! میں تو تمہیں پسند بھی نہیں کرتا، جو جی میں آئے تم کرو‘‘ پپو بُرا مناتے ہوئے جواب دیتا ہے۔

’’میں جانتی ہوں کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘ شبو پپو کو چھیڑتی ہے۔
’’تم اتنی بھی خوبصورت نہیں ہو، جب تم تیز روشنی میں نمودار ہوگی تو تمہارا اصلی چہرہ سامنے آجائے گا‘‘ پپو کے انداز میں شرارت ہوتی ہے۔
’’تم یہاں کیسے آگئی؟‘‘ پپو سوال کرتا ہے۔

’’میری ماں کو باپو نے چھ سال پہلے چھوڑ دیا تھا۔ میری ماں نے دوسری شادی کرلی اور سوتیلے باپ نے مجھے گھر سے نکال دیا۔‘‘ شبو نے اداس لہجے میں دُکھ بھری داستان بیان کی۔

دونوں چلتے چلتے موہنی روڈ پر پہنچ جاتے ہیں، موہنی روڈ پر موجود ببلو نامی لڑکے سے پپو کی دوستی ہوجاتی ہے جو عمر میں پپو سے کچھ بڑا ہوتا ہے۔

’’ تم کیا کرتے ہو؟‘‘ پپو ببلو سے سوال کرتا ہے۔
’’کسی کو بتانا نہیں میں ہیروئن بیچتا ہوں لیکن بظاہر میں میوزیکل شو کے ٹکٹ بیچتا ہوں‘‘ ببلو پپو کو رازدارانہ لہجے میں بتاتا ہے۔
’’ہم دونوں کہاں رہیں گے، ہمارے پاس تو کوئی ٹھکانہ بھی نہیں ہے؟‘‘ پپو اپنی پریشانی کا اظہار کرتا ہے۔
’’ میرے پاس ایک اچھی جگہ ہے، میں نے اس بارے کسی کو بھی نہیں بتایا ہوا، تم لوگ میرے ساتھ اُس جگہ رہ سکتے ہو۔‘‘

پھر وہ پپو اور شبو دونوں کو ایک چھوٹے سے گھر میں لے جاتا ہے جو ایک حلوہ پوری کی دکان کے نزدیک واقع ہوتا ہے۔ وہ ان دونوں کو بتاتا ہے کہ ساتھ والے کمرے میں رہنے والا شخص میرے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور نہ ہی میں اس گھر میں ہیروئن بیچتا ہوں، پھر وہ پپو سے کہتا ہے کہ تم بھی کسی کو اس بارے نہ بتانا ۔

پپو اور شبو دونوں نیا گھر ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ شبو کمرے میں موجود تھوڑے سے سامان کو سلیقے سے رکھتی ہے جن میں دو کرسیاں، ایک ٹوکری اور ایک گدا شامل ہوتے ہیں۔ پہلی رات ببلو گدے پر جبکہ پپو اور شبو نیچے ٹھنڈے فرش پر سو جاتے ہیں۔ پپو جلد ہی محسوس کرتا ہے کہ وہ شبو کی محبت میں گرفتار ہوگیا ہے اور سوچتا ہے کہ اب اس کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہوگا۔ وہاں پر رہتیہوئے کچھ ہی دن یونہی گزرتے ہیں۔ ایک دن پپو باہر سڑک پر چہل قدمی کر رہا ہوتا ہے کہ ’ہیومن رائٹس‘ کا اسلم نامی نمائندہ آجاتاہے اور پپو کو ملتا ہے۔ پپو باتوں باتوں میں اسے اپنی دُکھ بھری داستان سناتا ہے۔ پپو کی باتیں سُن کر اسلم آبدیدہ ہو جاتا ہے اور پھر پپو کو صبح اپنے دفتر ’ہیومن رائٹس‘ میں آنے کا کہتا ہے۔

وہ دونوں ہیومن رائٹس کے دفتر میں پہنچتے ہیں۔ اسلم انہیں ایک بہت بڑے سٹور روم میں لے جاتا ہے جس میں ڈھیر سارے ملبوسات پڑے ہوتے ہیں۔ پپو کو سرخ رنگ کے جوتے پسند آتے ہیں جنہیں وہ پہن لیتا ہے۔ ہیو من رائٹس کا انچارج شبو کو اپنے ادارے میں رکھنے پر رضامند ہوجاتا ہے لیکن پپو کو باہر نکال دیتا ہے۔ باہر نکلتے ہوئے پپو کو کچھ لڑکے ملتے ہیں پپو ان کو دیکھ کر گھبرا جاتا ہے ، وہبتاتے ہیں کہ بِلاّ قصائی کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے۔ پپو ان سے اپنا دامن بچاتا ہے۔

شبو ہیومن رائٹس کے انچارج کو بتاتی ہے کہ وہ پپو کی محبت میں گرفتار ہے اور وہ اُسی صورت مرکز میں رہ سکتی ہے جب وہ پپو کو بھی اس کے ساتھ رکھنے کو تیار ہوں۔ ہیومن رائٹس کا انچارجاُن کو سمجھاتا ہے کہ اُن دونوں کی زندگی گلیوں میں مارے مارے پھرنے سے تباہ ہو سکتی ہے۔ اگر اُن کا پیار سچا ہے تو اپنے حالات ٹھیک کرنے کی کوشش کریں، اس کے بعد وہ دوبارہ مل سکتے ہیں۔ انچارج کے اس طرح سمجھانے سے پپو اپنے آپ کو قصوروار سمجھنے لگا، پپو خیال کرتا ہے کہ شبو اس کی وجہ سے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہے، وہ اس کیلئے کچھ نہیں کر پا رہا۔ پپو انچارج سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ اب اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا۔ پپو خالی بات نہیں کرتابلکہ کچھ کرنے کیلئے کمر بستہ ہو جاتا ہے۔ اگلے چند دن پپو نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہن کر مختلف جگہوں پر نوکری کی درخواستیں جمع کرواتا ہے اور انٹرویوز دیتا ہے۔

کچھ دنوں بعد شبو اچانک بیمار ہو جاتی ہے، وہ رات کو بخار سے کانپتی اور سارا دن کر اہتی رہتی ہے۔ مرکز کے لوگ اُسے دوائیاں دیتے ہیں، مگر وہ دوائیوں کا استعمال متواتر نہیں کرتی جس سے اُس کا بخار 104 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ اس پر ہیومن رائٹس والے اُسے اپنی والدہ کے گھر جانے کو کہتے ہیں اور وہ وہاں چلی جاتی ہے۔ کچھ دنوں بعد پپو کو شک ہوتا ہے کہ کہیں شبو ماں کے پاس ہی نہ رہ جائے، پپو فیصلہ کرتا ہے کہ جب اسے نوکری مل جائے گی تو وہ شبو کو وہاں سے لے آئے گا اور پھر وہ اکٹھے رہیں گے، پھر اُن پر کوئی پابندی نہ ہوگی۔ اُدھر شبو بھی پپو کے بغیر تنہائی اور خوف محسوس کرتی ہے۔

اگلے دن جب پپو نہا دھو کر نوکری کی تلاش میں نکلتا ہے تو راستے میں اُس کو پوتنی دا زخمی حالت میں ملتا ہے۔ پوتنی دا پپو کو بتاتا ہے کہ پل کے نیچے کچھ لوگوں نے اُسے کافی مارا ہے۔ پوتنی دا اور بجلی، پپو اور ببلو کے ساتھ اُن کے چھوٹے سے کمرے میں رہنا چاہتے ہیں۔ پپو اور ببلو کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔

پپو نوکری کی تلاش میں میکڈونلڈ، گیس سٹیشن، کارڈ شاپ، وغیرہ مختلف جگہوں پر جاتا ہے فارم پُر کرتے وقت پپو غلط بیانی سے کام لیتا ہے اور زیادہ تر کالم خالی چھوڑ دیتا ہے جس پر بعض مینجر اس سے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔آخر کار خدا خدا کرکے پپو کو دو دن بعد ’صادق ریستوران‘ نامی ایک ہوٹل میں بیرا گیری کا کام مل جاتا ہے۔ پپو کے پاس برتن دھونے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ صادق پہلوان جو ہوٹل کا مالک ہے پپو کو بتاتا ہے کہ اگروہ اضافیکام کرئے گا تو اُس کو اوور ٹائم بھی ملے گا۔

پپو ہیومن رائٹس کے دفتر فون کرتا ہے تاکہ وہ شبو کو نوکری ملنے کی خوشخبری سنا سکے۔ لیکن ہیو من رائٹس کی انتظامیہ بتاتی ہے کہ شبو سے فون پر بات نہیں ہوسکتی، وہ پپو کا پیغام شبو کو دے دیں گے۔ پپو ہیومن رائٹس کے دفتر میں موجود ریسپشنسٹ کو صادق ریستوران کا نمبردے کر پیغام دیتا ہے کہ شبو اُسے فوری طور پر کال کرے۔ پپو کوبہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، وہ سارا دن بیسن کے سامنے کھڑے ہوکر برتن دھوتا رہتا ہے۔لیکن پپو کو اس کی کوئی فکر نہیں ہوتی کیونکہ وہ چاہتا ہے دن رات محنت کرکے پیسے کمائے تاکہ شبو کو زندگی کی تمام آسائشیں فراہم کر سکے۔

صادق پپو کے کام سے متاثر ہو کر اُس کی تنخواہ میں اضافہ کر دیتا ہے اور ہفتہ وار چھٹی بھی دیتا ہے۔ وہ پھر اپنی خوشی میں شبو کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے لیکن ہیومن رائٹس کا نمائندہ پھر اس سے صرف پیغام لے لیتا ہے لیکن شبو سے بات نہیں کرواتا۔ پپو بہت مایوس ہوتا ہے اور مایوسی کے عالم میں شراب پی لیتا ہے اور نشے میں دھت جب اپنے کمرے میں جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ پوتنی دا اور بہت سے لڑکے بیٹھے نشہ کر رہے ہوتے ہیں۔ پپو پوتنی دا سے ان لڑکوں کے بارے میں پوچھتا ہے تو وہ بتاتا ہے کہ گوالمنڈی میں بِلاّ قصائی کے اڈے پر چھاپہ پڑا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ یہاں پر آگئے ہیں۔

پپو شبو سے بات نہ ہونے کی وجہ سے کافی مایوس ہوتا ہے اور ساری رات شراب پیتا رہتا ہے جس کی وجہ سے اُس کی آنکھ صبح ٹائم پر نہیں کھلتی ہے اور وہ ریستوران دیر سے پہنچتا ہے اوربیماری کا بہانہ کر تا ہے۔ ’’آئندہ اگر تم دیر سے آؤ تو اس کی بروقت اطلاع ضرور کر دیا کرو‘‘ صادق اسے سختی سے کہتا ہے۔پپو مسلسل ریستوران دیر سے پہنچتا ہے جس پر صادق پہلوانمسلسل ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگتا ہے، پپو کی ظاہری حالت صاف ستھری نہیں ہوتی اور وہ کئی دن کے میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس ہوتا ہے۔پھر صادق پہلوان یکدم پپو سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اصل حقیقت بتانے کو کہتا ہے۔

پپو کوتمام واقعہ صادق کو بتانا چاہئیے۔ شاید وہ نوکری سے نکال دے یا اُس کی مدد کرے یا پھر اُسے بتاناچاہئیے کہ یہ اس کا ذاتی مسئلہ ہے اور وہ معاملات خود ہی ٹھیک کرلے گا۔ لنک-25 پر جائیے۔

پپو کو سچائی بتا دینی چاہئیے لنک-26 پر جائیے۔

نقش فریادی ہے کس کی شوخئی تحریر کا

آتیں رہیں کانوں میں المناک پکاریں……لیکن مرا دل اپنے ہی حالات میں گم تھا

صبح کا سورج جب چمکتا ہے تو اُس کی تپش پپو کو مزید بستر پر لیٹنے نہیں دیتی۔ پپو گرمی زیادہ ہونے کی وجہ سے بارش کی خواہش کرتا اگرچہ اسے معلوم ہے کہ لاہور میں بارش اس کی مرضی سے نہیں ہو سکتی ویسے تو فیصل آباد بھی بارش اُس کی مرضی سے نہیں ہوتی تھی۔ یکایک اُس کے ذہن میں یہ خیال آیا ’’پپو! تو گھر سے بے فضول ہی بھاگا!‘‘ وہ ایک لمبی انگڑائی لیتے ہوئے بستر سے نکلتا ہے۔ وہ بے مقصد ہی گھر سے باہر نکل جاتا ہے اور منہ اٹھا کر سڑک کی ایک جانب چلنے لگتا ہے۔ گاڑیوں کے مسلسل شور نے ایک گونج پیدا کی ہوئی ہے۔

سڑک کے ایک طرف ایک چھوٹی سی دیوار گندگی کے ڈھیر پر ختم ہوتی ہے جس پر کھانے کی بچی کھچی چیزیں، دو پرانے بری طرح استعمال شدہ گدے اور خالی لفافے پڑے ہوئے ہیں۔ دو چوہوں کے بچے اس میں سے اپنی غذا حاصل کرنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں اور پھر وہ چند ہی منٹوں میں آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ آوارہ گردی کرتے کرتے پپو اچانک بلے قصائی کے اڈے پر پہنچ جاتا ہے۔ وہاں ناشتے کا بچا کچھا ڈھیروں کھانا پڑا ہے۔ پپو کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہی اسے غنودگی ہونے لگتی ہے اور وہ وہیں ایک بستر پر ڈھیر ہو جاتا ہے، شام ہونے والی ہے، سورج ڈھل چکا ہے۔

پپو اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہے اور آنکھیں ملنا شروع کر دیتا ہے۔ تھوڑے فاصلے پر بلا قصائی پہلو میں ایک نئی لڑکی لئے بیٹھا ہے۔ اس لڑکی کی قسمت آج پھوٹنے والی ہے۔ ایک تنگ سا گندہ راستہ جو گھاس پر مشتمل ہے سڑک کے کنارے جھاڑیوں میں جا ملتا ہے۔ اتنے میں ایک لڑکی جسے سب ’’شیرنی‘‘ پکارتے ہیں پپو کے پاس آتی ہے، وہ پپو کے ساتھ اگلے دن صبح سویرے موہنی روڈ پر لوگوں سے بھیک مانگنا چاہتی ہے۔ پپو شیرنی کے ساتھ چلنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے اور بہت خوش ہوتا ہے کہ اس طرح وہ بلے قصائی کے عتاب سے بچ جائے گا۔

شیرنی کا لوگوں سے مانگنے کا انداز پوتنی دا اور بجلی سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ اُن کو ہنساتی بھی ہے اورلوگ اس سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں کو بتاتی ہے کہ پپو کے گردے کا آپریشن ہونے والا ہے اس لیے اسی کو پیسے چاہئیں۔ پپو کے لیے شیرنی کے ساتھ بھیک مانگنا کسی ایڈونچر سےکم نہیں تھا۔
جب لوگ شیرنی سے آپریشن کے بارے تفصیل پوچھتے تو وہ کہتی کہ وہ تو ڈاکٹر اور مریض کا کھیل کھیل رہی ہے، حقیقت میں تو مقصد پپو کا پیٹ بھرنا ہے۔ اس پر کچھ لوگ تو ہنستے ہوئے گزر جاتے اور کچھ بھیک دے دیتے۔ ایک خاتون دس روپے دیتی ہے اور مزاحاً کہتی ہے کہ تم لوگ اچھی طرح نہا بھی لیا کرو کیونکہ تم دونوں سے بدبو کے بھبھکے اُٹھ رہے ہیں۔

تھوڑی دیر بعد دونوں کھانا کھانے لگتے ہیں۔ جب پپو اچھی طرح کھانا کھا لیتا ہے تو وہ شیرنی سے اُس کے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن شیرنی اُس کو ٹال دیتی ہے۔ پھر وہ شیرنی سے نئی آنے والی لڑکی کے بارے میں سوال کرتا ہے کہ وہ کون ہے؟ لیکن شیرنی رُکھائی سے جواب دیتی ہے۔ ’’اُس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، تم ذرا اُس سے دور ہی رہو۔‘‘ تمہاری ٹانگوں میں کوئی تکلیف ہے جو تم پر لڑکی کے پاؤں چاٹنے کیلئے تیار رہتے ہو؟ کل تم شبو کے بستر میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے اور آج تمہیں یہ چنگڑی پاگل کر رہی ہے؟

’’کیوں؟ پپوبے ساختہ بولتا ہے۔‘‘ تمہیں جلن ہوتی ہے، میں جسے چاہوں ملوں۔‘‘
’’تمہیں میرا پتا نہیں پپو جانی! میرا نام شیرنی ہے، میں کچا کھا جاتی ہوں اور ڈکار بھی نہیں مارتی! سمجھے؟‘‘ پپو چپ رہتا ہے اور شیرنی سٹرک کے دوسری جانب واقع جنرل سٹور کی طرف بڑھتی ہے۔ شیرنی اس سٹور سے قینچی چوری کرتی ہے اور اپنے بالوں کا ڈیزائن بناتی ہے۔

لوگ اب پپو کو پہچاننے لگتے ہیں اس لئے کہ وہ اب لاہور کی ’’جانی پہچانی شخصیت‘‘ اور چلتا پھرتا پرزہ بن چکا ہے۔ وہ زندگی گزارنے کے سارے گندے گُر سیکھ چکا ہے۔ بھیک مانگنا، ادھار مانگنا یا چوری چکاری کرنا، سب کچھ اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکا ہے۔

جب شیرنی اور پپو دونوں واپس گوالمنڈی پہنچتے ہیں تو نئی لڑکی وہاں سے جا چکی ہوتی ہے۔ پپو اس کے بارے میں کچھ نہیں پوچھتا تاکہ کوئی اُس سے پوچھ گچھ نہ کرے۔ اُس رات بھتہ وصول کرنے والوں میں بِلاّ قصائی پپو، دل والا، بھنگی، بھولو ڈنگر اور فوجا شامل ہوتے ہیں۔

ایک اجنبی بے خوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیوقوفانہ انداز میں مزاحمت شروع کر دیتا ہے۔ بِلاّ قصائی سائیکل کی زنجیر سے اسے مارنا شروع کر دیتا ہے۔ پپو پریشان ہو جاتا ہے، وہ اس کام میں اُن کا حصہدار نہیں بننا چاہتا لیکن وہ طوہا و کرہاً برداشت کرتا رہتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد بِلاّ قصائی ایک اور جوڑے کو دھر لیتا ہے اور اُن سے نقدی اور گھڑیاں چھین لیتا ہے۔ جیسے ہی جوڑا چلا جاتا ہے تو بِلاّ قصائی پپو اور باقی پانچ لڑکوں کی کھچائی کرتا ہے اور طعنہ دیتا ہے کہ وہ دور کھڑے ہیجڑوں کی طرح تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔

پھر بِلاّ قصائی ایک جگہ سے سفید پاؤڈر کی تھیلی خریدتا ہے اور پھر سب مل کر اُسے سونگھتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد بِلاّ قصائی اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھ کراچی سے آئے ہوئے نیوی کے دو لڑکے لگتے ہیں، وہ اُن کی جوتوں اور ٹھڈوں سے پٹائی کرتے ہیں۔ بِلاّ قصائی اپنے ساتھیوں کو ان نیوی کے لڑکوں پر بیٹھ جانے کو کہتا ہے جب کہ پپو اُن کے جوتوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ بائیں طرف والے لڑکے کے جوتے پپو کو اپنے سائز کے لگتے ہیں۔ اگلے روز بِلاّ قصائی گرفتار ہو جاتا ہے۔

حالات معمول کے مطابق چل رہے ہوتے ہیں۔ پپو اور شیرنی میں دوستی ہو جاتی ہے، وہ دونوں مل کر بھیک مانگتے ہیں۔ شروع شروع میں پپو بہت بھوکا اور گندا رہتا تھا جبکہ اب اسے شیرنی کا ساتھ مل گیا تھا تو وہ روزانہ پیٹ بھرنے کے ساتھ ساتھ نشہ بھی کرنے لگا۔ اب اُسے بوریت سے نجات مل گئی تھی۔ ایک تو نشہ کی حالت میں وقت تیزی سے گزرنے لگا، دوسرا اُسے اب بھوک بھی کم لگتی تھی۔

رات کے وقت ہر کوئی عیش کرنے مختلف جگہوں پر چلا جاتا تھا، کچھ بڑی عمر کے لوگ بھی وہاں آنے لگے تھے۔ خاص طور پر ایک دبلا پتلا، تھکاماندہ، آدھا گنجا ادھیڑ عمر شخص جسے سب ’چاچا‘ کہتے ہیں اکثر نظر آتا ہے۔ لڑکے ’چاچا‘ سے مختلف قسم کے سوال جواب کرنے لگے اور وہ بھی گوالمنڈی میں موجود ان کے اڈے پر روز آنے جانے لگا لیکن پپو نے چاچا کے ساتھ کوئی راہ و رسم نہ بڑھائے۔

پپو خاموشی سے شیرنی کے پاس بیٹھ جاتا ہے، پپو سوچتا ہے کہ لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، وہ اپنے خیالات کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرے گا۔ اُس کو تنہائی میں تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ کبھی کبھار آوارہ گردی کرنے نکل جاتا ہے تو اس کو ذہنی سکون ملتا ہے۔ایک آزادی کا احساس اسے مزہ دیتا ہے لیکن گھر کی یاد بار ہا اسے تڑپا دیتی ہے، لیکن اب وہ اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ گھر کا رخ کرے۔ کبھی کبھی تو اسے اپنے آپ سے بھی گھن آتی ہے۔پپو تین دن بعد ایک پرس چوری کرتا ہے جس میں نقدی ہوتی ہے، جس سے پپو اور شیرنی گلچھڑے اُڑاتے ہیں اور اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے جب تک یہ ’’لوٹ کا مال‘‘ ختم نہیں ہو جاتا، شیرنی دل کھول کر اپنے لئے ’’شاپنگ‘‘ کرتی ہے۔ وہ شام کو تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں، جیب پھر کنگلوں کی طرح خالی ہے۔ رات زیادہ ہونے کی وجہ سے پپو سوچتا ہے کہ اب بھیک مانگنے کا وقت گزر چکا ہے، وہ سوچتا ہے کہ اب کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرنا چاہئے۔ دونوں نہاری ہاؤس میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ ذوق و شوق سے نہاری کھانے آتے ہیں اور ترس کھا کر بھیک منگتوں کو بھی اپنے پلے سے نہاری کھلا دیتے ہیں۔ دونوں کسی حاتم طائی کے انتظار میں نہاری ہاؤس کے کونے میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اتنے میں شیرنی پپو کی توجہ باہر کھڑے چار اوباش نوجوانوں کی طرف دلاتی ہے۔

’’یہ تو انہی چار لڑکوں کا گینگ ہے جن میں سے ایک کا پرس لے کر میں بھاگا تھا۔‘‘ پپو اپنی رائے دیتا ہے۔ ’’یہ لوگ خواتین کے ساتھ ’اکھ مٹکا‘ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘ پپو مزید تبصرہ کرتا ہے، ’’شیرنی! ذرا ایک طرف آ جاؤ کہیں ان لفنگوں کی نظر مجھ پر نہ پڑ جائے‘‘ اور اسی اثنا میں دونوں کی توجہ ان لڑکوں سے ہٹ جاتی ہے۔

اس دوران وہ دونوں کھڑکی میں سے ’نئی زندگی‘ کی ویگن کو گزرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
’’میرے لیے ’نئی زندگی ‘ والوں سے ایک سینڈوچ لا دو!‘‘ شیرنی پپو سے پیار بھرے لہجے میں استدعا کرتی ہے۔
پپو اُس کو بتاتا ہے کہ میں تھکا ہوا ہوں، ایک گھنٹے سے مسلسل پیدل چل رہا ہوں اور بڑی مشکل سے ابھی بیٹھنے کا موقع ملا ہے، ویسے بھی نئی زندگی والے ساتھیوں کیلئے کھانا نہیں دیتے، تمہیں خود جا کر اپنا حصہ لینا ہو گا۔
’’تمہیں اتنا خود غرص نہیں ہونا چاہئیے، بھیک کے پیسوں میں میرا حصہ بھی ہے۔‘‘ شیرنی جتاتے ہوئے کہتی ہے۔

پپو اٹھتا ہے اور سینڈوچ لینے چلا جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے یہی قربانیاں حقیقی محبت کا تقاضا کرتی ہے۔ لنک-27 پرجائیے۔

انکار کرتا رہتا ہے اور اپنے پاؤں اٹھا کر میز پر رکھ دیتا ہے۔ لنک-28 پر جائیے۔

ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا

کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ……ہائے اُس زودپشیماں کا پشیماں ہونا

پپو بینا کے پاس ہوٹل میں واپس آجاتا ہے اور دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔
’’کون ہے؟ ‘‘ ہوٹل کے کمرے سے بینا کی آواز اُبھرتی ہے۔
’’میں ہوں‘‘پپو جواب میں کہتا ہے۔

بینا دروازے پر آتا ہے تو اُس کے بائیں بازو پر ایک ربر کا سٹریپ بندھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
’’جلدی کرو‘‘ وہ تیزی سے پپو کو کمرے کے اندر کھینچ لیتا ہے۔ سارا کمرہ اُلٹا سیدھا نظر آتا ہے اور نسبتاً اندھیرا بھی ہے ۔ اس اندھیرے میں بینا کے ہاتھ میں ایک انجیکشن کی چمکتی ہوئی سوئی دکھائی دے رہی ہے۔’’یہ تم کیا کر رہے ہو؟‘‘
پپو پوچھتا ہے ۔

’’تم اپنے کام سے کام رکھو‘‘بینا قدرے غصے سے جواب دیتا ہے۔
’’تم نے پیسے کہاں سے لیے؟‘‘ پپو استفسار کرتا ہے۔
’’کیا میرے پاس پیسوں کی کمی ہے؟‘‘ بینا اپنے میک اپ کِٹ سے کھیلتے ہوئے جواب دیتا ہے۔
’’ہاں بالکل میرے پیسے…..‘‘ پپو تنقیدانہ لہجے میں کہتا ہے۔

’’ہاں ہو سکتا ہے تمہارے ہوں، خیر اب تو بہت دیر ہو چکی ہے اب اس پیسے سے کھانا نہیں خریدا جا سکتا‘‘ بینا ذلالت بھرے لہجے میں کہتا ہے۔
’’پھر تو یہ نشہ میرا ہے! انجیکشن میرے حوالے کردو‘‘ پپو بینا سے انجیکشن لینے کی کوشش میں ہے۔
’’تمہیں تو انجیکشن لگانا آتا بھی نہیں،میں تمہیں بعد میں اور خرید دوں گا‘‘بینا زور دیتا ہے۔
’’مجھے بعد میں نہیں ابھی چاہئیے ایسا نہ ہو میں بھوکا مرجاؤں ،کیونکہ مجھے گاہک بھی ڈھونڈنا ہے ‘‘ پپو کی ضد برقرار رہتی ہے۔’’بھاڑ میں جاؤ! یہ لو پکڑو‘‘وہ سرنج پپو کی طرف اُچھالتا ہے۔
’’مجھے بتاؤ کہ انجیکشن کیسے لگاتے ہیں، اس ربر کی چیز کو کیا کرنا ہے؟ ‘‘وہ بسترپر بیٹھے بیٹھے انجیکشن ہاتھ میں پکڑ کر پوچھتا ہے ۔
’’صبر سے کام لو، میں تمہیں سب کچھ سکھا دیتا ہوں‘‘ بینا سر دُھنتا ہے۔
وہ اپنے بازو سے ربر سٹریپ اُتار کر پپو کے بازو پر چڑھا دیتا ہے اور انجیکشن سے ہوا نکالنے کی خاطرتھوڑا سا مواد باہر نکال دیتا ہے اور ساتھ پپو کو سمجھاتے ہوئے کہتا ہے۔
’’انجیکشن میں ہوا نہیں رہنی چاہئیے۔‘‘
’’خدا ہی جانتا ہے کہ اِس سرنج میں کیا ہے ؟‘‘ پپو سوچتا ہے۔

’’سیدھے بیٹھے رہو،میں یہ کام مہینوں سے کر رہا ہوں لیکن کبھی کسی دوسرے کو انجیکشن نہیں لگایا ۔ اپنی مُٹھی کو زور سے بھینچ لو ، بس تھوڑا ساحوصلہ!‘‘ اس سارے عمل سے پپو تھوڑا سا گھبرا جاتا ہے۔
پپو اپنی آنکھیں بھینچ لیتا ہے۔ سوئی چبھتے ہوئے اس کے بازو میں داخل ہو جاتی ہے اور بینا سٹریپ ڈھیلا کر دیتا ہے۔

’’انجیکشن لگ چکا ہے؟‘‘بینا پپو کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہے۔
پپو اپنی آنکھیں کھول دیتا ہے، اب وہ بستر پر بینا کے ساتھ بیٹھا ہے اور پاس ہی خالی سرنج پڑی ہے، ’’کچھ عجیب ہے۔ وہ ۔۔۔ ‘‘پپو متذبذب ہو کر چلاتا ہے۔
’’کیا ہوا؟‘‘پپو گھبرا کر پوچھتا ہے۔
بینا خالی سرنج کی طرف دیکھتے ہوئے چلّاتاہے ۔
’’اُف خدایا یہ تو گڑبڑ ہوگئی! نشے کی یہ ڈوز تو میرے لیے تھی لیکن پتہ نہیں میرے ذہن میں کیا چل رہا تھا کہ تمہیں آدھی ڈوز کی بجائے پوری ڈوز دے ڈالی‘‘ بینا پچھتاتے ہوئے کہتا ہے۔
’’آہ!۔۔۔ پپو ! ‘‘پپو سسکیاں لینا شروع کر دیتا ہے، منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہو جاتی ہے اور وہ اپنے گناہوں کی توبہ کرنے لگتا ہے۔ بالآخر اس جہانِ فانی سے کوچ کر جاتا ہے۔

لنک-47 پرجائیے۔

بس کے دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہو گا ۔۔۔۔۔۔ کریدتے ہو جو اَب راکھ جستجو ہو گی

پپو چلتا ہوامیکڈونلڈزکے داخلی دروازے تک پہنچتا ہے اور ایک شخص کو اندر جاتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اُس کا چہرہ کشادہ اور دوستانہ ہے، ہلکے نسواری گھنگھریالے بال جو کنپٹیوں پر سے سفیدی مائل اور گھنی کھچڑی بھنویں ہیں۔ وہ بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ پپو کیلئے دروازہ تھام لیتا ہے اور کہتا ہے۔’’میرا نام سلطان ہے، کیا تم میرے ساتھ مل کر برگر کھانا پسند کرو گے۔‘‘
’’یقینا‘‘ پپو نے برجستہ کہا۔
کھانے پر وہ شخص کچھ احمقانہ باتیں کرتا ہے۔ پپو آرام سے اپنا برگر کھاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اُس کے کانوں سے باہر کی طرف اُگنے والے بالوں پر غور کرتا ہے۔ پپو کی گردن میں درد ہے ۔ وہ تھوڑا سا پیچھے ہو کر آرا م حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی گردن کو دباتا ہے۔

’’تم تھکے ہوئے لگ رہے ہو‘‘ سلطان نے پوچھا۔
’’ہاں ایسا ہی ہے تھکن سے چور ہوں‘‘ پپو نے جواب دیا۔
’’میں بہت اچھا مساج کرتا ہوں، کیا تم میرے گھر چلنا پسند کرو گے؟‘‘ سلطان نے پُرجوش مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
پپو ہچکچاتا ہے۔
’’بس تھوڑا سا ساتھ اور ایک اچھا اور پُرسکون مساج، کیا خیال ہے؟‘‘ سلطان نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

تھوڑی ہی دیر میں سلطان اور پپو گلبرگ کے ایک بہت بڑے گھر کے سامنے موجود ہیں۔ گھر کی بیرونی اور اندرونی دیوار سبزے سے ڈھکی ہوتی ہے۔ گھر کا ایک دروازہ سلطان کے دفتر میں کھلتا ہے جس میں سے گزر کر وہ دونوں اندرپہنچ جاتے ہیں۔
اُس کمرے میں عجیب و غریب ساخت کی ایک میز پڑی ہے۔ سلطان کے کہنے پر پپو اُس میز پر چڑھ جاتا ہے اور پیٹ کے بل لیٹ جاتا ہے۔ یہ عجیب و غریب میز حقیقت میں بہت آرام دہ ہے، جو کہ خاص طور پر انسانی جسم کے مطابق تیار کی گئی ہے۔

’’چلو ذرا اپنے کپڑے ڈھیلے کرلو‘‘ سلطان پپو سے کہتے ہوئے اُس کے جوتے اُتارتا ہے اور پھر اُس کی جینز کو پکڑتا ہے۔
پپو اپنے کپڑوں کے اترنے پر تھوڑا سا بے چین دکھائی دیتا ہے۔
سلطان اُس کی ٹانگوں پر مساج کرنا شروع کرتا ہے۔
آہستہ آہستہ پپوسکون محسوس کرنا شروع کر تا ہے۔ اب پپو کو واقعی مزہ آنے لگتا ہے اور وہ سکون سے گہرے گہرے سانس لیتا ہے۔
’’کیا یہ صحیح ہے………… اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دو‘‘ سلطان کہتا ہے۔
’’ مجھے تمہارے پٹھوں میں پہلے ہی واضح فرق محسوس ہور ہا ہے‘‘ پھر سلطان پپو کے کندھوں اور گردن کا مساج کرتا ہے۔

’’پلٹ جاؤ‘‘ سلطان کہتا ہے۔

پپو کو سلطان کا اس طرح اپنے سر پر کھڑا ہونا کچھ ناگوار محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ سلطان اُس کے بازوؤں اور کندھوں کا مساج کرتا ہے۔ پپو پر غنودگی طاری ہونے لگتی ہے۔ یکایک پپو کو سلطان کا ہاتھ اپنے انڈرویئر کی طرف بڑھتا محسوس ہوتا ہے اور وہ ایک دم سے الرٹ ہو جاتا ہے۔ سلطان بہت آرام سے پپو کو دوبارہ لٹا دیتا ہے اور آنکھیں بند کرنے کو کہتا ہے۔ آنکھیں بند کرتے ہوئے پپو سلطان کو اپنے کپڑے اتارتے ہوئے بھی دیکھ لیتا ہے۔

’’حوصلہ کرو، تمہیں یہ سب بھی اچھا لگے گا‘‘ وہ اُس کے ساتھ بہت آرام سے کھیلتا ہے۔ پپو یہ سب دیکھنا نہیں چاہتا، اس لیے اپنی آنکھیں بند رکھتا ہے۔ سلطان پپو سے کچھ بھی کرنے کو نہیں کہتا۔ جب وہ فارغ ہو جاتا ہے تو خاموشی سے اپنے کپڑے پہن لیتا ہے۔ پپو بھی ایک کرسی پر بیٹھ کر اپنے کپڑے پہنتا ہے۔
’’تمہیں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی‘‘ سلطان کہتا ہے۔پپو جواب نہیں دیتا ’’میں تمہارا دوست نہیں بننا چاہتا، مجھے قیمت ادا کرو‘‘
سلطان پپو کو کچھ روپے دیتا ہے اور واپس میکڈونلڈزپر چھوڑ دیتا ہے سارے راستے وہ اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے اُس کا دل بہلانے کی کوشش کرتا ہے۔
’’تو اب تم کیا کرنا چاہتے ہو، کیا تم کالج جانا چاہتے ہو تو میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں کیونکہ لمزیونیورسٹی میں میرے کچھدوست بہت اچھی پوزیشن پر کام کررہے ہیں۔‘‘

’’میں اداکار بننے کے بارے میں سوچ رہا تھا‘‘ پپو سلطان کو بتاتا ہے۔
’’میں لالی وڈ میں بھی بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں‘‘ سلطان نے کہا۔
’’کہاں پر۔۔۔‘‘ پپو نے پوچھا۔
’’فلم انڈسٹری میں، جہاں تفریح فراہم کی جاتی ہے۔۔۔ تمہیں پتا ہے پروڈیوسر، ڈائریکٹر، رائیٹر۔۔۔ یہ سب میرے پاس آتے ہیں‘‘ سلطان نے کہا۔
سلطان پپو کو اپنا کارڈ دیتا ہے جو کہ دیکھنے میں بہت سادہ ہے اور اُس پہ صرف ’’ڈاکٹر سلطان‘‘ کے الفاظ تحریر ہیں۔ سلطان پپو کو رابطے میں رہنے کے لیے کہتا ہے۔

دو دن بعد پپو کی آنکھ پھر ایک ہوٹل میں کھلتی ہے۔ حسبِ معمول وہ بھوکا ہے اور اُس کا دل بھی فورٹ روڈ پر کھڑے ہونے کو نہیں چاہ رہا۔ وہ اپنی جیب ٹٹول کر ڈاکٹر سلطان کا کارڈ نکالتا ہے اور فون کرنے کے بارے میں سوچتا ہے۔ اس اثناء میں اُسے غلاظت کا احساس ہوتا ہے لیکن اپنے اس خیال کو وہ پسِ پشت ڈال دیتا ہے اور سلطان کو کال کرتا ہے۔ وہ پپو کو شام چھ بجے کا ٹائم دیتا ہے۔
پچھلی دفعہ پپو سلطان کے دفتر میں تھا مگر اس دفعہ سلطان گھر کا داخلی دروازہ کھولتا ہے
’’دنیا کی دوسری بہترین جگہ میں خوش آمدید‘‘ سلطان خوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہتا ہے۔

پپو ایک دلکش لونگ روم میں داخل ہوتا ہے جو خوبصورت سامان سے مزین ہے، چھت ڈھلوان کی صورت میں ہے، جس پر ایک بہت بڑا اور خوبصورت شیشے کا فانوس بھی نصب ہے۔ لونگ روم کے ایک کونے میں ایک چمکدار کالے رنگ کا پیانو اپنی جانب توجہ مبذول کراتا ہے۔

لونگ روم کے دوسرے کونے پر بیٹھنے کے لیے الگ جگہ بنائی گئی ہے جس میں بہت سے آرام دہ صوفے اور کرسیاں رکھی گئی ہیں۔ ساتھ ہی ایک بہت بڑی ٹی وی کی سکرین، سپیکرز اور ڈی وی ڈی پلیئر رکھا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ میں کوئی نہیں رہتا۔ پپو سوچتا ہے۔ شاید اس شخص کے پاس بہت پیسہ ہے جسے وہ یوں اُڑا رہا ہے۔

سلطان، پپو کو بہت انہماک سے لونگ روم کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھتا ہے۔
اور کہتا ہے۔
’’میری بیوی نے طلاق سے پہلے اس کمرے کو سجایا تھا، بعد میں وہ اِن چیزوں کو بدلنا چاہتی تھی جبکہ

میرے پاس اِن کو بدلنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔‘‘سلطان اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتا ہے۔

اس لونگ روم کے سائیڈ پر ایک اور چھوٹا کمرہ تھا جسے لونگ روم کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔جس میں پڑے کاؤچ کے اردگرد اخبارات بکھرے پڑے تھے اور تکئے بھی بے ہنگم طریقے سے پڑے ہوئے تھے۔ ایک خالی گلاس کافی کی میز پر پڑا تھا جس کے پاس کافی کے مگ کا گہرا نشان پڑا تھا۔ایک سائیڈ پر ٹی وی سیکشن تھا جس میں بڑے سے ٹی وی کے سامنے ایک چھوٹی میز پر میگاگیم پڑی تھی۔
’’اوہ۔۔۔‘‘ پپو متجسس انداز میں ہنستے ہوئے کہتا ہے۔
’’تم گیم شروع کرو، کیا میں تمہارے لئے کوئی مشروب لے آؤں،بیئر، وسکی، کچھ بھی؟‘‘سلطان میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہتا ہے۔
’’جیسے آپ کی مرضی‘‘ پپو جھجکتے ہوئے کہتا ہے۔
جب سلطان گرم گرم پیزا اور ٹھنڈی کوک لے کر آیا تو اُس نے پپو کو کمپیوٹر پر گیم کھیلنے میں مشغول پایا۔
’’نہیں نہیں، تم مصروف رہو‘‘ سلطان ایک صوفے پر بیٹھ کر پپو کو گیم کھیلتے ہوئے دیکھنے لگا۔
گیم سے فارغ ہو کر پپو سلطان سے پوچھتا ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ پپو اندازہ لگاتا ہے کہ سلطان اس کا مساج کرنا چاہتا ہے۔
’’تم کھیل کو جاری کیوں نہیں رکھتے‘‘ سلطان نے مسکراتے ہوئے کہا۔

پپو پھر سے کھیل میں مشغول ہو جاتا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد اُسے سلطان کے ہاتھ اپنی جینز پہ محسوس ہوتے ہیں۔ پپو اُٹھ کے بیٹھ جاتا ہے تو سلطان اُسے کھیل جاری رکھنے کو کہتا ہے۔ سلطان اُس کے ساتھ کھیلتا رہتا ہے۔ یہ ایک انوکھا اور عجیب تجربہ ہے۔ فارغ ہونے پر سلطان، پپو کو اپنے ایک دوست کے گھر کھانے پر لے جاتاہے۔ وہاں پر پپو بہت زیادہ شراب پیتا ہے جس سے وہ ٹُن ہو جاتا ہے اور سلطان کے گھر واپس آتے ہی بستر پر دراز ہو جاتا ہے۔

سلطان نیلے رنگ کے سلیپنگ سوٹ میں ملبوس پپو کیلئے صبح کے ناشتے میں کافی کا ایک کپ اور کڑاہی گوشت تیار کر رہا ہے جس کی خوشگوار مہک سے پپو کی آنکھ کھلتی ہے۔ جب وہ پپو کو اُٹھتے ہوئے دیکھتا ہے تو اُس کے لیے ایک گلاس پانی اور دو ایسپرین کی گولیاں لے کر آتا ہے۔
پپو ناشتے کے بعد سلطان سے جانے کی اجازت طلب کرتا ہے۔
سلطان برتن اکٹھے کرتے ہوئے پوچھتا ہے ’’اتنی جلدی جا رہے ہو اور ویسے تم جاؤ گے کہاں؟‘‘
’’اور تم یہاں میرے پاس کچھ دن کیوں نہیں ٹھہر جاتے، میں تمہیں اپنے کچھ دوستوں سے ملوانا چاہتا ہوں جو کہ فلم انڈسٹری سے تعلق رکھتے ہیں۔
مجھے تم نے بتایا تھا کہ تم ایکٹر بننا چاہتے ہو، ہے نا!‘‘
’’شاباش! تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ جاکر نہا لو، غسل خانے میں ایک نیا تولیہ تمہارے لیے رکھ دیا ہے۔‘‘

’’کیا میں یہ کہنے میں صحیح ہوں کہ تمہارے پاس کوئی اور کپڑے نہیں ہیں‘‘ سلطان نے پوچھا۔
’’ہاں یہ بات صحیح ہے‘‘ پپو نے تائید کی۔
’’اس بارے میں ہم آج شام کو کوئی حل نکالیں گے۔ فی الحال میں نے تمہارے سائز کی ایک جینز تولئے کے ساتھ رکھ دی ہے۔‘‘ سلطان نے کہا۔

پپو سوچتا ہے کہ سلطان کے پاس اُس کے سائز کے کپڑے کہاں سے آئے؟ ایک ہفتے کے اندر اندر پپو سلطان کے ساتھ اُس کے گھر میں سیٹ ہو جاتا ہے۔ صبح کے وقت پپو ٹی وی دیکھتا جس سے کبھی کبھار وہ بوریت کا شکار بھی ہو جاتا مگر اُسے دفتر میں جانے کی اجازت نہ تھی جہاں سلطان سارا دن مریض دیکھتا ہے۔ سلطان معمول کے مطابق کھانے کے وقت تھوڑی دیر کے لیے لونگ روم میں آتا اور پھر سات بجے تک دوبارہ کام میں مشغول ہو جاتا۔ اگر کبھی سلطان اتفاق سے کچھ زیادہ دیر کے لیے گھر میں آجاتا تو مسکراتے ہوئے پپو سے کہتا ’’میں نے آج ایک اپوائنٹ منٹ کینسل کی ہے۔ تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ گیم آن کرو، اتنی دیر میں، میں آتا ہوں۔‘‘

رات کا کھانا بہترین تھا کیونکہ پپو کو نئے خریدے ہوئے کپڑے پہننے کا موقع مل گیا۔ اکثر اوقات سلطان پپو کو کھانے کے لیے بہت اچھے اچھے ہوٹلوں میں لے کر جاتا ہے۔ اُس دن کے بعد سے نہ کبھی سلطان کے کسی دوست نے فلم انڈسٹری کے بارے میں بات کی اور نہ ہی پپو نے کبھی یاددہانی کروائی کیونکہ سلطان کے ساتھ پپو بہت مزے کی زندگی گزار رہا ہے۔
پپو کو سلطان کا ساتھ اچھا لگنے لگا۔ جہاں تک جنسی تعلق کی بات ہے تو اس بارے میں پپو نے کبھی اپنے ذہن پر زیادہ زور نہیں ڈالا۔ سارا دن گھر میں اکیلا رہنے کے بعد پپو دوپہر اور رات کے کھانے کا بہت بے چینی سے انتظار کرتا۔ وہ دوپہر اور رات کو دفتر کے دروازے کے ساتھ اس قدر بے چینی سے انتظار کرتا جیسے کوئی کتے کا بچہ دروازے کے پاس اپنے مالک کا انتظار کرتا ہے۔

بدھ کی راتوں کو جب سلطان کھانے کے لیے گھر نہیں آ سکتا تھا تو وہ پپو کو پانچ سو روپے بھیج دیا کرتا تاکہ وہ ٹیکسی منگوا کر کھانا کھانے جا سکے۔ اُن راتوں میں پپو صرف پیزا پر اکتفا کرتا تاکہ کچھ پیسے بچا سکے۔
ایک رات جب پپو کھانے پر جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا تو سلطان اُس کے پیچھے سے آیا اور اُس کے گلے میں ایک سونے کی چین ڈال دی۔ کھانے کے بعد سلطان پپو کو پچھلی طرف سوئمنگ پول کی طرف لے آتا ہے۔

سلطان ہنستے ہوئے پپو کی طرف ایک خوبصورت سا پیکٹ اچھالتا ہے اور پپو سے تیار ہونے کو کہتا ہے۔
پپو وہ کپڑے پہن کر سوئمنگ پول کے چاروں طرف ایک ماڈل کی طرح چکر لگاتا ہے اور سلطان کا دل لُبھاتا ہے۔

اگلا دن بدھ وار ہے، سلطان پپو کو پانچ سو روپے دیتا ہے اور خود سکاؤٹ میٹنگ پر چلا جاتا ہے۔ سلطان کے جانے کے بعد پپو اپنا سونے کا نیکلس پہنتا ہے اور ساتھ ہی اپنے مہنگے ترین کپڑے اور نئے سنیکرز اور فورٹ روڈ کی طرف نکلتا ہے تاکہ جان سکے کہ اس وقت وہاں پہ کون کون ہے، فورٹ روڈ پر رہنے والے نوجوان یا تو تنہائی کا شکار ہوتے ہیں یا خودنمائی میں پیش پیش ہوتے ہیں۔

پپو کو فورٹ روڈ پر کوئی پرانا جاننے والا نہیں ملتا اور اس بات پہ وہ اُداس ہو جاتا ہے۔ پھر وہ میکڈونلڈز کی طرف جاتا ہے اورجہاں اتفاقاً اُس کی ملاقات بینا سے ہو جاتی ہے جو آج لڑکوں کی طرح کپڑے پہنے ہوئے ہے اور وہ پپو کو دیکھ کر خوش ہوکر اپنی میز کی طرف بلاتا ہے۔ پپو بینا کا حال احوال دریافت کرتا ہے۔ بینا بتاتا ہے کہ وہ کھانے کا انتظار کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ ’’آج کاروبار مندا ہے۔‘‘

پپو بینا کو کھانے کی پیشکش کرتا ہے جو بینا خوشی خوشی قبول کرلیتا ہے اور پپو سے اُس کے بارے میں پوچھتا ہے۔
پپو بینا کو اپنی ساری رام کہانی سناتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ اب اس سب کام سے تنگ آ گیا ہے۔ بینا، پپو کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔
بینا، پپو کے ساتھ اُس رات کو یاد کرکے خوش ہوتا ہے جب پپو اور بینا نے ساری رات اکٹھے گزاری تھی اور پپو کو معلوم نہیں تھا کہ بینا لڑکی نہیں، لڑکا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو مذاق کرتے ہوئے اپنا دل ہلکا کر لیتے ہیں۔ پپو مسکراتا ہے۔

بینا کا اصل نام جمی ہے۔جب انسان کی اپنے کسی ہم عمر کے ساتھ دوستی ہوتی ہے تو بہت اچھا لگتا ہے ، کیونکہ ایسے میں انسان اپنے دل کی ہر بات کر لیتا ہے،ایسی بات بھی جو وہ اپنے گھر والوں سے نہیں کر سکتا۔ پپو کو بینا کی ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے۔ وہ اُسے اپنے ساتھ چلنے کو کہتا ہے تاکہ وہ دونوں مل کر اُس کے کپڑے دھو سکیں، اُس کے علاوہ پپو اُسے اپنے کپڑوں کی بھی

پیشکش کرتا ہے۔ پپو اُ سے تیراکی کے بارے میں بھی دریافت کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ رات کو سوئمنگ پول کے کنارے کتنا دلفریب منظر ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی بینا کو یہ بھی باور کرواتا ہے کہ سلطان کے آنے سے پہلے اُسے جانا ہوگا۔

بینا، پپو کی اس پیشکش کو بہت خوشی سے قبول کرلیتا ہے۔ بینا اتنا بڑاگھر اور لونگ روم دیکھ کرحیران ہوتا ہے۔ وہ گیم بھی کھیلنا چاہتا ہے مگر پپو اُسے بتاتا ہے کہ گیم خراب ہے۔ جمی سوئمنگ پول کی طرف چلا جاتا ہے۔
اسی اثناء میں گیراج کا دروازہ کھلتا ہے اور پپو کو سلطان کا چہرہ نظر آتا ہے۔ پپو اس ڈر سے گھر کے اندر بھاگ جاتا ہے کہ سلطان جمی کو دیکھ کے ناراض ہوگا مگر اُس کے برعکس سلطان پپو کو دیکھ کے کہتا ہے ’’تمہیں خوش دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے‘‘۔
’’میں سمجھا تھا تم بور ہو رہے ہو گے، اس لیے میں تمہارے لیے ایک ایکشن مووی لے آیا‘‘ اس اثناء میں وہ دروازے کے پار جمی کو سوئمنگ پول سے باہر نکلتے ہوئے دیکھتا ہے اور کچھ سوچتے ہوئے پپو کو کہتا ہے۔

’’تم اپنے اس دوست کو کیوں نہیں روک لیتے کہ ہمارے ساتھ مووی دیکھے‘‘ ساری مووی کے دوران سلطان دھڑا دھڑ شراب کے گلاس بناکر پیتا رہا۔
مووی ختم ہونے پر سلطان اپنے بستر پر گر کر خراٹے بھرنے لگتا ہے۔ پپو لونگ روم کے فرش پر گِر جاتا ہے اور جمی صوفے پرہی مدہوش ہو جاتا ہے۔

پپو تنہا رہتا ہے اور شراب کا نشہ کرتا ہے، یہ طرز زندگی جاری رکھتا ہے۔ لنک-29 پر جائیے۔
پپو جمی اکٹھے رہتے ہیں۔ لنک-30 پر جائیے۔

میں ہوں اور افسردگی کی آرزو۔۔۔

نقشِ فریادی ہے کِس کی شوخئی تحریر کا۔۔۔۔۔کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

پپو ٹکسالی گیٹ سے چلتے ہوئے فورٹ روڈ پر پہنچ جاتا ہے۔ آدھی رات کا وقت ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس وقت بھی بے پناہ رونق ہے، ماحول کچھ پرسرار نظر آتاہے۔ فورٹ روڈ پر چہل قدمی کرتے ہوئے وہ ایک معروف ریسٹورنٹ کے نزدیک پہنچتا ہے جس کا نام ’’ککوز ڈین ‘‘ہے اپنی بھوک کو مٹانے اور وقت گزارنے کے لیے وہ ایک کار پارکنگ میں بیٹھ جاتا ہے اوربے مقصد وہاں لوگوں دیکھنے لگتا ہے۔ اس کے پاس سے گزرنے والے لوگ اس پر بُری نگاہ ڈالتے ہیں۔

اس دوران ایک سفید رنگ کی جیپ کار پارکنگ میں آتی ہے، چار فیشن ایبل لڑکیاں جیپ سے باہر نکلتی ہیں۔ ڈرائیونگ سِیٹ میں موجود لڑکی پپو کی طرف مسکرا کر دیکھتی ہے۔ جبکہ باقی ریسٹورنٹ میں مینو پر جھگڑ رہی ہوتی ہیں جبکہ وہ پپو سے پوچھتی ہے کہ وہ اتنی رات وہاں پر کیا کررہا ہے؟

’’میں اپنے دوستوں کے ساتھ سارا دن پارک میں تھا ہم کچھ دیر پہلے یہاں آئے تھے، وہ مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہیں،کیا آپ میری کچھ پیسوں سے مدد کر سکتے ہیں تاکہ میں ٹیکسی لے سکوں۔‘‘پپو جھوٹ نظریں زمین پر گاڑھتے ہوئے التجا کرتا ہے ۔

’’اوہ گھر مت جاؤ ‘‘وہ دبی ہوئی آواز میں کہتی ہے۔
اس کا انداز بہت دوستانہ ہے اوروہ آگے بڑھ کر پپو کے بازوؤں کوچھونے لگتی ہے۔
’’ہم ڈیفنس میں ایک ڈانس پارٹی پر جا رہے ہیں، کیا تم ہمارے ساتھ وہاں جانا پسند کرو گے؟ یہ نیو ائیر پارٹی ہے، وہاں پر بہت تفریح اور ہل گلا ہوگا۔‘‘ وہ مزید تفصیل بتاتی ہے۔

پپو اس دعوت پر بہت خوش ہوتا ہے اور اُن کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ وہ جیپ کے پچھلے حصے سے ٹینس بیگ نکالتی ہے اور پپو کو پہننے کے لیے ایک پینٹ دیتی ہے کیونکہ اس کی پینٹ گندی ہوتی ہے، پھر وہ پپو کا تعارف ساتھیوں سے کرواتی ہے۔ پپو اُن کے دوستانہ انداز سے مطمئن ہوتا ہے۔ پپو ان کے ساتھ ڈیفنس کے لیے روانہ ہو جاتا ہے۔ اتنے دن لاہور میں گزارنے کےباوجود پپو نے ابھی تک ڈیفنس نہیں دیکھاہوتا۔

پپو لاہور کی وسعت کو دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے۔ پپو سات آٹھ سال پہلے لاہور آیا تھا، اب یہ شہر بالکل ایک نئی جھلک دے رہا ہے۔ آخر کار وہ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں پر رنگ رلیاں منائی جانی ہیں۔ وہ اپنی جیپ ایک ڈبل سٹوری عمارت کے سامنے کھڑی کرتے ہیں جس کا نام ’’پلانیٹ‘‘ہے۔ پپو بہت سے نوجوانوں کو خوش نما لباس میں ملبوس دیکھتا ہے جونیو ائیر کی خوشیوں میں شریک ہیں۔ پپو کو وہاں پر ہر چہرہ خوشی اور لطف و سرور سے چمکتا اور دمکتا نظر آتا ہے۔

مے نوشی اور نشہ کرنے کا کھلا مظاہرہ ہوتا ہے کیونکہ یہ نیو ائیر پارٹی ہے۔اس لئے سب بند ٹوٹ جاتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ہر کوئی عیاشی کے سیلاب میں ڈوب جانا چاہتا ہے۔ پپو شراب کے نشے میں دُھت نوجوانوں کے ساتھ ڈانس کرتا ہے۔ پپو اس ماحول کی ہردلعزیز شخصیت بن جاتا ہے۔ ڈانس کے دوران ایک لڑکی پپو کو مسکرا کر دیکھتی ہے۔ پپو اس لڑکی کو اپنی شخصیت کے طلسم سے متاثر کرتا ہے۔ وہ لڑکی پپو کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ پپو کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ لڑکی اس کو کس جگہ لے جا رہی ہے۔ وہ لڑکی اس کو دوبارہ ٹکسالی دروازے لے آتی ہے۔ یہ لڑکی ایک سٹیج کی اداکارہ اور گلوکارہ ہے۔ جو بازارِ حسن میں اپنی نائکہ کے ساتھ رہتی ہے۔ وہ تمام رات پپو کا دل لبھاتی ہے اور پپو ایک ہفتہ اس کے ساتھ قیام کرتا ہے۔اس دوران وہ پپو کو ذلت کی ساری منزلیں طے کرنا سکھاتی ہے، پپو سات دنوں کی مسلسل یکسانیت سے اُکتا جاتا ہے اور وہاں سے بھاگ کر عمارت کی چھت پر پناہ لیتا ہے اور وہیں رات گزارتا ہے۔

اگلے دن دوپر کو پپو سخت گرمی اور پیاس کی حالت میں جاگتاہے۔ وہ ایک بے جان گندھے ہوئے آٹے کی طرح نصف دوپہر تک گرمی میں جھلستا رہتا ہے۔ پپو دھیمے قدموں کے ساتھ سیڑھیاں نیچے اترتا ہے جبکہ اس کے سر میں شدید دردہوتا ہے اور جسم سے ٹیسیں اُٹھ رہی ہوتی ہیں۔ وہ ایک چھوٹی اور پُراسرار لابی میں داخل ہو جاتا ہے جو اس کے لیے پناہ گاہ ثابت ہوتی ہے ،پھر پپو ایک کاؤچ پر دھڑام سے گِر جاتا ہے اور گہری نیند سو جاتا ہے۔کچھ دیر بعد ایک دبی ہوئی ہنسی پپو کو جگا دیتی ہے۔پردے کے پیچھے چار لڑکیاں اس پر ٹکٹکی باندھے کھڑی ہوتی ہیں۔

’’ تمہارے لیے میز پر پیزا پڑا ہے۔‘‘ان میں سے ایک ہنستی ہوئی پپو کو کہتی ہے ۔
پپو پیزا اٹھا لیتا ہے ۔

’’زندگی بھی ایک مزے کا سفر ہے‘‘ پپو سوچتا ہے۔ زندگی کے بارے میں پپو کے نظریات روزانہ بدلتے ہیں۔ایک ہفتہ پہلے اسی علاقے کے لوگ اس کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کرتے رہے اور اب وہی اُسے پیزا کھلا رہے ہیں۔ پپو میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ایک سانولی لڑکی ہمدردی کا اظہار کرتی ہے جس سے پپو گمان کرتا ہے کہ شاید وہ اس کاساتھ دے سکے گی۔پپو بہت جلد کسی سے بھی امیدیں وابستہ کرلیتا تھا۔

پپو جسمانی طور پر نڈھال ہوچکا ہے اور دوبارہ اُن گلیوں میں خجل و خوار ہونے کے قابل ہی نہیں رہتا۔ مزید یہ کہ اب کوئی بھی اس کا پرسان حال نہ تھا۔

’’میں فیصل آباد سے اپنے بھائی سے ملنے آیا تھا،وہ مجھے ایئرپورٹ سے اس پارٹی میں لے آیا۔ میرا خیال ہے کہ میں نشے کی حالت میں یہاں تک پہنچا ہوں، ’’میں کہاں ہوں؟‘‘ ۔ پپو یہ تمام باتیں پاس بیٹھی لڑکی سے کہتا ہے ۔
’’میرے بھائی نے مظفر آباد کے زلزلہ زدگان کی بحالی کے کام کے لیے جانا ہے اور اس نے جانے سے پہلے اپنے کمرے کی چابی دے دی ،میں یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ رہتا کہاں ہے اور میں بہت پریشان ہوں۔‘‘ پپو بہت گھبرایا ہوا اور پریشان نظر آتا ہے ۔

لڑکی اپنا ہاتھ اس کے گلے میں ڈال کرپیار جتانے لگتی ہے۔
’’ تم میرے ساتھ کیوں نہیں رہتے؟‘‘لڑکی پپو کے کانوں میں سرگوشی کرتی ہے۔
’’مجھے گلی میں دوبارہ آنے کا خیال کیوں نہ آیا؟ وہ دل ہی دل میں خوش ہورہا تھا۔ پہلے حالات کی نسبت ان لڑکیوں کے ساتھ رہنے میں اسے خوشی کے زیادہ مواقع نظر آرہے تھے۔ اسے لگ رہا تھا کہ یہاں اسے ساری سہولتیں میسر ہوں گی۔جب میں یہاں سے جاؤں گا تو بہت سے تحفے تحائف ملیں گے اور جب وہ پھر کبھی لاہور آئے گاتو وہ لڑکیاں اس کیلئے کارآمد رہیں گی۔ وہ مستقبل کے تانے بانے بننے لگا۔‘‘پپو ایک لمبی سوچ میں گم ہو جاتا ہے۔

درحقیقت پپو اب وہاں کی سرگرمیوں میں دلچسپی لینے لگتا ہے اور ان لڑکیوں کے لیے اپنی’’ خدمات‘‘ فراہم کرنے لگتاہے۔ ایک لڑکی پپو کو ریسٹورنٹ میں اپنا ٹیلی فون نمبر دینا چاہتی ہے اور کل دوپہر کے کھانے پر مدعو کرتی ہے لیکن وہ اس لڑکی پر اپنے ’’قیمتی وقت‘‘ میں سے 3گھنٹے خرچ کرنا نہیں چاہتا۔ ان لڑکیوں کا سہارا اُس کیلئے ، خوشحالی کی نوید نظر آتا ہے۔ وہ جب چاہئے ان کے پاس جا سکتا ہے۔

اس بازار کی کچھ خوبصورت لڑکیاں کالج بھی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک کرینہ پپو کی پورٹریٹ بناتی ہے جبکہ پپو صوفے پر سویا ہوتا ہے۔ کرینہ پپو کو جاگنے پر حیران کر دینا چاہتی ہے۔ پپو دو دن کہیں نہیں جاتا بس ڈی وی ڈی پر اچھی فلمیں دیکھتا رہتا ہے۔

کرینہ تصویر بناتے ہوئے پپو کو بڑی رومانوی انداز سے دیکھتی ہے، کرینہ کی نظریں پپو کی روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں جس سے پپو کے لیے ٹی وی پر توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ کرینہ تصویر بناتے ہوئے پپو کو بہت سی مزاحیہ کہانیاں سناتی ہے، فلم میں موجود احمقانہ کرداروں پر طنزیہ فقرے کستی ہے اور ہنساتی ہے ۔ وہ باقی تمام لڑکیوں سے زیادہ تیز اور خوبصورتی میں بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔ جب کرینہ پینٹ کے برش کو اپنے دانتوں تلے دباتی ہے تو پپو کو پرکشش لگتی ہے۔جس سے پپو کو اپنی ظاہری حالت بہتر بنانے کی فکر ہوتی ہے اور وہ سوچتا ہے کہ اُسے اب بالوں کی تراش خراش بھی کروالینی چاہئیے۔

مسلسل پانچ ہفتے اکٹھے رہنے کے بعد کرینہ پپو کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ کرینہ پپو سے کئی سال بڑی ہوتی ہے لیکن پھر بھی وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔ کرینہ پپو کواس سحر انگیز حسینہ کی طرح اپنابنا لیتی ہے۔ ایک رات کرینہ اس سے زندگی کا مقصد پوچھتی ہے تو پپو اس کو جواب میں بتاتا ہے کہ وہ ایکٹر بننا چاہتا ہے۔ پپو خیام سرحدی کے ایکٹنگ سکول میں داخلہ لے لیتا ہے اور کلاسیں لینا شروع کر دیتا ہے۔

ایک شام جب پپو کلاس لینے جا رہا ہوتا ہے،کچھ سوٹڈ بوٹڈ لوگ اسے اپنے ساتھ ڈینٹل کالج کے قریب کیفے پر چلنے کیلئے کہتے ہیں۔ کالج کے کیفے سے بند کباب اور پیپسی کی پیشکش کرتے ہیں، پپو اس پیشکش کو قبول کرلیتا ہے ۔ اس کیفے میں تمام ہم جنس پرست اپنے گاہکوں کا انتظار کر تے ہیں۔ اگلے دن سے وہ کلاسیں لینے کی بجائے اس کیفے پر جانے لگتا ہے۔

کرینہ کو جب اس بات کا پتہ چلتا ہے تو پپو سے سخت ناراض ہوتی ہے اور اس کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اُس نے بڑی مشکل سے ان کلاسز کی بھاری فیس ادا کی ہے۔ اگر پپو مستقل مزاجی کا مظاہرہ نہیں کر سکتا تو زندگی کیسے گزارے گا؟ پپو کرینہ سے معافی مانگتا ہے اور کلاس میں جانے کی یقین دہانی کرواتا ہے۔

پپو اسے اپنی بانہوں میں لینے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ اسے دھکیل دیتی ہے اور اسے بتاتی ہے کہ ایسے کام نہیں چلے گا۔ پپو اس رویے کا تصور بھی نہیں کرسکتا، پھر اس کے ساتھ بچپن کی جذباتی یادوں کا تذکرہ کرتا ہے جیسے کہ اسے بچپن سے ہی کبھی پیار نہیں ملا! جس سے کرینہ کا دل پسیج جاتا ہے اور وہ پپو کی طرف پیار بھری نظروں سے دیکھتی ہے ۔پپو آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیتا ہے۔ لڑکیوں کو گلے لگانے میں پپو کبھی سستی نہیں کرتا۔

کرینہ پپو سے گِلہ کرتی ہے کہ اس کی سہیلیاں اس کے بارے میں کوئی زیادہ اچھی رائے نہیںرکھتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پپومیں وفا نام کی کوئی چیز نہیں، وہ اس سے محبت نہیں کرتا اور وقتی طور پر اس سے فائدہ اٹھارہا ہے، بس اپناا لو سیدھا کررہاہے اور یہ بھی کہ جو اپنے ماں باپ کا نہیں بن سکا، وہ کسی اجنبی لڑکی کا کیسے بنے گا؟ کرینہ پپو کو کوئی نوکری تلاش کرنے کا کہتی ہے۔ یہ بات پپو کو پسند نہیں آتی۔اُس کے ماتھے پر تیوڑیاں آجاتی ہیں۔

تھوڑی دیر خاموشی چھا جاتی ہے۔ پپو بات کو ٹالنا چاہتا ہے اور آگے بڑھ کر کرینہ کو اپنی بانہوں میں لے لیتا ہے۔ لیکن کرینہ کسمسا کر بانہوں سے نکل جاتی ہے اورتلخی سے اسے فوری طور پر چلے جانے کو کہتی ہے اور وہ اسے الٹی میٹم دیتی ہے کہ دوبارہ صرف اسی وقت آئے جب اُس کے پاس پہلی تنخواہ ہو۔

پپو اس سلوک پر پشیمان ہوتا ہے ، پپو یہ جاننا چاہتا ہے کہ کرینہ کی وہ کون سی سہیلیاں ہیں جو کرینہ کو پپو کے خلاف اُکساتی ہیں۔کبھی وہ کسی سے بھیک مانگنا گواراہ نہیں کرتاتھا لیکن اب وقت بدل گیا تھا وہ منت سماجت پر اتر آتا ہے لیکن کرینہ اس کی ایک نہیں سنتی۔

پپو ’ککوز ڈین‘ کے قرب و جوار میں گھوم رہا ہوتا ہے ۔ ایک گھنٹے کے بعد ایک نیا واقعہ رونما ہوجاتا ہے۔ لنک-31 پر جائیے۔

پپو فورٹ روڈ پر جانے کا پروگرام بناتا ہے اور وہاں پر موجود کسی سپاہی سے یہ جھوٹ بولنے کا پروگرام بناتا ہے کہ ’’کسی لڑکے نے میرا بٹوا نکال لیا ہے‘‘

لنک-32 پر جائیے۔

اِدھر ڈوبے اُدھر نِکلے

آ عندلیب مِل کے کریں آہ و زاریاں۔۔۔۔۔۔تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دِل

پپو کی ملاقات جھاجھو سے ہوتی ہے جو اونچا لمبااور مضبوط جسم کا مالک ہے۔پپو اپنے مسائل اُس سے شیئر کرتا ہے ۔
’’ہمیں ایک کلب بنا لینا چاہئیے‘‘ جھاجھو پپو کے مسائل سننے کے بعد مشورہ دیتا ہے۔
ساتھ ہی وہ اپنی قمیض کے بٹن کھول دیتا ہے تاکہ آنے والے لوگوں کو اُس کا کشادہ سینہ نظر آ سکے۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ پپو حیرانگی سے پوچھتا ہے ۔
جھاجھو جوش میں آجاتا ہے اور پپو کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب بھی وہ جوش میں آتا ہے تو اُس کی نظر اپنے سامنے ایک نقطے پر مرکوز ہو جاتی ہے، پھر وہ تیز تیز دائرہ کی صورت میں چلتے ہوئے اور زور زور سے ہاتھ ہلاتے ہوئے بات کرتا ہے۔

’’یہ کلب ایک طرح کا مدد کرنے کا ادارہ ہوگا، ہم نوجوانوں کو خبردار کیا کریں گے کہ کون لوگ خطرناک ہیں اورجن کی گاڑیوں میں نہیں بیٹھنا اور کون لوگ ہیں جو خطرناک نہیں ہیں، اُن کے ساتھ جایا جا سکتا ہے۔ اور پھر ہم ایڈز کے بارے میں بھی معلومات دے سکتے ہیں‘‘۔وہ پپو کو سمجھاتے ہوئے کہتا ہے۔
’’حقیقت کی دنیا میں واپس آجاؤ، جب تک روپوں اور منشیات کا لالچ ہے یہ لڑکے کبھی بھی باز نہیں آئیں گے اور کوئی احتیاط نہیں کریں گے۔‘‘پپو بھی اُسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔
’’لیکن میں نے تو نام بھی سوچ لیا ہے اپنے کلب کا‘‘ جھاجھو اپنی بات پر قائم رہتا ہے۔’’خوردہ فروش‘‘جھاجھو مثال دیتے ہوئے کہتا ہے۔ ’’کیا مطلب؟‘‘ پپو حیرانی سے پوچھتا ہے۔

’’بھئی ہم کچھ اِدھر بیچیں گے اورکچھ اُدھر بیچیں گے‘‘۔جھاجھو تفصیلاً بتاتا ہے۔
’’اچھا۔۔۔ اُلٹی سیدھی مت ہانکو‘‘ یہ کہتے ہوئے پپو نے شراب کا خالی کین جھاجھو کی طرف اُچھالا۔ جھاجھو کے پاس ہر وقت کوئی نہ کوئی کہانی ہوتی ہے۔ وہ اس دھندے میں سالہا سال سے ہے اور اب تو پپو بھی اس کام میں پوری طرح ملوث ہو چکا ہے، اُن کی دوستی کی اصلی وجہ بھی یہی ہے۔ بھی ہوگئی۔ شروع میں جب دونوں ملے تو انہوں نے دوستی کے چند اصول بنائے اور پھر اُن اصولوں کی خلاف ورزی کی، پھر نئے اصول بنائے اور پھر نئے سرے سے خلاف ورزی کی اور آخرکار اصول بنانے چھوڑ دئیے لیکن دوستی نہیں چھوڑی۔ ان دونوں نے حالات کا بھی اچھی طرح تجزیہ کرنا سیکھ لیا۔۔

پپو اور جھاجھو سڑک کے کنارے پڑے ہوئے بنچ پر بیٹھے ہیں۔ پپو کی نظریں سڑک پر آنے والی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس کے سمندر میں گم ہیں۔ ان ہیڈ لائٹس کا اثر بہت سحرانگیز ہے۔ دونوں اس وقت گاہک کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ پپو کا نشہ آہستہ آہستہ بڑھتا جا رہا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر کوئی گاڑی آکر جھاجھو کو لے جائے تو کم از کم کچھ دیر کیلئے وہ کہیں اور مصروف ہو جائے گا اور اگر کوئی شخص پپو کو لینے آئے تو اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ ان لوگوں کا کمرے کاکرایہ نکل آئے گا اور پھر پپو کو نرم نرم بستر پر سونے کاموقع مل سکے گا کیونکہ پچھلے دو ہفتوں سے پپو اور جھاجھو کمرے کا کرایہ مل کے ادا کرتے تھے۔

جھاجھو پپو سے زیادہ پیسے کماتا ہے مگر سارے کے سارے نشے میں اُڑا دیتا ہے۔ جھاجھو کے گاہکوں میں بڑے بڑے ڈاکٹر، وکیل اور امیر زادے شامل ہیں۔ جھاجھو کے پاس بہت زیادہ قسموں کے کارڈز ہیں جنہیں وہ ’’بزنس کارڈز‘‘ کہتا ہے اور اس جگہ کو وہ اپنا آفس کہتا ہے۔ جھاجھو کے سب گاہکوں کو معلوم ہے کہ رات کے اس پہر جھاجھو اسی جگہ پر ملتا ہے۔

’’میری کالز کا دھیان رکھنا‘‘جھاجھو اپنا سیل فون پپو کی طرف اچھالتے ہوئے کہتا ہے اور خود اپنا پسندیدہ شیک پینے کیلئے چلا جاتا ہے۔

پپو کو ہمیشہ اس بات پہ اعتراض ہوتا ہے کہ جھاجھو یہ شیک کیوں پیتا ہے، بھلا اُسے کیا ضرورت۔۔۔! مگر جھاجھو ہمیشہ اُسے یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ سب کاموں کے ساتھ اپنی صحت کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ تھوڑی دیر میں جھاجھو واپس آجاتا ہے۔ ابھی وہ پپو سے کچھ کہنے ہی لگتا ہے کہ ایک پیلے رنگ کی گاڑی پپو کے پاس آکر رُکتی ہے۔ پپو کے متوجہ ہونے سے پہلے ہی جھاجھو ڈرائیور تک پہنچ جاتا ہے اور اسی اثناء میں گاڑی جھاجھو کو بٹھا کے غائب ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھی پپو کو جھاجھو کی اِن حرکتوں پہ بہت غصہ آتا ہے مگر پھر وہ یہ سب کچھ برداشت کرلیتا ہے کیونکہ جب اُس نے خودکشی کی کوشش کی تو جھاجھو نے اُس کی جان بچائی ، اس لیے جھاجھو کا پاس رہنا اسے تحفظ کا احساس دیتا تھا، اُس کی باتیں پپو کو اچھی لگتی ہیں۔ پپو خیالات میں کھویا، جھاجھو کے بارے میں ہی سوچتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اُسے وقت گزرنے اور اردگرد ہونے والی تبدیلیوں کا بالکل احساس نہیں ہوتا۔

آس پاس کی دکانیں بند ہو چکی ہیں۔ فورٹ روڈ کے فٹ پاتھ پر پیدل چلنے والے لوگوں کی تعداد میں بتدریج کمی آرہی ہے۔ جسم فروش، گاہک اور ان کی گاڑیاں بھی اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف بڑھ رہی ہیں اور ابھی تک جھاجھو واپس نہیں آیا۔ پپو آدھے گھنٹے کیلئے اپنے ایک گاہک کے ساتھ جاتا ہے اور واپس آکر دیکھتا ہے تو جھاجھو اب بھی نظر نہیں آتا۔ اب اُس بنچ پہ صرف پپو بیٹھا ہے اور سوچ رہا ہے کہ اگر جھاجھو واپس آجائے تو دونوں بھی ایک کمرہ کرائے پر لے کر آرام کرلیں۔

ڈیڑھ گھنٹہ مزید گزر جاتا ہے، پپو کو جھاجھو کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ تھوڑی دیر میں وہی گاڑی دوبارہ آکر پپو کے پاس رُکتی ہے جو جھاجھو کو لے کر گئی تھی، پپو شکر کرتا ہے کہ جھاجھو واپس آ گیا ہے مگریہ کیا گاڑی تو خالی ہے، شیشہ نیچے ہوتا ہے اور پپو حیران ہے کہ ڈرائیور بھی کوئی اور شخص ہے۔
’’میرا دوست کہاں ہے؟‘‘ پپو پوچھتا ہے۔
’’تمہارا دوست جھاجھو ایک پارٹی میں ہے، مزے لوٹ رہا ہے۔ اُس نے میری منت کی کہ تمہیں بھی لے آؤں، وہ تمہارا انتظار کر رہا ہے‘‘۔ڈرائیور پپو کو بتاتا ہے۔

’’میرے پاس تمہاری کار کا نمبر ہے۔ اگر بیس منٹ میں میرا دوست واپس نہ آیا تو تم بھی نہیں بچو گے‘‘۔پپو اُس کو دھمکاتا ہے ۔
پپو اُس کار کا نمبر یاد رکھنے کی کوشش کرتا ہے مگر نشے کی وجہ سے ایسا نہیں کرپاتا۔ اب وہ فورٹ روڈ کی طرف دوڑتا ہے تاکہ جھاجھو کا پتا کرسکے۔ وہاں اُسے دو لڑکے نظر آتے ہیں ایک ذرا دراز قد کا ہے اور ایک پست قد۔ پپو بھاگ کر اُن دونوں کے پاس جاتا ہے اور بتاتا ہے کہ ایک لال رنگ کی مزدا دو گھنٹے پہلے جھاجھو کو لے کر گئی ہے اور وہ اب تک واپس نہیں آیا۔

’’کیا تم نے جھاجھو کو دیکھا ہے؟‘‘وہ اُن دونوں سے پوچھتا ہے ۔
دراز قامت نوجوان پپو کو بتاتا ہے کہ جھاجھو کو پولیس اُٹھا کر لے گئی ہے۔ ایک دفعہ پہلے بھی اُس کے ساتھ ایسے ہی ہوا تھا۔

’’کتنے عرصے کیلئے؟‘‘پپو پوچھتا ہے ۔
’’شاید تین مہینے یا اِس سے بھی زیادہ۔۔۔‘‘ایک نوجوان جواب دیتا ہے۔
’’میں بہت تھک چکا ہوں اب مجھے پارک میں جاکر سونا چاہئیے۔‘‘پپو سر پکڑ کر کہتا ہے ۔
’’بیوقوفی مت کرو‘‘دوسرا نوجوان کہتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی وہ نوجوان اپنے بٹوے سے ایک پیکٹ جس میں نمک کی طرح کا پاؤڈر ہوتا ہے باہر نکالتا ہے۔
’’کرسٹل۔۔۔!!‘‘ پپو کہتا ہے۔
’’میں نے یہ کبھی استعمال نہیں کیا اگر میں استعمال کرلوں تو شاید مجھے جاگنے کا تھوڑا اور موقع مل جائے اور ہو سکتا ہے پھر شاید اُسے پیسے بنانے کا بھی موقع مل جائے۔‘‘پپو پیکٹ دیکھ کر کہتا ہے۔
پپو کا خیال ہے کہ اُن لڑکوں کے ساتھ ٹائم گزارنے پر شاید انہیں بھی کوئی اعتراض نہ ہو۔

اس لیے وہ تھوڑا سا پاؤڈر لے کر بلڈنگ کی آڑ لے لیتا ہے تاکہ سونگھ سکے۔ ویسے بھی اس وقت وہ اکیلا نہیں رہنا چاہتا۔پھر کیا ہوا؟ لنک-33 پرجائیے۔
پپو اُن دونوں کا شکریہ ادا کرتا ہے اور کہتا ہے ’’میں پارک میں آرام کرلوں گا، ویسے بھی کچھ دیر میں روشنی ہو جائے گی، تھوڑا سا آرام کر کے میں بہتر محسوس کروں گا۔‘‘یہ کہتے ہوئے وہ منٹوپارک کی طرف مُڑ جاتا ہے۔

آگے پڑھئے لنک-34 ۔

پوچھتے ہیں وہ کہ پپو کون ہے؟

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی۔۔۔۔۔ کچھ ہماری خبر نہیں آتی

ایدھی سنٹر کی خاتون انچارج پپو کو اس کا کمرہ دکھاتی ہے، پپو بڑے عرصے بعد گہری نیند سوتا ہے۔صبح جب سورج کی کرنیں پپو کے چہرے کو چھوتی ہیں تو وہ اُٹھ کر اپنی آنکھیں ملنا شروع کر دیتا ہے۔ کمرے کی دیواروں پر شاید ابھی حال ہی میں پینٹ کیا گیا ہے اور دروازوں پر گرے ململ کے پردے لٹک رہے ہیں۔ پپو نہانے کیلئے باتھ روم میں جاتا ہے اور اپنے بدن پر موجود کافی دنوں کی میل کچیل اُتارتا ہے۔ جب وہ نہا کر نکلتا ہے تو قالین پر سبز رنگ کے جوتے دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے۔تھوڑی دیر بعد ایک ملازم اسے ناشتہ لگنے کی اطلاع دیتا ہے اور پپو اس کے ساتھ چل پڑتا ہے۔ کمرے میں پپو کو اپنی ہی عمر کے دو لڑکے اور ایک لڑکی ناشتہ کی میز پر براجمان نظر آتے ہیں۔ لڑکی پپو سے اپنا کمرہ استعمال کرنے پر ناراضی کا اظہار کرتی ہے۔ ناشتے کے بعد پپو کے علاوہ سب اپنے بیگ اٹھائے سکول روانہ ہو جاتے ہیں اور پپو’’ اپنے‘‘ کمرے میں چلا جاتا ہے۔

تھوڑی دیر بعد ایک ملازمہ پپو کو انچارج کے دفتر میں لے جاتی ہے جو پپو کے ساتھ بڑی سردمہری کا مظاہرہ کرتی ہے اور پپو سے اس کے والدین کا پتا اور فون نمبر پوچھتی ہے۔ پپو کے اندر اس وقت ٹوٹ پھوٹ ہو رہی ہے اور وہ جسمانی لحاظ سے بھی تھک کر چور ہوچکا ہے، اُس نے بغیر کسی حیل و حجت کے گھر کا پتہ اور ٹیلیفون نمبر دے دیا۔ ایدھی سنٹر کی انچارج خاتون نے پپو کے والدین سے رابطہ کیا اور بتایا کہ پپو اس وقت ان کے پاس ہے۔

پپو کے و الدین دوپہر تک وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ایدھی سنٹر کی انچارج پپو کے والدین کے سامنے پولیس والوں کو بُرا بھلا کہتی ہے اور پپو کے والدین کو بتاتی ہے کہ جو بچے گھروں سے بھاگ جاتے ہیں ان کے مسائل حل کرنے کیلئے والدین کو ماہرین کی مدد، مشاورت اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے جس سے ان میں بچوں کے ساتھ معاملات احسن طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔

پپو کے والدین خاتون سے مزید راہنمائی طلب کرتے ہیں۔

’’وِلنگ ویز لاہور، کراچی اور اسلام آباد والدین کو راہنمائی دینے والا بین الاقوامی شہرت کا حامل ادارہ ہے جو ایک تفصیلی پروگرام کے ذریعے والدین کو مدد فراہم کرتا ہے۔ آپ کے مسئلے میں بھی یقیناًوہ بہت ہی ممدو معاون ثابت ہوگا کیونکہ اس ادارے کی اپنی ہی ایک پہچان ہے اور پورے پاکستان میں یہ واحد ادارہ ہے جو اس سلسلے میں اپنی خدمات فراہم کرتا ہے۔‘‘ وہ عورت تفصیلاً بتاتی ہے۔
لنک-47 پرجائیے۔

وہ ستمگر میرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا

نوئے گل،نالہ دردِ چراغِ محفل۔۔۔۔۔ جو تیری بزم سے نکلا، سو پریشان نکلا

’’ میں وقت پر آیا کروں گا اور دیگر حالات بھی خود ہی ٹھیک کرلوں گا‘‘ پپو صادق پہلوان کویقین دلاتا ہے۔
صادق پہلوان اس کی باتوں پر یقین نہیں کرتا اور وہ غصے میں کچن سے باہر جانے کیلئے مڑجاتا ہے۔

ریسٹورانٹ میں اوباش نوجوانوں کی ایک ٹولی کھانا کھانے آتی ہے۔ صادق پہلوان اُن سے باتیں کرتے ہوئے پپو کو آواز دیتا ہے تاکہ وہ کھانے کا آرڈر لے سکے۔ کھانے کے بعد صادق پہلوان پپو کو ایک ہزارروپے کا بل دیتا ہے تاکہ وہ ان گاہکوں سے بل کی ادائیگی کرواسکے۔ اس کے بعد وہ ایک اور گاہک کی طرف مڑتا ہے جو اُس کو 430 روپے کا بل دیتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد صادق پپو کوجلدی سے تین عدد صاف پلیٹس لانے کو کہتا ہے۔ پپو پلیٹیں لانے کیلئے بھاگم بھاگ باورچی خانے کی طرف جاتا ہے اور بل کی رقم صادق پہلوان کو دینا بھول جاتا ہے۔ فوری بعد پپو سوچتا ہے کہ اگر یہ پیسے وہ اپنے پاس رکھ لے تو صادق پہلوان کو پتا نہیں چلے گا اور میں اسے اپنی ’ٹِپ‘ تصور کروں گا۔ وہ سمجھتا ہے کہ ہوٹل پر لوگوں کے رش کی وجہ سے صادق کی نظر پپو کی اس حرکت پر نہیں پڑی۔ جب تمام گاہک چلے جاتے ہیں تو صادق پپو کو بلاتا ہے اور اُسے اس کی دیہاڑی دیتا ہے۔ پپو دیہاڑی لے کر کہتا ہے ، ’’پہلوان جی ! کل ملیں گے‘‘۔

’’تم سے ایک بات کرنی ہے‘‘ صادق پپو کو مسکراتے ہوئے واپس بلاتا ہے۔
’’اُسے پہلے ہی بہت دیر ہوگئی ہے‘‘ پپو جواباً کہتا ہے۔
’’ایک منٹ سے زیادہ نہیں لوں گا‘‘ صادق یقین دلاتاہے اور اسے بیٹھنے کو کہتا ہے۔
’’تم وہ پیسے اپنے پاس رکھ سکتے ہو‘‘ صادق پہلوان پراسرار لہجے میں کہتا ہے۔
’’کونسے پیسے؟‘‘ پپو کی پیشانی پسینے سے شرابور ہو جاتی ہے۔
’’میں جھوٹ پسند نہیں کرتا‘‘ ’’صادق نرم لہجے میں سمجھاتا ہے۔ آج رات میں نے تمہیں ایک موقع دیا تھا جس میں تم اپنی فطرت کا اظہار مثبت اور منفی دونوں طریقوں سے کر سکتے تھے۔ یہ محض 430 روپے کی بات ہے، تمہارا کیا خیال ہے یہ بال میں نے دھوپ میں سفید کئے ہیں، میں بہت پرانا کاروباری بندہ ہوں اور اگر میں چاہوں تو تم کو پولیس کے حوالے کردوں لیکن میں صرف تم کو سمجھانا چاہتا ہوں‘‘۔

’’مجھے صرف اس بات سے محبت ہے کہ جب انسان کو کوئی بڑا موقع ملے تو وہ ضرور اُن سے بھرپور فائدہ اٹھائے اور اپنی صلاحیتوں کو منوائے۔ یہ تمام موقعے جو ہمیں زندگی میں ملتے ہیں اُن کے ذریعے ہم اپنی پہچان کروا سکتے ہیں۔ کبھی کبھار ہم غلط راستے پر بھٹک جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا جبکہ لوگ خاموشی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں، اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم انہیں تماشانہ دکھائیںیا نا!۔ مثال کے طور پر اگر میں لوگوں کی عزت نہ کروں، اُن سے پیسے بٹورلوں اور انہیں اچھا کھانا نہ دوں، انہیں الم غلم کھلا دوں تو ضروری نہیں کہ وہ بولیں، ضروری نہیں کہ وہ لعنت ملامت کریں، ہوسکتا ہے کہ لوگ کچھ کہنے کی بجائے پھرکبھی واپس میرے ہوٹل میں نہ آئیں اور اس سے میں گم سم اور پریشان ہی ہوں گا۔‘‘ صادق پپو کو سمجھانے کیلئے پورے درد دل سے بات کرتارہا۔

’’اک ذرا سی بات سے پتا چل جاتا ہے کہ کوئی کس قسم کا انسان ہے؟ اِس قسم کا انسان ہے یا اُس قسم کا انسان ہے۔ اب مجھے تمہارے بارے اس راز کا پتا چل گیا ہے اور یہ جاننے کیلئے میں سمجھتا ہوں کہ 430 روپے کی قیمت بھی کم ہے یہ تم ہی رکھ لو، بس اب تم اپنی راہ لو اوریہاں واپس آنے کی ہرگزتکلیف نہ کرنا

پپو نے کسی قسم کی وضاحت کرنے کی کوشش نہ کی کیونکہ وہ خود بھی واپس نہیں آنا چاہتا تھا۔ لہٰذا وہ خاموشی کے ساتھ وہاں سے چل دیا۔ اس نے صادق کی نصیحتوں کو سُنی ان سُنی کر دیا، وہ اب سخت دل کا مالک بن چکا تھا۔ اُس کی ظاہری حالت اور شخصیت بالکل بدل چکی تھی۔ وہ ایک چکنا گھڑا بن چکا تھا۔

پپو سوچتا ہے کہ شبو کس حالت میں ہوگی؟ وہ ہیومن رائٹس کے دفتر شبو سے ملنے جاتا ہے، ملاقات کے دوران شبو اُسے ایک علیحدہ کمرے میں لے جاتی ہے۔ پپو اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا اور شبو کو بانہوں میں لے لیتا ہے۔
’’میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہوں، مجھ سے دُور رہو‘‘ شبو کے لہجے میں سردمہری ہوتی ہے۔
پپو یہ بات سن کرحیران رہ جاتا ہے۔ بچہ پیدا کرنے کے حوالے سے اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔ یہ خبر سن کر وہ سُن ہوجاتا ہے، تاہم شبو کی سردمہری سے اُس کو دُکھ پہنچتا ہے۔

’’تمہیں کیسے معلوم ہے کہ یہ بچہ میرا ہے‘‘ پپوڈھٹائی سے پوچھتا ہے۔
’’کیا تم مجھے کوئی فاحشہ عورت سمجھتے ہو؟‘‘ شبو افسردہ لہجے میں سوال کرتی ہے۔’’میں تمہیں کئی دنوں سے تلاش کر رہی تھی لیکن کوئی رابطہ ہی نہیں ہو پا رہا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں؟ ‘‘ شبو بات کو آگے بڑھاتی ہے۔
’’میری بات غور سے سنو! تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ بچہ کس کا ہے، اب حالات کا سامنا بھی کرو‘‘ شبو غصے سے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر جاتے ہوئے کہتی ہے۔

پپو باتھ روم میں چلا جاتا ہے اور کئی دنوں کی میل اپنے جسم سے اُتارتا ہے۔نہاتے نہاتے پپو سوچتا ہے کہ کیا میں باپ بننے والا ہوں؟ پپو تصور میں ایک اچھا مستقبل دیکھتا ہے جس میں اس کے ابو، امی، بے بی، اپارٹمنٹ، نوکری اور محبت شامل ہوتی ہے۔ پھر پپو کو اپنے بچپن کے دن یاد آتے ہیں جب وہ سکول جایا کرتا تھا اور اپنے استاد کو ہاتھ اٹھا کر سوالات کے جواب دینے کی کوشش کرتا تھا۔ وہ سوچتا ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا؟اور وہ گھر سے نکل کر یہاں تک کیوں پہنچا؟ اب اُس کی منزل مقصود کیا ہوگی؟ وہ پریشانی کے عالم میں کھو سا جاتا ہے۔اسے سب کچھ ایک ڈراؤنا خواب لگتا ہے۔

پپو اسی پریشانی کے عالم میں ہیومن رائٹس کے دفتر سے نکل کر اپنے کمرے میں آجاتا ہے اوراندھا دھند نشہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔مسلسل نشہ اس کا دماغ ماؤف کر دیتا ہے اور وہ سوچنے سمجھنے اور تجزیہ کرنے کے قابل نہیں رہتا اور اپنے ہوش سے بے گانہ ہو کر ایک طرف لڑھک جاتا ہے۔

شبو کی اس حالت کے پیش نظر ہیومن رائٹس کا انچارج اس کو کسی دوسرے ادارے میں منتقل کر دیتا ہے۔ شبو پپو کیلئے یہ پیغام چھوڑتی ہے کہ اگر وہ اس کے بارے کوئی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے تو ہیومن رائٹس کے دفتر سے رجوع کرسکتا ہے۔

کچھ دنوں بعد پپو شبو کے بارے میں ہیومن رائٹس کے ایک نمائندے سے پوچھتا ہے۔ وہ جھوٹ بولتا ہے کہ وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ پپو اُسے دھمکی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ زیادہ چالاک بننے کی کوشش مت کرو اور مجھے صاف صاف بتاؤ کہ شبو کہاں ہے؟

پپو اونچی آواز میں استقبالیہ پر موجود لڑکے کو بلاتا ہے اور اس سے شبو کے بارے میں پوچھتا ہے۔ استقبالیہ پر موجود لڑکا بتاتا ہے کہ وہ شبو کے بارے اسے کوئی معلومات نہیں دے سکتا کیونکہ یہ ادارے کی پالیسی کے خلاف ہے۔ پپو اس کے اس ناروا رویے پر شدید غصے میں آجاتاہے اور دفتر میں کافی غل غپاڑہ اور تھوڑ پھوڑ کرتاہے۔وہ لڑکا پپو کو سمجھاتا ہے کہ ’’تم جتنا مرضی چیخو چلاؤ، ہم تمہیں شبو کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے، ہماری مجبوری سمجھو‘‘۔ پھر وہ پپو کے دونوں کندھے مضبوطی سے پکڑ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے، اور ہاں! میری بات غور سے سنو!

جب تمہارا بچہ اس دنیا میں آئے گا تو وہ بھی ہم سے اپنے والد کے بارے میں پوچھے گا کہ اُس کا باپ کون ہے؟ وہ کیا کرتا ہے؟ اس کا کاروبار کیا ہے؟ اس کی زندگی کا سٹائل کیا ہے؟ کیا ہم اسے کوئی معقول جواب دے سکیں گے؟ کیا ہم یقین سے کہہ سکیں گے کہ اس کا باپ کون ہے؟

ہماری زبان چپ رہنے کی عادی ہے، کئی دفعہ یہ بولنے سے انکار کردیتی ہے ہماری کچھ مجبوریاں ہیں۔ کیا ہم اسے بتا سکتے ہیں کہ تم نشہ کرنے کیلئے لوگوں سے پیسے چھینتے ہو؟ کھانا کھانے کیلئے داتا دربار کے چکر لگا تے ہو؟ تم کسی کے ساتھ بھی سو سکتے ہو! تم ایک جسم فروش نوجوان ہو جسے پاکیزگی اور غلاظت کے درمیان کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا؟ کیا ہم اسے بتا سکتے ہیں؟ ضرروی نہیں کہ تم ہی اس کے باپ ہو؟ ہوسکتا ہے کہ وہ محض ایک حرامی ہو! ان گلیوں میں کیڑے مکوڑوں کی طرح پلنے والے بہت سے دوسرے حرامی لوتھڑوں کی طرح ایک اور! پپو نڈھال ہوکر زمین پر گرپڑا اور آنکھیں بند کرلیں۔

تمہیں چاہیے کہ خدا سے معافی مانگو اور اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرو کہ تم آئندہ کیا کرنا چاہتے ہو؟ استقبالیہ پر موجود لڑکا پپو کو سمجھاتا ہے۔

پپو شرمندہ ہوتا ہے اور اُس سے معذرت کرتا ہے اور اُسے بتاتا ہے کہ وہ نشہ میں دھت تھا اس لیے اس سے یہ غلطی ہوگئی۔ لنک-35 پر جائیے۔

پپو ہنگامہ آرائی جاری رکھتا ہے۔ لنک-36 پر جائیے۔

’’میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا‘‘

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے …….. کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

’’اچھا تو تم اب بے گھر ہو؟‘‘ صادق پپو کو طنزیہ لہجے میں کہتا ہے۔
پپو صادق کو پوتنی دا کے سارے کرتوت بتا دیتا ہے اور اسے موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی وجہ سے پولیس نے پپو کے کمرے پر چھاپہ مارا ہے اور پپو بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگا ہے۔
’’اچھا! تو تم بے گھر ہو؟‘‘ صادق پپو کی بات سن کر پریشانی کا اظہار کرتا ہے۔

صادق چونکہ پپو کے کام سے مطمئن ہوتا ہے اس لیے وہ پپو کو بھاٹی میں موجود اپنی ایک حویلی کے چھوٹے سے کمرے میں رہنے کی جگہ دے دیتا ہے اور اس سے بغیر سیکورٹی کے -/500 روپے ماہانہ کرایہ طے کر لیتا ہے۔ اس حویلی کی دیکھ بھال صادق پہلوان کے بھائی اچھو پہلوان کے سپرد ہوتی ہے۔

کچھ دن یونہی گزر جاتے ہیں، پپو کا ذہن مختلف خیالات کی آما جگاہ بنا رہتا ہے۔ وہ اس ریسٹورینٹ سے بھی بھاگ جانا چاہتا ہے پھر وہ سوچتا ہے کہ یہ جگہ پھر بھی ان جگہوں سے تو بہتر ہی ہے جہاں منشیات فروشوں اور طوائفوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔

کسی ایک خیال کے ساتھ بھی پپو زیادہ دیر مطمئن نہیں رہتا۔ باری باری اپنے کمرے کی دو کھڑکیوں کے سامنے جا بیٹھتا ہے اور خیالوں کے تانے بانے بنتا رہتا ہے۔ دو میں سے ایک کھڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا ہے۔ یہ کھڑکی پپو کو خاص طور پر پسند ہے کیونکہ اس کھڑکی سے اس کی نظر سامنے والی کھڑکی پر پڑتی ہے جہاں گڈو نامی لڑکی اچھلتی کودتی نظر آتی ہے۔ اب بھی وہ اسی کھڑکی کے سامنے بیٹھا خیالوں میں مگن ہے ۔ پپو اپنی زندگی کے بارے بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ پتہ نہیں آنے والا کل اس کیلئے کیا فیصلہ کرے گا؟ ایک یہی خیال اسے چین نہیں لینے دیتا۔ بے یقینی کی کیفیت اسے ہمیشہ تنگ کرتی تھی۔ اُسے ہر چیز کافوری جواب چاہئے تھا، جب بھی اس کے ابا کسی بات پر کہتے کہ ’’اچھا! سوچ کر بتاؤں گا‘‘۔ تواسے ہمیشہ بہت غصہ آتا تھا۔

صادق کی بیوی عالیہ، پپو کو ضروریات زندگی کا تمام سامان فراہم کرتی ہے۔ عالیہ پپو اور شبو کی کہانی سے بہت متاثر ہوتی ہے۔ عالیہ، صادق سے شبو کو بھی نوکری دینے کی سفارش کرتی ہے۔ وہ پپو سے کہتی ہے کہ وہ اس کی کہانی پر مبنی ایک فلم بنائے گی جس میں پپو کا کردار فواد خاں اور شبو کا کرداروینا ملک ادا کرے گی۔

پپو ہیومن رائٹس کے دفتر میں جاتا ہے اور شبو کا پوچھتا ہے۔ وہاں کا نمائندہ اس کو کسی بھی قسم کی معلومات دینے سے انکار کر دیتا ہے ۔پپو اصرار کرتا ہے اور ڈھٹائی سے وہیں بیٹھا رہتا ہے۔ کچھ دیر بعد پپو کو شبو کی آواز سنائی دیتی ہے۔

’’تم کدھر سے آن ٹپکے ہو؟‘‘ وہ دوسری منزل سے جھانکتے ہوئے کہتی ہے۔ وہ ایک شہزادی کی طرح لگ رہی ہوتی ہے۔
’’میں تمہیں لینے آیا ہوں‘‘ پپو اُسے بتاتا ہے۔
’’کیا مذاق سمجھ رکھا ہے؟ یہ مرکز ہے ، تمہاری خالہ جی کا گھر نہیں، میں یہاں خوش ہوں اور تمہارے بغیر رہ سکتی ہوں۔‘‘
’’لیکن میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا! میں تمہیں ساتھ لے کر ہی جاؤں گا‘‘۔ ’’کیا لُٹ پڑی ہوئی ہے؟ کیسے لے کر جاؤ گے؟ میں تم پر ہر گز بھروسہ نہیں کر سکتی۔‘‘

پپو مسلسل منت سماجت کرتا رہا، آخرکار شبو کا دل پیسج گیا۔
’’اگر تم اچھی زندگی گزارنے کا وعدہ کرو تو میں سوچتی ہوں۔ تمہیں تو نشے کے علاوہ کسی چیز سے بھی دلچسپی نہیں، کیا میں اتنی پاگل ہوں کہ ایک نشئی کے ساتھ زندگی گزارنے کا سوچوں؟ اور یہ جو تم منشیات کا دھندہ کرتے ہو، اس میں میں تمہارا ساتھ تو ہر گز نہیں دے سکتی‘‘۔ شبو نے حتمی فیصلہ سنا دیا۔

’’میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ نشے کو کبھی ہاتھ نہیں لگاؤں گااور منشیات کا دھندہ تو میں کبھی سوچ کر بھی نہیں کر سکتا۔ مجھے صرف تمہاری ضرورت ہے۔ میرا دنیا میں تو کوئی اور ہے بھی نہیں، اگر تم بھی میرا ساتھ نہیں دے سکتی تو پھر اچھا ہے کہ میں مر ہی جاؤں۔‘‘

پپو کی آنکھوں میں آنسو ڈُبڈبانے لگے۔
’’بہت اچھا ہے!‘‘ چلو پھر قیامت کوہی ملیں گے۔ شبو نے چڑ کر جواب دیا۔
’’تم تو پتا نہیں مروگے کہ نہیں ، لیکن تم نے کوئی بھی غلط حرکت کی تو پھر تمہیں میری لاش ہی ملے گی۔‘‘

سکیورٹی گارڈ یہ بات سُن کر شبو کو کھڑکی بند کرکے واپس جانے کو کہتا ہے۔ شبو اُس کو ہوائی بوسہ دیتی ہوئے کھڑکی بند کرتی ہے اور غائب ہو جاتی ہے۔ پپو دروازے کے قریب بے چینی سے شبو کا انتظار کرنے لگتا ہے۔ سیکورٹی گارڈ اس کو مرکز سے باہر نکال دیتا ہے۔

’’شاید وہ اپنا سامان پیک کر نے اور کھانے پینے کیلئے چیزیں اکٹھی کر رہی ہو گی‘‘ پپو سوچتا ہے۔ اس خیال کے ساتھ پپو دوبارہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، استقبالیہ پر موجود لڑکا بادل نخواستہ اس کو اندر لابی میں آنے دیتا ہے۔ اس دوران شبو آ جاتی ہے۔ شبو کے ہاتھ میں تھیلے نظرآتے ہیں۔ پپو فوراً سوچتا ہے کہ وہ اُس کے ساتھ چلنے کیلئے آئی ہے اور تھیلوں میں یقیناًاس کا ساز وسامان ہے۔ ایک ہیومن رائٹس کی نمائندہ جس کا نام ماجدہ ہے شبو سے کہتی ہے، ’’اگرچہ میں تمہاری ماں نہیں ہوں لیکن میں چاہتی ہوں کہ تم یہیں رہو‘‘۔ شبو نہیں مانتی۔ ماجدہ کچھ اصرار کرتی ہے اور پھر اپنا سا منہ لے کراندر کی جانب چل پڑتی ہے۔ شبو آبدیدہ ہو جاتی ہے اور ماجدہ کے پیچھے پیچھے مرکز کے اندر چلی جاتی ہے۔ پپو کچھ لمحے پریشانی کے عالم میں گزارتا ہے۔ اندر شبو اور ماجدہ کے درمیان کچھ جذباتی تبادلہ خیالات ہوتا ہے۔ شبو اسے اپنی مجبور ی بتاتی ہے کہ وہ پپو کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ ماجدہ خاموش ہو جاتی ہے اور دعا دے کر اسے رخصت کرتی ہے۔ شبو باہر آتی ہے، اندر دیکھتی ہے کہ پپو کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی ہوتی ہیں۔ دل ہی دل میں شبو خوش ہوتی ہے اور بیگ پپو کو پکڑاتی ہے۔ دونوں ہیومن رائٹس کے دفتر سے باہر نکل جاتے ہیں۔

’’میں نے تمہاری بہت کمی محسوس کی‘‘ شبو پپو سے کہتی ہے۔
دونوں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا اظہار کرتے ہیں۔
کچھ دیر تک دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر ڈائیلاگ بولتے ہیں۔ پھر شبو اچانک سنجیدہ ہو جاتی ہے۔

’’کیا وہ ابھی تک منشیات فروشی کرتا ہے؟‘‘ شبو سوال کرتی ہے ۔ پپو اس کی بات کا جواب نہیں دیتا جس پر شبو کچھ پریشان ہو جاتی ہے۔ پپو شبو کو لے کر صادق پہلوان کی حویلی آ جاتا ہے، اپنی جیب سے چابی نکال کر تالا کھولتا ہے اور بڑے پیار سے شبو کو اندر آنے کی دعوت دیتا ہے۔

’’کیا یہ کسی لڑکی کا گھر ہے؟‘‘ شبو سوال کرتی ہے۔
’’‘‘ہرگز نہیں! تم اتنی شکی مزاج کیوں ہو؟
شبو کھسیانی ہنسی ہنستی ہے۔ پپو شبو کو صادق پہلوان اور اس کی بیوی عالیہ کے بارے سب کچھ بتا دیتا ہے۔ اس دوران صادق اور عالیہ کمرے میں آتے ہیں اور شبو سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔پھر وہ شبو کو ہوٹل میں نوکری دینے کی خوشخبری سناتے ہیں۔ اس پر شبو حیرانی کے ساتھ ساتھ خوشی کااظہار بھی کرتی ہے۔

کمرے میں بہت سردی ہوتی ہے۔ ٹوٹے ہوئے شیشے کی جگہ پپو نے کارڈ بورڈ لگا دیا تھا ویسے بھی اب اسے گڈو کا ڈانس دیکھنے کی ضرورت نہ تھی۔شبو بار بار اسے چولہا ٹھیک کروانے کیلئے کہتی لیکن پپو نے سنی ان سنی کر دی، اس کے خیال میں چولہا ٹھیک کروانے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ کھانا دونوں ریسٹورنٹ سے ہی کھا لیتے تھے۔

پپو کا سب سے بڑا مسئلہ نشے کا ہے۔ کام کرنے کے بعد وہ اکثر نشہ کرتا ہے جس سے اس کی بوریت دور ہو جاتی ہے۔ پپو کی نشہ کرنے کی عادت شبو کو بہت ناپسند ہے۔ وہ ہر وقت پپو سے اس بارے گِلہ شکوہ بھی کرتی ہے۔ تاہم وہ پپو کے نشے بارے عالیہ کو بتانا بھی نہیں چاہتی ہے۔ عالیہ ان دونوں کو ہیر رانجھا سمجھتی ہے اور شبو یہ ہر گز نہیں چاہتی کہ اُس کا یہ بھرم ٹوٹ جائے۔
ایک دن شبو 14 انچ کا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی لے کر آتی ہے تاکہ پپو کی بوریت ختم ہو سکے لیکن اس سے بھی کوئی خاص فائدہ نہ ہوا، پپو اسی طرح نشہ کرتا رہا۔

ایک دن ریسٹورنٹ سے واپسی پر پپو کو پوتنی دا مل جاتا ہے۔ حال چال پوچھنے کے بعد پپو پوتنی دا سے نشہ کرنے کیلئے کچھ مانگتا ہے۔ پوتنی دا جواب میں اس سے رہنے کی جگہ مانگتا ہے۔ ’’پپو پوچھتا ہے کہ کون کون رہنا چاہتا ہے‘‘؟
پوتنی دا جواب دیتا ہے۔
میں اور ’گلابو‘ رہنا چاہتے ہیں۔
پپو حیرانگی سے بجلی بارے پوچھتا ہے تو پوتنی دا بتاتا ہے کہ اس نے بجلی کو چھوڑ دیا ہے۔ پپو اُسے بتاتا ہے کہ حویلی صادق پہلوان کی ہے اور وہ اس کو وہاں رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

پوتنی دا پپو کو دھمکی دیتا ہے کہ اگر پپو نے اس کو ساتھ نہیں رکھا تو وہ پپو کو نشہ کرنے کیلئے بھی کچھ نہیں دے گا اور اسے اس حویلی میں بھی ٹکنے نہیں دے گا۔ پپو پریشان ہو جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ پوتنی دا کو اچھو پہلوان سے ملوائے تاکہ اس کے رعب دبدبے سے پوتنی دا ڈر جائے اور حویلی میں رہنے کا خیال دل سے نکال دے۔
آخر کار پپو نشے اور دھمکی سے مرعوب ہو کر پوتنی دا اور گلابو کو اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دے دیتا ہے ۔ لنک-37 پر جائیے۔
پپو ’سٹینڈ‘ لیتا ہے تاکہ پوتنی دا اپنے ارادے سے باز آ جائے؟ پپو اسے مرعوب کرنے کیلئے اچھو پہلوان سے ملوائے گا۔ لنک-38 پر جائیے۔

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے

ہوئی مدت کہ غالب مر گیا، پر یاد آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہر اِک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا؟

چہرے کو مفلر سے چھپا کر، تھوڑا سا جھک کر، پپو نہاری ہاؤس سے باہر نکلتا ہے اور ’نئی زندگی‘ کی سفید ویگن کی طرف بڑھتا ہے ایک سینڈوچ کیلئے اسے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنا باکل اچھا نہیں لگتا۔ اس کے ذہن میں چاروں لڑکوں کا خوف بدستور بڑھ رہا ہے۔ احتیاطً پپو نے اپنا چہرہ دوسری طرف کر رکھا ہے۔ جیسے ہی پپو اوباش نوجوانوں کے قریب سے گزرتا ہے تو یکدم وہ مڑ کر اُن کی طرف دیکھتا ہے کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں یا نہیں؟ بظاہر وہ لڑکے مستی کر رہے تھے اور پپو سے بے خبر تھے۔ اُن سے مطمئن ہو کر پپو ویگن کی طرف بڑھتا ہے اور ڈرائیور وسیم کو متوجہ کرنے کیلئے شیشے پر ٹک ٹک کرتا ہے ۔ اچانک پپو کو سر پر زور کا اِک مکہ لگتا ہے اور اس کے سر سے لہو کی دھار نکلتی ہے۔ یہ فولادی مکہ تھا جو اُن چاروں لڑکوں میں سے ایک خالد نامی لڑے کا تھا۔ وہ لڑکا پپو کے بازو جکڑ لیتا ہے اور غصے سے گالی بکتا ہے: ’’بہن۔۔۔؟‘‘

’’یہی ہے وہ بہن۔۔۔! جس نے تین دن پہلے میرا پرس چھینا تھا۔ مارو اس کمینے کو…..‘‘ وہ اوباش لڑکا اپنے ساتھیوں کی طرف مڑتا ہوا پپو پر الزام لگاتا ہے۔ باقی تین لڑکے پلک جھپکتے ہی پپو کے سر پرآن پہنچتے ہیں۔ دو لڑکے پپو کی تلاشی لیتے ہیں اور پپو کی ہپ پاکٹ میں سے پرس برآمد کرتے ہیں، پرس میں کوئی پیسہ نہیں لیکن خالد کا شناختی کارڈ اور دو کریڈٹ کارڈ اسے مل جاتے ہیں۔
’’بہن….چور …..کون ہو تم؟‘‘ پپو کے چہرے پر زور کا تھپڑ پڑتا ہے۔
’’تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ پپو پوچھتا ہے اور بہت پریشان لگتا ہے۔

اچانک بادل گرجتے ہیں اور بارش شروع ہو جاتی ہے۔ بارش اتنی تیز ہے کہ چاروں اطراف اکٹھے ہوئے لوگ بارش سے بچنے کیلئے دوڑ لگا دیتے ہیں، اتنی دیر میں وہ چاروں لڑکے پپو کو زمین پر لٹا کر اُس پر گھونسوں اور مکوں کی بارش شروع کر دیتے ہیں جس سے پپو کے بھیگے بدن کا کوئی بھی حصہ بچ نہیں پاتا اور آخر کار وہ ضربوں کی تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش ہو جاتا ہے لیکن چاروں لڑکے بے ساکت شکار پر بھیڑیوں کی مانند اپنے حملے جاری رکھتے ہیں۔ شیرنی نہاری ہاؤس کی کھڑکی سے یہ درد ناک منظر دیکھ رہی ہوتی ہے لیکن باہر نہیں آتی۔ نئی زندگی کی ویگن میں سے شبو باہر آنے

کی شدید کوشش کر رہی ہے لیکن ڈرائیور وسیم اسے بازو میں جکڑ کر ایک پنتھ دو کاج کے فارمولے پر عمل کر رہا ہے، پپو کو ادھ موا چھوڑ کر چاروں لڑکے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ہیں۔ دوسری گاڑی کی اوٹ میں چھپا ایک ’’فرض شناس‘‘ پولیس والا ’’جرت دکھاتا ہے!‘‘ اور خالد کی گاڑی کا نمبر نوٹ کر لیتا ہی پھر اپنے ساتھی پولیس والے کو گاڑی کے نیچے سے باہر نکالتا ہے اور کہتا ہے۔ ’’بزدل آدمی باہر نکل آؤ، وہ لڑکے اب جا چکے ہیں‘‘۔

بادل ایک بار پھر زور سے گرجتے ہیں لیکن اب کی بار آسمان کی آنکھ سے کوئی آنسو نہیں ٹپکتا۔ بادل خشک ہو چکے ہیں۔ لوگ پھر سے جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اب دونوں پولیس والے موقع واردات پر پہنچ چکے ہیں۔ ڈرائیور وسیم بھی پہنچ چکا ہے۔ شبو اس سے شدت سے لپٹ کر رو رہی ہے اور دھائی دے رہی ہے کہ ہر انسان دوست دل دوست کے بچھڑنے کا غم محسوس کر سکتا ہے۔ جیو نیوز کی کیمرہ ٹیم سارا منظر فلما رہی ہے۔ ہر کوئی بڑھ چڑھ کر کچھ کرنا چاہتا ہے۔

ادھر فیصل آباد میں پپو کی ماں ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی ہے۔ اس کے سینے میں شدید درد اُٹھتا ہے، یکدم وہ ایک بڑی قے کرتی ہے۔ سب اہل خانہ اس کے اردگرد اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد پپو کی ماں ہسپتال کی طرف رواں دواں ہے اور پپو نئی زندگی کی ویگن میں پولیس اسٹیشن کی طرف: کیونکہ وہ اس دنیا کی علاج گاہوں سے بے نیاز ہو چکا ہے۔ شبو بلک بلک کر رو رہی ہے ابھی وہ اس حقیقت سے واقف نہیں کہ پپو اس دنیا فانی سے کوچ کر گیا ہے۔

خالد ٹیلی فون پر اپنے والد کو ساری کہانی بتاتا ہے کیونکہ گاڑی تیزی سے بھگاتے ہوئے اس کی نظر مختار پولیس والے پر پڑ چکی تھی جو اسے پہچانتا تھا۔ خالد کے باپ نے اسے تسلی دی، ’’او! خیر ہے، تم بس گلبرگ والے گھر جاؤ، میں سب سنبھال لوں گا، ابھی چیف منسٹر سے ملتا ہوں۔‘‘ آگے پڑھنے کیلئے لنک-47 پر جائیے۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

اُس رات شیرنی پپو کو ہیروئن کا ٹیکہ لگانے کو کہتی ہے۔
’’ اگر تم مسلسل ہیروئن کا ٹیکہ لگاتی رہو گی تو کیا تم ایڈز کا شکار نہیں ہو جاؤ گی؟‘‘ پپو شیرنی سے پوچھتا ہے۔

’’ایڈز صرف کسی دوسرے شخص کی استعمال شدہ سوئی سے ہوتی ہے، کل کلینک سے نئ سوئیاں منگوا لیں گے‘‘ شیرنی جواب دیتی ہے۔
’’کیا سوئی مسلسل بازو میں رہنے سے تمہیں تکلیف نہیں ہوتی‘‘ پپو پھر اس سے سوال کرتا ہے۔

’’کیوں؟ کیا تم مجھے روزانہ نشہ کرتے ہوئے نہیں دیکھتے؟۔۔۔ اب تو میں عادی ہو چکی ہوں۔‘‘ شیرنی مسکراتے ہوئے جواب دیتی ہے۔دونوں باتیں کرتے کرتے سو جاتے ہیں۔ صبح اُٹھ کر دونوں ناشتے کیلئے جیلے کی دوکان پر جاتے ہیں اور نان چنے کا ناشتہ کرتے ہیں۔ اسی دوران وہ دونوں بہت سی علاقائی خبریں سنتے ہیں۔

اُنہیں پتا چلتا ہے کہ بلا قصائی جیل سے باہر آ چکا ہے اور دوبارہ گوالمنڈی پہنچ چکا ہے۔ آدھے سے زیادہ نوجوان لڑکے نئے ہوتے ہیں اور بلا قصائی کو نہیں جانتے۔ پرانے ساتھی بلا قصائی کو دیکھ کر خوش نہیں ہوتے اور پریشان ہو جاتے ہیں۔ بلا قصائی اپنے ساتھیوں سے گلہ کرتا ہے کہ تم لوگوں کی آنکھیں بدل گئی ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت چاچا کے ساتھ گزارنے لگا۔

ایک نئے لڑکے کو اس خاندان کا ممبر بنانے کیلئے چاچا کے سامنے لایا جاتا ہے۔ اسی طرح شیرنی بھی ایک نئی لڑکی کو ممبر بنانے کیلئے لاتی ہے جس کو دیکھ کر تمام لڑکے آپس میں لڑنے لگتے ہیں ۔ بلا قصائی ان کو ڈانٹ کر کہتا ہے کہ یہ لڑکی چاچا کی سرپرستی میں رہے گی۔

چاچا اس چودہ سالہ نئی لڑکی کے ساتھ ہر رات گزارتا ہے اور کوئی بھی شخص اس بارے میں بات نہیں کرتا۔ پپو بھی اس معاملے پر خاموشی کا اظہار کرتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کیلئے کوئی مسئلہ بنے۔

ہے۔ دو راتوں کے بعد ایک اور گھر سے فرار ہونے والی سولہ سالہ لڑکی چاچا کے بستر پر ہوتی ہے اور وہ بھی کچھ نہیں کہہ پاتی اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔

اس فٹ پاتھی خاندان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور اب پپو سینئر ممبر بن چکا ہوتا ہے، اس کی اہمیت بھی اب پہلے کی نسبت زیادہ ہو جاتی ہے۔ چاچا نہیں چاہتا کہ ’نئی زندگی‘ کے لوگ اُن کے پاس آئیں اس لیے وہ پپو اور پوتنی دا کو کہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ لوگ ادھر آئیں تم دونوں جا کر اُن سے کھانا لے آؤ۔ عمران جو نئی زندگی کا نمائندہ ہے اور جس نے سیاہ رنگ کی لیدر جیکٹ پہنی ہوئی ہے، وہ ان دونوں کو کھانا دینے سے انکار کر دیتا ہے، وہ دونوں مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے واپس آ جاتے ہیں۔

وہ لڑکی بھی کسی قسم کااحتجاج نہیں کرتی اور حاملہ ہونے کے بعد ’نئی زندگی‘ چلی جاتیہے۔ دو راتوں کے بعد ایک اور گھر سے فرار ہونے والی سولہ سالہ لڑکی چاچا کے بستر پر ہوتی ہے اور وہ بھی کچھ نہیں کہہ پاتی اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔

اس فٹ پاتھی خاندان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور اب پپو سینئر ممبر بن چکا ہوتا ہے، اس کی اہمیت بھی اب پہلے کی نسبت زیادہ ہو جاتی ہے۔ چاچا نہیں چاہتا کہ ’نئی زندگی‘ کے لوگ اُن کے پاس آئیں اس لیے وہ پپو اور پوتنی دا کو کہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ لوگ ادھر آئیں تم دونوں جا کر اُن سے کھانا لے آؤ۔ عمران جو نئی زندگی کا نمائندہ ہے اور جس نے سیاہ رنگ کی لیدر جیکٹ پہنی ہوئی ہے، وہ ان دونوں کو کھانا دینے سے انکار کر دیتا ہے، وہ دونوں مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے واپس آ جاتے ہیں۔

چاچا کی دھمکیوں کے باوجود نووارد لڑکے اور لڑکیاں ’نئی زندگی‘ کے ادارے کا رُخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں سے کھانا، نہانے کو پانی اور پہننے کو کپڑے ملتے ہیں۔ جب ایک دفعہ ’نئی زندگی‘ کے نمائندے لڑکوں کو قابو کر لیں تو پھر وہ انہیں نہیں چھوڑتے۔ پپو نہانے کیلئے نئی زندگی جاتا ہے اور عمران کو گوالمنڈی کی زندگی کے بارے کچھ راز بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ لفنگوں کو کھانا نہ دیا کرے کیونکہ یہ لڑکے سارا دن غنڈہ گردی کرتے ہیں، لوگوں کو پیسوں سے محروم کرتے ہیں اور نشہ بھی کرتے ہیں لیکن تمام سہولیات ’نئی زندگی‘ سے لیتے ہیں۔

عمران اعتراف کرتا ہے کہ یہ تمام باتیں ٹھیک ہیں لیکن ان سہولیات کے ذریعے ہم بہت سے ایسے بچوں کی زندگیوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ابھی مکمل طور پر اپنے رستے سے نہیں بھٹکے ہوتے۔ کیا تم ایک ایسی مثال نہیں ہو جو اِدھر اُدھر مارا مارا پھر رہا تھا؟ ہم کبھی بھی اپنے مقصد سے نہیں ہٹتے اور یہ بچے بھی ہمارے دل کی دھڑکن ہوتے ہیں اور کوئی بھی بچہ ایسا نہیں ہوتا جو ٹھیک نہ ہو سکے۔ ایک اور لڑکا جو نہانے کیلئے نئی زندگی آیا ہوتا ہے عمران کو بتاتا ہے کہ چاچا لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔ عمران جواب میں کہتا ہے کہ تمہیں اپنی فکر کرنی چاہئیے۔

پپو عمران کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتا ہے لیکن اس دوران اس کے نہانے کی باری آ جاتی ہے اور جیسے ہی وہ نہا کر نئی زندگی سے باہر نکلتا ہے اسے نشے کی طلب ہوتی ہے۔
چند دن کے بعد پولیس گوالمنڈی میں موجود ان کے اڈے پر چھاپہ مارتی ہے اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو دارالشفقت بھیج دیتی ہے۔ اُن میں وہ لڑکی بھی ہوتی ہے جو آج کل چاچا کے ساتھ رہ رہی ہوتی ہے۔ اگلے دن وہ بچے پھر واپس آ جاتے ہیں لیکن اُن میں وہ لڑکی شامل نہیں ہوتی۔

ایک دن پوتنی دا وہاں پر موجود ایک لڑکے کے سامان کی چوری کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے۔ بِلاّ قصائی اور وہ لڑکا جس کی چوری ہوئی ہوتی ہے پوتنی دا کو چاچا کے پاس لے کر آتے ہیں۔ چاچا تمام واقعات سنتا ہے اور پوتنی دا کی طرف دیکھتا ہے، پوتنی دا اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہہ پاتا۔ چاچا فیصلہ سناتے ہوئے وہاں پر موجود لڑکوں کو کہتا ہے کہ پوتنی دا کو اتنا مارو کہ اس کو نانی یاد آ جائے۔ چاچا کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ وہاں پر موجود سب لڑکے اُس پر پل پڑتے ہیں اور اس کی جوتوں، بوتلوں اور لکڑی سے ٹھیک ٹھاک دھنائی کرتے ہیں۔ پپو بھی اس نیک کام میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوتا ہے اور یہ بھی سوچتا ہے کہ وہ اپنے ہی دوست کی پٹائی کیوں کر رہا ہے؟

پوتنی دا درد سے چیختا ہوا بلا قصائی سے رحم کی بھیک مانگتا ہے لیکن بلا قصائی کہتا ہے کہ تم نے بہت بڑا جرم کیا ہے، یاد رکھو! تم اپنے ہی خاندان میں چوری نہیں کر سکتے۔ بجلی بھی چند قدم کے فاصلے پر کھڑی یہ سب کچھ دیکھ رہی ہوتی ہے لیکن وہ پوتنی دا کی مدد کیلئے آگے نہیں بڑھتی۔ تھوڑی دیر بعد سب تتر بتر ہو جاتے ہیں اور پوتنی دا یہ سوچتا ہے کہ اُس نے یہ غلط قدم کیوں اٹھایا جس کی وجہ سے اُسے آج اتنی مار کھانی پڑی۔

پپو سوچتا ہے کہ اُسے بھی ’خاندان‘ کے لیے کمائی کر کے لانی چاہیے اور کچھ نہ کچھ حصہ ڈالتے رہنا چاہئیے، ورنہ کہیں اس کا حال بھی پوتنی دا جیسا نہ ہو جائے۔

روزنامہ جنگ سے ایک لیڈی رپورٹر ’خاندان‘ کے بارے میں کہانی لکھنا چاہتی ہے۔ اُسے اس جگہ بارے کیسے معلوم ہوا؟ یہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ وہ تمام کرداروں سے انٹرویو کرتی ہے اور یہ آرٹیکل اخبار میں چھپ جاتا ہے۔ اس میں چاچا کا خاکہ بھی پیش کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اُس نے تمام جرائم پیشہ بچوں کی ذمہ داری لی ہوئی ہے جو کہ حقیقت میں سچ نہیں ہے۔

ٹی وی چینلز سے بھی پروڈیوسرز آتے ہیں اور گلیوں میں پھرنے والے بچوں پر فلمیں بناتے ہیں۔ ایک رات اخبار والے پپو کا انٹرویو لیتے ہیں، وہ اُن کو بتاتا ہے کہ اسے نوکری نہیں ملتی جس کی وجہ سے اسے بھیک مانگنی پڑتی ہے۔ اس کے فوراً بعد پپو ’’نئی زندگی‘ سے اپنے لیے کھانا لے کر آتا ہے اور نشہ کرنے کیلئے بھیک مانگنے چلا جاتا ہے۔

پپو سوچتا ہے کہ اب اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ تمام زندگی یہیں گزار دے اور پھر ایک دن چپکے سے موت کی آغوش میں جا سوئے، وہ سوچتا ہے کہ اب مجھ میں مزید ہمت اور توانائی نہیں ہے کہ میں اور کچھ کرنے کے بارے میں سوچ سکوں۔

تین دن کے بعد دو پولیس والے پپو کو موہنی روڈ پر روکتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ چاچا نے ایک لڑکی کی عصمت دری کی ہے، کیا تم اس سلسلہ میں اپنا بیان قلمبند کرواؤ گے؟

پپو سوچتا ہے کہ اگر اُس نے بیان دیا تو بِلاّ قصائی اور چاچا ناراض ہو جائیں گے، ہو سکتا ہے وہ اُس کومار ہی ڈالیں۔ دوسرا خوف اُس کو یہ تھا کہ اگر ’خاندان‘ کو یہ بات پتہ چلی تو اس کے کیا نتائج ہوں گے؟

اچھا ٹھیک ہے لیکن یہ راز رہنا چاہئیے۔ لنک-39 پر جائیے۔
’’یہ سب جھوٹ ہے‘‘ وہ کہتا ہے، چاچا تو ہمارے باپ کی طرح ہے۔ لنک-40 پر جائیے

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

پپو بوریت کو دور کرنے کیلئے شراب کی الماری کی طرف بڑھتا ہے مگر پھر اُس کے پاس سے گزر کر فریج میں سے ایک اور شراب کی بوتل نکال لیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ امیر لوگوں کی ایک اچھی عادت یہ ہے کہ وہ ہر چیز ڈھیروں ڈھیر خریدتے ہیں۔ فریج میں ہر قسم کی شراب موجود تھی۔ یہ فریج صرف اسی مقصد کیلئے استعمال ہوتا ہے اور کچن سے ملحقہ کمرے میں رکھا گیا ہے۔ اتنی بوتلیں دیکھ کر پپو مطمئن ہو جاتا ہے۔ شراب اب اس کا اوڑھنا بچھونا بن چکا ہے وہ اپنے ہر احساس کو شراب سے پورا کرنے کا عادی ہو چکا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اتنی زیادہ شراب موجود ہے کہ اُسے فکر کرنے کی ضرورت نہیں!

پپو لِونگ روم میں نہیں بیٹھتا کیونکہ وہ کچھ دیر کیلئے پرانی یادوں سے پیچھا چھڑوانا چاہتا ہے، اس لیے وہ سوئمنگ پول کے پاس ایک میز پر بیٹھ جاتا ہے۔ پپو چاہتا ہے کہ اُسے بار بار اُٹھ کر اندر نہ جانا پڑے اس لیے وہ پلاسٹک کے ایک برتن میں برف کے کافی ٹکرے بھی رکھ لیتا ہے۔ اُس کا مقصد صرف وقت گزاری ہے۔ جلد ہی وہ مدہوش ہو جاتا ہے۔ تقریباً صبح کے دس بجے اُس کی آنکھ کھلتی ہے۔اس کا منہ خشک ہوتا ہے اور سر درد سے پھٹ رہا ہوتا ہے کرسی پر ٹیک لگائے وہ کافی تھکن محسوس کرنے لگتا ہے۔ اب اُسے سلطان پر بھی غصہ آتا ہے۔ پپو سوچتا ہے کہ سلطان بہت ہی مطلبی شخص ہے جو اس سے وقت گزاری کر رہا ہے۔ یکایک اسے سر میں ٹیسیں اُٹھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ سوچتا ہے رات کو تو شراب بہت مزہ دیتی ہے لیکن صبح اٹھتے ہی بُرا حال کیوں ہوتا ہے۔ ناشتے کے خیال سے اسے متلی ہونے لگتی ہے۔ وہ بہت سا پانی پیتا ہے۔ گرم پانی سے نہانے کے بعد اُس کی طبیعت بحال ہونے لگتی ہے۔ کافی کا ایک کپ پینے کے بعد وہ بہتر محسوس کرنے لگتا ہے۔

’’اس زندگی کا کیا بنے گا؟‘‘ یہی سوچتے ہوئے وہ ویڈیو گیم میں سے کیسٹ نکال کر باہر لے جاتا ہے اور ایک پتھر مار کر اُسے توڑ دیتا ہے۔ وہ کیسٹ کے ٹکڑوں کو کچن کے کوڑے کے ڈبے میں ڈال کر، کچن میں ناشتے کیلئے چلا جاتا ہے اور پھر خاموشی سے اپنے کمرے میں آ کر لیٹ جاتا ہے۔

’’ارے یار، پپو ذرا بات سنو‘‘ ٹھیک پانچ منٹ کے بعد پپو کو سلطان کی آواز سنائی دیتی ہے۔
پپو سلطان کے پاس جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ چیزیں سنبھال رہا ہے۔
’’ہمیں گھر کی صفائی کو صرف ملازمہ پر ہی نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔‘‘پپو پر نظر پڑتے ہی سلطان کہتا ہے۔
’’ہاں، ضرور‘‘ یہ کہتے ہوئے پپو بھی سلطان کے ساتھ ہاتھ بٹانے لگتا ہے۔
’’ارے یار، کیا تم نے ویڈیو گیم کی کیسٹ کہیں دیکھی ہے؟‘‘ سلطان پوچھتا ہے۔

’’ہاں میں بھی اُسے تلاش کر رہا تھا‘‘ پپو جھوٹ بولتے ہوئے کہتا ہے۔
’’میرا خیال ہے، جمی اپنے ساتھ لے گیا ہو گا۔ انسان کسی کا بھی اعتبار نہیں کر سکتا خصوصاً فورٹ
’’ہاں، ضرور‘‘ یہ کہتے ہوئے پپو بھی سلطان کے ساتھ ہاتھ بٹانے لگتا ہے۔
’’ارے یار، کیا تم نے ویڈیو گیم کی کیسٹ کہیں دیکھی ہے؟‘‘ سلطان پوچھتا ہے۔

’’ہاں میں بھی اُسے تلاش کر رہا تھا‘‘ پپو جھوٹ بولتے ہوئے کہتا ہے۔
’’میرا خیال ہے، جمی اپنے ساتھ لے گیا ہو گا۔ انسان کسی کا بھی اعتبار نہیں کر سکتا خصوصاً فورٹ روڈ سے آنے والوں پر‘‘ پپو صفائی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے ’’تمہیں معلوم ہے میں اُن لڑکوں کی طرح نہیں ہوں، خیر ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، کہیں وہ اُس کے علاوہ تو کچھ نہیں لے کر گیا، شاید اُسے گھر میں لانا میری غلطی تھی۔ میں نے اُسے ایک اچھا لڑکا سمجھا تھا۔۔۔خیر کیسٹ چوری کرنے کی کوئی نہ کوئی خاص وجہ تو ہو گی اُس کے دل میں!‘‘، پپو اپنی بات جاری رکھتا ہے۔

رات کا کھانا کھانے کے بعد پپو سلطان سے منوا لیتا ہے کہ آج کی رات وہ بڑے خوبصورت ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ کر دونوں تھوڑی دیر ٹی وی دیکھیں گے۔

’’خیال اچھا ہے‘‘ سلطان پپو کو کہتا ہے اور ساتھ ہی اپنے ایک ہاتھ سے پپو کے سنورے ہوئے بال الجھا دیتا ہے۔
دن یونہی گزرتے رہتے ہیں۔ سلطان اب پپو کے ساتھ لِونگ روم میں زیادہ وقت نہیں گزارتا۔ وہ پپو کو مساج کیلئے بھی نہیں کہتا۔ پپو کو شک پڑتا ہے کہ جمی سلطان کو ملتا ہے اور وہی سلطان کا ذہن پپو کے خلاف بھرتا رہتا ہے۔
’’ہو سکتا ہے وہ میرے عمدہ کپڑوں، پیسوں اور گھر سے حسد کرتا ہو۔‘‘

یہ سوچتے ہی پپو جمی کو تنگ کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔ بدھ کے دن وہ بہترین کپڑے زیب تن کرتا ہے۔ ساتھ ہی سونے کی چین اور نئی انگوٹھی پہنتا ہے اور ایک ٹیکسی منگوا کر ڈرائیور کو فورٹ روڈ چلنے کا کہتا ہے ڈرائیور بغیر کچھ کہے روانہ ہو جاتا ہے۔

پپو سوچتا ہے کہ ڈرائیور ضرور یہ خیال کر رہا ہو گا کہ ایک لڑکا گلبرگ سے فورٹ روڈ کیا کرنے جا رہا ہے۔ فورٹ روڈ بازارِ حسن کے شمال کی جانب واقع ہے۔ٹبی گلی میں موجود نشہ کرنے کی جگہ بالکل ایک اندھیری کوٹھڑی کا سماں پیش کرتی ہے ۔جہاں ہر طرف شراب اور سگریٹ کی بدبو رچی بسی ہوتی ہے۔

جیسے ہی پپو ایک بوسیدہ صوفے پر بیٹھتا ہے، ایک وحشت زدہ، جھریوں سے بھری نائکہ اُس کو دیکھ کر دوستانہ مسکراہٹ پیش کرتی ہے،
’’کیا میں تمہیں پینے کیلئے کچھ روپے دوں؟‘‘ پپو اُس سے ہمدردانہ لہجے میں پوچھتا ہے۔
وہ مسکراتی ہے اور شکریہ کے ساتھ اپنی رضامندی دے دیتی ہے۔

پپو اپنے نئے کپڑوں اور پیسوں سے بھری جیب پر اتراتا ہے۔
’’ میں یہاں کیوں ہوں؟‘‘پپو سوچ میں پڑ جاتا ہے۔
اس اثناء میں جمی کچھ آوارہ لڑکیوں کے ساتھ نمودار ہوتا ہے۔ وہ سب فورٹ روڈ جانے کیلئے تیار نظر آتے ہیں۔جمی اُن لوگوں سے پپو کا تعارف کرواتا ہے۔ پپو اُن سب کو اُن کے پسندیدہ مشروب خرید کر دیتا ہے۔ جمی مشروبات کیلئے پپو کا شکریہ ادا کرتا ہے۔
’’مجھے تم سے مل کر خوشی ہوئی، کیا تم نے بھی کچھ لیا؟‘‘جمی مسکراتے ہوئے کہتا ہے۔
’’تکلف کی ضرورت نہیں، آپ کی خاطر تواضع تو میرا فرض ہے۔‘‘ پپو ہنستے ہوئے جمی سے مخاطب ہوتا ہے۔
جمی حیران کُن نظروں سے پپو کی طرف دیکھتا ہے اور اپنے ایک دوست کی طرف بڑھتا ہے۔ جمی کے دوست بھی پپو کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔

اُس رات گھر واپس آنے کے بعد پپو سلطان کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔
’’کبھی کبھی اندھیرا ہونے کے بعد خاصی سردی ہو جاتی ہے، مجھے ایک سوئیٹر کی اشد ضرورت ہے، میں نے تمہارے سب سوئیٹر پہن کے دیکھے مگر وہ سب بہت بڑے ہیں۔‘‘
سلطان’ہاں‘ کے اشارے سے پپو کو خاموش کروا دیتا ہے اور پھر وہ دونوں ٹی وی پر ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ دیکھنے لگتے ہیں۔

اگلے ہی دن سلطان کام ختم کرنے کے بعد باہر جاتا ہے اور واپسی پر اُس کے ساتھ ایک بہت بڑا پیکٹ ہوتا ہے جسے وہ میز پر اُلٹا دیتا ہے۔ پپو دیکھتا ہے کہ اُس میں سے ایک بہت خوبصورت سفید اور نسواری گرم سوئیٹر نکلتا ہے۔ شاپنگ بیگ میں ایک نئی ویڈیو گیم کی کیسٹ بھی ہوتی ہے۔

پپو کیسٹ کو دیکھ کر میز پر پھینک دیتا ہے او ر سلطان کو بُرا بھلا کہتا ہے۔ پپو کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ سلطان کو برا بھلا کہہ کر وہ اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے۔ پپو کو ویسے بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ سلطان کو بُرا بھلا کہے کیونکہ پپو بھی کوئی پارسا نہ تھا اور سلطان کے ساتھ ہر برائی میں حصہ دار تھا۔ سلطان کا موڈ آف ہو جاتا ہے، وہ جیب سے پانچ سو روپے نکال کر میز پر پھینکتا ہے ۔

’’اپنے کھانے کا خود انتظام کرو، میں باہر جا رہا ہوں لیکن سوئیٹر پہن لینا، سردی زیاد ہ ہے۔‘‘سلطان پپو سے برجستہ کہتا ہے۔
پپو ٹبی گلی کے سنیک بار کی طرف جاتا ہے۔ سب لوگ پپو کا نیا سوئیٹر دیکھ کے فدا ہو جاتے ہیں،
’’یہ تو کافی مہنگا لگتا ہے۔‘‘اُن میں سے ایک شخص سوئیٹر سے متاثر ہو کر کہتا ہے۔

اگلے دن کھانے کی میز پر سلطان قدرے خاموش ہوتا ہے۔اگرچہ وہ رات کے واقعے کو دوبارہ نہیں دہراتا، لیکن اُس کے چہرے سے عیاں تھا کہ وہ اب پپو کو اپنے گھر میں برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔
’’تمہیں معلوم ہے میرے بھائی نے کچھ دن پہلے ہی اپنی بیوی کو طلاق دی ہے، وہ مجھے ملنے آ رہا ہے چونکہ وہ اتنی بڑی پریشانی میں گھرا ہوا ہے اور سنبھلنے کیلئے اُسے الگ جگہ چاہئیے، ہو سکتا ہے کہ اُسے کچھ عرصہ میرے پاس ہی ٹھہرنا پڑے۔ یہ گھر اتنا بڑا نہیں ہے کہ اس میں اتنے لوگ با آسانی رہ سکیں۔‘‘ سلطان پپو کی طرف دیکھے بغیر کہتا ہے۔

’’میں ابھی چلا جاتا ہوں‘‘ پپو سرد لہجے میں جواب دیتا ہے۔
’’ارے! میری بات کو غلط مت سمجھنا، تمہیں معلوم ہے، مجھے تمہارے ساتھ رہنا اچھا لگتا ہے۔ تم آرام سے فیصلہ کر سکتے ہو، وہ کچھ دن بعد آئے گا۔‘‘سلطان یہ کہہ کر اپنی کلینک کی جانب چلا جاتا ہے۔

پپو سامان باندھنے میں پورا ایک گھنٹہ لگاتا ہے، جو قیمتی چیز اُس کے ہاتھ آتی ہے سب کو اُٹھا کر تین بڑی تھیلیوں میں اپنا سامان باندھ لیتا ہے پھر وہ ایک ٹیکسی منگواتا ہے اور ڈرائیور کو بھاٹی گیٹ چلنے کو کہتا ہے۔ بھاٹی گیٹ پہنچ کر ڈرائیور سے پوچھتا ہے کہ آیا وہ کرائے کی طور پر چھوٹا سے ریڈیو قبول کر کے دو سو روپے دینے پر تیار ہے؟ ڈرائیور بخوشی یہ سودا قبول کر لیتا ہے۔
بھاٹی گیٹ کے پاس ہی پپو ایک سستے اور صاف ستھرے ہوٹل میں کمرہ کرائے پر لے لیتا ہے۔ شام تک وہ ٹی وی اور شراب سے محظوظ ہوتا ہے۔ پھر وہ تھوڑا آرام کر کے اُس سنیک بار کی طرف جاتا ہے، جو ہوٹل سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع ہے۔ سب لوگ اُسے دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ پپو اُن کے درمیان اچھا محسوس کرتا ہے۔ ویسے بھی پپو ہر ہفتے وہاں جایا کرتا تھا۔ اُن لوگوں میں جمی بھی ہے مگر وہ پپو سے بات نہیں کرتا اور خاموشی سے چلا جاتا ہے۔ اُس کے بعد اُسے جمی دوبارہ وہاں نظر نہیں آتا۔ باقی لوگ بتاتے ہیں کہ جمی نے ہوٹل بھی چھوڑ دیا ہے۔

پپو، ٹبی گلی کے اُس سنیک بار میں ہر روز جانا شروع کر دیتا ہے۔ وہاں کے سب لوگ اُسے دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں حالانکہ پپو کے پاس بہت کم پیسے بچے ہیں جو اُس نے سلطان کی چیزیں بیچ کے حاصل کئے تھے مگر اس سنیک بار میں سب کے سامنے وہ ابھی بھی امیر ہونے کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ وہاں آنے والے آوارہ لڑکوں کو اب بھی مفت مشروبات خرید کے دیتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو قبول نہیں کرنا چاہتا کہ وہ دوبارہ ایک سٹرک چھاپ لڑکا بن چکا ہے۔

آخرکار وہ اپنی شان و شوکت برقرار رکھنے کے لیے اپنا بہترین سوئیٹر بھی صرف تین سو روپے میں بیچ دیتا ہے۔اگلے دن وہ اپنی سونے کی چین اور انگوٹھی بھی بیچ دیتا ہے اور ان روپوں سے بھی وہ اپنے ساتھیوں کو مشروب خرید دیتا ہے۔ مشروب ختم ہونے پر، پپو کے ساتھی اور منگوا لیتے ہیں اور سنیک بار کا مالک پیسے وصول کرنے کیلئے پپو کے پاس پہنچتا ہے جبکہ پپو پریشانی سے ہکلانے لگتا ہے۔ پپو کے سب ساتھی عجیب نظروں سے اُس کی جانب دیکھتے ہیں۔ سنیک بار کا مالک اُن سب پر کڑی نگاہ ڈالتا ہے۔ ’’دعوت ختم ہو گئی ہے، اپنا اپنا راستہ لو‘‘ سنیک بار کا مالک طنزیہ انداز میں کہتا ہے۔
’’بِل میں ادا کروں گا‘‘اس اثناء میں ایک آواز آتی ہے۔
’’یہ تو جمی کی آواز ہے‘‘ پپو سر اُٹھا کے دیکھتا ہے۔ اُس کی نظر جمی پہ پڑتی ہے۔ جمی کا تو حلیہ ہی بدلا ہوا ہے۔
بہترین تراش خراش، سیاہ چمکتے ہوئے جوتے اور زیتون کے رنگ کا قیمتی ارمانی سوٹ اُس کی شان بڑھا رہا تھا۔
پپو جمی کا شکریہ ادا کر کے اپنی نظریں پھیر لیتا ہے۔

’’جب میں مدد کرنے کے قابل ہوتا ہوں تو ضرور کرتا ہوں ‘‘جمی مسکراتا ہوا ایک سونے کی چین میز پر رکھتا ہے۔
’’کیا تم نے کچھ کھایا؟‘‘ایک آواز گونجتی ہے جو کہ سلطان کی معلوم ہوتی ہے۔
لنک-47 پر جائیے۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

جمی اور پپو ایک ٹیکسی پر سوار ہوتے ہیں۔ فورٹ روڈ پر پہنچ کر ٹیکسی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں ٹیکسی مشہور ریسٹورنٹ کُکوزڈین کے سامنے رُک جاتی ہے۔ یہ ریسٹورنٹ آج کل لاہور کی اشرافیہ میں بہت مقبول ہے۔
’’میرا ریسٹورنٹ میں جانے کا واقعی کوئی موڈ نہیں ہے‘‘ پپو دلبرداشتہ انداز میں جمی کو بتاتا ہے۔
’’ہمیں راوی کے پُل پر اُتار دو‘‘جمی ڈرائیور سے کہتا ہے۔

ڈرائیور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غلط سائیڈ سے کٹ مار کے مین روڈ کی طرف آ جاتا ہے۔ راوی پُل پر پہنچ کر جمی ٹیکسی ڈرائیور کو رکنے کیلئے کہتا ہے اور سلطان کے دئیے ہوئے پیسوں میں سے ٹیکسی کا کرایہ ادا کرتا ہے۔ پپو ٹیکسی سے اُتر کر کھلے آسمان تلے آ جاتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا اُس کے دماغ سے سارا نشہ کافور کر دیتی ہے۔ نشہ اترتے ہی پپو کو سلطان کی حرکتیں یاد آنے لگتی ہیں اور وہ دل ہی دل میں اسے برا بھلا کہنے لگتا ہے۔

تھوڑی دیر پیدل چلنے کے بعد وہ دونوں ایک بہت خوبصورت عمارت کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ پپو نے یہ جگہ پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ایک خوبصورت باغ کے سامنے کھڑا پپو وقتی طور پر اپنا رنج بھول گیا ہے۔ جمی بتاتا ہے کہ یہ مشہورِ زمانہ مغل بادشاہ جہانگیر کا مقبرہ ہے۔ دونوں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اُس عمارت کے پاس آ جاتے ہیں جو کہ سرخ پتھر اور سفید سنگِ مر مر کے امتزاج سے تعمیر کی گئی ہے۔

’’ ایک شوگر ڈیڈی پہلی دفعہ مجھے یہاں لے کر آیا’’جمی نے پپو کو بتایا‘‘اور یہاں اُس نے مجھے کپڑے اتارنے پر مجبور کیا تھا۔ جب میرے ساتھ یہ سب ہوا تو میں نے سوچا کہ یہ دنیا اتنی خوبصورت نہیں ہے جتنی کہ نظر آتی ہے۔‘‘ جمی جھاڑیوں کی طرف اشارہ کر کے بتاتا ہے۔

’’کیا میں اپنی زندگی کی گندی حقیقت سے نکل کر پانچ منٹ کیلئے بھی اس خوبصورتی سے محظوظ نہیں ہو سکتا؟‘‘ پپو گہری سوچ میں پڑ جاتا ہے۔

’’خیر جانے دو پرانی باتوں کو، یہ بندہ سلطان جس کے ساتھ تم آج کل رہتے ہو، اسے میں نے بھی برگر والی جگہ پر دیکھا ہے۔ کوئی بھی اس کے پاس تین مہینے سے زیادہ نہیں ٹھہر سکتا۔ جب اس کا دل بھر جاتا ہے تو ہر چوزے کا دانہ پانی اُٹھ جاتا ہے۔ تمہیں بھی بہت سمجھداری کے ساتھ سب حالات کو سمجھنا ہے‘‘ جمی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے۔

وہ دونوں باتیں کرتے کرتے مینار کے بلند ترین حصے پر آ جاتے ہیں۔ اتنی اونچائی سے آس پاس کی آبادی کس قدر صاف و شفاف دکھائی دیتی ہیں، ’’پپو کہتا ہے‘‘، ’’انسانوں کے اجلے اور میلے پن کا پتا بھی صرف قریب آنے سے ہی چلتا ہے۔ اُن کی خوشبو اور بدبو بھی قربت میں ہی پہچانی جا سکتی ہے، دور کے ڈھول تو سہانے ہی ہوتے ہیں۔‘‘

’’لگتا ہے ٹھوکروں نے ’’سیانا‘‘ کر دیا ہے جمی نے مسکرا کر پپو کی طرف دیکھا۔ ’’میری غلطی کو مت دہرانا، کیا تمہیں معلوم ہے جب انسان فورٹ روڈ پر اپنی زندگی کی پہلی’’ واردات‘‘ کرنے نکلتا ہے تو اپنے آپ کو کیا تسلی دیتا ہے؟‘‘ جمی پپو کو غور سے دیکھتے ہوئے خود ہی جواب دیتا ہے،’’ میرا کوئی گھر، کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور میری کوئی پہچان نہیں ہے اس لیے مجھے فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی مجھے کون سی نوکری ملنے والی ہے؟ میری قسمت میں بس یہی کام دھندے ہیں اور واردات کرنے کے بعد جو پیسے ملتے ہیں وہ اتنے بھی نہیں ہوتے کہ اُن سے کھانے کا بندوبست کیا جا سکے یا پھر کوئی ڈھنگ کا ٹھکانہ میسر آ سکے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کوئی نوجوان جب نشہ شروع کر دیتا ہے تو سب سے بڑی ضرورت خود نشہ بن جاتا ہے جو اسے کسی بھی حد تک گر جانے پر مجبور کرتا ہے۔ اسے ہر حال میں گھٹنے ٹیکنے کیلئے آمادہ کرتا ہے، اس لئے بندہ ایک ایک دن کر کے جینے لگتا ہے‘‘ جمی کے الفاظ میں پپو کو مکمل تصویر نظر آتی ہے۔

’’کبھی میں دل سے تمنا کرتا تھا کہ مجھے بھی کچھ مہینوں کیلئے کوئی شوگر ڈیڈی مل جائے تاکہ میں کچھ پیسے بنا سکوں اور جب وہ مجھے گھر سے نکالے تو میں اس قابل ہو چکا ہوں کہ اپنا خرچہ خود اُٹھا سکوں۔ کچھ دنوں کے بعد مجھے اپنے من کی چاہت مل گئی۔ اُس کے ساتھ رہتے رہتے میں اپنی ہستی کو بھول گیا۔ میں نے اپنے تمام اچھے خیالات پسِ پشت ڈال دئیے۔ سارا سارا دن میں صرف شراب کے نشے میں دھت رہتا اور اس کا دل بہلاتا، پھر کچھ دنوں کے بعد جب اُس کا دل مجھ سے بھر گیا تو اُس نے مجھے بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا، میں پھر اسی جگہ واپس آ گیا جہاں سے وہ مجھے لے کر گیا تھا۔ ذلت کے وہ سارے دن جو میں نے اس کے ساتھ گزارے تھے ،اُن کا اجر کچھ بھی نہ تھا۔ میرے پاس سوائے تن کے کپڑوں کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ پتا نہیں، ہم سوچتے کیوں نہیں ہم خود اپنے سب سے بڑے دشمن ہوتے ہیں‘‘ جمی پپو کی زندگی کی تلخ حقیقتوں سے پردہ اُٹھا رہا ہے۔ تھوڑی دیر کیلئے دونوں ہی دکھی نظر آنے لگتے ہیں۔ پھر باتوں کا رُخ اس جانب مڑ جاتا ہے کہ آخر اب کیا کیا جائے؟

’’ میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو پہلے ہمارے ساتھ سڑک پر تھا۔ پھر اس نے ٹی وی اور فلموں میں ایکسٹرا کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا اور ہزار روپے روزانہ اور کبھی اس سے بھی زیادہ کمانے لگا‘‘ جمی چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ پپو کو بتاتا ہے۔

’’ہزار روپے روزانہ۔۔۔‘‘ پپو حیرانی سے پوچھتا ہے۔’’میں بھی ایکسٹرا بننا چاہتا ہوں‘‘ پپو نے التجا کی۔
’’یہ تو کچھ بھی نہیں ہے، جب کھانے پینے کا خرچہ اتنا زیادہ ہو، رہنے کی جگہ کے پیسے الگ دینے پڑیں، اوپر سے نشے کو آگ لگی ہوئی ہے تو ہزار روپیہ کہا ں جاتا ہے اس کا کچھ پتا نہیں چلتا۔ ویسے یار اگر غور کریں تو ہمیں ایکسٹرا بننے کی ضرورت نہیں، ہم تو پہلے ہی ایکسٹرا ہیں‘‘

’’وہ تمہیں کہاں ملا تھا۔۔۔ ‘‘پپو مزید کریدتا ہے۔
’’ وہ روز فورٹ روڈ پر ہم سے ملنے آتا تھا اور منتیں کرتا تھا کہ ہم بھی اُس کے ساتھ اُس ایجنسی میں چلیں، مگر ہم نشے میں بہت دھت رہتے تھے اس لیے اس کی باتوں پر کان نہیں دھرتے تھے‘‘۔
’’عجیب آدمی ہو تم بھی، اتنی اچھی آفر تم ٹھکرا دیتے تھے؟‘‘ پپو نے جمی کی طرف اشتیاق بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا، ’’کیوں نہ ہم دونوں آج وہاں چلیں، ہو سکتا ہے ہمارے بھی دن پھر جائیں۔‘‘
جمی پپو کو وہاں لے جانے کا وعدہ کرتا ہے۔

’’یہ چھوٹی سی دو منزلہ عمارت ہے جس میں اداکاری سیکھنے والی ایجنسی کھولی گئی ہے۔ علاؤ الدین اچھاانسان ہے، سٹوڈیو والوں کو ایسے ہی لوگ چاہیئے ہوتے ہیں۔ایک دن اُنہیں کسی خاص فلم کی شوٹنگ کیلئے کچھ صحت مند لوگ چاہیئں ہیں تو اگلے دن اُنہیں تین ایسے لوگ چاہیئں ہوں گے جن کے ناک موٹے ہوں اور مجمع دکھانے کیلئے وہ کسی وقت کسی کو بھی لے سکتے ہیں۔ کام دینے کے علاوہ وہ اچھا کھانا بھی فراہم کرتے ہیں۔‘‘ جمی نے پپو کو تفصیل بتانا شروع کی،’’ کام شروع کرنے سے پہلے تمہیں چار مختلف لباسوں میں تصاویر بھی کھنچوانا ہوں گی تاکہ وہ لوگ جان سکیں کہ مختلف حلیوں میں تم کیسے لگتے ہو اور پھر تمہیں ایک موبائل بھی چاہیئے ہو گا تاکہ وہ ہر وقت تمہارے ساتھ رابطے میں رہ سکیں اور ’ہیرو‘ تمہیں یہ بتانے کی تو مجھے ہرگز ضرورت نہیں کہ ان چیزوں کیلئے ’’روکڑے‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ پپو کی ذہنی کیفیت ہر لفظ کے ساتھ بدل رہی تھی اور پھر آخر میں اس کا چہرہ اتر گیا۔

تھوڑی دیر کے بعد دونوں علاؤالدین کے ساتھ بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے پپو کھلی آنکھوں کے ساتھ رنگ برنگے خواب دیکھ رہا تھا۔ علاؤ الدین کے ساتھ باتیں کرنے کے بعد پپو اور جمی لکشمی چوک کی طرف جاتے ہیں تاکہ وہ مشہور زمانہ ’’بشیرا دال چاول‘‘ سے لطف اندوز ہو سکیں۔ سب کچھ کہنے سننے کے بعد پپو سمجھے چکا تھا کہ یہاں اس کی دال گلنے والی نہیں ہے۔’’کیا خیال ہے؟ یہاں کوئی بات بن جائے گی؟‘‘ پپو نے پوچھا

’’تمہیں سلطان کے پاس ہی واپس جانا پڑے گا یار۔۔۔‘‘ جمی پپو کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔
’’میں نہیں جانا چاہتا اور ویسے تم اپنے دوست کے پاس کیوں نہیں چلے جاتے؟ اگر تم اُس سے اجازت لے لو تو میں بھی وہاں پر ہی رہ جاؤں گا‘‘ پپو جمی سے استفسار کرتا ہے۔

’’یار۔۔۔ وہ صرف انیس سال کا ہے۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ نارووال میں رہتا ہے۔ اُس نے ایک پرائیویٹ کالج سے بی اے کی ڈگری لے رکھی ہے، آج کل اس نے روزنامہ جنگ اور جیو ٹی وی کے رپورٹر کے طور پر نوکری شروع کی ہے۔ابھی اس کا کام ’’سیٹ‘‘ نہیں ہوا۔ وہ تو مشکل سے صرف اپنا ہی گزارا کر پاتا ہے۔ ہمیں کہاں سے کھلائے گا۔ پپو یار، مجھے لگتا ہے تمہیں سلطان کے پاس ہی واپس جانا پڑے گا۔ یہیں اُداسی ختم کر کے خوشی خوشی سلطان کے پاس لوٹ جاؤ اور اُس کی ہر بات مانو‘‘جمی پپو کے سامنے ہاتھ کھڑے کر دیتا ہے۔

’’جمی، میں یہ نہیں کر سکتا کہ سلطان کی گندی علتوں کو برداشت کروں، دل میں سڑتا کڑھتا رہوں اور پھر سارا دن نشے میں دھت رہوں۔ اگر تم بضد ہو کہ میں ایسا ہی کروں تو پھر تم ایسا کرو، میرے ساتھ رہو۔‘‘ پپو منت سماجت کے انداز میں کہتا ہے۔

’’کیا تم میرا مذاق اُڑا رہے ہو سلطان مجھے کچھ بھی نہ دے گا، وہ بائی ون گیٹ ون فری‘‘ کے مطابق مجھے میرے جسم سے کھیلے گا اور ذلیل و خوار بھی کرے گا‘‘جمی پپو کو سلطان کی خصلت سے آگاہ کرتا ہے۔

تھوڑی دیر کی تکرار کے بعد پپو جمی کو راضی کر لیتا ہے اور وہ اُس کی بات مان کر اُس رات جمی اُس کے ساتھ ٹھہر جاتا ہے۔
ساری رات جمی بہت بے چین رہتا ہے۔

’’میں کل رات محسوس کر رہا تھا‘‘ جمی نے کہا ’’مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شخص خنجر لے کر میرے جسم کے اندر سے تمام گوشت کاٹ رہا ہو، بالکل ایسے ہی جیسے ہم کسی پھل کے اندر سے سارا گودا نکال کر اُسے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ مجھے بھی اپنے خالی پن کا احساس ہو رہا ہے، بہت تکلیف دہ ہے لیکن مجھے اس بات کا بھی بے حد خوف ہے کہ کچھ کلپ کلپا کر میں ٹھس ہو کر بیٹھ جاؤں گا کیونکہ اس گندے گورکھ دھندے کے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ تمہارے بارے میں بھی میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا، شاید تم واپس اپنی پچھلی زندگی میں واپس جا سکتے ہو۔ مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ اب اس سب کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے‘‘۔جمی نم آنکھوں سے ساتھ بولے جا رہا تھا۔

’’میرے پاس بھی واپسی کا کوئی راستہ نہیں، میرے والد ایک بہت نیک نام انسان ہیں۔ وہ میرا ’’بوجھ‘‘ نہیں اُٹھا سکتے۔ ان کیلئے میں اب گندگی کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں‘‘ پپو نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔

سلطان کے ساتھ رہنا پپو کیلئے ایک کاروبار بن گیا تھا، جیسے ایک رکھیل اپنے سرپرست کو مطمئن کرتی ہے، پپو بھی اُسی طریقے سے سلطان کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ، جس چیز پر اُس کا ہاتھ پڑتا ہے وہ بھی اپنے آنے والے وقت کیلئے سنبھال لیتا ہے۔

سلطان کے ساتھ رہتے ہوئے اُن کی بہت ساری خواہشات پوری ہونے لگتی ہیں، تصویریں، موبائل فون، خوبصورت اور قیمتی لباس، تقریباً وہ سب ہی چیزیں جو علاؤ الدین سے ملاقات کے دوران اُس نے بتائی تھیں۔
پپو وقتاً فوقتاً کچھ پیسے بھی بچانے شروع کر دیتا ہے کہ اگر اُسے ایک دم چھوڑ کے جانا پڑے تو کم از کم اُس کے پاس کمرے کا کرایہ دینے کے پیسے تو ہوں۔

ایک رات جمی اور پپو دونوں سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور اپنی جمع جوڑ پونجی کا حساب کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر کہ اُن دونوں کے پاس اتنے پیسے جمع ہو چکے ہیں کہ وہ دو مہینے کا کرایہ آرام سے ادا کر سکتے ہیں، دونوں ایک ساتھ مسکرا اُٹھے۔
’’ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟‘‘ جمی پوچھتا ہے۔
’’مجھے ڈر لگ رہا ہے جمی‘‘ پپو کہتا ہے۔ اگر ہم نے یہ سب کچھ صرف ایک ہی ہفتے میں اُڑا دیا تو۔۔۔ پھر تو ہمیں الگ ہونے کا بھی فائدہ نہ ہو گا۔ ’’ہمیں ایسا کچھ نہیں کرنا، ہمیں ہمت جمع رکھنی ہے۔‘‘

ایجنسی والا علاؤالدین اُن سے رابطہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ آخری مہینے میں بہت سے ایکسٹرا کے کردار کیلئے لوگوں کی ضرورت ہو گی۔ جمی اور پپو فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں ابھی سے ہی تیاری کر لینی چاہیئے۔
وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ آج کل بھی اُنہیں ایسے بہت سے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو کلاس روم کی خالی کرسیاں بھر سکیں۔
پپو لکشمی چوک میں ایک کمرہ دیکھتا ہے، جس کے آس پاس سارے نشئی لوگ رہتے ہیں کیونکہ کمرے کا کرایہ کم ہے اس لیے اُسے پسند آ جاتا ہے مگر جمی اُس سے اتفاق نہیں کرتا اور کہتا ہے ’’یہاں تو ہم اپنے آپ کواور برباد کر لیں گے‘‘۔

نوجوانوں کے ایک پروگرام ’’جواں فکر‘‘ میں پپو کو ایکسٹرا کا کردار مل جاتا ہے۔ وہیں پر اُس کی ملاقات ایک لڑکی ثمن سے ہوتی ہے، وہ بھی ایکسٹرا کا کردار کرتی ہے اور پپو کے خیال میں خوبصورت بھی ہے۔ پپو جمی کو یہ سب باتیں بتا رہا ہوتا ہے کہ اُس کا سین ہے۔ یہ سین پپو اور ثمن کے درمیان تھا، جس میں دونوں کے کافی ڈائیلاگ تھے۔
پپو کو ثمن کا ساتھ بہت اچھا لگتا ہے۔ سارا دن وہ اکٹھے ہی نظر آتے ہیں۔ ڈائریکٹر بھی اُن دونوں کو اکٹھے دیکھ کر سوچ لیتا ہے کہ اب وہ ان دونوں کے سین بڑھا دے گا کیونکہ ان دونوں کے درمیان اسے وافر کیمسٹری نظر آتی ہے۔
’’ میری لاٹری نکل آئی ہے‘‘ایک دن پپو خوشی کے عالم میں کہتا ہے۔ لاٹری تب لگتی ہے جب کسی ایکسٹرا سے ڈائریکٹر کچھ خاص کردار ادا کرنے کو کہتا ہے۔

’’ڈائریکٹر نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اُسے بتایا کہ یہ سین ہم سے اچھا تو کوئی کر ہی نہیں سکتا‘‘۔ جمی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے۔ یہ سنتے ہی پپو کا دل بیٹھنے لگتا ہے۔ جمی اُسے دوسرے سیٹ پر لے کر جاتا ہے۔ یہ ایک گھر کے لونگ روم کی سیٹنگ ہے جس میں ایک پارٹی کا منظر ہے۔ ایک میز پر کھانے کا سامان قرینے سے رکھا ہے اور دوسری سائیڈ پر ایک بڑا ٹی وی اور ویڈیو گیم سے متعلقہ سامان پڑا ہے۔
یہ منظر دیکھ کر پپو کا رنگ یکدم زرد ہو جاتا ہے ۔
’’تمہیں کیا ہوا، تم ایک دم بیمار لگ رہے ہو؟‘‘ ثمن پپو سے پوچھتی ہے۔ پپو کا دل چاہتا ہے اس وقت یہاں سے بھاگ جائے۔
یکایک اُسے سلطان کے ساتھ گزارا ہوا ایک ایک لمحہ یاد آ جاتا ہے اور غصے اور نفرت سے اُس کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے۔ ڈائریکٹر باقی سب کرداروں کو بھی بلا لیتا ہے۔ شوٹنگ شروع ہوتی ہے۔ پپو بہت جوش میں ہوتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ گیم نہیں کھیل رہا، سلطان سے اپنا بدلہ لے رہا ہے۔

آخری سین میں وہ تھک چکا ہے۔ شوٹنگ ختم ہونے پر ڈائریکٹر اُسے بہت سراہتا ہے کہ اُس کا کام حقیقت پر مبنی تھا۔
اسی طرح شب و روز گزرتے رہتے ہیں۔ اب ان دونوں کو بھی کام کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔وہ کچھ دن اچھے گزارتے اور کچھ برے۔ کبھی کبھار ایسے بھی دن ہوتے کہ کام کرنے کو بالکل دل نہ چاہتا، بس ہر دم بستر میں گھٹے رہنا اچھا لگتا لیکن پھر یاد آ جاتا کہ بل ادا کرنا زیادہ ضروری ہے اور بل ادا کرنے کیلئے پیسے بھی تو چاہئیں جو کہ صرف کام کر کے ہی کمائے جا سکتے ہیں اور اس خیال کے آتے ہی ساری سستی اور کاہلی کوسوں دور ہو جاتی ہے۔ پہلے پپو کو اپنی زندگی سے نفرت تھی مگر اب اُس کے پاس’’مہذب‘‘ کام دھندہ ہے، جس میں بہت زیادہ تو بچت نہیں ہے مگر ایک عزت کا احساس ہے اور اُس کے ساتھ جمی اور ثمن کی دوستی بھی ہے، جو ہر لمحہ رشتے ناطے میں ہونے کی تسلی دیتی ہے۔

اب جائیے لنک-47 پر۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

’’یار جمال! ایک کوک تو پلاؤ ‘‘پپو ریسٹورنٹ کے پرآسائش صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہتا ہے۔
ویٹر جمال کیلئے ٹھنڈی کوک لے کر آتا ہے۔ کوک پینے کے بعد پپو اپنی جیبوں کو ٹٹولتا ہے۔
’’کوئی بات نہیں، بل میں دوں گا۔‘‘ پپو کو جیبیں ٹٹولتے ہوئے دیکھ کر کہتا ہے۔
’’تھینک یو!، جمال‘‘ اور پپو بار میں گھومنا پھرنا شروع کر دیتا ہے۔
اب تک پپو چھ کوک پی چکا ہے، پہلی پانچ بوتلیں وہ کسی اور بار سے پی کر آیا ہے۔ کُم کُم سنیک بار میں گاہک ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ پُر اسرار ریسٹورنٹ جہاں شراب بھی دستیاب ہو، پپو کو بہت پسند ہیں اور ککوزڈین سے تو اُسے دلی لگاؤ ہے۔ پپو یہاں پر اپنی قسمت آزمانے آتا ہے۔

اچانک اسے ڈانس پارٹی والی چاروں لڑکیاں نظر آتی ہیں انہیں دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے۔ پپو اُن سے فری ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ اسے لفٹ نہیں کراتیں۔ پپو لمبی آہیں بھرتا ہے اور اپنے صوفے پر بیٹھے بیٹھے اپنے پیروں کو زور زور سے زمین پر مارتا ہے۔ وہ سخت بے چین اور شرمندہ نظر آتا ہے۔ آج ہفتے کی شام ہے لیکن ریسٹورینٹ میں وہی باسی چہرے نظر آتے ہیں جو روز یہاں پڑے رہتے ہیں۔

ابتداء میں جب کرینہ نے پپو کو نوکری نہ ہونے پر اپنے اپارٹمنٹ سے نکال دیا تھا تو وہ اِس جگہ وقت گزارنے اور شکار پھانسنے کیلئے آتا رہتا تھا۔ ہفتے کی شام کو یہ جگہ نوجوان لڑکیوں سے بھری ہوتی ہے لیکن آج پپو کو کوئی بھی لفٹ کرانے پر آمادہ نہ تھی۔ زیادہ تر لڑکیاں پپو کی زیرِ لب مسکراہٹ سے باخبر ہیں اور اس کی اوقات جانتی ہیں۔ لوگ نیون سائن بورڈز کی رنگ برنگی روشنیوں کے عادی ہو چکے ہیں۔ ریسٹورنٹ میں اکثر تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی۔ پپو اس چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں لوگوں سے ٹکراتا رہا۔ کبھی کبھار تو اُسے اپنا شکار مل جاتا لیکن کبھی وہ چکمہ بھی کھا جاتا۔ اب وہ وقت گزر چکا تھا جب لڑکیاں پپو کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیتی تھیں اور اسے ساتھ لے جانے کیلئے پوچھتی تھیں۔

تھوڑی ہی دیر میں اس نے اپنی بے قدری کی پرواہ کرنا چھوڑ دی اسے ایسا لگنے لگا کہ جیسے سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔ اسے احساس ہو گیا کہ وہ یہاں اس لیے آتا ہے کیونکہ اس ریسٹورنٹ کا ڈرگ ڈیلر اور کم کم سنیک بار سے گہرا ربط ہے۔
پپو کی آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ چکے ہیں اور وہ عمر میں بھی بڑا لگ رہا ہے۔ گزرے ہوئے دنوں میں وہ شراب کے نشے میں دھت چنچل لڑکیوں کے چنگل میں پھنسا رہتا تھا۔ پر وہ سب کچھ ماضی کا قصہ تھا۔ وہ کچھ دیر کیلئے سکھ کا سانس لیتا ہے اور پھر سے پرانی تلخ یادوں کو ٹٹولنے لگتا ہے۔

’’بہتر ہے کہ تم چلے جاؤ، میں تمہیں ریسٹورنٹ سے باہر کہیں ملوں گی۔‘‘ایک لڑکی پپو کو ماضی کے جھروکوں سے نکالتے ہوئے کہتی ہے، ’’اپنا سیل فون آن رکھنا۔‘‘ پپو اب بہت گِر چکا ہے۔ پپو خیال کرتا ہے کہ اگر اُسے بہت سارے پیسے مل جائیں تو وہ اُس کے عوض کچھ بھی کر سکتا ہے، اس مقصد کیلئے پپو ہر قسم کے لوگوں کیلئے اپنی خدمات فراہم کرتا ہے تاکہ وہ پیسے میں کھیل سکے۔ وہ کئی راتیں جمال کے ساتھ ہی گزارتا ہے۔

جب وہ زیادہ نشہ کر لیتا ہے تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ نشہ کے بغیر وہ کوئی کام بھی ڈھنگ سے نہیں کر سکتا مصیبت یہ ہے کہ نشے میں وہ کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کرتا، بس ذلت کے کام کرتا ہے۔ نشے کے آگے پیچھے مایوس رہتا ہے۔ وہ کئی گھنٹوں تک فورٹ روڈ پر قیام کرتا ہے۔ جمال جسے وہ بہت اچھا انسان سمجھتا ہے، نے پپو کو چند سینڈوچ اور کوک وغیرہ پر راضی کر لیا۔ اس کا ذوق اس قدر بگڑ گیا ہے کہ تمام رات ہم جنس پرستوں اور لڑکیوں کے ساتھ رہنا اس کو اچھا لگتا ہے۔

اب اس کی حالت قابل رحم ہے۔ وہ دن بھر نشہ کرتا ہے اور شراب میں دھت ہو کر کسی لڑکی کے ساتھ رات صحیح طرح نہیں گزار سکتا، تو اسے لگتا ہے کہ جیسے اس کی مٹھی سے ریت پھسل رہی ہے اور وہ موقع پر موقع ضائع کر رہا ہے ہر رات پپو پریشانی میں گزارتا ہے۔

اسی ہفتہ دو عجیب واقعات رونما ہوئے۔ پہلے تو اس کا ایک ہم عمر نوجوان سویرا سٹور پر آتا ہے اور اس نے پپو کو رات کے کھانے کی دعوت دی۔

’’تمہیں میں کیا نظر آتا ہوں۔‘‘اس نے لڑکے کی قمیض کو تیزی سے پکڑا اور کہا۔ پھر دونوں کی تلخی ہو گئی۔

دو دن بعد پپو ریسٹورنٹ کے باہر بس کے انتظار میں بیٹھا ہوا ہے تاکہ داتا دربار جا کر لنگر کھا سکے۔ وہ بس سٹاپ پر کوئٹہ سے آئے ہوئے ایک ویٹر سے باتیں کرنے لگتا ہے جو کہ سارا دن اپنے پاؤں پر کھڑا رہا اور اب تھکا ہوا نظر آتا ہے، لہٰذا وہ گھر جانے کی بجائے کسی دوسری نوکری کی تلاش میں ہوتا ہے۔ بس میں سوار ہونے کے بعد وہ دونوں باتیں کرنے لگتے ہیں۔ کوئٹہ میں اُس ویٹر کی زندگی مفلسی میں گزری اور اب عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کو سن کر پنجابی زبان سیکھنے کی کوشش میں ہے۔ جب وہ بس سے نیچے اترنے لگا تو اس کے چہرے پر پرکشش مسکراہٹ ہوتی ہے۔

اچانک ایک بوتل اس کے سر کو چھوتی ہوئی تیزی سے ریسٹورنٹ کے شیشے سے ٹکراتی ہے، جس پر جمال اُس جانب دیکھ کر غصے کا اظہار کرتا ہے۔ ایک لڑکی شراب کے نشے میں دھت غل غپاڑہ کر رہی ہے اور یہ لڑکی کچھ جانی پہچانی لگتی ہے۔
’’تم کمینے انسان ہو! میں چاہتی تو تمہیں خس کم جہاں پاک کر دیتی، لیکن میں تمہیں پانی پلا پلا کر ماروں گی۔ تم نے مجھے ایڈز کا مرض دیا۔‘‘ اس کے آنسو نکل آتے ہیں اور وہ لمبی لمبی آہیں بھرنا شروع کر دیتی ہے۔ وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے پپو سے کہتی ہے۔

اس اثناء میں ایک ادھیڑ عمر شخص اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دیتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے پپو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

’’اگر یہ لڑکی سچ کہہ رہی ہے تو پھر آئندہ تم مجھے یہاں نظر نہیں آؤ گے اور اگر نظر آئے تھے تمہیں اس دنیا سے کوچ کرنا ہو گا۔

’’تم چلے جاؤ‘‘ وہ دروازے کی طرف اشارہ کر کے جمال کو کہتا ہے۔
پپو شراب کے نشے میں دھت لڑکھڑاتے ہوئے گلی میں چلنا شروع کر دیتا ہے۔ اُسے کسی شخص کے چلّانے کی آواز آتی ہے۔ ایک گاڑی اُس کے پاس آ کر رُکتی ہے اور اس میں سوار شخص پپو کو کہتا ہے۔
’’مجھے مغالطہ لگا ہے میں سمجھا تم کوئی اور ہو‘‘ پپو بغیر پیچھے مڑے لڑکھڑاتا ہوا چل پڑتا ہے۔
دروازہ بند کرنے کے بعد وہ آدمی گاڑی کی رفتار دھیمی رکھ کر ساتھ ساتھ چلنا شروع کر دیتا ہے۔ پپو اس آدمی کو نہیں جانتا لیکن ایسے بہت سے لوگوں سے اس کاواسطہ پڑتا رہتا ہے۔

’’تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘ وہ دوستانہ انداز میں پپو سے پوچھتا ہے اورآہستہ چلو، تمہیں جلدی کاہے کی ہے؟‘‘
پپو رُکتا ہے اور اسے غور سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ادھیڑ عمر بزنس مین اس کو غلط کام کیلئے تیار کر رہا ہے۔

’’تم مجھے ڈرے ہوئے معلوم ہوتے ہو۔ آؤ میں تمہیں گھر لے جاؤں اور نہانے کا بندوبست کروں۔ ہم دونوں دوست بن جاتے ہیں، چلو جلدی سے گاڑی میں آ جاؤ۔‘‘ وہ بات جاری رکھتا ہے، ’’میں تمہارا نیا دوست ہوں‘‘۔

پپو سوچتا ہے کہ ان لوگوں نے اس کی بھوک اور تھکاوٹ کا ناجائز فائدہ اٹھایا، اس کی عزت خاک میں ملا دی اور ایڈز کی بیماری تحفہ میں دی۔ صبح کے وقت صحیح معلوم ہو گا کہ وہ کون ہے اور پھر وہ پیچھے مڑ کر اُس کی گاڑی کی طرف چلنا شروع کر دیتا ہے۔

’’تم جو کر رہے ہو اس میں کوئی حرج نہیں۔ کوئی نفع یا نقصان نہیں، پر یہ مزے کا کام ہے۔‘‘ وہ شخص پپو کے گلے میں ہاتھ ڈال کر نرمی سے کہتا ہے۔

اور پھر پپو گاڑی میں سوار ہو جاتا ہے۔ لنک-41 پر جائیے۔

وہ اپنے آپ کو تنہا رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ نشہ کر سکے لنک-42 پر جائیے۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

رات ڈھل چکی ہے۔ پپو دوبارہ فورٹ روڈ پر چلا جاتا ہے۔ وہ کسی کار سوارکو الو بنانے کا سوچتا ہے۔ وہ اس کے نتائج سے بخوبی واقف ہے تاہم وہ ایسے کاموں کا عادی ہو چکا ہے اور اُسے اب نتائج کی کوئی پرواہ نہیں۔ وہ شدید غصے اور بھوک کی حالت میں ہے، اگرچہ وہ نہیں جانتا کہ اسے غصہ زیادہ ہے یا بھوک، تاہم وہ بھوک مٹانے کیلئے کسی کو چونا لگانے کا کام فوری کرنا چاہتا ہے۔
چند لمحوں بعد میرون رنگ کی کرولا پپو کے پاس آکر رُکتی ہے۔ ایک تیس سالہ دُبلا پتلا شخص اُس کو گاڑی میں بیٹھنے کو کہتا ہے۔

’’سلیم داد کیا حال ہے، میرے پیٹ میں چوہے دوڑرہے ہیں، چلو میکڈونلڈز چلیں۔‘‘پپو ہاتھ ملاتے ہوئے کہتا ہے۔
’’ہاں ہاں، کیوں نہیں‘‘ سلیم داد پپو کی ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر جواب دیتا ہے۔
’’ میکڈونلڈز میں تو میری جان ہے‘‘ پپو باہر بینچ پر بیٹھی ڈمی دیکھتے ہوئے کہتا ہے۔
’’تم جو کھانا چاہتے ہو منگوا لو، تکلف کی ضرورت نہیں‘‘ سلیم داد فیاضی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

پپو چار چکن برگر اور بڑی کوک منگواتا ہے۔ آرڈر کرنے کے بعد وہ خاموشی سے کھانے کا انتظار کرتا ہے۔ سلیم داد کاؤنٹرپر بل ادا کرتا ہے اور پپو کو بیگ پکڑا دیتا ہے۔ وہاں پر ہر قسم کے لوگ آ جا رہے ہیں۔ پپو کو کوئی اور آسان شکار نہیں ملتا، اسی لیے وہ برگر کھاتا رہتا ہے۔

’’میری بیوی اچھی عورت نہیں ہے۔ ہر کوئی مجھے وہی تین سالہ پرانا فلم ڈائریکٹر سمجھتا ہے‘‘۔ وہ پپو سے کہتا ہے، ’’ جب تم کھانا کھا لو تو بیئر کاایک کریٹ لا دینا۔‘‘

سلیم داد کھانا کھاتے ہوئے پپو سے اپنی پریشانی کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ اپنی بیوی کے ساتھ اس کا رشتہ روگ بن چکا ہے۔ وہ اسے چھوڑنا چاہتا ہے کیونکہ اُس نے ازدواجی زندگی عذاب بنا رکھی ہے لیکن چھوڑ بھی نہیں سکتا کیونکہ ماضی میں بہت سی خوشگوار یادیں دامن پکڑ لیتی ہیں، پھر پانچ بچوں کا مستقبل خراب ہونے کا ڈر بھی جو اسے ارادے سے باز رکھتا ہے۔

پپو دیکھتے ہی دیکھتے سب برگر چٹ کر جاتا ہے۔ سلیم داد اسے بیئر کی یاد دلاتا ہے۔ پپو فرنچ فرائز کا صفایا کرتے ہی اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور آواری ہوٹل جانے کا پروگرام بناتا ہے۔ آواری پہنچتے ہی دونوں بار کا رُخ کرتے ہیں۔
’’کیوں نہ ہم آج سکاچ وہسکی سے شغل کریں‘‘آواری بار کے ایک کونے میں پہنچ کر سلیم داد پپو سے کہتا ہے۔
وہ اپنی پسند کی خریداری کرنے کے بعد آواری ہوٹل کی پارکنگ میں آ جاتے ہیں اور گاڑی میں بیٹھ کر شراب کے کئی جام لنڈھانے لگتے ہیں۔ پپو کو موقع ملے تو جانے نہیں دیتا، کیونکہ اُس نے سُن رکھا ہے کہ مفت کی شراب تو قاضی کو بھی حلال ہوتی ہے۔ سلیم داد گاڑی سٹارٹ کرتا ہے اور گاڑی خراماں خراماں آواری کے گیٹ سے باہر نکل جاتی ہے۔ سلیم داد پپو کو 500 روپے کا نوٹ پکڑاتا ہے اور گاڑی سے اتر جانے کو کہتا ہے۔ پپو اُس سے شملہ پہاڑی تک چھوڑنے کیلئے کہتا ہے۔ سلیم داد کو چڑھ چکی ہے اور وہ تلخ ہو چکا ہے۔ وہ پپو کو جھڑک دیتا ہے۔

پپو نشے میں دھت ہو چکا ہے، یہاں تک کہ اُس سے بولا بھی نہیں جاتا لیکن وہ زور لگا کر بولتا ہے اور سلیم داد کو گالی دیتا ہے اور ہاتھ سے اُسے پرے دھکیلتا ہے۔ گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے رہ جاتا ہے۔ سلیم داد اُسے طیش میں پرے دھکیلتا ہے اور ہاتھ بڑھا کر دورازہ کھول دیتا ہے۔ پپو چلتی گاڑی سے باہر جا گرتا ہے۔ شدید سردی میں یکدم اُسے خونی اُلٹیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں اور جسم ٹھنڈا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ کسی کی توجہ اُس پر پڑتی، سانسوں کی ڈور ٹوٹ گئی اور وہ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گیا۔

صبح کا سورج سست روی سے اپنی اڑان بھر رہا تھا، کچھ بھوک کے مارے بچے کھانے کی تلاش میں شملہ پہاڑی کے نزدیک میکڈونلڈز کے عقب میں کوڑے کے ڈھیر سے پپو کی لاوارث لاش کو دیکھ کر خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔

لنک-47 پر جائیے۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

بلڈنگ کی آڑ میں پاؤڈر سونگھنے کے بعد پپو ہوش کھو بیٹھتا ہے۔
’’تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ وہ نوجوان اپنی جینز کی زپ بند کرتے ہوئے کہتا ہے۔ وہ لمبے بالوں والا نوجوان قریباً چالیس کے لگ بھگ ہو گا۔

’’کسی کام کو اچھے طریقے سے کرنا ہی سب سے بڑی بات ہے۔‘‘وہ نوجوان پپو کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔’’جلدی سے مجھے یہاں سے نکالو اور میرا سودا بھی مجھے دو‘‘ وہ پپو سے الجھنے کے انداز میں بات کرتا ہے۔

’’تمہاری چیزیں گیس ٹینک میں ہیں اور وہ تمہاری سائیڈ پہ ہے اُتر کے لے لو، اس جگہ میں تمہیں نہیں دے سکتا۔۔۔‘‘پپو جواب دیتا ہے۔ وہ نوجوان اپنا سامان نکال کر رفو چکر ہو جاتا ہے۔

جھاجھو کے یوں غائب ہونے سے پپو بہت اکیلا پن محسوس کرتا ہے۔ پپو کی چال بے ڈھنگی، جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے۔ منشیات فروشی، جسم فروشی، چار پیسے ملنے چاہئیں، اسے کسی چیز پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ آج بھی وہ اسی مشن پر تھا، بادشاہی مسجد کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر وہ سوچوں میں گم ہے کہ ایک سفید رنگ کی ہونڈا کار اُس کے پاس آ کر رُکتی ہے۔ بھاؤ تاؤ ہونے لگتا ہے۔

تھوڑی دیر کے بعد فورٹ روڈ سے وہ دونوں شاہدرہ کی طرف جاتے ہیں۔ راوی کے پُل پر ٹول پلازہ کراس کرنے کے بعد پپو اُس شخص کو گاڑی روکنے کیلئے کہتا ہے۔ وہ گاڑی سے باہر نکلتا ہے تو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بہت بھلا لگتا ہے۔ اس جگہ سے اُسے تقریباً آدھے لاہور کا منظر نظر آ رہا ہے۔ تھوڑی دیر میں سورج بھی نکل آئے گا۔

پپو گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ لاک ہے۔ گاڑی زناٹے سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ ایک دم پپو کو سمجھ نہیں آتا کہ اُس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ جلد ہی دُھول اور مٹی بیٹھ جاتی ہے پھر چاروں طرف خاموشی چھا جاتی ہے۔’’ اب غصہ کرنے سے کیا فائدہ؟ اُسے پہلے ہی محتاط ہونا

چاہئیے‘‘، آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وہ سوچتا ہے،’’ اُسے پیسے لئے بغیر گاڑی سے اترنا ہی نہیں چاہئے تھا‘‘۔ وہیں ریسٹورنٹ کے آس پاس ہی رہتا تو اچھا تھا۔ جو جھک مارنی تھی وہیں مار لیتا۔ چلتے چلتے پپو کو عجیب و غریب خیالات آتے ہیں۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ کسی کو مار دے، کبھی دل چاہتا ہے اپنا ہی سر دیوار میں پھوڑ لے۔۔۔
ایک گھنٹے بعد وہ نیازی چوک کراس کر رہا ہے۔ صبح صبح کا وقت ہے، بہت زیادہ رش ابھی نہیں ہے۔ کچھ لوگ سواریوں کے انتظار میں بس سٹاپ پہ کھڑے ہیں۔ کچھ لوگ ٹمبر مارکیٹ کی طرف سے آ رہے ہیں، انہی کے درمیان پپو کو جھاجھو نظر آتا ہے۔

پپو تیزی سے بھاگ کر جھاجھو کی طرف لپکتا ہے، گلے ملتا ہے اور پوچھتا ہے کہ وہ جیل سے کب رہا ہوا۔
’’تقریباً ایک ماہ پہلے۔‘‘ جھاجھو جواب دیتا ہے ۔

پپو یہ جواب سن کر حیران ہوتا ہے، وہ سمجھتا تھا کہ جھاجھو اُس کا بہت اچھا دوست ہے مگر اب اُسے لگتا ہے کہ وہ کسی پہ یقین نہیں کر سکتا۔ پپو جھاجھو کو اپنی کہانی سناتا ہے اور پھر اُس کی کہانی سنتا ہے۔ جھاجھو بتاتا ہے کہ اُسے ایک لڑکا جیل میں ملا تھا جس کا نام لَکی ہے وہ اُسے اپنے ساتھ ہی لے گیاتھا۔ لَکی کے دوست کا کال سینٹر ہے جس میں لَکی کام کرتا ہے۔ کال سینٹر لبرٹی کے قریب پاک ٹاور میں ہے۔ وہ پیسے اچھے دے رہے ہیں اس لیے جھاجھو نے بھی وہاں کام کرنا شروع کر دیا اور رہنے کیلئے جھاجھو لَکی کا فلیٹ استعمال کرتا ہے۔

اب لَکی کو اُس کی ماں واپس سوات لے گئی ہے اور اُس کی جگہ اب پپو رہ سکتا ہے۔
دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔
’’چلو داتا دربار چلتے ہیں۔‘‘ تھوڑی دیر بعد جھاجھو کہتا ہے۔
یہ خاص داتا یاترا جھاجھو اُس وقت کرتا ہے جب اُس کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ وہ فورٹ روڈ کی گلیوں سے ہوتے ہوئے داتا صاحب پہنچتے ہیں۔ داتا صاحب کھانے پینے کی چیزوں کی بہتات رہتی ہے۔ پلاؤ، قورمہ، زردہ، حلیم اور نہ جانے کیا کیا۔ لاہور میں رہنے والے پردیسیوں کیلئے یہ کھابہ گیری کیلئے بہترین جگہ ہے۔
’’تم تو ویسے ہی صبح سے پیدل چل رہے ہو اور میں مزید چلا پھرا کر زیادتی کر رہا ہوں۔۔۔‘‘فورٹ

روڈ پر چلتے چلتے جھاجھو پپو سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔
’’نہیں کوئی بات نہیں، کوئی وقت تھا کہ میں ایک قدم گاڑی کے بغیر چلنے کو تیار نہ تھا، اب تو چلتے چلتے جوتیاں گِھس جاتی ہیں اور پتا تب چلتا ہے جب اچانک پاؤں زمین سے چھونے لگتا ہے۔‘‘پپو اُسے مطمئن کر دیتا ہے۔

’’معلوم نہیں کیوں داتا صاحب کی طرف پیدل جانا مجھے پُرسکون کر دیتا ہے۔‘‘ جھاجھو پھر کہتا ہے۔
پپو، جھاجھو کی بات سن کر گہری سوچ میں گم ہوجاتا ہے۔ اُسے حیرت ہوتی ہے کہ دوسروں کی طرح خود اسے ایسی روحانی چیزوں سے کوئی دلچسپی کیوں پیدا نہیں ہوتی؟
’’پپو، تم کال سینٹر میں میرے ساتھ ہی کام کیوں نہیں کرنے لگ جاتے‘‘۔تھوڑی دیر بعد جھاجھو اسے صلاح دیتا ہے۔

’’تم لِکی کی جگہ نوکری کر سکتے ہو، اس طرح تم میرے ساتھ فلیٹ میں بھی رہ سکتے ہو اور کرایہ بھی میرے ساتھ شیئر کر سکتے ہو۔‘‘ جھاجھو پپو کی طرف غور سے دیکھتا ہے۔
پپو مان جاتا ہے اور دونوں جھاجھو کے فلیٹ کی طرف چل پڑتے ہیں۔
فلیٹ پپو کو اچھا لگ رہا ہے حالانکہ جس گھرانے سے اُس کا تعلق ہے وہاں ملازموں کے کمرے بھی اس سے بہتر ہیں۔

فلیٹ میں ٹی وی، مائیکروویو اوون، فریج غرضیکہ سب کچھ ہے مگرکھانے پینے کو کچھ نہیں ۔ ایک غسل خانہ اور شاور ہے مگر شاور کرٹن نہیں ہے، کمرے کے فرش پہ میٹرس ہے مگر چادریں نہیں ہیں۔

پپو پوچھتا ہے کہ اُس نے یہ سامان کہاں سے لیا؟ جھاجھو بتاتا ہے کہ یہ سب چوری کیا ہے اور کپڑے لَکی کے ہیں۔
جھاجھو کا باس خواجہ شمس چالیس کے لگ بھگ ہے۔ وہ جھاجھو کو بتاتا ہے کہ اگر پپو نے ٹیسٹ پاس کر لیا تو تب ہی وہ اُسے نوکری دے گا کیونکہ پپو اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں ہے لہٰذا وہ ٹیسٹ میں فیل ہو جاتا ہے۔ اس پر پپو بہت مایوس ہوتا ہے مگر جھاجھو اُسے سمجھاتا ہے اور خواجہ شمس کو ایک موقع دینے کیلئے منا لیتا ہے ۔

شروع شروع میں پپو کو بہت مشکل ہوتی ہے مگر آہستہ آہستہ جھاجھو اُسے کام سکھا دیتا ہے۔ جب پپو کو پہلی تنخواہ ملی تو اس نے نشہ کی مقدار مزید بڑھا دی۔ آخر کار اُن دونوں کے پیسے نشے کیلئے کم پڑنے لگتے ہیں۔ وہ دوبارہ گاہکوں کی تلاش میں فورٹ روڈ جانا شروع ہو جاتے ہیں ۔اسی طرح ایک دن شراب پی کر غُل غپاڑہ کرتے ہوئے جھاجھو پولیس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے، پولیس اسے پکڑ کر ساتھ لے جاتی ہے۔ نشہ پپو کے اعصاب پر سوار رہتا ہے۔ نشہ کرنے کیلئے پیسے اکٹھے کرنا، نشہ خریدنا، پھر نشہ کرنا اور پھر نشہ نہ ملے تو تروڑک برداشت کرنا ہی پپو کے شب و روز بن گئے ہیں۔

نشے کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ کام کاج کے قابل نہیں رہااوراس پر طرہ یہ کہ وہ اس قابل بھی نہیں ہوتا کہ گاہک تلاش کر سکے۔ آخر ایک دن تنگ آ کر وہ دفتر چلا جاتا ہے۔ خواجہ شمس اُس کو دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے اور پوچھتا ہے کہ’’جھاجھو کہاں ہے؟‘‘

’’وہ سرکاری مہمان بن گیا ہے۔‘‘ پپو بتاتے ہوئے خواجہ شمس سے نظریں نہیں ملاتا ہے۔

’’چلو میرے ساتھ میں تمہیں کہیں لے جانا چاہتا ہوں۔‘‘خواجہ شمس اُسے پیار سے کہتا ہے ۔
’’کیا تم بھی میرے طلب گار ہو؟‘‘پپو اُس سے پوچھتا ہے ۔ شرم و حیا نام کی کوئی شئے اُس کے پاس نہ تھی۔
’’میں ایک منٹ دفتر بند کر لوں پھر چلتے ہیں، میں تمہیں ایک خاص جگہ لے کر جانا چاہتا ہوں‘‘ پپو کی بات کا جواب دئیے بغیر خواجہ شمس کہتا ہے۔’’ میں تمہیں اُن نشیؤں کی میٹنگ میں لے جانا چاہتا ہوں جو نشے سے تائب ہو چکے ہیں۔‘‘

خواجہ شمس پپو کو سمجھاتا ہے’’تمہیں کچھ نہیں کرنا، صرف چپ بیٹھنا ہے اور وہاں سے فارغ ہونے کے بعد میں کھِلانے لے جاؤں گا تمہیں۔‘‘
’’میں نشئی نہیں ہوں‘‘پپو کہتا ہے

’’نشئی تو نہیں ہو مگر نشہ تو کرتے ہو، تمہارے چہرے سے سب کچھ عیاں ہے، تمہیں وہاں کچھ نہیں کرنا۔۔۔ صرف ایک گھنٹے کی بات ہے، اُس کے بعد ہم مزیدار کھانا کھائیں گے‘‘۔خواجہ شمس اسے لالچ دیتا ہے۔

’’مجھے بھوک تو بہت لگی ہے‘‘، پپو کھانے پینے کے لالچ میں میٹنگ میں بیٹھنے کیلئے آمادہ ہو جاتا ہے ۔
یہ سن کر خواجہ شمس دفتر بند کرنا شروع کر دیتا ہے ۔
پپو خواجہ شمس کی نظر بچا کر ایک ٹیلی فون سیٹ اور ہیڈ فون اُٹھا لیتا ہے اور خاموشی سے کھسکا لیتا ہے جائیے لنک-43 پر۔
پپو سوچتا ہے کہ میٹنگ تو بیکار ہو گی، تاہم کھانا کھانے کو ملے گا۔ پھر اس کے بعد وہ نشہ کرنے کیلئے ’’آزاد‘‘ ہو گا۔ جائیے لنک-44 پر۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

’’ارے دیکھ کے‘‘ ایک جھاڑی سے لڑکی کی آواز آتی ہے۔
پپو رفع حاجت کیلئے جھاڑی کی طرف بڑھتا ہے، آواز سن کے چونک جاتا ہے اور اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھنے لگتا ہے۔ اُسے ایک خوبصورت لڑکی دکھائی دی جو غصے سے اُس کی طرف دیکھ رہی ہے۔ وہ لڑکی دیکھنے میں خوبصورت ہے مگر اس وقت تو وہ پپو ہی کی طرح گند ی مندی سی لگ رہی ہے۔

’’ اس طرح جھاڑی میں سونا ٹھیک نہیں ہے ویسے بھی یہ خطرے سے خالی نہیں ہے۔‘‘پپو اُسے کہتا ہے۔
’’ میں کسی کے گھر سے بھاگ کر آئی ہوں جو مجھے یرغمال بنا کر رکھنا چاہتا تھا۔‘‘ جواب میں وہ لڑکی کہتی ہے،’’ میں اپنی مرض کے خلاف کسی کو کچھ نہیں کرنے دیتی!‘‘
’’لڑکیوں کیلئے سڑک پہ رہنا بہت تکلیف دہ ہو سکتا ہے، یہاں وہ بار بار اذیت سے دوچار ہو سکتی ہے۔ خیر اگر میں کچھ مدد کر سکوں تو ضرور بتاؤ‘‘۔پپوکو لڑکی کی بہت فکر ہو رہی تھی ۔

’’یہ تم کہہ رہے ہو؟ جاؤ اور اپنے آپ کو بیچ کر کچھ پیسے اکٹھے کرو‘‘۔ لڑکی ترکی بہ ترکی جواب دیتی ہے،’’ تم جیسے چکنے لڑکے کسی کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔‘‘

پپو دل ہی دل میں غرق ہو گیا۔ ہیرو بننے کا اسے ہمیشہ سے ہی شوق تھا لیکن اس کی یہ تمنا کبھی نہ پوری ہو سکی۔’’ معلوم نہیں تم اپنے آپ کو کیا سمجھتی ہو؟‘‘پپو نے بھڑک کر جواب دیا۔
’’تم کیوں نہیں یہ دھندہ کرتی؟‘‘۔ پپو نے پوچھا۔
’’کیونکہ مجھے آج ایک ٹرک میں اغواء کیا گیا اور آٹھ لوگوں نے اجتماعی زیادتی کی جس سے میں چلنے کے قابل بھی نہیں رہی‘‘ لڑکی صفائی پیش کرتی ہے ۔

پپو دل ہی دل میں بہت شرمندہ ہوتا ہے اور اُسے ہسپتال جانے کا مشورہ دیتا ہے مگر وہ لڑکی مشورہ ماننے سے انکار کر دیتی ہے۔

’’تمہیں پھر بھی پولیس کی مدد لے لینی چاہئیے۔‘‘ پپو اپنے مفت کے مخلصانہ مشورے جاری رکھتا ہے۔
لڑکی پھر بھی راضی نہیں ہوتی۔ پپو اُس کے لیے افسردہ ہو جاتا ہے، وہ ہر قیمت پر اُس کی مدد کرنا چاہتا ہے مگر کوشش کے باوجود وہ اُس کی بات نہیں مانتی۔ پپو جانے کے ارادے سے واپس پلٹ جاتا ہے۔ پپو کو احساس ندامت ہونے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کسی بے سہارا لڑکی کو اس حالت میں چھوڑکر چلے جان کتنی بڑی زیادتی ہے۔ یہ سوچ پپو کو ایک نئی توانائی بخشتی ہے ۔
’’میں ابھی آتا ہوں۔‘‘وہ اُس لڑکی کو مخاطب ہو کر کہتا ہے ۔

پہلے وہ سوچتا ہے کہ خود ہی ایمبولیس منگوا لے لیکن پھر خود ہی اپنی اس سوچ کو پسِ پشت ڈال کر خود ہی میو ہسپتال لے جاتا ہے۔
پپو اُس لڑکی سے میو ہسپتال لے جانے کو کہتا ہے۔
’’یہ تو تبھی ہو سکتا ہے، اگر تم تھوڑے سے پیسے جمع کر لو کیونکہ میں بس پہ نہیں جانا چاہتی۔ ‘‘وہ کہتی ہے۔
دونوں ٹیکسی میں میو ہسپتال کی طرف جا رہے ہیں۔

ہسپتال کے پاس پہنچ کر وہ ڈرائیور کو سیدھے ہاتھ مُڑنے کا کہتی ہے اور اُسے گوالمنڈی کا راستہ بتاتی ہے۔
’’میں ہسپتال نہیں جانا چاہتی‘‘ گوالمنڈی پہنچ کر ایک سائیڈ پہ وہ ٹیکسی رکوا دیتی ہے اور پپو کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے۔

’’مجھے پیسے دو‘‘ کرائے کے پیسے ڈرائیور کو دینے کے بعد باقی پیسے وہ خود اپنے پاس رکھ کر رات کی تاریکی میں غائب ہو جاتی ہے۔ پپو رات کے گہرے اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ کے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد جب وہ دیکھنے کے قابل ہوتا ہے تو اُسے سگریٹ کی ہلکی ہلکی چنگاریاں اور کافی سارے انسانی ہیولے بھی نظر آتے ہیں ۔ پپو ٹیکسی میں ہی اُس لڑکی کے واپس آنے کا انتظار کرتا ہے۔ تھوڑی دیر میں لڑکی واپس آ جاتی ہے اور وہ پوری طرح نشے میں چُور ہوتی ہے۔ پپو کو اچھا تو نہیں لگتا مگر برداشت کر جاتا ہے۔ اصل میں اس پیسے سے وہ خود بھی نشہ خریدنا چاہتا ہے جبکہ وہ لڑکی سب پیسے اُڑا آتی ہے۔ اُسے پھر لڑکی کے ساتھ ہمدردی ہونے لگتی ہے۔

وہ لڑکی ڈرائیور کو راوی کے ساتھ ایک جنگل نما جگہ جسے لوگ ’’ذخیرہ‘‘ کہتے ہیں جانے کو کہتی ہے۔ چہل قدمی کرتے ہوئے وہ پپو کو بتاتی ہے کہ تیرہ سال کی عمر میں وہ سب سے پہلے گھر سے بھاگی مگر پھر واپس چلی گئی حالانکہ اُس کا سوتیلا باپ ہر رات اُس کے ساتھ زیادتی کرتا ۔

’’تم دوبارہ کیوں اپنے سوتیلے باپ کے پاس رہنے چلی گئی۔۔۔‘‘پپو بات نہ سمجھتے ہوئے کہتا ہے۔
’’جب میں گھر پہ ہوں تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے لیکن جب میں سڑک پر سوتی ہوں تو ایک انجانا خوف ہے کہ معلوم نہیں کب کیا ہو جائے۔ دل ہر وقت انہونی سے ڈرتا رہتا ہے، میں ہر وقت خوفزدہ رہتی ہوں‘‘۔لڑکی رنجیدہ ہو کر جواب دیتی ہے ۔

اُس لڑکی کی باتیں سن کر پپو کو اپنے حالات بھی یاد آ جاتے ہیں اور فرطِ جذبات سے اُسے گلے لگا لیتا ہے۔
’’تم پریشان مت ہو، سب ٹھیک ہو جائے گا، میں تمہارے ساتھ ہوں‘‘۔پپو کہتا ہے۔
پھر پپو اُس لڑکی کو فورٹ روڈ پر اُس کے ساتھ گزرے حالات کے بارے میں بتاتا ہے ۔ تھوڑی دیر بعد وہ پپو سے نشہ کرنے کے بارے میں پوچھتی ہے اور اُسے بتاتی ہے کہ تھورا سا نشہ اُس نے بچا لیا ہے۔ جنگل میں ایک جھاڑی کے پاس وہ دونوں بیٹھ جاتے ہیں اور نشہ کر کے وہیں لیٹ جاتے ہیں۔ پپو اُس لڑکی کے ساتھ بہترین وقت گزارتا ہے۔
’’مجھے اپنے جوتے اُتار کے دو کیونکہ میں غسل خانے میں جانا چاہتی ہوں‘‘ وہ پپو سے کہتی ہے۔

وہ ایک بلڈنگ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پپو نشے میں دھت ہے اور پرواہ کئے بغیر اُسے اپنے جوتے دے دیتا ہے۔ پپو اُس لڑکی کے ساتھ بیتائے گئے ایک ایک لمحے کو یاد کر کے بہت خوش ہوتا ہے۔ اُس لڑکی کو گئے کافی دیر ہو جاتی ہے، پپو یہ سوچ کر خود بھی اُس سمت میں چلنا شروع کر دیتا ہے۔ غسل خانے کے باہر وہ کافی دیر انتظار کرتا ہے پھر دروازے کو ہلکا سا دھکیل کے دیکھتا ہے تو وہ کھل جاتا ہے۔۔۔ اور وہاں کوئی نہیں ہوتا، اب پپو کو احساس ہوتا ہے کہ وہ لڑکی تو اُسے چکما دے کے چلی گئی۔

پپو کو اب بھی یقین نہیں آتا کہ وہ لڑکی اُس کو دھوکہ دے کر چلی گئی ہے۔ وہ بہت بے چین ہو جاتا ہے اپنی سوچوں پر، اُسے یقین ہی نہیں ہوتا کہ اُس کے ساتھ پھر دھوکہ ہوا ہے، وہ اپنے آپ کو ختم کرنے کے بارے میں بھی سوچتا ہے۔ کچھ دیر وہ وہیں بیٹھ کر سوچتا ہے کہ اب اُسے کیا کرنا چاہئیے۔
فورٹ روڈ پر واپس جانے کیلئے اُسے کوئی ترکیب استعمال کرنی پڑے گی کیونکہ ’’ذخیرہ‘‘ سے فورٹ روڈ وہ صرف ٹیکسی یا رکشے میں جا سکتا ہے اور اُس کے لیے اُسے زیادہ سارے پیسے چاہئیں۔ اگر یہ مناسب حل ہے تو پڑھئے لنک-45

اب وہ ایک مشن پر ہے۔ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اُسے ایک سچا ساتھی تلاش کرنا ہے اگر وہ ناکام رہا تو وہ خودکشی کر ے گا۔ اگر یہ مناسب حل ہے تو پڑھئے لنک-46

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

پپو سوچتا ہے کہ دو منٹ پہلے وہ اس لڑکے کو مارنے کے درپے تھا لیکن اب وہ شرمندگی اور ندامت محسوس کر رہا ہے۔ اسے اپنے موڈ اور مزاج کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ کبھی شعلہ کبھی شبنم، یہ ہمیشہ سے اس کا مسئلہ ہے اور اسی سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ادارے کا نمائندہ موڈ اور مزاج کے اعتبار سے بہت متوازن تھا۔ وہ سامنے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پس منظر سے غافل نہ ہوتا تھا۔ عمران پپو کو لے کر اندر ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ جاتا ہے اور اسے سمجھاتا ہے کہ وہ بُرے کام چھوڑ دے اور عبادت کیا کرے۔ پپو کو دُنیا بہت پراسرار لگتی ہے۔ وہ انتہائی تذبذب کا شکار ہے اور پراگفتہ خیالات اس کے اردگرد منڈلا رہے ہوتے ہیں۔
’’مجھے عبادت نہیں کرنی ‘‘ پپو کہتا ہے۔

’’کیا کوئی اور تمہیں نماز پڑھنے کیلئے نہیں کہتا؟‘‘عمران ہنستے ہوئے پوچھتا ہے۔
’’نہیں، قطعاً نہیں‘‘ پپو کندھوں کو سکیڑتے ہوئے کہتا ہے۔
’’اچھا تو تم کتنے برس کے ہو؟‘‘وہ پپو کی طرف دیکھتا ہے، ’’اس سے پہلے کہ تم مجھے اپنی عمر کے بارے بتاؤ، میں بتانا چاہوں گا کہ پتہ نہیں کیوں ہر کوئی مجھ سے جھوٹ بولتا ہے۔ کچھ بچے جو عمر میں بڑے ہوتے ہیں، اپنی عمر سترہ برس بتاتے ہیں تاکہ اُن کو آسانی سے پناہ مل جائے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ہم اکیس سال تک کی عمر کے نوجوانوں کو داخل کرتے ہیں۔ پھر کچھ بچے جو عمر میں چھوٹے ہوتے ہیں اپنی عمر اٹھارہ سال بتاتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید چھوٹے بچوں کو واپس گھر والدین کے پاس بھیج دیا جاتا ہے، جو کہ سچ نہیں ہے۔‘‘ عمران بتاتا ہے۔

’’میں تو۔۔۔‘‘ پپو بات کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔
’’ایک منٹ۔۔۔ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی‘‘ عمران پپو کو ٹوکتے ہوئے کہتا ہے۔
’’تو میں تمہیں یہ بتا رہا تھا کہ ہر شخص کی کوئی نہ کوئی جگہ ہوتی ہے اور ہر مشکل کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے۔ ہم اسی منصوبے کے تحت ہر سال چار ہزار بچوں کو داخل کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ تمام مختلف مسائل کا شکار ہوتے ہیں لیکن اُن کا مناسب حل بھی ہمارے پاس موجود ہے۔‘‘ بالکل ایسے ہی جیسے ڈاکٹر کے پاس لوگ اپنی شکایات لے کر جاتے ہیں اور وہ اُن کیلئے مختلف دوائیں تجویز کرتا ہے۔ جیسے ہر مرض کی دوا ہوتی ہے اسی طرح گھر سے بھاگنے کے مرض کی دوا بھی ہوتی ہے جو سب کو تھوڑے تھوڑے فرق کے ساتھ فائدہ پہنچاتی ہے۔ یہاں دوا سے مراد دوا بھی ہے اور کوئی دوسرا ممکنہ حل بھی۔

’’اچھا۔۔۔!‘‘ پپو ہنکارا بھرتا ہے۔
’’اوہ! میں تھوڑا سا وقت اور لوں گا، اس سے پہلے کہ تمہارے ساتھ کچھ معاملات طے ہوں، میں تمہیں سب کچھ بتا دینا چاہتا ہوں، میں نہیں چاہتا کہ تم کسی بھی قسم کا الزام ہمیں دو۔ ہمیں یہاں جو کچھ بھی کرنا پڑتا ہے وہ اتنا آسان نہیں ہے چاہے ہم کتنی بھی نیک نیتی سے کام کریں اور کبھی کبھی ہماری کوششوں کے منفی نتائج بھی نکلتے ہیں۔‘‘ عمران ایک لمبی آہ بھر کر کہتا ہے۔

’’ابھی ایک بہت بڑا فرق باقی ہے، وہ بچے جو سترہ سال سے کم عمر کے ہوتے ہیں وہ کسی اور کی ذمہ داری ہوتے ہیں اُن میں والدین، سرپرست، حکومت یا سوشل ورکر یا کوئی بھی ادارہ ہو سکتا ہے۔ یہ بچے جب تک اٹھارہ سال کے نہیں ہو جاتے ان کو کوئی نوکری پر بھی نہیں رکھ سکتا اور قانونی طور پر یہ بچے کوئی کمرہ یا فلیٹ کرائے پر نہیں لے سکتے۔ اگر کوئی اُن کو نوکری پر رکھ لے یا کرایہ پر فلیٹ دے بھی دے تو کرایہ زیادہ ہوتا ہے اور تنخواہ کم۔ یہ سوائے مصیبت پالنے کے اور کچھ بھی نہیں ہے‘‘ عمران اپنی بات جاری رکھتا ہے۔

’’ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ کوئی سترہ سالہ لڑکا وہ آزادی حاصل کرے جو ایک بالغ کو حاصل ہوتی ہے لہٰذا تم ایسا کبھی سوچنا بھی نہیں، ورنہ تمہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر تم سترہ سال سے کم عمر کے ہو تو تمہیں ہمیشہ مدد ملے گی۔ اگر تم گھر سے بھاگے ہوئے ہو اور پولیس سٹیشن جاتے ہو تو وہ تمہاری مدد ضرور کریں گے۔ اگر تم اٹھارہ برس کے ہو جاتے ہو تو بلوغت کی وجہ سے بہت سے مسائل کا حل نکل آتا ہے۔ اٹھارہویں برتھ ڈے کے بعد پریشانی اور ذہنی انتشار کم بھی ہونا شروع ہو جاتا ہے‘‘ عمران بات کرتے ہوئے سانس لینے کیلئے رُکتا ہے۔

’’تمہیں ایک اور بات کا علم ہونا چاہئیے کہ ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے۔ تمہارا کیس مختلف نوعیت کا ہے اور چونکہ ابھی تم بالغ نہیں ہو لہٰذا تمہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ عمر کھیل کود کی ہے جبکہ تم سر پر چھت ڈھونڈ رہے ہو اور کھانے کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہو‘‘ عمران کا لہجہ ٹھہراؤ کے ساتھ ساتھ بردباری سے بھرا ہوا تھا۔

’’اچھا!کیا میں۔۔۔‘‘ پپو پھر بات کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔
’’ٹھہرو! میں تمہاری کہانی بعد میں سنوں گا، مجھے اپنی بات ختم کر لینے دو اگر میں نے تمہاری کہانی پہلے سن لی تو میں تم سے کھری کھری باتیں نہ کر سکوں گا میں محتصب ہو جاؤں گا‘‘ عمران پپو کو ٹوکتے ہوئے اپنی بات جاری رکھتا ہے۔

’’اگر تم واقعی اپنے بارے میں سنجیدہ ہو تو یہ بات ذہن میں رکھو کہ تمہیں یہاں صرف رہنے کو چھت اور تین وقت کا کھانا تو مل سکتا ہے لیکن اس سے زیادہ تمہاری راہنمائی کوئی نہیں کر سکتا۔ نہ ہی تمہاری زندگی بدلنے کیلئے کوئی اتنا تردد کرے گا۔ مثال کے طور پر آج ہی ایک لڑکی صبح کے وقت ہمارے ادارے میں آئی ہے جو نشہ کی عادی ایک طوائف ہے۔ میں اُس کو لاکھ سمجھاؤں لیکن جو اُس کی مرضی ہو گی وہ وہی کرے گی۔ میرا کام تو صرف اُس کو وقتی سہارا مہیا کرنا ہے۔ راہنمائی صرف اسی صورت میں مؤثر ہو گی اگر وہ لچک کا مظاہرہ کرے۔‘‘ عمران پپو کو سمجھاتے ہوئے کہتا ہے۔

’’ہمیں اکٹھے بیٹھ کر تمام معاملات کو کھل کر سامنے لانا چاہیے اور مسائل کی نشاندہی کرنی چاہیے تاکہ اُن کا کوئی مستقل حل نکال سکیں۔ مثلاً اگر نشے سے بحالی کا سامنا ہو تو پھر ہم یہ ذمہ داری صداقت کلینک کو سونپ دیتے ہیں جو نشے سے بحالی کا راہنما ادارہ ہے۔ جہاں 100 دن کا پروگرام بہت سی مشکلات آسان بناتا ہے پھر آؤٹ ڈور پروگرام بحالی کو قائم ودائم رکھتا ہے۔ نشے سے بحالی کے علاج میں کونسلنگ جو گروپ کی شکل میں بھی دی جاتی ہے بھی شامل ہے اور انفرادی طور پر بھی۔ یہ ایک بھرپور سسٹم ہے۔‘‘ عمران پپو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اپنی بات جاری رکھتا ہے۔

’’مثال کے طور پر اگر مسئلہ بیروزگاری کا ہے تو اس کیلئے تربیت کا انتظام کیا جا سکتا ہے یا کوئی ہنر سیکھنے کیلئے چند سال تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ آپ کو اپنا راستہ خود بنانا ہے۔ یہ تمام انتخاب آپ کا ہے۔ تربیت حاصل کرنے کے بعد آپ کوئی بھی اچھی جاب کر سکتے ہیں جس میں آفس ورک، کمپیوٹر، بجلی وغیرہ کا کام شامل ہے۔ لیکن اس کیلئے تمام اقدامات آپ کو خود ہی اٹھانے ہیں کیونکہ کوئی بھی شخص آپ کی جگہ یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس دوران تمہیں اُن تمام ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا جو عام طور پروقتی سکون اور تلخ حقائق سے فرار کیلئے اپنائی جاتی ہیں ان میں منشیات کا استعمال اور جنسی بے راہ روی بھی شامل ہے۔‘‘ عمران جذبات کی رو میں کہتا چلا جاتا ہے۔

’’اپنے آپ کو سیدھے راستے پر رکھنا بہت زیادہ مشکل کام بھی نہیں ہے تاہم اس کیلئے کچھ روز کچھ نہ کچھ تگ و دو تو کرنی پڑتی ہے۔ تواتر کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھانے سے زندگی بہتر ہو جاتی ہے۔ اگر تم صرف یہاں پر پناہ حاصل کر لو اور اپنی زندگی بہتر کرنے کیلئے کوشش نہ کرو تو پھر شاید ہم بھی تمہاری کوئی مدد نہ کر سکیں۔ اگر تم اپنا زیادہ تر وزن خود نہیں اٹھا پاؤ گے تو کوئی

دوسرا تھوڑا وزن اٹھانے کیلئے بھی تیار نہیں ہو گا۔ تمہیں اپنے معاملات خود درست کرنے کیلئے تیار ہونا ہو گا پھر ہی دوسرے تمہاری مدد کر سکیں گے۔ میں اپنی بات مکمل کر چکا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میری بات کافی لمبی ہو گئی ہے لیکن میں تم سے یہ قطعاً نہیں کہتا کہ تم یہ سب کچھ یاد رکھو بلکہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم مل کر ہر مسئلے کو حل کریں گے۔‘‘ عمران جوشیلے انداز میں کہتا ہے،’’میری بات ختم ہو گئی اب تم شروع ہوجاؤ‘‘۔

’’مجھے تمام سمجھ آ گئی ہے‘‘ پپو پرسکون لہجے میں کہتا ہے اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ پپو کچھ دیر خاموش رہتا ہے اور پھر بات شروع کرتا ہے،’’ میری کہانی کچھ یوں ہے کہ۔۔۔۔۔

لنک-47 پر جائیے

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

پپو کا غصہ کسی صورت ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا۔ عمران نے اسے ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس دینا چاہا لیکن اسے نے صاف انکار کر دیا۔ عمران نے دوبارہ کوشش کی تو پپو نے ہاتھ مار کر گلاس زمین پر گِرا دیا۔ شیشے کا گلاس کرچی کرچی ہو کر بکھر گیا۔

’’میں تمہیں سبق سکھا دوں گاا ور تمہیں یہاں سے نکال دوں گا کیونکہ تم کسی کیلئے کچھ بھی نہیں کرتے، تم ہو سب سے بڑے حرامی، میں تمہیں دیکھ لوں گا!‘‘ پپو مسلسل غصے میں آپے سے باہر ہو رہا تھا۔ عمران نے اپنے ساتھی کو اشارہ کیا جس نے 15 پر پولیس کو کال کر دی اور پپو کی باتوں کا جواب دینا چھوڑ دیا۔ پپو مسلسل دھمکیاں دیتا رہا۔ یہ دیکھ کر کہ اب کوئی مزاحمت نہیں کر رہا، پپو نے اندر جانے والے دروازے کو ٹھڈے مارنے شروع کر دئیے۔ دروازہ بند تھا۔ پپو کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے؟ اُس کا پارہ چڑھتا جا رہا تھا۔ پپو اچانک اٹھا، آگے بڑھا اور عمران کو گریبان سے پکڑ لیا، عین اسی وقت پولیس کا ایک سب انسپکٹر دو سپاہیوں کے ہمراہ ہال میں داخل ہوتا ہے اور پپو پر جھپٹتا ہے ۔ تینوں مل کر پپو کی دھنائی کرتے ہیں اور گھسیٹتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

وقت گزرتا رہتا ہے۔اچانک ایک دن ڈاکیا عمران کے ہاتھ میں ایک خط دیتا ہے۔
پیاری شبو!

مجھے اُمید ہے کہ تم مجھے معاف کر دو گی۔ میں نے جو کچھ بھی کیا اُس پر میں کھلے دل کے ساتھ معذرت چاہتا ہوں میرے بارے میں سوچتے ہوئے ترشی اور کڑواہٹ کے علاوہ تمہیں کچھ اور محسوس نہیں ہوتا ہو گا۔ میں نے زندگی میں بہت برے کام کئے اور بے حساب ٹھوکریں بھی کھائیں۔ غلط فیصلے کئے اور غلاظت سے لتھڑ گیا، لیکن میں قطعاً حقیقت میں ایسا آدمی نہیں ہوں جیسا کہ تم سوچتی ہو گی۔ اپنی تمام تر قباحتوں اور بے راہ روی کے باوجود میرا دل محبت سے خالی نہیں ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ میں تم سے اور اپنے بچے سے محبت کرتا ہوں اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔ چاہے تم مجھے اس خط کا جواب دو یا نہ دو میں کوئی گلہ و شکوہ نہیں کروں گا۔ دراصل میں نے

اکثر موقعوں پر اپنے گریبان میں جھانکنا سیکھ لیا ہے۔ قید خانہ میں رہ کر میں اتنا بدل چکا ہوں کہ مجھے اب یاد بھی نہیں پڑتا کہ اصل میں میری حقیقت کیا ہے؟ عجیب بات یہ ہے کہ مجھے اُن تمام لوگوں سے نفرت ہے جو مجھ سے مختلف ہیں، تاہم میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ مجھے زیادہ دیر تک اُن کے خلاف نہیں رہنا اگر میں ایسا نہیں کروں گا تو یقیناً پھر سے مشکل میں پھنس جاؤں گا۔مجھے اپنی بہت فکر ہے، بہرحال تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

میرے ذہن پر صرف تم اور میرا بچہ سوار ہے۔ مجھے تمہارے اور بچے کے بارے میں سوچتے رہنا اچھا لگتا ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ میرا بچہ لڑکا ہے یا کہ لڑکی اور مجھے اس سے کچھ فرق بھی نہیں پڑتا، میں تو بس اپنے ’’خاندان ‘‘کو حقیقی معنوں میں زندگی کے خوبصورت رنگوں میں رنگ دینا چاہتا ہوں۔

میرے پاس پیسے نہیں ہیں کہ میں تمہیں بھجوا سکوں، جیسے ہی کوئی انتظام ہو گا میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمہیں ضرور پیسے بھجواؤں گا۔ رات زیادہ ہو چکی ہے، میں تمہیں ہمیشہ چاہتا رہوں گا۔ اچھا شب بخیر!

نوٹ : میرے ساتھی کہتے ہیں کہ بچہ اب باتیں کرتا ہو گا سکول جانے کی تیاری کر رہا ہو گا۔ تمہیں یقین ہو یا نہ ہو بچے کو ہر رات یہ بات ضرور بتایا کرو کہ اس کا باپ اس سے بہت پیار کرتا ہے۔

لنک-47 پر جائیے۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

شبو دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتی ہے تو دیکھتی ہے کہ پپو اپنے بازو پر ہیروئن کا ٹیکہ لگارہا ہے۔ شبو شدید ناراضگی کا اظہار کرتی ہے اور پپو کو کمرے سے نکال دیتی ہے، پپو اس کے اس روئیے پر پریشان ہو جاتا ہے، اسے شبو کا یہ رویہ کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ باہر کافی اندھیرا اور سردی ہے، پپو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا ہے اور جیب میں سے سرنج نکال کر سوئی بازو میں گھسیڑ دیتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں اس کا موڈ بدل جاتا ہے، وہ گُنگنانے لگتا ہے۔

دوسری طرف پوتنی دا اور اس کی نئی گرل فرینڈ ’گلابو‘ پپو کے کمرے میں موجود چپس، سینڈوچ، پیزا وغیرہ کھا رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ٹی وی دیکھ رہے ہیں۔ ’گلابو‘ بجلی کی طرح بدصورت نہیں ہے۔ شبو پوتنی دا اور گلابو کی طرف دیکھتی ہے جو اِردگرد کے ماحول سے بے خبر انجوائے کر رہے ہیں۔ شبو اُن کو چھوڑ کر باہر آ جاتی ہے۔ پپواب بھی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے نشے میں دھت بیٹھا ہے، اس کے بازو میں سرنج لگنے کی جگہ ایک سرخ لکیر سی نظر آرہی ہے۔ خون بہہ رہا ہے لیکن پپو کواس بات کی ہر گز کوئی پرواہ نہیں۔ شبو خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ جاتی ہے اور ٹک ٹک اس کی شکل دیکھنا شروع کر دیتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد پوتنی دا اور گلابو کمرے سے نکلتے ہیں اور شبو کومخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’ ہم ذرا باہر گھوم پھر کر آتے ہیں‘‘۔ شبو اُن کی بات سنی ان سنی کر دیتی ہے اور وہ باہر نکل جاتے ہیں۔ شبو پپو کو سہارا دے کر اندر کمرے میں لے آتی ہے اور گدے پر لٹا دیتی ہے۔ یہ سب کچھ اسے اچھا نہیں لگتا، وہ یہاں سے چلی جانا چاہتی ہے لیکن یہ بات زبان پر لانے کی ہمت نہیں پڑتی۔ اپنی توجہ ہٹانے کیلئے ٹی وی دیکھنے لگتی ہے۔

صبح کے چار بجے دروازہ زور زور سے کھٹکتا ہے، پوتنی دا اور گلابو زور زور سے چلا رہے ہوتے ہیں کہ اُن کو اندر آنے دیا جائے۔ پپو سوچتا ہے کہ اسے جواب نہیں دینا چاہیے، وہ لوگ تنگ آ کر خود ہی چلے جائیں گے۔ پپو کے اندازے کے برعکس دروازہ پیٹنے کا شور مسلسل جاری رہتا ہے۔ شور شرابے سے بیزار ہو کر ہمسائے باہر نکل آتے ہیں اور لعنت ملامت کرنے لگتے ہیں۔ ہمسائیوں کا ہلہ گلہ بڑھتے دیکھ کر پپو سوچتا ہے کہ اس سے مشکل پیش آ سکتی ہے۔ پپو مجبور ہو کر پوتنی دا اور گلابو کو اندر آنے کیلئے کہتا ہے۔ تھوڑی دیر کی کچ کچ کے بعد سب سو جاتے ہیں اور خاموشی چھا جاتی ہے۔

دوپہر کو پپو کی آنکھ کھلتی ہے تو شبوغائب ہے۔ وہ الصبح پپو کے نام رقعہ لکھ کر جا چکی ہوتی ہے۔ رقعہ جس میں لکھا ہوتا ہے ۔

’’پپو! تم مجھے تلاش کرنے کی کوشش نہ کرنا، میں تمہیں کہیں نہیں ملوں گی۔ میں اپنے قدموں کے سارے نشان مٹا کر جا رہی ہوں۔ میں نے تمہیں کہا تھا کہ تمہیں نشہ چننا ہو گا یا پھر شبو کو، تم بظاہر کہتے رہے کہ تمہیں مجھ سے بہت پیار ہے، جبکہ کڑوا سچ یہ ہے کہ تم نشے کو ہی اپنا سب کچھ سمجھتے ہو۔ تمہارا رخ سورج مکھی کے پھول کی طرح ہمیشہ نشے کی طرف ہی رہتا ہے۔ نشہ ہی تمہارا خدا ہے۔ میں ایسے بندے کے پیچھے نہیں چل سکتی جو نشے کے پیچھے چلتا ہے۔ میں ایسی جگہ جا رہی ہوں جہاں سے تم چاہو یا میں چاہوں، میری واپسی ممکن نہیں ہو سکتی۔ تم غلط سوچ رہے ہو، میں مرنے نہیں جا رہی، مجھے جینے کی خواہش ہی دربدر لئے پھر رہی ہے۔ ایک دن میں وہ زندگی ضرور گزاروں گی جسے جینا کہتے ہیں۔ میرا دل چاہتا رہے گا کہ جب وہ دن آئے، صبح سورج کی کرنوں سے میری آنکھیں کھلیں تو تم میرے سامنے کھڑے ہو۔ خدا تمہیں غلط ارادوں سے باز رکھے۔
تمہاری شبو‘‘

پوتنی دا اور گلابو نشے میں دھت زندہ لاشوں کی طرح زمین پر بکھرے پڑے ہوتے ہیں۔
پپو گڑبڑا جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ جیسے وہ ڈراؤنا خواب دیکھ رہا ہے، پپو یہ منظر دیکھ کر بہت رنجیدہ ہے، پپو کا دِل کام پر جانے کو نہیں چاہ رہا۔ پپو کی آنکھوں کے گرد حلقے اور بھی گہرے نظر آنے لگتے ہیں۔ وہ سیل فون نکال کر کال ملاتا ہے۔

’’ہیلو! صادق پہلوان میں پپو بول رہا ہوں‘‘، ’’ میں بہت بیمار ہوں، میں ابھی ڈاکٹر کو دکھا کر ہی آ رہا ہوں، ڈاکٹر نے کہا ہے کہ میں بستر پر مکمل آرام کروں۔ مجھے الٹیاں اور دست لگے ہوئے ہیں۔‘‘
’’اپنا دھیان رکھا کرو‘‘ صادق جواب میں کہتا ہے۔ ’’میں نے تو تمہیں کئی دفعہ سمجھایا ہے، لیکن تم میری سنتے ہی نہیں۔‘‘

پپو ایسے کال کاٹ دیتا ہے جیسے خود ہی کٹ گئی ہو۔ پپو پھر سے نشہ شروع کر دیتا ہے۔ پپو جانتا ہے کہ اسے کام پر جانا ہے لیکن وہ بہت خوفزدہ ہے۔ پوتنی دا سے نشہ خریدنے میں تمام پیسے خرچ ہو جاتے ہیں۔ صادق کے ہوٹل میں پپو کی تنخواہ کا لفافہ انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ اگرچہ اُس نے پچھلے ہفتے چند دن ہی کام کیا تھا لیکن پیسے تو پیسے ہی ہوتے ہیں، تھوڑے ہوں یا زیادہ۔

نہاتے ہوئے پپو کو کمرے سے شور کی آواز آتی ہے۔ یہ کسی شخص کی بجائے کسی اوزار کی آواز ہوتی ہے۔ پپو تولیا لپیٹ کر کمرے میں آتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اچھو پہلوان آیا ہوتا ہے۔ اچھو پہلوان کے ہاتھ میں ایک بہت بڑا ٹول بکس ہے۔
’’میں تو کھڑکی لگانے آیا تھا لیکن یہاں تو حالت ہی بہت خراب ہے، آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، ہر طرف گند ہی گند ہے اور یہ دونوں کون ہیں؟‘‘ اچھو پہلوان پوتنی دا اور گلابو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھتا ہے۔
’’اچھو پہلوان، گرمی کھانے کی ضرورت نہیں، یہ میرے خالہ ذاد بہن بھائی ہیں‘‘، پپو کو جھوٹ بولنے میں بہت مہارت حاصل ہو چکی ہے۔

’’کیا یہ ڈاکٹر ہیں؟‘‘ اچھو جھک کر سرنج کو اٹھاتے ہوئے پوچھتا ہے۔
’’ہاں! ‘‘پپو بے شرمی سے ہنستا ہے۔’’ محبت کا مریض ہوں یہ میری ڈاکٹر ہے‘‘ پپو گلابو کی گال پر چٹکی کاٹتا ہے۔
گلابو دبی دبی ہنسی کے ساتھ نزاکت دکھاتی ہے لیکن پوتنی دا اندر سے تپ رہا ہے۔
’’چلو پہلوان یہاں سے نکلو، ٹھوکا ٹھاکی کرنے پھر کبھی آ جانا۔ کسی کے گھر میں آنے کا بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے؛‘‘ پوتنی دا اس بات سے بے خبر تھا کہ اچھو پہلوان کون ہے۔
’’بہت اچھے! مجھے دھمکا رہے ہو؟ اچھو پہلوان کو؟ تم لوگ یہاں سے نکلنے کی کرو!‘‘ اچھو پہلوان غصے سے دھاڑتا ہے۔
’’ میں چھ ماہ سے یہاں رہ رہا ہوں، اچھو پہلوان! تم مجھے یوں چٹکی پھٹکی میں بے دخل نہیں کر سکتے۔ اس کیلئے تمہیں قانونی چارہ جوئی کرنا پڑے گی۔‘‘ پپو ترکی بہ ترکی جواب دیتا ہے۔

’’کیا کرو گے تم؟ تم مجھے جانتے نہیں؟ تم ذرا سخت ہڈی کے لگتے ہو، پہلے تو میں تمہاری چھترول کروں گا، اس سے تمہاری ہڈی نرم ہوجائے گی، پھر بھی اگر تم لوگ ایک گھنٹہ میں اس جگہ کو خالی نہیں کرو گے تو میں بہت برا پیش آؤں گا اور تمہیں جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔ ‘‘صادق پہلوان دھمکیاں دیتے ہوئے بھاری قدم اُٹھاتا ہوا باہر نکل جاتا ہے۔

پپو ہکا بکا رہ جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ اُسے فوراً اپنی تنخواہ لینے صادق ہوٹل جانا چاہیے، اس سے پہلے کہ صادق کا بھائی وہاں پہنچے اورا سے تمام باتوں کا پتہ چل جائے اسے اپنی رقم وصول کر لینی چاہئے۔ جب وہ ہوٹل پہنچتا ہے تو اتنی زیادہ چھٹیاں کرنے پر صادق پپو کو برا بھلا کہتا ہے، پہلے تو پپو برداشت

کرتا ہے لیکن جب صادق پہلوان کی لعن طعن حد سے بڑھ جاتی ہے تو پپو بھی بے دید ہو جاتا ہے اور تُو تکار پر اتر آتا ہے، ’’صادق پہلوان، تم اپنی نوکری اپنے پاس رکھو، تمہیں ملازم بہت، مجھے نوکریاں بہت، میرے پیسے میری ہتھیلی پر رکھو تو میں یہاں ایک منٹ نہیں رکوں گا۔ غریب کا کوئی نہیں بنتا!‘‘

پپو کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر صادق پہلوان کا دل پگھل جاتا ہے۔ صادق پہلوان اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے،’’ تو میرا پتر ایں یار، میں تمہیں نہیں جھڑکوں گا تو اور کون چھڑکے گا؟ چل میرا پُتر، اندر چل، یہ پکڑ اپنی تنخواہ‘‘۔ صادق پہلوان پپو کو بھینچ کر سینے سے لگا لیتا ہے۔ وہ اچھو پہلوا ن کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کرتا ہے۔ پوتنی دا اور گلابو کو وہاں سے جانا پڑتا ہے لیکن پپو کا ٹھکانہ پکا ہو جاتا ہے۔
وقت گزرتا رہتا ہے۔ پپو کی زندگی کا پہیہ ایسے گھومتا رہتا ہے جیسے کوئی گاڑی دلدل میں پھنسی زور لگا رہی ہوتی ہے۔

’نئی زندگی‘الحمراء حال میں بہت بڑے فنکشن کا انعقاد کرتی ہے، کنیرڈ کالج اور لمز یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ جس کے کھانے کے تمام انتظامات بندو خان گلبرگ کے سپرد ہیں، صادق پہلوان اپنے دوست کی مدد کیلئے پپو کو ذمہ داریاں سونپتا ہے۔ صادق پہلوان خود پپو کے ہمراہ تمام انتظامات کی نگرانی کر رہا ہے۔

پپو شبو کو ایک دفعہ اور دیکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ وہ سرخ رنگ کی ٹیوٹا کرولا میں آئی ہے۔ پروگرام میں شبو کو بطور مقرر بلایا گیا تھا۔ وہ سوشیالوجی میں پی ایچ ڈی کر چکی ہے۔ اُس کی کل کائنات ہی بدل چکی ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی میں لیکچرار ہے۔ پپو حیران اور ششدر رہ جاتا ہے۔ ’’اب پتا چلا کہ شبو کہاں غائب ہو گئی تھی‘‘۔ اُس کے ساتھ ایک بارہ تیرہ سالہ لڑکا سیٹ پر بیٹھا ہے۔ پپو کو زور کا جھٹکا لگتا ہے ’’ کہیں وہ بچہ اس کا تو نہیں ہے؟‘‘ پپو ایک گندی سی جیکٹ میں ملبوس ہے۔ اس کی شیو بڑھی ہوئی ہے۔ بال کٹوائے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ شاید شبو اُسے پہچان لے لیکن شبو نے اسے نہیں پہچانا۔
پپو نہیں جانتا کہ شبو وہاں پر کیا کرنے آئی ہے؟ اسے ایک جھٹکا اور لگنے والا ہے۔ شبو کو مائیک پر بلوایا جاتا ہے اور وہ بولنا شروع کرتی ہے۔

’’آج آپ ایک ایسی عورت کو دیکھ رہے ہیں جس نے دس سال تک چپ سادھے رکھی، زبان کو تالا لگائے رکھا، لیکن اب سبھی کچھ بدل گیا ہے، میں بولنے لگی ہوں، میں نے کھل کر جینا شروع کر دیا ہے۔ میری عمر اب 36 سال ہے۔ ابھی کل ہی ایک نوجوان لائن مار رہا تھا، ’’میں تمہیں پھر سے نوجوانی کا احساس دے سکتا ہوں۔ بے چارہ نہیں جانتا تھا کہ جوانی میرے لئے ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ شاید میں دنیا کی واحد عورت ہونگی جو دوبارہ لڑکی ہونے کے تجربے سے گزرنا نہیں چاہے گی۔‘‘
(پپو سرکتا ہوا اسٹیج کی طرف بڑھنے لگا)

’’16 سال کی عمر میں، میں گھر سے بھاگ نکلی اور 25 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے میں نے کئی تباہ کن تجربات اوربھیانک نتائج بھگتے۔ کیا آپ میں کوئی ہاتھ کھڑا کر کے بتا سکتا ہے کہ اُس نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی؟ یا ایسا کچھ نہیں کیا جس سے پچھتاوا ہوا ہو؟
(ہال میں بہت سے ہاتھ کھڑے ہو جاتے ہیں)

میرا خیال صحیح نکلا، 16 سال کی عمر میں آپ نے بھی بہت سی غلطیاں کی ہونگی، غلط راستے چنے ہونگے، غلط بندے سے محبت کر ڈالی ہو گی، لو یو اور مِس یو کا کھیل کھیلا ہو گا، سچے دوستوں کی جگہ حواری چنے ہوں گے، اسٹودنٹ ہونے کا ڈھونگ رچایا ہو گا، صبح و شام والدین کی بے عزتی کی ہو گی، چھپ چھپ کر کچے پکے سگریٹ پئے ہوں گے، میں نے بھی یہ سب کچھ کیا، ساری حدیں پھلانگ ڈالیں اور کبھی اپنی عزت نہ کر سکی۔ کیا آپ اپنی عزت کرتے ہیں؟ میری زندگی حیران کن اور انوکھے واقعات سے بھری پڑی ہے۔‘‘
(پپو سائیڈ لائن سے آگے بڑھ رہا ہے)

’’گھر سے بھاگ جانا میرے لئے ایک سہانا خواب تھا اور پھر میں جس قسم کے تجربات سے گزری آپ یقیناًاس سے محفوظ ہو رہے ہوں گے، کیونکہ آپ گھروں سے کبھی نہیں بھاگے ہوں گے، اگرچہ من ہی من میں یہ شوق آپ کے اندر بھی انگڑائیاں لیتا رہا ہو گا۔ کسی تکلیف دہ جگہ سے بھاگ جانا، بہت عام سی بات ہے۔ لیکن سڑک کی زندگی اب گھمبیر ہو گئی ہے جہاں کسی بھی سخت جان لڑکی یا لڑکے کی چیخیں نکلنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ خجل خواریوں، ذلتوں اور بدنامیوں کے معیار بدل گئے ہیں، کوئی زمانہ تھا کہ مجھ جیسی گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کی داستان اخباروں کی زینت بنا کرتی تھی۔ آج سب کچھ بدل کر رہ گیا ہے۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے اسے بدنام اور بہت گھناؤنا بنا دیا ہے۔ پہلے لوگ صرف پس پردہ باتیں کرتے تھے، اب تو بات نکلتی ہے تو بہت دور تک جاتی ہے۔ ٹیکنالوجی نے کیچڑ اچھالنے اور پتھر پھینکنے والوں کو بہت طاقتور بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے بدنامی کو گھناؤنا بنا دیا ہے۔ مجھے منہ چھپانے کو جگہ نہ مل رہی تھی۔ انسانوں کے معاشرے میں بہت سوں نے مجھے دیکھا، لیکن بہت ہی کم تھے جنہوں نے مجھے پہچانا، زیادہ تر لوگوں کیلئے یہ بھول جانا بہت آسان تھا کہ یہ عورت بھی ایک ’’انسان‘‘ ہے، جس کے اندر ایک روح بھی ہے جو اب مکمل طور پر شکستہ ہے۔ گھر میں پیار سے سب مجھے شبو کہتے تھے۔ اب سبھی لوگ مجھے ’’لاہور ہوٹل‘‘ کہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں اس کا مطلب کیا ہو سکتا ہے؟ مجھے کیا کچھ نہیں کہا گیا

آوارہ، بدچلن، ٹیکسی ،گشتی، اور نہ جانے کتنے ہی ایسے خطابات ہیں جو میرے لئے چنے گئے جن کو ادا کرنے کیلئے میری زباں اجازت کی دہلیز پار نہیں کر سکتی۔ ‘‘
(پپو اسٹیج کے قریب بائیں جانب کھڑا غور سے شبو کی باتیں سُن رہا ہے)

’’ میں ہر گز نہیں جانتی تھی کہ گھر سے بھاگنا بھی ایک بیماری کا شاخسانہ ہے۔ آج میں اپنی آپ بیتی کے کچھ حصے آپ کو بتانا چاہتی ہوں۔ میں بتانا چاہتی ہوں کہ اچھے بھلے آرام دہ گھر میں رہتے ہوئے میں کس طرح ٹھنڈے دودھ کو پھونکیں مارتی تھی اور متاع کوچہ و بازار بن کر میں نے کیا کیا تکلیفیں اُٹھائی ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ میرے منہ کھولنے سے اوروں کیلئے تکلیف اٹھانے سے پہلے ہی بچاؤ کے خوبصورت راستے بن جائیں گے۔ میں بتانا چاہتی ہوں کہ گھر کی دہلیز پار کرتے ہی کتنی تیزی سے بدنامی کے اندھیروں میں اتر گئی، ہر روز ایک نئے زاویے سے میری عزت نفس مجروح ہوئی۔ میں نے سب کچھ کھو دیا، ایک موقع پر تو میری متاع حیات بھی بس کرنے والی تھی۔‘‘

’’میں آپ کیلئے کچھ تصویر کشی کرتی ہوں۔ میں نے ایک نشئی سے پیار کی پینگیں بڑھا لی تھیں، منشیات ہی اُس کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ یہ دسمبر کی ایک سرد شام تھی جب منشیات کی بڑی مقدار کے ساتھ، میں پولیس کے ہتھے چڑھ گئی۔ پپو جسے میں نے اپنا سب کچھ مانا تھا، وہ منشیات فروشی کے گورکھ دھندے میں پھنسا ہوا تھا۔ قانون کے رکھوالوں کو دینے کیلئے میرے پاس کیا تھا، یہ آپ اچھی طرح جانتے ہوں گے۔ تھانے میں تعینات ہرایک نے مجھ سے علیحدہ علیحدہ تفتیش کی اور پھر مجھے بے گناہ قرار دے کر بے عزت بری کر دیا۔ کسی کو دینے کیلئے میرے پاس ایک دھیلا نہ تھا، پر لوگوں نے خود ہی میری چیک بک تلاش کر لی تھی، میرے ساتھ یہ سب کچھ باقاعدگی کے ساتھ ہو رہا تھا۔ اپنی یا کسی دوسرے کی نظر میں میری کوئی عزت نہ تھی۔ جلد ہی میں جھوٹے وعدوں پر یقین کرنے لگی۔ میں ہر پل ڈوب رہی تھی اور میرے لئے تنکے کا سہارا بھی بہت ہوتا تھا۔‘‘
(پپو نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ اس میں شبو سے ملنے کی تاب نہیں ہے)

’’بھوک لگے تو داتا صاحب میں کھابے ہر وقت دستیاب تھے، موہنی روڈ، گوالمنڈی، فورٹ روڈ، ٹبی گلی، شاہ نور اسٹوڈیو اور کرشن نگر میری کل دنیا تھی۔ یہاں ایک چھوٹا سا جزیرہ تھا جسے میں محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتی تھی۔ لوگ تب بھی دوسروں کی مصیبتوں کا مزہ لیا کرتے تھے لوگ آج بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ تب بھی بدنام زیادہ برے ہوتے تھے اور آج بھی۔ میں بھی جس حد تک گِر سکتی تھی گر چکی تھی۔ میں زندگی سے عاجز آ چکی تھی، میں مرنا چاہتی تھی اور نئی زندگی کے کونسلر مجھے باز رکھنا چاہتے تھے۔ میں شدید ڈپریشن میں تھی۔ ہر وقت میری نگرانی ہوتی ، مجھے باتھ روم کا دروازہ بھی بند نہ کرنے دیا جاتا۔ اچانک ایک واقعے نے سب کچھ بدل دیا۔ ایک رات مجھے خبر ملی کہ بجلی نے اپنے آپ کو پنکھے سے لٹکا کر خود کشی کر لی ہے۔ یہ میرے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا تھا۔ میری نگرانی اور بھی سخت کر دی گئی۔ اگلے دن اور پھر اس سے اگلے دن، میں نے دیکھا کہ بجلی کے مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ بجلی ہر وقت سوچتی تھی کہ لوگ کیا سوچتے ہوں گے؟ لوگ کیا کہتے ہوں گے؟ اسے لوگوں کی بہت پرواہ تھی، وہ زمانے کو بہت معتبر سمجھتی تھی۔ وہ کسی سے آنکھ ملا کر بات نہ کرتی تھی۔ بجلی کی کہانی اس کی گندگی تصویروں کے ساتھ سوشل میڈیا پر اچھالی گئی۔ چند سال پہلے تک کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ یہ انٹرنیٹ کی دنیا ہمیں آخر کار کہاں لے جائے گی۔ تب سے اب تک انٹر نیٹ نے ناقابل یقین طریقوں سے لوگوں کو ملایا ہے، لوگوں کو جوڑا ہے، کئی خوبصورت انقلابوں کو جنم دیا ہے لیکن کیچڑ اچھالنے کا کام لوگ خود سے کرتے ہیں اور وہ کمال کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ اس میں بھی لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ چیزیں اچھی یا بُری نہیں ہوتیں، ہم انہیں اچھا یا بُرا بنا دیتے ہیں۔ بجلی کی کردار کشی آن کی گئی لیکن اس نے خودکشی آف لائن کی۔ زمانے کی وجہ سے اُس نے جان دے دی، لیکن اس کے مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ آج مری کل دوسرا دن۔ کوئی فرق نہیں پڑا۔ لوگوں نے اس کا ذکر کرنا بھی گوارہ نہ کیا۔ اس ساری سوچ سے مجھے بہت فرق پڑا۔ میں نے دنیا کی پرواہ نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے زندہ رہنے کا فیصلہ کر لیا۔‘‘
(پپو مسلسل پیچھے ہٹ رہا ہے)

’’ان گنت والدین آگے بڑھ کر اپنے بچوں کی زندگی نہیں بچا پاتے۔ بعض کو تو اپنی اولاد کی تکلیفوں اور ذلت بھرے حالات کا پتا ہی تب چلتا ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ بجلی کی بے معنی موت سے میں نے بہت سے معنی اخذ کئے۔ یہ میری زندگی کا رخ موڑنے کیلئے ایک نکتہ آغاز ثابت ہوا۔ میرا زاویہ نگاہ بدل گیا۔ میں نے اس در در کی زندگی سے یہ جانا کہ خوشی، غمی اور غصے کا جذبہ اتنا شدید نہیں ہوتا جتنا کہ ذلت کا احساس ہوتا ہے، کئی لوگ اس احساس تلے دب کر مرنے سے بہت پہلے ہی مر جاتے ہیں۔‘‘
(پپو واپس اُسی جگہ پہنچ چکا ہے جہاں پہلے کھڑا تھا)
’’میں نے ابھی تک آپ کو یہ نہیں بتایا کہ میں نے کن حالات میں گھر کو چھوڑا؟ دراصل اب

اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے جب ہم حالات کی تپش سے گھبرا کر بھاگ اُٹھتے ہیں تو یہ دراصل حالات کا مقدر نہیں ہوتا، حقیقت میں ہم بھگوڑے ہوتے ہیں۔ ہم اچھا سوچ نہیں پاتے، اچھا بول نہیں پاتے۔ سوچنا اور بولنا ہی ہمیں ممتاز کرتا ہے۔ ویسے گھر سے زیادہ ٹھنڈی جگہ کوئی اور نہیں ہوتی لیکن گھروں میں رہنے والے گرم مزاج ہوتے ہیں، گھر سے باہر ہر جگہ میں تپش ہوتی ہے۔ کوئی لحاظ نہیں کرتا، پپو نے مجھے کہا کہ مجھ پر بھروسہ کرو۔ جب میں نے اسے بتایا کہ میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہوں تو بولا کہ تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ یہ بچہ میرا ہے؟ اس دن میں بدل گئی تھی۔ جب میں نے اس بچے کو جنم دینے کا فیصلہ کیا تو سب نے کہا کہ حرامی بچے کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا، میں نے کہا کہ کوئی بچہ حرامی نہیں ہوتا، لوگ حرامی ہوتے ہیں۔ میں نے بہت عزت دار حرامی دیکھے ہیں۔ میری ماں نے کہا کہ تمہیں قبول کر سکتے ہیں تمہارے حرامی بچے کو نہیں۔ اُنہوں نے مشورہ دیا کہ اسے ایدھی فاؤنڈیشن کو دے دو وہ اس سے کسی کی گود ہری کر دیں گے اور تمہیں معقول پیسے بھی ملتے رہیں گے۔ میرادل بہت ٹوٹ کر رویا۔ آج میرا بیٹا دس سال کا ہے اور میں اس کی تربیت ایسے کر رہی ہوں کہ وہ چٹان بن کر اپنی حقیقت کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ میں بچے کی پرورش نہیں کر رہی، محبت کا مینار نو تعمیر کر رہی ہوں۔ ہمیں واپس اس قدر کی طرف جانے کی ضرورت ہے جسے ہم گدازی کہہ سکتے ہیں۔ اسے سادہ لفظوں میں یہی کہہ سکتے ہیں کہ کسی دوسرے کا خیال کرنا اور صرف انسا ن ہی ایسا کر سکتے ہیں۔ ہم بہت باتیں کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری شنوائی ہو جائے، ہم نیک نیتی سے بات نہیں کرتے بلکہ توجہ اپنی جانب رکھنے کیلئے ہی بولتے ہیں۔ کسی کی جگہ ہو کر سوچ لیں اور جان لیں کہ جوتا اسے کہا ں سے دُکھتا ہے تو دنیا میں رہنے کا مزہ آنے لگے۔‘‘
(پپو تیزی سے چلتا ہوا ہال سے باہر نکل جاتا ہے)

’’میں لوگوں کو ہرانا چاہتی تھی، میں خود ہار گئی۔ میں اپنے آپ سے بہت سوال کرتی رہی ہوں، کیا؟ کیوں؟ کیسے ؟کب؟ کیونکر؟ میں کیوں گھر سے بھاگی؟ میں نے غلط لوگوں سے ناطہ کیوں جوڑا؟ میں نے حدیں کیوں پھلانگیں؟ لوگوں کو حدیں کیوں پھلانگنے دیں؟ میں نے ذمہ داری کیوں نہ اُٹھائی؟ میں نے انجام کا کیوں نہ سوچا؟ بس ایک ہی جواب ہے ، ایسا ہوتا ہے۔ ایسا ہوتا ہے۔ میں نے وقت کی لگام تھام لی ہے۔ میرے لئے صرف اپنے آپ کو بچانا کافی نہیں،اس طرح غلطیوں کا کفارہ ادا نہ ہو گا۔ جس نے بھی ذلت کو سہا ہے اس کیلئے میرا پیغام یہی ہے : آپ دوبارہ عزت نفس پا سکتے ہو، یہ آسان نہیں ہو گا، انتظار بھی کرنا ہو گا، درد بھی سہنا ہو گا۔بس آپ کو اس بات پر اصرار کرنا ہو گا کہ آپ اپنی کہانی کو نیا موڑ دیں گے۔ اپنے لئے خود گدازی کا بیج بونا ہو گا۔ ہم سب کو گداز لمحوں کی گود میں چین ملتا ہے۔ ہمیں یہیں رہنا ہو گا، آن لائن بھی اور آف لائن بھی۔ توجہ سے سننے کا شکریہ۔‘‘
(تالیوں کے شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی)
لنک-47 پر جائیے۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

پوتنی دا پپو کو پلکیں جھپکائے بغیر غصیلی نظروں سے دیکھتا ہے۔ پپو اس کی غصیلی نظروں کی تاب نہیں لا پاتا اور اپنی نظریں پھیر لیتا ہے اور پھر جب دوبارہ تھوڑی دیر بعد پوتنی دا کی طرف دیکھتا ہے تو اُس کی آنکھیں اُسی پر جمی ہوتی ہیں۔
’’کیا کتے لڑنے سے پہلے اسی طرح ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھتے؟‘‘ پپو سوال کرتا ہے۔
’’پوتنی دا! تم یہاں نہیں ٹھہر سکتے!‘‘ پپو صاف اور سیدھی بات کرتا ہے۔
پوتنی دا مٹھی بنا کر پپو کو اشارے کنائے میں گالی دیتا ہے۔
’’میں پولیس کو بلاؤں گا‘‘ پپو ڈرے ڈرے انداز میں کہتا ہے۔
پوتنی دا پاجامہ نیچے کرتا ہے اور پھر سے گندا اشارہ کرتا ہے۔
آخر پپو ہار مان لیتا ہے اور پوتنی دا کو صادق کے بھائی اچھو پہلوان سے ملوانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔ تھوڑا دور چلنے کے بعد دونوں اچھو پہلوان کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ پپو دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔

’’ایک منٹ!‘‘ اندر سے دھیمی سی زنانہ آواز آتی ہے۔
’’میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا‘‘ پپو پوتنی دا کو بتاتا ہے۔
’’اچھا! ادھر آؤ‘‘ پوتنی دا مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ پپو کو بلاتا ہے۔
’’کیا یہ لوگ تمہیں مہمان ٹھہرانے کی اجازت بھی نہ دیں گے ؟‘‘ پوتنی دا پپو سے سوال کرتا ہے۔
’’پتا نہیں، ویسے یہ لوگ ہمارے ساتھ خاص مہربانی کر رہے ہیں‘‘ پپو گو مگو کی کیفیت میں جواب دیتا ہے۔
دروازہ کھلتا ہے، اچھو پہلوان کی بیوی مسکراہٹ لیے ظاہر ہوتی ہے لیکن جب وہ پوتنی دا کا بگڑا ہوا حلیہ دیکھتی ہے تو اُس کی مسکراہٹ غائب ہو جاتی ہے۔

’’کیا میں ایک منٹ کیلئے آپ کا فون استعمال کر سکتا ہوں، میرا بیلینس ختم ہے؟‘‘ پپو کے لہجے میں عاجزی ہوتی ہے۔’’ایک سیکنڈ ٹھہرئیے‘‘ اچھو پہلوان کی بیوی کہتی ہے۔
پھر وہ دروازہ مزید کھولتی ہے۔ پپو اندر چلا جاتا ہے لیکن پوتنی دا باہر ہی رہتا ہے اور پپو خدا کا شکر ادا کرتا ہے۔ پپو سوچتا ہے کہ کیا میں پولیس کو بلاؤں یا پوتنی دا کو اچھو پہلوان سے دھمکی لگواؤں۔ پھر کال ملاتا ہے۔
’’صادق پہلوان جی میری بات سنو، مجھے جمعہ کے دن چھٹی چاہیے، جنید کو کہو کہ وہ جمعہ کے دن

میری جگہ کام کر لے، اتوار کے دن میں اُس کی جگہ کام کر لوں گا۔ اچھا جمعہ کو۔۔۔ ٹھیک ہے‘‘، ’’سوری پہلوان جی آپ کو تکلیف دی اسکی معذرت چاہتا ہوں‘‘ پپو فون بند کر دیتا ہے اور باہر نکل آتا ہے۔
’’یہاں پولیس آنے والی ہے‘‘ پپو پو تنی دا سے جھوٹ بول کر ڈرانے کی کوشش کرتا ہے۔
’’میں نے تو کوئی قانون شکنی نہیں کی، میں تو اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا ہوا ہوں‘‘ پوتنی دا مسکراتے ہوئے کہتا ہے۔

’’تم نے مجھ سے جو کچھ لیا ہے وہ واپس کرو‘‘ پوتنی دا پپو سے تقاضا کرتا ہے۔
وہ پپو کو پھانسنا چاہتا ہے لیکن پپو اپنی جیب میں سے پیکٹ نکال کر اس کی طرف پھینک دیتا ہے۔ پو تنی دا شش و پنج کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ پیکٹ اپنے اندر والی جیب میں ڈالتا ہے اور اکڑتا ہوا گلی سے بازار کی طرف چل پڑتا ہے۔

پپو تھوڑی دیر رُک کر اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہتا ہے تاکہ پو تنی دا کو یہ پتا نہ چلے کہ وہ کونسے کمرے میں رہتا ہے؟ تھوری دیر بعد وہ اپنے کمرے میں جا کر اندر سے دروازہ بند کر لیتا ہے اور صوفہ پر بیٹھ جاتا ہے۔ ایک گھنٹے کے بعد شبو آتی ہے اور پپو کوصحیح حالت میں دیکھ کر حیران ہوتی ہے۔ جب پپو اُسے بتاتا ہے کہ وہ نشہ کرنے والا ہے تو وہ ناراض ہوتی ہے۔ پپو شبو کو منانے کیلئے کہتا ہے کہ وہ آئندہ نشہ نہیں کرے گا۔ شبو اس پر بہت خوش ہوتی ہے اور پپو کو بانہوں میں لے لیتی ہے۔ وہ اُسے یقین دلاتی ہے کہ وہ دونوں کوئی متبادل تفریح ڈھونڈ لیں گے۔ پھر وہ اپنا سر پپو کی چھاتی پر رکھتے ہوئے کہتی ہے، ’’ آج کل جوش گروپ الحمرا اوپن ایئر تھیٹر میں اپنا جادو جگا رہا ہے ، تم چلو گے وہاں میرے ساتھ؟‘‘

’’میرے خیال میں ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ ہم وہاں جا سکیں‘‘ پپو مایوسی سے جواب دیتا ہے۔
’’اگر تم نشہ آور چیزوں پر پیسے نہ ضائع کرو تو تم زیادہ رقم بچا سکتے ہو‘‘ شبو بیزاری کا مظاہرہ کرتی ہے۔پپو اُسے بتاتا ہے کہ وہ اب مزید چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں نہیں رہ سکتا۔ شبو اُس کو کہنی مارتی ہے اور اُٹھ کر بیٹھ جاتی ہے۔ انہیں پتا ہوتا ہے کہ وہ کنسرٹ پر نہیں جا سکتے اس لیے وہ دونوں ایک دوسرے پر الزام تراشی کر تے ہیں۔ پھر تھک ہار کردونوں ایک دوسرے میں گم ہو جاتے ہیں۔

اگلے روز جب پپو، صادق ریسٹورنٹ میں کھانے کے برتن دھو رہا ہوتا ہے تو شبو غصہ کی حالت میں

کچن میں داخل ہوتی ہے اور کہتی ہے کہ پو تنی دا ریسٹورنٹ میں آیا ہے اور پیزا کا آرڈر دے رہا ہے، کیا تم نے اسے یہاں کا پتہ دیا ہے؟ہو سکتا ہے کہ اُس نے صبح میرا تعاقب کیا ہو، وہ مجھے پریشان کرنا چاہتا ہے، آج پپو کی تنخواہ کا دن ہے اور پپو سوچ رہا تھا کہ وہ دوپہر کو شبو کیلئے کوئی اچھی چیز خریدے گا لیکن پوتنی دا اس کی ساری خوشیوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔

’’تمہیں اپنی آمدنی پر ٹیکس دینا ہو گا اچھے شہری خوشی سے ٹیکس دیتے ہیں‘‘ پو تنی دا کی آواز آتی ہے۔پپو پیچھے مڑتا ہے تو کیا دیکھتا ہے، بِلاّ قصائی، پو تنی دا اور تین نئے چہرے دائرہ بنائے شدیدغصے میں کھڑے تھے۔ پپو کو یقین نہیں آ رہا تھا، وہ حیرانی اور پریشانی کے عالم میں ان کا منہ دیکھ رہا تھا۔ پپو نے سوچا کہ اگر اس نے مزاحمت کی تو اُس کا سواگت مکوں، ٹانگوں، زنجیروں اور چھانٹوں سے ہو گا اور وہ زیادہ دیر تک یہ سب کچھ سہہ نہیں سکے گا۔

’’ خبر دار ! اگر تم نے ہاتھ بھی لگایا تو میں 15 پر کال کر کے پولیس کو بلا لوں گا‘‘ پپو خوف سے کانپتے ہوئے دھمکی دیتا ہے۔

بِلاّ قصائی بائیسکل کی زنجیر ہوا میں لہراتا ہے، جو اُس نے کمر کے پیچھے چھپائی ہوتی ہے اور پھر پپو کو مارنا شروع کر دیتا ہے۔ حسب توفیق اس کے ساتھی بھی پپو پر پل پڑتے ہیں، کافی ٹھکائی کرنے کے بعد جب پپو ادھ موا ہو جاتا ہے تو وہ اسے اُٹھا کر ہوٹل سے دور کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیتے ہیں۔ جاتے جاتے پو تنی دا پپو کو ٹھڈا مار کر دھمکی دیتا ہے،’’ اگر ہمیں پولیس والوں نے تنگ کیا تو پھر یہاں تمہاری لاش ہو گی۔ کبھی لاش دیکھی ہے تم نے؟‘‘

پپو سر تا پا خون میں لت پت گھسٹتا ہوا سڑک تک آتا ہے اور ایک آدمی سے موبائل فون لے کر شبو کو فون کرتا ہے۔ پپو کا تمام جسم سوجھا ہوا ہوتا ہے اسے اپنی پسلی کی ہڈیاں بھی ٹوٹی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ اتنی دیر میں صادق اور شبو آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پہلے ہسپتال اور پھر پولیس اسٹیشن جائیں گے۔

’’پولیس اسٹیشن جانے کی ضرورت نہیں ہے بعد میں وہ لوگ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے‘‘ پپو خوف سے کانپتے ہوئے صلاح دیتا ہے‘‘،وہ میرے بارے سب کچھ جانتے ہیں کہ میں کہاں رہتا ہوں؟ کیا کام کرتا ہوں؟ تنخواہ کب ملتی ہے؟ انہیں سب معلوم ہے اور انہیں ہر وقت پیسوں کی ضرورت رہتی ہے۔ جب کہ مجھے اُن کے بارے میں قطعاً کچھ نہیں معلوم حتیٰ کہ یہاں تک میں اُن کے حقیقی نام بھی نہیں جانتا اور میں اُن کو آسانی سے ڈھونڈ بھی نہیں سکتا جبکہ وہ مجھے کہیں نہ

کہیں سے ضرور ڈھونڈ نکالیں گے‘‘۔

میو ہسپتال ایمرجنسی میں پپو بار بار حالات کی وضاحت کرتا ہے جس پر صادق اپنا سر ہلاتے ہوئے کہتا ہے کہ تم صحیح کہہ رہے ہو لیکن تم اس طرح اُن سے پیچھا نہ چھڑا پاؤ گے۔
پپو کی ہڈیوں کا ایکسرے اور چہرے پر ٹانکے لگنے تک صادق کے ذہن میں ایک منصوبہ بن چکا تھا۔ صادق پہلوان پپو کو بتاتا ہے کہ تم گلبرگ میں موجود میرے دوست کے بندو خان ریسٹورنٹ پر کام کرو، میں تمہیں وہاں لبرٹی مارکیٹ کے عقب میں ایک کرائے کا کمرہ لے دوں گا اور اس کا کرایہ ایڈوانس دے دوں گا بعد میں یہ ادھار تم اپنی تنخواہ میں سے مجھے دیتے رہنا۔ اس سے تمہارا ہاتھ کچھ تنگ ہو جائے گا لیکن اسی میں تمہارا فائدہ ہے۔ میں اپنے لوگوں کا خیال رکھتا ہوں لیکن تمہیں مجھے یقین دلانا ہو گا کہ تم آئندہ بُرے کاموں میں نہیں پڑو گے۔

’’تم میرے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیوں کر رہے ہو؟‘‘ پپو کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔
’’تم یہ خیال نہ کرنا کہ میں بہت اچھا انسان ہوں، میں خیرات کا شوقین نہیں ہوں، مجھے حاتم طائی بننے کا کوئی شوق نہیں۔ میں چاہوں گا کہ جتنی جلدی تم اپنا بوجھ اُٹھانا سیکھ لو اتنا ہی اچھا ہے‘‘ صادق پہلوان جواب دیتا ہے۔
’’جب میں اپنے کاریگروں کو کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو وہ مجھے قیمتی اثاثہ نظر آتے ہیں اور میں ان کا سچا ہمدرد بن جاتا ہوں اور انہیں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں اور یہ کوئی زیادہ مشکل نہیں۔۔۔۔اور ہاں دُنیا میں تو کوئی بھی چیز مشکل نہیں ہے۔‘‘ صادق پہلوان پپو کو سمجھاتا ہے۔ پپو سوچوں میں گم ہو جاتا ہے۔

’’کیا میں نے کسی موقع پر شبو سے محبت کا اظہار کیا تھا؟ کیا میں نے کبھی کوئی فیصلہ بھی کیا تھا؟ یا یہ سب کچھ خود بخود ہو گیا۔ کیا میں اب اس ذمہ داری کو نبھا سکتا ہوں؟ یہاں پر زندگی کسی اور نوعیت کی ہے‘‘ پپو اپنے آپ سے سوال کرتے ہوئے کہتا ہے۔
’’کیا تم میرے ساتھ متفق نہیں ہو؟‘‘ صادق پپو کو خیالوں سے نکالتے ہوئے پوچھتا ہے۔
’’ نہیں، نہیں، ایسی کوئی بات نہیں‘‘ پپو یقین دلاتے ہوئے کہتا ہے،’’بلکہ میں تو شدت سے آپ کی طرح بن جانا چاہتا ہوں۔‘‘

’’یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے‘‘ صادق مسکراتے ہوئے کہتا ہے۔’’اب تم گھر جاؤ، شبو تمہارا بے چینی سے انتظار کر رہی ہے۔‘‘ صادق پہلوان معنی خیز انداز میں کہتا ہے۔
’’کیوں؟ مجھے بتائیے، ایسا کیا ہے؟‘‘ پپو استفسار کرتا ہے۔
’جانی! میں تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا‘‘ صادق پپو کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے انکار کرتا ہے۔ پپو اپنی اور شبو کی زندگی سنوارنے کے بارے میں پختہ ارادہ کرتا ہے۔

لنک-47 پر جائیے۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

پپو اپنا بیان دینے کیلئے پریشانی کی حالت میں سپاہیوں کے ساتھ پولیس سٹیشن کی طرف چل پڑتا ہے۔ چلتے چلتے وہ محسوس کرتا ہے کہ جیسے جھاڑیوں کے پیچھے پنجوں کے بل کوئی حرکت کر رہا ہو اور جیسے ’خاندان‘ میں سے کسی کی آواز آ رہی ہو کہ ’’دیکھو! پکڑو! اُس نے ہمیں دھوکا دیا ہے!‘‘

پولیس اسٹیشن میں جب افسران بالا نے پپو سے دریافت کیا تو پپو نے چاچا کی حرکتوں کے بارے سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔ بیان دیتے ہوئے پپو محسوس کر رہا تھا کہ جیسے وہ ایک گندے اور گھٹیا ماحول میں زندگی گزار رہا ہے۔ ویسے تو اُس سے تفتیش ہو رہی تھی لیکن افسران کا رویہ اس کیلئے روشنی، طاقت کا باعث تھے۔ پپو جیسے ہی بیان دے کر پولیس سٹیشن سے نکلتا ہے اس کے خیالات تبدیل ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی اس حرکت پر نادم ہونے لگتا ہے اور لڑکھڑا کر گِر پڑتا ہے، اتنے میں اُسے پوتنی دا نظر آتا ہے جو اس سے سوال کرتا ہے کہ تم سپاہیوں سے باتیں کیوں کر رہے تھے؟
خاندان کے کافی سارے لڑکے اس کے اردگرد اکٹھے ہو جاتے ہیں بہت سے لڑکے اس کا ایک طرح سے گھیراؤ کئے ہوئے تھے اور اُن کے جسموں سے سخت بدبو آ رہی ہوتی ہے۔

’’تم کیا باتیں کر رہے تھے؟ ‘‘ وہ سب یک زبان ہو کر چلاتے ہیں۔
’’میں تو کسی سے کوئی بات نہیں کر رہا تھا‘‘ پپو گھبراتے ہوئے جواب دیتا ہے۔
’’تم جھوٹے ہو، کھارے نے تمہیں سپاہیوں سے باتیں کرتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے‘‘ پوتنی دا پپو کا دایاں بازو جھنجھوڑتے ہوئے غصے سے بولتا ہے۔

’’وہ تو میری جامہ تلاشی لے رہے تھے‘‘ پپو اپنی صفائی پیش کرتا ہے۔
لیکن پوتنی دا پپو کی بات پوری ہونے سے قبل ہی اس کے منہ پر ایک مکا مارتا ہے جس سے پپو ایک طرف گر جاتا ہے اور پھر سارے لڑکے پپو کو ریت کا تھیلا سمجھ کر دھنائی شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے جسم پر دھڑا دھڑ ضربیں لگنا شروع ہو جاتی ہیں، پوتنی دا بذات خود پپو پر اپنا سارا غصہ نکال رہا ہوتا ہے۔

’’اس کو کیوں مار رہے ہو؟‘‘ شیرنی پاس کھڑی چلا رہی ہوتی ہے۔ وہ انہیں پپو کو مارنے سے روکنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ لگاتار چلا رہی ہوتی ہے لیکن اُس کی کوئی نہیں سنتا۔ پپو ادھ موأ ہو جاتا ہے اور نڈھال ہو کر ایک جانب لڑھک جاتا ہے، پھر تین چار لڑکے پپو کو ایک بوری کی طرح اٹھاتے ہیں اور ڈولی ڈنڈا کر کے گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیتے ہیں۔
شیرنی ’نئی زندگی‘ فون کرتی ہے اور عمران کو فوراً پہنچنے کیلئے بولتی ہے۔ پپو کراہ رہا ہوتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ عمران اس کی مدد کو نہیں آئے گا لیکن شیرنی اُسے دلاسہ دیتی ہے کہ عمران فوراً پہنچے گا۔ تقریباً دس منٹ بعد عمران اپنی موٹر سائیکل پر وہاں پہنچ جاتا ہے۔ وہ پپو کو تسلی دیتا ہے کہ ایمبولینس آ رہی ہے اور وہ اسے میو ہسپتال لے جائیں گے۔ پپو ڈر رہا ہوتا ہے کہیں وہ لڑکے آ کر اسے دوبارہ نہ ماریں۔ ایمبولینس کی آواز سن کر اُس کے دم میں دم آتا ہے۔

ایمبولینس تیزی سے نکلتی ہے، ایک میڈیکل ٹیکنیشن پپو کی دیکھ بھال کر رہا ہوتا ہے۔ پپو سوچتا ہے کہ اُسے اب کہاں جانا ہو گا؟ یہ دُنیا بڑی ہی گندی جگہ ہے۔ میں اب ’نئی زندگی‘ چلا جاؤں گا۔ شاید وہ میری زندگی کو پٹری پر لانے میں میری مدد کریں۔

لنک-47 پر جائیے۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

چاچا چند دنوں کیلئے غائب ہو جاتا ہے۔ ’خاندان‘ والے سمجھتے ہیں کہ وہ گرفتار ہو چکا ہے۔ بِلاّ قصائی نشے میں دھت رہتا ہے۔ ’خاندان‘ کے لڑکے وہی کام دھندے کرتے رہتے ہیں جو چاچا نے ان کو سونپے تھے۔ پوتنی دا بِلاّ قصائی سے پپو کی شکایت کرتا ہے کہ اُس نے پپو کو موہنی روڈ پر سپاہیوں سے بات چیت کرتے دیکھا ہے۔ یہ سُن کر بِلاّ قصائی پپو کو اپنے پاس بلاتا ہے۔

’’میں قسم کھاتا ہوں کہ پولیس والے صرف میری تلاشی لے رہے تھے، میں نے اُن کو کچھ بھی نہیں بتایا‘‘ پپو اپنی صفائی بیان کرتا ہے۔
’’تم جھوٹ بول رہے ہو!‘‘ بِلاّ قصائی پپو کو جھوٹا قرار دیتا ہے اور ساتھیوں کو اس کی پٹائی کیلئے کہتا ہے۔

سارے لڑکے پپو پر جھپٹ پڑتے ہیں اور بوتلوں،ڈنڈوں، مکوں اور جوتوں سے اُس کی خوب ٹھکائی کرتے ہیں۔ پوتنی دا پپو کو انتہائی غصہ کی حالت میں لکڑی کے موٹے ڈنڈے سے مارنا شروع کر دیتا ہے۔ اس دوران پپو کن اکھیوں سے شیرنی کو اپنی سہیلیوں کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھتا ہے۔ تھوڑی دیر میں پپو نڈھال ہو کر ہوش کھو دیتا ہے۔ دو ننگے لڑکے آصف لنگڑا اور ننھا چنگاری اسے میو ہسپتال کی ایمرجنسی کے باہر چھوڑ جاتے ہیں۔ وہاں سردی میں نیم ہوشی کی حالت میں پڑا پپو کسی ڈاکٹر کی نظر کرم کا طلب گار تھا۔ تھوڑی دیر بعد دو وارڈ بوائے اسے سٹریچر پر اندر لے جا رہے تھے۔

میو ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں پپو سوچتا ہے کہ وہ ’خاندان‘ میں اب کسی کو بھی شکل دکھانے کے قابل نہیں رہا، وہ مجھے دیکھتے ہی پھر مارنے کی کوشش کریں گے۔ پھر اس کا دھیان اپنے حقیقی گھر اور ماں باپ کی طرف گیا اور اس کی آنکھ سے لڑھکتا ہوا آنسو رخسار پر بہنا شروع ہو گیا۔ ایک نرس پپو کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ وہ پپو کے جسم کا معائنہ کرتی ہے اور اسے لگنے والی چوٹوں کا اندازہ لگاتی ہے۔ ایسے مضروب لڑکوں کی شعبہ حادثات میں آمد اُس کیلئے کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ گوالمنڈی کے کلچر میں ایسے حادثات روز کا معمول ہیں۔ نرس پپو کو چمڑے کی بیلٹ سے بستر

کے ساتھ باندھ دیتی ہے۔

’’کیا یہ سب کچھ کرنا ضروری ہے؟‘‘ پپو احتجاجاً کہتا ہے۔

’’یہ ہمارا طریقہ کار ہے، کیونکہ کسی بھی نشئی اور زخمی لچے لفنگے کا رویہ غیر یقینی اورخطر ناک ہوتا ہے‘‘ نرس جواب دیتی ہے۔ یہ سب کچھ تمہاری اور ہماری حفاظت کیلئے کیا گیا ہے۔ پپو مڑتے ہوئے دیکھتاہے کہ نرس نئی زندگی کے نمائندے عمران سے باتیں کر رہی ہوتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ عمران ہی اُس کو ہسپتال لے کر آیا ہو گا لہٰذا اس کا احترام اب اس پر فرض ہے۔وہ قطعی طور پر لاعلم تھا کہ مار کھاتے ہوئے کب بے ہوش ہوا اور اسے کون یہاں لایا۔
’’کیا پپو کو باقاعدہ داخل کر لیا جائے گا؟‘‘ عمران نرس سے پوچھتا ہے۔

’’نہیں، میرا خیال ہے کہ وہ چار یا پانچ بجے صبح فارغ کر دیا جائے گا‘‘ نرس جواب دیتی ہے۔

عمران مطمئن ہو کر جانے کیلئے مُڑتا ہے اور پپو سے کہتا ہے کہ وہ پھر دوبارہ آئے گا۔ پپو سوچتا ہے کہ شاید عمران اُسے دوبارہ ’نئی زندگی‘ لے جانا چاہتا ہے جبکہ پپو وہاں پر صرف اُس وقت تک رہنا چاہتا ہے جب تک کہ وہ ٹھیک نہ ہو جائے

پپو سوچتا ہے کہ وہ تھوڑی دیر کیلئے بِلاّ قصائی کے پاس جائے گا اور اسے اس حقیقت سے آگاہ کرے گا کہ پوتنی دا نے اس سے جھوٹ بولا تھا۔چند گھنٹوں کے بعد پپو کی حالت بہتر ہو جاتی ہے۔ الصبح ڈاکٹر نے معائنے کے بعد پپو کو چھٹی دے دی۔ تھوڑی ہی دیر بعد پپو بیساکھیوں پر چلتا ہوا ایمر جنسی سے باہر نکل رہا تھا۔ آہستہ آہستہ چلتا ہوا پپو سیدھا ہارون میڈیکل اسٹور پہنچا اور دوکاندار سے دوائیاں فروخت کرنے کیلئے سودے بازی کرنے لگا۔ اُس کے پاس دوائیوں کی کافی بڑی مقدار تھی۔ وہ بیساکھیاں بھی فروخت کرنا چاہتا تھا لیکن دوکاندار اس پر راضی نہ تھا۔ آخر کار سودا طے پا گیا۔ مٹھی میں 500 روپے دبائے لنگڑاتا ہوا وہ گوالمنڈی چوک کی طرف چلنے لگا۔ ایک لمحے کیلئے وہ حلوہ پوری کی دوکان پر رکا لیکن پھر اس کا ارادہ بدل گیا۔ اس کے ذہن میں خیال آیا، ’’ناشتہ بعد میں دیکھا جائے گا، پہلے میں پتلی گلی میں جا کر نشہ کرتا ہوں، انگ انگ دکھ رہا ہے۔‘‘

صبح سویرے پپو کو دیکھ کر فیجا حیران ہوتا ہے اور غصے سے چلے جانے کیلئے کہتا ہے، ’’جاؤ یہاں سے، اپنے ساتھ مجھے بھی مصیبت میں پھنساؤ گے۔ پہلے ہی پولیس میرے پیچھے پڑی ہے۔‘‘

پپو منت سماجت کرنے لگتا ہے اور باتوں ہی باتوں میں پانچ سو کے نوٹ کی جھلکی کراتا ہے۔ فیجے کا دل پسیج جاتا ہے اور وہ اسے ’’یہاں ٹھہرو‘‘ کہہ کر اندر چلا جاتا ہے۔

واپسی پر وہ ہیروئن کی پڑیا اس شرط پر پپو کو دیتا ہے کہ وہ فوراً یہاں سے غائب ہو جائے۔ پپو لنگڑاتا ہوا فوڈ سٹریٹ کی طرف آتا ہے۔ اتنی صبح وہاں کوئی اور نظر نہیں آتا۔ چاروں طرف بچا کھچا کھانا اور ہڈیاں بکھری ہوتی ہیں۔ پپو ایک دوکان کے تھڑے پر بیٹھ کر نشہ کرنے لگتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ مدہوش ہو جاتا ہے۔ کھانے کا وہ ڈبہ وہیں پڑا رہ جاتا ہے جس پر اس کی نظر تھی۔

لنک-47 پر جائیے۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

گاڑی میں بیٹھ کر وہ ریسٹورنٹ پہنچتے ہیں۔ پپو پر خاموشی طاری ہوتی ہے۔ پپو مسلسل پانچ گھنٹے تک سگریٹوں کے دھوئیں، شراب نوشی اور موسیقی کے ماحول سے اُکتا جاتا ہے۔ وہ وہاں سے نکل کر کسی خوشگوار جگہ پر جا کر لمبا اور پُرسکون سانس لینا چاہتا ہے۔ باہر نکلنے پر اسے دو جانے پہچانے چہرے نظر آتے ہیں۔ وہ ان سے علیک سلیک اور عمومی گفتگو کرتا ہے پھر ڈی مونٹ کے دفتر کے نزدیک چھوٹی سی دیوار پر واپس آ کر بیٹھ جاتا ہے اور سوچتا ہے‘‘ ، ’’اوہ۔۔۔! میری کتنی یادیں اس جگہ سے وابستہ ہیں‘‘۔

اس رات ریسٹورنٹ مندے کا شکار ہے۔ پانچ خوبصورت نوجوان کراچی سے چوری کی وین میں لوٹ مار کرنے لاہور آئے ہوئے ہیں۔ پانچوں اپنی وضع قطع سے خوشحال گھرانوں کے چشم و چراغ نظر آتے ہیں اور سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان نئے مہمانوں کی آمد پر سب خوش ہیں اور ان کے اردگرد منڈلا رہے ہیں۔ پپو تنہائی محسوس کرنے لگتا ہے لیکن ایک کونے میں خالی گلاس کے ساتھ میز کرسی پر جما رہتا ہے۔
پپو آرام کرنے کیلئے ایک مطمئن بلی کی طرح چھوٹی دیوار پر سکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ نوجوان اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگتے ہیں اپنی زبان میں وہ اسے ’’کِٹ لگانا‘‘ کہتے ہیں۔ نوجوان اسے ’’چڑیا‘‘ کہہ کر بلاتے ہیں لیکن وہ کوئی رد عمل نہیں دیتا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ پانچ کے مقابلے میں اکیلا ہے، بلکہ وہ اس قدر شکستہ دل اور ہمت سے عاری ہے کہ اگر کوئی نوجوان جو کہ لنگڑا لولا بھی ہوتا تو وہ بھی اسی طرح بے دلی سے پڑا رہتا۔ ایک طرح سے اُس نے بے بسی سیکھ لی تھی۔

’’نئی زندگی‘‘ سے دو کونسلرز لوگوں کو کنڈوم کے فوائد سمجھا رہے تھے اور کنڈوم فری مہیا کر رہے تھے لیکن کوئی بھی ان سے گفتگو پر آمادہ نہ تھا۔ وہ دونوں بہت دل جمعی سے لوگوں سے بات چیت کر رہے تھے لیکن کوئی بھی اُن کی سننے والا نہیں ہے۔

’’کیا ’’ایچ آئی وی‘‘ اور ایڈز دو مختلف بیماریاں ہیں؟‘‘ پپو پوچھتا ہے۔

’’ایچ آئی وی‘‘ ایک وائرس کا نام ہے۔ جو لوگ غیر محفوظ جنسی ملاپ کرتے ہیں یہ وائرس اکثر اُن میں پایا جاتا ہے اور وہ اسے دوسروں میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر کسی میں وائرس منتقل ہو جائے تو اسے ایچ آئی وی پازیٹو کہا جاتا ہے۔ ایچ آئی وی پازیٹو لوگ کئی سالوں تک بیمار نہیں ہوتے لیکن انسان کے مدافعاتی نظام میں خلل پڑ جاتا ہے۔ وہ اپنے جسمانی نظام کی حفاظت اس طرح نہیں کر پاتے جیسے کہ دوسرے لوگ باآسانی کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اُن کے جسم پر سوزش ہو سکتی ہے جس کے بعد دانے نکل آتے ہیں تاہم ایک تندرست آدمی میں ان جراثیم کو رد کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔‘‘ وہ تفصیلاً جواب دیتا ہے۔

’’تو پھر ایڈز کیا شے ہے؟‘‘ پپو مزید پوچھتا ہے۔
ایڈز کسی خاص بیماری کا نام نہیں ہے جبکہ یہ اُسی کیفیت کا نام ہے جس میں ایچ آئی وی پازیٹو والے شخص کو مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب کوئی شخص اس طرح بیمار ہوتا ہے تو اس کی جسمانی حالت کو ایڈز کا نام دیتے ہیں۔ اس حالت زار سے پہلے اس شخص کو ایچ آئی وی پازیٹو ہی کہیں گے۔‘‘
’’لوگ وائرس کا شکار کس طرح ہوتے ہیں؟‘‘ پپو ایک اور سوال داغ دیتا ہے۔

’’اندھا دھند غیر محفوظ جنسی سرگرمیوں کے علاوہ جب خون کا انتقال ایک بیمار جسم سے دوسرے جسم میں ہوتا ہے تو اُس شخص کا خون بھی وائرس زدہ ہو جاتا ہے۔ زخم کے ذریعے بھی وائرس منتقل ہو سکتا ہے لہٰذا ہمیں چھوٹے چھوٹے زخموں سے محتاط رہنا چاہئیے جو لاشعوری طور پر ہمارے جسم یا ہاتھوں پر انجانے میں لگ جاتے ہیں۔‘‘

’’لیکن یہ کس طرح پتہ چلتا ہے کہ فلاں شخص جراثیم زدہ ہے تاکہ اُس سے محتاط رہا جا سکے؟‘‘

’’یہ جاننے کیلئے کوئی بھی طریقہ نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص ایچ آئی وی پازیٹو ہے اور بیمار نہیں ہے تو وہ تمہاری یا میری مانند نظر آئے گا۔ میں پازیٹو ہو سکتا ہوں لیکن جب تک میں تمہیں بتاؤں گا نہیں تو تم کبھی بھی جان نہ پاؤ گے۔ بہتر ہے آپ ہر شخص کو ایچ آئی وی پازیٹو ہی سمجھیں اور اُن سے محتاط رہیں۔ محفوظ ترین طریقہ ایسے لوگوں سے جنسی ملاپ نہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ جنسی تعلقات کے درجے ہیں جس سے خدشات بڑھتے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بے راہ رو جنسی تعلقات سب کے سب تکلیف دہ ہوتے ہیں۔‘‘ وہ پپو کی نظروں میں نظریں ملا کر کہتا ہے۔

’’اگر میں جنسی ملاپ نہیں کروں گا تو بھوکا مر جاؤں گا‘‘ پپو جواباً کہتا ہے ۔
’’میں تمہاری بات سمجھتا ہوں، میں تمہیں مفت میں ’کنڈوم‘ دے رہا ہوں، ایک پیکٹ لے لو۔‘‘ وہ ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے کہتا ہے۔

وہ پپو کو ایک پلاسٹک کا چھوٹا بیگ دیتا ہے جس میں چند ’کنڈومز‘ ایک کریم اور ہدایات پر مبنی ایک کاغذ موجود ہوتا ہے۔ وہ کچھ تصویری خاکوں کی طرف اشارے بھی کرتا ہے۔

’’جب لوگوں کو ’کنڈوم‘ کا طریقۂ استعمال سکھایا جاتا ہے۔ تو لوگ توجہ نہیں دیتے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ’ کنڈوم‘ کا استعمال صحیح طریقہ سے کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ اس طرح اُن کے جانے بغیر ہی یہ وائرس ان میں منتقل ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے اور دوسروں کیلئے چلتے پھرتے ٹائم بم کی طرح ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ ایڈز کی بیماری سے زیادہ دور نہیں ہوتے۔
’’ اوہ !‘‘پپو حیرانگی سے کہتا ہے۔

پپو کوایڈز کے حوالے سے مفت ٹیسٹ کروانے کیلئے ہدایات دیتا ہے۔ وہ اس کی تندرست صحت کیلئے دعا گو ہوتا ہے اور اپنے ساتھی کے ساتھ فورٹ روڈ سے روانہ ہو جاتا ہے۔
پپو کو معلومات مفید لگتی ہیں لیکن بظاہر ’کنڈوم‘ کو غباروں سے تشبیہہ دے کر مذاق کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ اس کے پاس دو ہی راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کر لے یا بھوکا رہے اور پارک میں جا کر زمین پر سو جائے۔ کوئی بھی نوجوان ہر وقت محفوظ جنسی تعلق قائم نہیں رکھ سکتا۔
اگلے دن جب وہ اپنا ٹیسٹ کرواتا ہے تو رزلٹ ’’ایچ آئی وی پازیٹو ‘‘نکلتا ہے۔
پپو سوچتا ہے،’’ وہ ایڈز اورایچ آئی وی پازیٹو کے بارے میں معلومات حاصل کر لینے کے بعد اپنے گاہکوں کو زیادہ سے زیادہ بیماری میں مبتلا کر سکتا ہے‘‘ رنج کی کیفیت میں اس کی سوچ آگے بڑھتی ہے، ’’اس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے کم از کم ہزار سے زیادہ لوگوں کو اپنے ساتھ لے جائے گا‘‘۔
پپو کے مزاج میں واضح تبدیلی آتی ہے۔ اس کے ہونٹوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ تیرتی ہوئی صاف نظر آتی ہے۔ گزرتے ہوئے نوجوان پپو سے اُس کی مسکراہٹ کے بارے میں سوال کرتے ہیں لیکن وہ کوئی جواب نہیں دیتا۔ وہ اپنی ظاہری حالت کو بہت بہتر کر لیتا ہے تاکہ لوگوں کیلئے پرکشش نظر آئے۔ وہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ اس کے پاس ہر وقت کچھ نہ کچھ روپے ضرور ہونے چاہئیں۔

پپو ایچ آئی وی پازیٹو ہونے سے پہلے اتنا پر جوش کبھی نہیں تھا اور نہ ہی اس میں اتنی قوت ارادی تھی۔ بدلے کا جذبہ اندھا، بہرہ اور دیوانہ ہوتا ہے۔ انسانوں کی تباہی کیلئے یہ جذبہ ایٹم بم سے زیادہ تباہی پھیلا چکا ہے۔
لنک-47 پر جائیے۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

موسم قدرے خنک تھا مگر کچھ خاص سردی نہیں تھی۔ کچھ دیر پہلے پپو ریسٹورنٹ میں تھا کچھ بوندا باندی بھی ہوتی رہی تھی۔ پپو ریسٹورنٹ سے نکل کر اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے گردو پیش سے بے نیاز فورٹ روڈ سے گزرتی ہوئی ٹریفک دیکھتا رہتا ہے۔ پپو کا دماغ مختلف خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ کبھی وہ سوچتا ہے کہ اُسے خود کشی کر لینی چاہیئے، مگر پھر وہ سوچتا ہے کہ خود کشی تو حرام ہے، یہ کام تو ہر گز نہیں کرنا چاہیئے۔ پھر وہ اپنے حالات کے بارے میں سوچنے لگتا ہے جو دن بدن خراب ہوتے چلے جا رہے ہیں کبھی وہ پریشان ہو جاتا ہے اور کبھی اپنے آپ کو حیلے بہانوں سے مطمئن کرتا ہے۔۔۔ پھر اُس لڑکی کا خیال آ جاتا ہے جو اسے اِسی ریسٹورنٹ میں ملی تھی اور جسے پپو کی وجہ سے ایڈز کا وائرس ملا۔ اب پپو اُن سب لوگوں کے بارے میں سوچتا ہے جنہیں پپو نے ممکنہ طور پر ایڈز کا وائرس منتقل کیا ہو گا۔ اُس لڑکی کا خیال آتے ہی وہ کالج کی اُن بے وقوف لڑکیوں بارے سوچنے لگتا ہے جن کے ساتھ اُس کے ناجائز تعلقات رہے تھے۔

ابھی وہ انہی سوچوں میں ڈوبا ہوا ہے کہ اُسے ’’نئی زندگی‘‘ کے وہ دونوں کاؤنسلر پھر نظر آتے ہیں۔ وہ دونوں اُس کے پاس سے تیزی سے گزر جانا چاہتے ہیں مگر پپو آواز دے کے اُن دونوں کو روک لیتا ہے۔

’’ارے یار میری بات سنو۔۔۔‘‘ پپو بہت مہذبانہ انداز میں انہیں اپنے پاس بلاتا ہے۔ اپنی آواز کی افسردگی پپو کو بھی محسوس ہوتی ہے۔ وہ دونوں بھی اسے محسوس کرتے ہیں اور بے چین دکھائی دیتے ہیں۔

’’۔۔۔یار میری بات سنو پلیز، صرف ایک منٹ کیلئے۔۔۔‘‘ وہ منت سماجت پر اُتر آتا ہے۔
پپو کا بنیادی مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کوئی اُسے یہ بتائے کہ اُس کی سب حرکتوں پہ اُسے معافی مل گئی ہے یا کوئی اُسے تسلی دے یا سیدھا راستہ دکھائے۔ وہ تو صرف یہ چاہتا تھا کہ کوئی اُس کے سامنے کھڑا ہو کر یہ کہے، ’’دیکھو مجھے بھی ایچ آئی وی پوزیٹو ہے، مجھے بھی یہ بیماری ہے مگر میں بالکل ٹھیک ہوں اور تم بھی ٹھیک رہو گے‘‘۔

وہ دونوں فائلوں کا پلندہ اُٹھائے پپو کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک لمحے کیلئے پپو کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کہے۔ وہ اپنی ٹانگیں سیدھی کرتا ہے اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ جاتا ہے اور اوٹ پٹانگ اور بے سرو پا باتیں کرنے لگتا ہے۔
’’تم لوگوں کو ساری رات یہاں پھرتے ہوئے کیسا لگتا ہے۔۔۔؟ تم لوگوں کو بہت سی عجیب چیزیں دیکھنے کو ملتی ہوں گی۔۔۔‘‘ خاتون کونسلر پپو کی باتیں سن کر مسکراتے ہوئے کہتی ہے۔

’’یہ سب کچھ دلچسپ ہے مگر تکلیف دہ بھی، اگر مجھے کبھی ایسے رہنا پڑے تو میں نہ رہ سکوں، کیا تم دونوں میں سے کوئی اس دھندے میں رہا ہے؟‘‘ پپو دونوں سے دریافت کرتا ہے۔

’’نہیں‘‘ قد آور کونسلر نے جواب دیا۔
’’کیا تم دونوں یہ نہیں سمجھتے کہ ان لڑکوں کو ایڈز کے بارے میں سمجھانے کیلئے تم دونوں کو اُن سے زیادہ گھلنے ملنے کی ضرورت ہے؟‘‘ پپو کے لہجے میں مایوسی کا عنصر نمایاں تھا، ’’تم لوگوں کے رویے سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تم لوگ دریا کے اُس کنارے کھڑے ہو اور ہم اس کنارے پہ اور اگر درمیان میں اتنا فرق ہو تو کوئی بھی کسی کی بات نہیں سمجھ سکے گا۔‘‘

پپو کو لگتا ہے شاید وہ دونوں اکتا کر وہاں سے چلے جائیں گے مگر جب وہ دونوں اُس کے پاس آ کر بیٹھ جاتے ہیں تو پپو بہت حیران ہوتا ہے۔ وہ لڑکا پپو سے اپنے رویے کی معافی مانگتا ہے۔ پپو بھی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُس سے معذرت کرتا ہے۔
’’مجھے بہت گھٹن محسوس ہو رہی ہے، شاید میرا رویہ خراب ہونے کی وجہ یہی ہو!‘‘ پپو کی باتوں میں عاجزی کا رنگ جھلک رہا تھا۔ شاید ایڈز کی بیماری کے خوف نے یہ اثر دکھایا تھا۔ کسی مصیبت میں پھنسنے کے بعد ہم سب ’’اچھے‘‘ بن جاتے ہیں۔ اگر ہم پہلے ہی اچھے بن جائیں تو شاید ہماری مصیبت بھی پہلے ہی ٹل جائے۔

’’میرا نام سلیم ہے‘‘ دوسرا لڑکا پپو کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے۔ ’’اور میں بھی کسی وجہ سے پریشان تھا اس لیے تم سے اچھی طرح بات نہ کر سکا‘‘۔ سلیم دلاسہ دیتے ہوئے کہتا ہے۔
تینوں ایک دوسرے کی طرف دوستانہ انداز اپناتے ہیں۔
’’کیا تم دونوں میں سے کوئی ایچ آئی وی پوزیٹو ہے؟‘‘ پپو اُن سے دریافت کرتا ہے۔

’’نہیں‘‘ وہ دونوں جواب دیتے ہیں۔
’’اس کے علاوہ تم دونوں کیا کرتے ہو؟‘‘ پپو پوچھتا ہے۔
لڑکا پپو کو بتاتا ہے کہ وہ انارکلی میں کپڑے کی دکان پہ جبکہ لڑکی ڈپلیکس میں کام کرتی ہے اور وہ دونوں بھی اپنے اپنے گھروں سے بھاگے ہوئے ہیں۔ دونوں پپو سے عمر میں کچھ سال بڑے ہیں اور وہ دونوں ’’نئی زندگی‘‘ کی طرف سے مہیا کردہ ایک شیلٹر میں رہتے ہیں۔ وہ دونوں پپو کو ساری معلومات فراہم کرتے ہیں اور اُن لوگوں کے نام بھی بتاتے ہیں جن سے اُس نے جا کر ملنا ہے۔

پپو اس وقت تک وہاں بیٹھا اُن دونوں سے باتیں کرتا رہتا ہے اور صبح ہوتے ہی وہ ’’نئی زندگی‘‘ کے دفتر چلا جاتا ہے۔ استقبالیہ پہ موجود خاتون اُس کو تین دن بعد صبح 10:30 بجے کا ٹائم دیتی ہے۔ وہاں سے بہت ناامید ہو کر پپو ایک پارک میں بیٹھ کر نشہ کرتے ہوئے اپنا غم دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تین دن بعد پپو کے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ صبح ساڑھے دس بجے اس کی کسی سے اہم ملاقات طے تھی۔ تین ہفتوں بعد پپو کی ملاقات دوبارہ سلیم سے ہوتی ہے، اس دفعہ سلیم پپو کو ’’نئی زندگی‘‘ جانے کیلئے مجبور کرتا ہے۔ سلیم فوری ملاقات کا اہتمام کرتا ہے۔

’’نئی زندگی‘‘ میں کاؤنسلر سے ملاقات ایک خوشگوار تجربہ ثابت نہیں ہوتی۔ سب باتیں سننے اور سوالات کرنے کے بعد کاؤنسلر دو دن بعد کا ٹائم دیتی ہے۔ پپو لمبے انتظار سے ہمیشہ اُکتاہٹ محسوس کرتا ہے، بے صبری اس کی زندگی میں ہمیشہ مسائل پیدا کرتی رہی ہے، تاہم کاؤنسلر کے سمجھانے پہ وہ سمجھ جاتا ہے۔ دو دن بعد جب وہ دوبارہ وہاں پہنچتا ہے اور اپنے ایچ آئی وی ٹیسٹ کے رزلٹ کا انتظار کر رہا ہوتا ہے، تب بھی اُس کے دل میں امید کی ایک رمق باقی ہوتی ہے کہ شاید اس دفعہ رزلٹ نیگیٹو ہو، مگر اس دفعہ بھی ٹیسٹ پوزیٹو ہی آتا ہے۔

اگرچہ وہ مایوس ہوتا ہے تاہم، اس بہانے اُسے رہنے کیلئے جگہ مل جاتی ہے۔ کچھ وقت میں وہ کاؤنسلنگ کی مدد سے اپنی خود فریبی پر قابو پا لیتا ہے اور اپنے ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کی حقیقت کو تسلیم کر لیتا ہے۔ وہ باقاعدگی سے مختلف میٹنگز میں جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ اس مرض کے بارے میں بہت کچھ سیکھ لیتا ہے۔ وہ لوگوں کو ایڈز سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔ اب اُس کی زندگی ایک نئی ڈگر پہ چل نکلی ہے جس میں وہ خود لوگوں کو مدد فراہم کرتا ہے۔ ایڈز سے آگاہی کے پروگرام میں اب وہ بھی سلیم کی طرح لوگوں کو دلاسہ اور امید دلاتا ہے۔ چھ مہینے کے بعد بھی

راتوں کو جاگنا اور سٹرکوں پر پھرنا اس کی زندگی کا ایک نمایاں جزو ہے مگر اب اُس کا کام لوگوں کی زندگی بچانا ہے۔ اس کی زندگی میں حیران کن واقعات رونما ہوتے ہیں اور حیران کن تبدیلیاں آتی ہیں۔ ایک رات اچانک اس کی ملاقات ایک اتھرے نوجوان سے ہوتی ہے۔ پپو اسے روک کر ایڈز سے بچاؤ پر بات کرنا چاہتا ہے لیکن وہ بھڑک اُٹھتا ہے۔

’’مجھے کیا ضرورت پڑی ہے یہ جاننے کی کہ میں ایچ آئی وی پوزیٹو ہوں یا نہیں۔۔۔؟‘‘وہ نوجوان پپو سے غصیلے انداز میں پوچھتا ہے۔
پپو نے اُسے پہلے کبھی اس جگہ پر نہیں دیکھا تھا، یہ لڑکا کچھ ہی دن پہلے اس ماحول میں آیا تھا۔ وہ نوجوان کافی غصے میں ہے مگر پپو اُس غصے کے پیچھے چھپے ہوئے خوف کو بخوبی پہچان رہا ہے۔

’’مجھے دیکھو، میں بھی ایچ آئی وی پوزیٹو ہوں اور میں ٹھیک ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ مجھے اپنی بیماری کا معلوم ہے اور میں اپنا خیال رکھ سکتا ہوں۔ اگر میں اپنی نیند، خوراک اور ورزش پر بھر پور توجہ دوں تو سالہا سال زندہ رہ سکتا ہوں اور اگر میں اپنا خیال نہ کروں اور اس حقیقت سے انکار بھی کروں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو خود برباد کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ نوجوان کا چہرہ ایک دم جیسے پگھل سا جاتا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں پپو آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیتا ہے۔

’’میں نے بھی اس حقیقت سے انکار کیا تھا اور پرواہ نہیں کی جس سے میری حالت دگرگوں ہو گئی اور وہ سب کچھ ناقابلِ برداشت تھا۔ جب میں نے مدد حاصل کی تو حالات بہتر سے بہتر ہوتے چلے گئے، مدد حاصل کرنا کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ طاقت کا سرچشمہ ہے۔ لوگ لوگوں کے کام آتے ہیں، دنیا اس سے اچھی طرح چلتی ہے۔۔۔‘‘پپو دیکھتا ہے کہ اُس کی باتوں کا اثر اُس لڑکے پر ہو رہا ہے تو اپنی بات جاری رکھتا ہے، ’’میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں، کیا نام ہے تمہارا؟‘‘ یہ کہتے ہوئے پپو اُس نوجوان کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے۔

’’ میرا نام۔۔۔جاوید ہے، میں ایک بہت اچھے گھرانے کا لڑکا ہوں، لیکن اب میں وہاں رہنے کے قابل نہیں، میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر بُرا مان جاتا تھا لیکن اب میں لوگوں کی ٹھوکروں میں ہوں اور بے حِس ہو چکا ہوں۔۔۔‘‘ اچانک پپو کو سسکیوں کی آواز سنائی دی۔ اُس نے نظر اٹھا کر جاوید کی طرف دیکھا۔ جاوید نے آنسو اور چہرہ، دونوں چھپانے کی کوشش کی۔ ’’انہیں بہہ جانے دو، آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری ہے‘‘ پپو نے کہا،’’ دل صاف ہو جائے گا، پھر تم ’’نئی زندگی‘‘ شروع کر سکو گے‘‘ ۔

آگے پڑھیئے لنک-47 ۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

خواب بالکل حقیقت جیسا تھا پپو جیمز بانڈ کی طرح جنگل میں بھاگا چلا جا رہا ہے، اسے محسوس ہو رہا ہے کہ اس کے پیچھے دشمن لگا ہوا ہے۔ پپو کی نظروں سے بظاہر وہ پوشیدہ ہے لیکن کچھ انہونی بات ضرور ہے اس کے دشمن کے بارے میں جو اسے انتہائی خوفزدہ کئے آواز دے رہا ہے۔ پپو کو پتوں کی سرسراہٹ سنائی دے رہی ہے مگر وہ پلٹ کر پیچھے دیکھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا۔ اسے لگتا ہے کہ وہ جتنا چاہے تیز بھاگے، وہ اپنے دشمن سے بچ نہیں سکتا۔ اس کا حلق بالکل خشک ہے۔ اس کا دشمن نا صرف انتہائی طاقتور ہے بلکہ چاک و چوبند بھی۔۔۔ لیکن یہ سب کچھ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ نظر آتا ہے۔ یکایک وہ لڑکھڑاتا ہے، قلابازیاں کھاتا ہے اور پھر گرتا ہی چلا جاتا ہے۔۔۔

جیسے ہی اس کی آنکھ کھلتی ہے تکلیف کی شدت اُسے آن گھیرتی ہے۔ ہوش میں آتے ہی اُس کا سر درد سے بھر جاتا ہے۔ جیسے جیسے اُسے ہوش آ رہا ہے اذیت کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے آس پاس تازہ لکڑی کی خوشبو ہے، کچھ ہی فاصلے پر کوئی لکڑی کاٹ رہا ہے۔

وہ کہاں ہے۔۔۔ اٹھنے کی کوشش کرتا ہے، اِدھر اُدھر دیکھتا ہے اور پھر درد کی شدت سے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ آس پاس لکڑی کا برادہ پھیلا ہوا ہے۔ اس کے گلے میں بھی برادہ جما ہوا ہے۔ وہ اپنے بازو اور ٹانگیں ہلانے کی کو شش کرتا ہے مگر بے سود۔

وہ پیٹ کے بل لیٹا ہوا ہے اور اُس کی ٹانگیں اور ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔اُس کے تن پر کوئی کپڑا نہیں، وہ برہنہ ہے۔ اس کا سارا جسم درد کی شدت سے شل ہے۔ وہ آنکھیں کھول کے سر گھمانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے اپنے بندھے ہوئے ہاتھ نظر آتے ہیں۔ وہ کسی نامکمل عمارت میں ہے۔ وہ دوبارہ اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔

وہ مدد کیلئے پکارتا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ یہاں اس کی مدد کیلئے کوئی نہیں۔ وہ یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ جب وہ ہوش میں تھا تو آخری کام اس نے کیا کیا تھا؟ اسے نشے کی بہت طلب ہو رہی ہے، پھر اسے یاد آتا ہے کہ شاید رات والا کچھ نشہ بچا ہو، وہ ایک بار پھر اٹھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اُسے درد کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ وہ اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ بے بسی کے عالم میں اپنے اردگرد دیکھتا ہے، اسے اپنے پاس صرف ایک خون میں لتھڑی لوہے کی چین نظر آتی ہے۔ وہ سوچتا ہے شاید اسی سے اسے مارا گیا ہو۔ وہ پھر دماغ پر زور ڈالتا ہے۔ اسے یاد آتا ہے آخری دفعہ اس نے بس سٹاپ پر بیٹھ کر نشہ کیا تھا پھر ایک بس سے دو لڑکے اترے تھے جو ملتان سے آئے تھے، وہ انہیں نشہ بیچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن وہ لڑے کسی صورت بھی نشہ خریدنے پر آمادہ نہ تھے۔ وہ لڑے چرس کے رسیا تھے لیکن کسی صورت بھی ہیروئن پینے کیلئے ہمت جمع نہیں کر پا رہے تھے۔ اس کے بعد وہ ادھر گرد کوئی اور گاہک تلاش کرنے لگا۔ آخر ناکام ہو کر وہ اسی بلڈنگ کے پاس ہی بیٹھ کر نشہ کرنے لگا اس کے بعد کی کوئی بات ا سے یاد نہیں آتی اور اب وہ یہاں بے یارومددگار پڑا تھا۔ اس ناگفتہ بہ حالت میں بھی اسے صرف نشے کی طلب ہو رہی تھی۔ وہ اپنے آپ کو کوس رہا تھا۔ آخر اس نے سارا نشہ کیوں کر لیا؟ کچھ بچا کر کیوں نہ رکھا؟ اپنی عاقبت نااندیشی پر وہ لعنت ملامت کیا کرتا تھا۔ اسے اس بات کا کوئی ملال نہ تھا کہ اسے اغوا کیا گیا، مارا پیٹا گیا اور اس کے ساتھ بدفعلی کی گئی۔ اسے صرف نشے کی پرواہ تھی۔

پپو سوچتا ہے کہ اسے کسی نہ کسی طرح یہاں سے باہر نکلنا ہے اور نشہ خریدنا ہے تاکہ اس کے درد میں کچھ کمی ہو سکے۔ اچانک اسے کسی کے آنے کی آہٹ محسوس ہوتی ہے۔ پپو سوچتا ہے، ’’مجھے ہر صورت یہاں سے باہر نکلنا ہے‘‘۔ جب تک میں نشہ نہیں کروں گا، مجھے چین نہیں آئے گا، ’’خدا کا شکر ہے کوئی آ رہا ہے‘‘۔ اس کے ہونٹ سوکھے ہوئے تھے، گلے میں جیسے کانٹے چبھ رہے تھے اور ننگا جسم بھی گرد سے اٹا پڑا تھا۔ اس نے اپنی پیٹھ پر ہاتھ رکھا تو اسے سوجن کا احساس ہوا۔ اپنے ہاتھ پر خون دیکھ کر اس کے چھکے چھوٹ گئے، ’’اوہ! میرے خدایا!‘‘
اس نے اپنی ٹانگ ہلانے کی کوشش کی لیکن اس میں سکت ہی نہ تھی۔ وہ ادھ مواء پڑا تھا۔

تھوڑی ہی دیر میں اسے ایک آدمی نظر آتا ہے جو دیکھنے میں مزدور لگتا ہے ۔درمیانی عمر کا یہ آدمی خود کافی پریشان دکھائی دیتا ہے۔
’’ تم ٹھیک ہو‘‘ وہ پپو سے پوچھتا ہے۔
پپو مسکرانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ شخص اپنے تھیلے میں سے پانی کی بوتل نکالتا ہے اور پپو کو پانی پلانے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر وہ اپنی قمیض اتار کر پپو کے جسم کو اس سے ڈھانپ دیتا ہے۔

’’ ابھی کوئی بھی آ جائے تو ہم تمہیں ہسپتال لے جائیں گے، تم فکر نہ کرو‘‘ وہ شخص کہتا ہے۔
’’نہیں، نہیں، اس کی کوئی ضرورت نہیں، مجھے بس کچھ روپے چاہئیں، اس کیلئے تم بھی چاہو تو اپنا دل خوش کر سکتے ہو، میں تمہیں بھرپور مزہ دے سکتا ہوں، بس تم مجھے ایک دو سو روپے دے دو اور پھر جو چاہو کرو۔ پہلے تم میری رسیاں کیوں نہیں کھول دیتے؟‘‘ پپو بد حواسی میں ہانکے چلا جاتا ہے۔

مزدور نما شخص پپو کی باتیں سنی ان سنی کر دیتا ہے اور پپو کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے، پھر کچھ پانی اس کے منہ میں ٹپکاتا ہے اور اسے خاموش رہنے کیلئے کہتا ہے۔ پپو اسے دوبارہ اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور کچھ روپوں کی ڈیمانڈ کرتا ہے۔ اس آدمی سے کوئی جواب نہ پا کر پپو جھنجھلا جاتا ہے اور اسے عجیب و غریب طعنے دینے لگتا ہے۔ ’’لگتا ہے تمارے اندر کوئی دم نہیں ہے؟ کیا تم ٹھنڈے ہو چکے ہو؟ مجھے دیکھ کر تو بڈھے بھی جوان ہو جاتے ہیں، تم تو ٹس سے مس نہیں ہو رہے؟‘‘ پپو فضول باتیں کئے چلا جاتا ہے۔ ’’خاموش رہو‘‘ وہ آدمی پپو کو ڈانٹ دیتا ہے، ’’میں ایسا آدمی نہیں ہوں‘‘، اگر تمہاری جان کو خطرہ نہ ہوتا تو تمہیں یہیں چھوڑ کر چلا جاتا۔ ابھی میرا سپروائزر آنے والا ہے، اس کے پاس جیپ ہے میں تمہیں ہسپتال پہنچا دوں، پھر تم سے کوئی لینا دینا نہیں ہو گا۔ ’’دہائی خدا کی، کیا زمانہ آ گیا ہے؟‘‘

ہسپتال کا نام سن کر پپو اس کی منت سماجت شروع کر دیتا ہے کہ وہ اسے کھول دے۔ پپو ہسپتال نہیں جانا چاہتا اسے ہر صورت میں نشہ چاہیئے، وہ نشے کیلئے بے حال ہے۔

آگے پڑھیئے لنک-47 ۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

خواجہ شمس اور پپو میٹنگ کیلئے باغ جناح پہنچتے ہیں۔ کلب کی بلڈنگ کے پاس ایک شخص انہیں خوش آمدید کہتا ہے۔
’’میرا نام ملک ہے‘‘۔ وہ شخص ہاتھ ملا کر مسکراتے ہوئے اپنا تعارف کرواتا ہے، ’’ہائے! خواجہ کیسے ہو؟‘‘
’’کوئی چالاکی کرنا پڑے گی، پپو دل میں سوچتا ہے، میں خواجہ سے باتھ روم جانے کے بہانے جان چھڑاتا ہوں اور پھر ’’پنی‘‘ لگاتا ہوں، پھر پپو مسکراتا ہے اور ملک سے پوچھتا ہے‘‘، ’’باتھ روم کدھر ہے؟‘‘ ملک ایک دروازے کی طرف اشارہ کرتا ہے، پپو اس کے بازو پر تھپکی دیتا ہے اور خواجہ سے پوچھتا ہے ، ’’کیا یہاں کا انتظام یہی بندہ چلاتا ہے؟‘‘
خواجہ شمس اس کا ارادہ بھانپ لیتا ہے اور زبردستی اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔

’’نہیں، یہ فقط آنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہے‘‘۔
خواجہ پپو کو بتاتا ہے کہ استقبالیہ میں لوگ باری سے آتے ہیں اور وہ اسی طرح سے آنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں، ’’ ہائے! نام ملک ہے۔‘‘
پپو اس کی نقل اتارتا ہے۔
’’چلو، چل کر دیکھیں بیٹھنے کیلئے سیٹ بھی ہے یا نہیں۔۔۔‘‘ خواجہ پپو کو اندر لے جاتا ہے۔

ایک نوجوان خواجہ کا حال چال پوچھتا ہے اور خواجہ پپو کو اس سے ملواتا ہے جس پر وہ مسکرا دیتا ہے۔ خواجہ اس نوجوان کو ایک طرف لے جا کر کوئی بات کرتا ہے جس کے جواب میں وہ بتاتا ہے کہ سیٹیں تو خالی ہیں لیکن کچھ لوگ انہیں ریزرو کر گئے ہیں۔ تاہم میں آپ کیلئے انتظام کرتا ہوں۔ پپو دل ہی دل میں سوچتا ہے کہ میں واپس باہر جاؤں اور پارکنگ میں کسی کی گاڑی سے سٹیریو نکال کر بیچ کھاؤں۔ اتنی دیر میں ایک لڑکا آ کر خواجہ سے گلے ملتا ہے۔ خواجہ اُس کا تعارف پپو سے کراتا ہے۔ کمرے میں پچاس کے قریب کرسیاں ترتیب سے رکھی ہیں اور خواجہ میٹنگ روم کے آخر میں دو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ پپو خواجہ شمس کے ساتھ بادل نخواستہ کرسی پر

بیٹھ جاتا ہے۔ پپو کو یہاں بیٹھنا اچھا نہیں لگ رہا اور جان بوجھ کر دھڑام سے اپنی کرسی سے نیچے گِر جاتا ہے۔
سب لوگ پیچھے مُڑ مُڑ کر دیکھتے ہیں تو پپو ہنسنا شروع کر دیتا ہے۔

’’یہ تم کیا کر رہے ہو؟‘‘ خواجہ پپو کے کان میں سرگوشی کرتا ہے؟
’’کیا؟‘‘ پپو حیرانگی سے خواجہ شمس کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہے، ’’میرا کیا قصور؟ کرسی ہی ٹوٹی ہوئی ہے۔‘‘
تمام لوگ ایک دفعہ پھر پیچھے مُڑ کر دیکھتے ہیں۔ خواجہ گھیسانا ہو کر مسکرا دیتا ہے۔ پھر کچھ لوگ سیدھا رُخ کر کے چہ میگوئیاں شروع کر دیتے ہیں۔
’’یہ جو تمہاری حرکتیں ہیں ناں تمہیں بھوکا مار سکتی ہیں!‘‘ خواجہ پپو سے کہتا ہے، اور کم از کم کپڑے تو صاف پہننا شروع کرو‘‘۔
پپو یہ سن کر سنجیدہ ہو جاتا ہے اور اپنے جسم پر نظر ڈالتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ واقعی اس کے کپڑے گندے ہیں۔

’’کیا تمہیں یاد ہے کہ تم آخری دفعہ کب نہائے تھے؟‘‘ خواجہ شمس پپو سے سوال کرتا ہے۔
’’اب میں یہاں ایک سیکنڈ بھی نہیں رکنا چاہتا۔‘‘ پپو خفگی کا اظہار کرتا ہے۔
’’پلیز! خاموش ہو جاؤ، میٹنگ شروع ہونے والی ہے‘‘ سٹیج سیکرٹری کی آواز آتی ہے۔
اس دوران سامعین سرگوشی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کچھ کاروائی ہوتی ہے اور اسٹیج سیکرٹری کہتا ہے،
’’اب میں سب سے پہلے خواجہ شمس کو سٹیج پر آنے کی دعوت دیتا ہوں‘‘ ۔

تمام حاضرین خاموشی اختیار کرتے ہیں اور پھر تالیوں کی ایک گونج پورے ہال کو ہلا دیتی ہے۔ خواجہ پپو کی طرف دیکھتا ہے اور اُٹھ کر جاتے ہوئے کہتا ہے، ’’میری غیر موجودگی میں تم نے اگر اُٹھ کر باہر جانے کی جسارت کی تو سمجھو کل سے تم بیساکھیوں پر ہو گے!‘‘
’’میرا نام خواجہ شمس ہے اور میں ایک نشئی ہوں‘‘ خواجہ شمس مائیک سنبھالتے ہوئے اپنا تعارف کرواتا ہے۔
’’ہائے! خواجہ!‘‘ تمام حاضرین یک زبان ہو کر پکارتے ہیں اور تالیاں بجا کر پرتپاک استقبال کرتے ہیں۔
’’ میں اس پروگرام میں پچھلے دس سال سے شامل ہوں۔ آج میں ایک کامیاب بزنس مین ہوں اور

روزانہ ہزاروں روپے کا کاروبار کرتا ہوں۔ میں وہ واحد شخص ہوں جس کی زندگی کھلی کتاب ہے۔ مجھے اس بات کی انتہائی خوشی ہے کہ میں آج آپ کے سامنے موجود ہوں۔‘‘ خواجہ شمس اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے۔
اس دوران پپو خواجہ شمس کو اتنے لوگوں کے سامنے آسانی سے بات کرتے ہوئے دیکھ کر حیران ہوتا ہے۔ خواجہ شمس اپنی کہانی سنانا شروع کرتا ہے۔

’’آج میں دنیا میں ایک کامیاب اور مطمئن انسان ہوں اور ہر حال میں خوش رہتا ہوں۔ میں آپ سب کا ممنون ہوں۔ میرا آپ کے سامنے موجود ہونا معجزے سے کم نہیں لیکن یہ معجزہ راتوں رات نہیں ہوا۔ اس نے کئی سالوں کی مسافت طے کی ہے۔ میرا سفر جاری ہے اور یہ ایک دن ضرور مکمل ہو گا۔ کبھی میں بہت بدحال شخص تھا۔ مجھ پر دو پیسے کا اعتماد نہیں کیا جا سکتا تھا۔ میں نشہ کرنے کیلئے سب کچھ بیچ دیتا تھا۔ میں اپنا جسم بیچنے کیلئے بھی ہر دم تیار رہتا تھا۔ میری حرکتیں دیکھ کر سب کو گِھن آتی تھی۔ آج میں بہت بدل گیا ہوں۔ آج لوگ مجھ پر لاکھوں روپے کا بھروسہ کرتے ہیں۔ لوگ میری کی طرف رشک بھری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

خواجہ شمس روانی سے بولے چلا جا رہا تھا، ’’میں اب ایک روحانی، سماجی سفر پر ہوں، میں ’’این اے‘‘ کے اصولوں کو روزمرہ زندگی میں مشعل راہ بناتا ہوں اور زندگی کی خوبصورت شاہراہ پر آگے ہی آگے چلنے کا عزم رکھتا ہوں۔ میری اپنی سوچوں کا خدا، میرا خالق میری گاڑی کو رواں دواں رکھتا ہے۔ میری زندگی میں مشکلات کم سے کم ہوتی جا رہی ہیں۔ قدرت کے قوانین اپنے اندر تعصب نہیں رکھتے، مشکلات میں بھی دور کہیں مجھے امید کی کرنیں دکھائی دیتی رہتی ہیں۔‘‘
ہال میں مکمل خاموشی طاری تھی، ہر کوئی ہمہ تن گوش تھا، تاہم پپو اپنی کرسی پر بے چین بیٹھا کسمسا رہا تھا۔ ’’پر بحالی صرف پھولوں کی سیج نہیں، اس دوران میں نے جو کچھ حاصل کیا اس کی حفاظت کرنا بھی میری ہی ذمہ داری ہے۔ میں ہر قدم اٹھانے سے پہلے سب سے مشورہ کرتا ہوں، لیکن حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے تحمل سے سوچتا ہوں، اپنے اندر کی آواز سنتا ہوں۔ میں اپنی سوچ کے نتیجے پر غور کرنے کے بعد ہی کوئی قدم اٹھاتا ہوں۔ میں اپنے اندر سے اٹھنے والی خواہ مخواہ کی منفی باتوں کو بھی لگام دیتا ہوں۔ میں خاص طور پر اپنے رنج پر قابو پانے کیلئے خصوصی جدوجہد کرتا ہوں کیوں کہ رنج میری بحالی کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔ آخر کار میں نے جان لیا ہے کہ میرا دماغ میری مرضی پر چلنا چاہیئے۔ درگزر میں ہی میری خوشی کا راز ہے اور جب میں خوش رہتا ہوں تو ہر گول مجھے آسان لگتا ہے۔‘‘

’’خواجہ شمس لمحہ بھر کیلئے رکتا ہے۔ پورا ہال ایک بار پھر تالیوں سے گونج اُٹھتا ہے۔ خواجہ اپنی بات جاری رکھتا ہے۔‘‘
’’میں اپنی سوچ اور موڈ پر نظر رکھتا ہوں، میں اپنی نیند اور کھانے پینے پر بھی نظر رکھتا ہوں۔ ایک متحرک زندگی گزارتے ہوئے میں تھکن سے بچتا ہوں۔ جب میں اپنے اردگرد کوئی تبدیلی لانا چاہتا ہوں تو میں اپنے اندر اپنی سوچ میں تبدیلی لانے کا جتن کرتا ہوں۔ میں غور کرنے لگتا ہوں اور سوچ سمجھ کر ہی اپنے آپ سے بات کرتا ہوں۔ بحالی میں سکون میری پہلی ترجیح ہے اور جب کبھی میری مصروفیات میں میری ترجیح کیلئے جگہ نہیں نکلتی تو میں اپنے آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ مجھے مصروفیات کو مردہ کر کے گنجائش نکالنا پڑے گی اور سکون کا اہتمام کرنا پڑے گا۔ میں آج اچھی طرح جانتا ہوں کہ سکون کیلئے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے۔‘‘

سب لوگ توجہ سے خواجہ شمس کی بات سن رہے تھے، اس نے ایک طائرانہ نظر ہال میں بیٹھے لوگوں پر ڈالی، ایک لمبا سانس لیا اور اپنی بات کو آگے بڑھایا۔
’’آج اپنی زندگی کو آگے بڑھانے کیلئے میں مصمم ارادے کے ساتھ اُن مہارتوں، وسائل، لوگوں کی مدد حاصل کرتا ہوں اور یہ فرض کر لیتا ہوں کہ اب میں وہ سب کچھ کر گزروں گا جس سے نظریں چرایا کرتا تھا۔ ’’این اے‘‘کے ساتھی میرا بہت بڑا سرمایہ ہیں۔ اب میں جانتا ہوں کہ ڈسپلن اور ہمت اُس وقت میرے کام آتی ہے جب بحالی میں مشکل مقام آتے ہیں۔‘‘

خواجہ شمس ایک فطری روانی کے ساتھ بات کر رہا تھا۔
’’شکر گزاری میرے بہت کام آتی ہے۔ میں شب و روز شکر گزاری کے بہانے ڈھونڈتا ہوں۔ چونکہ میں اچھا محسوس کرنا چاہتا ہوں تو میں ہمہ وقت اچھے روئیے اپناتا ہوں۔ میں لمحہ موجود میں زندگی گزارتا ہوں اور صرف آج اور ابھی کے مسائل حل کرتا ہوں، میں کل کے مسائل حل کرنے کیلئے کل کا انتظار کرتا ہوں۔ ناکامی کوئی چیز نہیں ہوتی، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ہوتا ہے، میں اس سے کچھ نہ کچھ سیکھتا ہوں، پھر حکمت عملی بدل کر دوبارہ جہدوجہد کرتا ہوں اور یہ سلسلہ کامیابی تک جاری رکھتا ہوں۔‘‘
اور پھر خواجہ شمس نے سب کو چونکا کر رکھ دیا۔

’’جو کچھ بھی سیکھا اسے زندہ و تابندہ رکھنے کیلئے میں دوسروں کو وہ سب کچھ سکھانے میں مصروف رہتا ہوں۔ چراغ سے چراغ جلے تو روشنی کم نہیں بلکہ زیادہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ میں اپنے خانے سے معافی اور تلافی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا کیونکہ انہوں نے ہی میرے نشئی رویوں سے زیادہ تکلیفیں اُٹھائی ہیں۔ میں معافی اور تلافی کے علاوہ کچھ اضافی دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ جہاں تلافی ممکن ہی نہ ہو وہاں میں اپنے رویوں اور طرز عمل کو بدل کر ہی تلافی کی سعی کرتا ہوں۔ میں صبح و شام سوچ و بچار کیلئے وقت نکالتا ہوں اور اپنے خدا سے شعوری رابطہ بنا کر طے کرتا ہوں کہ روز مرہ زندگی میں مجھے کیا باقی رکھنا ہے اور کیا چھوڑ دینا ہے؟ میں’’این اے‘‘ کے ساتھیوں کا بے حد مشکور ہوں کہ انہوں نے دامے، درمے، قدمے اور سخنے میرا ساتھ دیا۔‘‘

ہال ایک بار پھر زور دار تالیوں سے گونج اُٹھا۔ خواجہ شمس پُر اعتماد قدموں سے چلتا ہوا اسٹیج پر سے اتر آیا۔

خواجہ شمس یہ باتیں پپو کی طرف نظریں گاڑتے ہوئے کہتا ہے۔ تمام سامعین خواجہ شمس کے گُن گاتے ہیں اور پھر وقفے کا اعلان ہو جاتا ہے۔ پپو اس دوران خواجہ شمس سے بات کرنا چاہتا ہے لیکن سامعین کا کافی رش ہوتا ہے، جو خواجہ شمس سے ہاتھ ملانا چاہتے ہیں، کچھ گفتگو اور کچھ گلے مل کر خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں۔ پپو ایک گہری سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ پھر وہ اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے نشے کی طلب محسوس کرتا ہے۔ وہ گھر سے بھاگ جانے کی تکلیف سے بھی دوچار ہے یوں اس کی تکلیفوں اور مصائب میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ پپو سوچتا ہے کہ آخر اس کا مسئلہ کیا ہے؟ اور وہ گھر سے کیوں بھاگ کر آیا ہے؟ پھر وہ اپنے سامنے والی کرسی کو گھورنا شروع کر دیتا ہے اور وہاں سے فرار ہونے کا منصوبہ بناتا ہے۔ خواجہ شمس کو سامعین نے گھیر رکھا ہے۔ جیسے ہی پپو دروازے کی طرف لپکتا ہے خواجہ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ پپو خواجہ شمس کی تعریف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے تو خواجہ کی شخصیت کے اس پہلو کا پہلے کبھی علم ہی نہ تھا۔

’’تم مجھے پہلے کیوں نہ ملے؟‘‘ خواجہ پپو کو باہر جا کر کچھ کھانے کی پیشکش کرتا ہے۔ پپو اس سے کسی ضروری کام کا بہانہ کر دیتا ہے۔
کیا تم مجھے بے وقوف سمجھتے ہو؟ میں تمہیں جانے سے روک تو نہیں رہا اور نہ ہی میں یہ چاہتا ہوں کہ تم آج اور ابھی نشہ چھوڑ دو۔ ’’تو پھر تم مجھے یہاں کیوں لے کر آئے ہو؟‘‘ پپو خواجہ کا منہ تک رہا تھا۔

میں توایک سادہ سی بات تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔ ’’میں نشے کے سامنے بے بس ہوں اور میری زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔‘‘
خواجہ شمس انتہائی سنجیدگی اور ملائمٹ سے پپو کو سمجھاتا ہے۔ پپو وہ جملہ دہرا دیتا ہے۔ خواجہ خوشی سے مسکرا دیتا ہے اور پپو کو گلے لگا لیتا ہے۔ پھروہ ڈنر کرنے چلے جاتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں پپو کے دماغ میں یہی الفاظ گونجتے رہے اور وہ وقت آیا جب پپو کو نشہ چھوڑے چھ ماہ گزر گئے اور وہ اپنے پہلے میڈل کے ساتھ ’’این اے‘‘ کے پلیٹ فارم پر کھڑا تھا۔

آگے پڑھیئے لنک-47 ۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

پپو ایک سال کی آوارہ گردی کے بعد پھر ٹیکسالی گیٹ واپس آ جاتا ہے۔ وہ فورٹ روڈ کا چکر لگاتا ہے۔ بہت سے نئے چہرے نظر آتے ہیں۔ ایک آدھ کوئی پرانا ساتھی بھی نظر آتا ہے۔ ریسٹورنٹ میں اُسے ایک لڑکا بہت دوستانہ انداز میں ملتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ اُسے پہلے سے جانتا ہے مگر پپو کی اس سے کوئی شناسائی نہیں ہے۔ اصل میں وہ پپو سے نشے کیلئے پیسے ہتھیانے چاہتا ہے اس لیے یہ سب کچھ کر رہا ہے۔ پپو وہیں ایک سائیڈ پر بیٹھ جاتا ہے اور اپنی زندگی کے بارے میں سوچتا ہے کہ جب وہ نیا نیا یہاں آیا تو اُس نے بہت پیسے بنائے کیونکہ وہ کم عمر ہوتا ہے۔ اس لیے زیادہ لوگ اُس کی طرف بڑھتے ہیں۔ نشہ کر کے اُس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے ہیں، صحت خراب ہو گئی، جس کام کیلئے پہلے وہ دو سو سے چار سو تک کما لیتا، اب اُسی کام کیلئے لوگ اُسے پچاس بھی مشکل سے دیتے ہیں۔

ایک رات وہ اس چیز کی شکایت اپنے ساتھی سے کر رہا ہوتا ہے تو وہ اِسے سمجھاتا ہے کہ یا تو وہ اپنا حلیہ بدل لے، اچھے سے کپڑے خریدے اور میک اِپ کر کے اپنے آپ کو یکسر تبدیل کرے تب کہیں جا کر وہ مزید پیسے بنا سکتا ہے اور یا پھر وہ اپنی قسمت آزمانے کیلئے رائل پارک چلا جائے، کیونکہ وہاں کم لڑکے ہوتے ہیں اس لیے پپو کو فائدہ اٹھانے کا زیادہ موقع ملے گا۔ وہ لڑکا پپو کی مدد کو بھی تیار ہو جاتا ہے بشرطیکہ وہ اُسے نشہ خرید کے دے۔ پپو کو اُس کی دونوں تجاویز بہتر لگتی ہیں۔

رائل پارک سے ہوتا ہوا وہ داتا صاحب جاتا ہے۔ پھر گلبرگ، ایمپائر سنٹر اُس کے بعد مسلم ٹاؤن۔ اب سب جگہوں پر اپنی قسمت آزماتے ہوئے وہ کینٹ گرجا گھر پہنچتا ہے۔ کسی جگہ پپو کو بہت فائدہ ہوتا ہے اور کسی جگہ تو پولیس والے پہنچ جاتے ہیں اور ڈرا دھمکا کے وہاں سے بھگا دیتے ہیں۔

ایک دن وہ اپنے گاہک کی گاڑی میں بیٹھا ہوتا ہے کہ اُس کے کان میں آواز پڑتی ہے، ’’میری کالوں کا دھیان رکھنا‘‘۔ اُس کا گاہک گاڑی سٹارٹ کرتے ہی اپنی سیکرٹری کو فون پہ کہتا ہے۔ یہ فقرہ سنتے ہی پپو کو جھاجھو کا خیال آ جاتا ہے۔ فورٹ روڈ پہ واپس پہنچ کے جھاجھو کے بارے میں دریافت کرتا ہے۔ کسی کو بھی اُس کے بارے میں نہیں معلوم۔ ایک لڑکا پپو کو بتاتا ہے کہ جھاجھو کو پولیس پکڑ کے لے گئی تھی منشیات بیچنے کے جرم میں۔ اُس کے بعد اُسے کسی نے نہیں دیکھا۔ پپو سڑک کے کنارے ہی بس سٹاپ کے ایک بنچ پہ بیٹھ جاتا ہے اور جھاجھو کے بارے میں سوچنے لگتا ہے کیونکہ اپنی زندگی میں اُسے صرف جھاجھو کی دوستی کا ہی آسرا ہے۔ سوچتے سوچتے وہ دلبرداشتہ ہو جاتا ہے، اپنا غم غلط کرنے کیلئے وہ شراب پینے کا سوچتا ہے۔

وہ شراب کی تین بوتلیں خریدتا ہے اور کسی پُرسکون گوشے کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ وہ فورٹ روڈ پہ نہیں بیٹھنا چاہتا۔ وہ فورٹ روڈ سے چلتا ہوا بادامی باغ کی طرف نکل جاتا ہے۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد اُسے ریلوے لائنوں کا جال نظر آتا ہے۔ کچھ لائنیں کراس کر کے قدرے تنہا گوشے میں ایک لائن پر بیٹھ جاتا ہے۔ تقریباً شام کا وقت ہے، آسمان پر گہرے بادل ہیں، بارش کا اکا دکا قطرہ اس کے چہرے پر گرتا ہے۔ فروری کے آخری دنوں میں لاہور میں کچھ خاص سردی نہیں ہوتی تاہم آج موسم کچھ زیادہ ہی خنک ہے۔ یہ رومان پرور موسم اور شراب کی بوتلوں کا لمس اسے بہت اچھا لگ رہا ہے۔

یہاں اُسے بہت سکون محسوس ہوتا ہے۔ وہ شراب کی تمام بوتلیں پاس رکھ لیتا ہے اور ایک ایک کر کے پیتا جاتا ہے۔ وہ خالی بوتلوں کو ریلوے لائن پہ جوڑتا جاتا ہے۔ اُس کے دماغ میں خیالات کی تیز رو کچھ ہی دیر میں مدہم ہونے لگتی ہے۔ اُسے ایسا لگتا ہے جیسے وہ اپنے آپ سے یا خدا سے کچھ کہہ رہا ہے۔۔۔ لیکن سمجھ نہیں آتا وہ کیا کہہ رہا ہے۔ وہ سوچتا ہے، ’’جب میں خدا سے باتیں کرتا ہوں تو وہ جواب کیوں نہیں دیتا؟‘‘

پھر اُسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ شراب کی خالی بوتلوں کی طرح اندر تک خالی ہے۔ انہی سوچوں میں ڈوبے ہوئے اُسے احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس جگہ پہ بیٹھا ہے۔ وہ ریل کی پٹری پر بیٹھا شراب پی رہا ہوتا ہے اس کا جسم تھوڑی دیر کے بعد ڈھیلا پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ نیم دراز حالت میں ریل کی پٹری کو تکیے کی طرح اپنے سر کے نیچے محسوس کر رہا ہے۔ اس کے پاؤں پھیلے ہوئے ہیں۔ بوندا باندی تیز ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے کپڑے بھیگ چکے ہیں لیکن شراب کے نشے میں اسے کچھ احساس نہیں اسے سب اچھا لگ رہا ہے۔ پپو آخری بوتل اُٹھاتا ہے اور غٹاغٹ شراب

پینے لگتا ہے۔ پھر وہ دوبارہ ریل کی پٹری پر سر رکھ دیتا ہے۔ اس کا ذہن ماؤف ہوا جا رہا ہے۔ یکایک ریل کی پٹری میں سنساہٹ سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ پپو کے کانوں میں ایک عجیب سا شور سنائی دیتا ہے اتنے میں ٹرین کے زوردار ہارن کی آواز آتی ہے، مگر اسے سنائی نہیں دیتی۔ پپو آخری گھونٹ بھر کے اپنا ہاتھ ہوا میں اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ریل کی لائن میں دھمک بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ لاہور اسٹیشن سے روانہ ہونے والی ٹرین کی رفتار شاید اب تیز ہوتی جا رہی ہے۔ اچانک آسمان پر بجلی چمکتی ہے اور موسلادھار بارش ہونے لگتی ہے۔ پپو کو احساس ہوتا ہے کہ اگر وہ فوری طور پر اپنا بچاؤ نہیں کرتا تو اس کے پرخچے اُڑ جائیں گے۔ وہ اٹھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن تھوڑی سی کوشش کرنے کے بعد ہمت ہار کر دوبارہ گر جاتا ہے۔ ٹرین کی آواز اب بہت قریب آ چکی ہے۔ پپو بے بس ہے لیکن اس کے ذہن میں خوف اور خیال گڈمڈ ہو رہے ہیں۔ ’’جنہے لور نہیں ویکھیا او جمیا نہئی‘‘

آگے پڑھنے کیلئے جائیے لنک-47 پر۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

صبح سویرے پپو لاہور کی گلیوں میں چکر لگا رہا ہے، وہ بہت زیادہ تھکا ہوا ہے، اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ بہت دنوں سے پیدل چل رہا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ پپو اﷲ سے شکوہ کرتا ہے۔ پھرسوچتا ہے کہ یہ خدا سے بات چیت کرنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے لہذا وہ کھانا، سونا اور کسی اجنبی سے بات نہیں کرنا چاہتا۔ وہ ٹی وی نہیں دیکھنا چاہتا، وہ کسی کے ساتھ جسمانی تعلق نہیں چاہتا، وہ نشہ نہیں کرنا چاہتا، وہ اپنے آپ کو مارنا بھی نہیں چاہتا، وہ صرف ایک ساتھی چاہتا ہے، جس کے ساتھ وہ اپنا دل ہلکا کر سکے۔

وہ اتنا شکست خوردہ ہے کہ اسے ایک پل چین نہیں مل رہا۔ وہ فورٹ روڈ سے ہوتا ہوا داتا صاحب پہنچ جاتا ہے۔ چلتے چلتے وہ ایک لڑکے اور لڑکی کے پاس سے گزرتا ہے، جن کی عمر 18 سال کے لگ بھگ ہے۔ اسے پھر اپنی محرومی کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ اب اس سے ایک قدم بھی نہیں چلا جا رہا۔ وہ ایک وین میں بیٹھ جاتا ہے جو اصل میں دودھ سپلائی کرتی ہے۔ وین مسلم ٹاؤن موڑ پر پپو کو اتار دیتی ہے کیونکہ یہ اس کا آخری سٹاپ ہے۔ انہی سوچوں میں گم پپو کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ غلط جگہ پہنچ گیا ہے۔ اسے مسلسل جاگتے ہوئے چوبیس گھنٹے ہو چکے ہیں۔ پپو سڑک کے کنارے چلتے چلتے ایک دکان کے شیشے میں اپنی حالت دیکھ کر بوکھلا جاتا ہے۔

’’ یہ ایک ایسے نوجوان کا چہرہ ہے جو اپنی جان ختم کرنا چاہتا ہے‘‘۔ اس کے منہ سے بے ساختہ چند سچے الفاظ نکلتے ہیں۔چلتے چلتے وہ ایک مسجد کے پاس پہنچتا ہے جہاں بہت سے لوگ آ جا رہے ہیں۔

وہ کسی کو بات کرتے ہوئے سنتا ہے کہ یہ جامعہ اشرفیہ ہے۔ پپو وہیں مسجد کے پارک میں بیٹھ جاتا ہے اور لوگوں کو آتے جاتے ہوئے دیکھتا ہے۔ سب لوگ ایک ایک کر کے جا رہے ہیں۔ ہر شخص اپنے آپ میں گم ہے۔ ویسے تو وہ سب تنہا ہیں مگر پُرسکون ہیں۔
یکایک پپو کو بھی اپنا بیتا ہوا ماضی یاد آ جاتا ہے، وہ بے چین ہو جاتا ہے۔
’’ مجھے اس جہنم سے نکال لے، میرے خدا میری مدد فرما۔۔۔‘‘ پپو اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر دعا کرتا ہے۔پپو کا مسجد کے اندر جانے کو بھی دل چاہتا ہے تاہم پپو اپنے اندر اتنی ہمت محسوس نہیں

کرتا کہ اُٹھ کر اندر چلا جائے۔ مسجد کے باہر دیوار پر امام صاحب کا نام لکھا ہے۔ اس کی نظر وہیں ٹک جاتی ہے۔

’’ امام صاحب بہت اچھے ہوں گے، تمہیں ان سے ضرور ملنا چاہیے، وہ ضرور تمہیں کوئی نہ کوئی حل بتائیں گے۔ بس تمہیں اپنے اﷲ پہ پورا یقین ہونا چاہیئے۔ یہ بالکل مناسب وقت ہے اس وقت مولانا عبدالرحمٰن کے پاس وقت بھی ہو گا وہ اپنی فہم و فراست سے تمہاری مدد ضرور کریں گے‘‘۔ اس کے کان میں ایک شخص کی آواز آتی ہے جو ایک شخص کو سمجھا رہا ہے ۔
’’ خدا پہ مکمل یقین‘‘ پپو کے ذہن میں یہ الفاظ گونجنے لگتے ہیں۔

اب ایک غیبی طاقت اسے مسجد کی طرف کھینچتی چلی جاتی ہے۔ وہ امام صاحب کے پاس جا کر اپنا سارا حال ان کو سنا دیتا ہے۔ امام صاحب خاموشی سے سنتے ہیں۔ باتیں کرتے کرتے وہ رونے لگتا ہے۔ خوب روتا ہے یہاں تک کہ اپنا سارا غبار نکال کے پُر سکون ہو جاتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد اسے اپنے کندھے پر ایک شفیق ہاتھ محسوس ہوتا ہے۔ امام صاحب اسے تسلی دیتے ہیں اور قرآن مجید کی چند آیات تلاوت کرتے ہیں۔ پپو مطمئن ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ امام صاحب اسے اپنے پاس رہنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ وہ اس کے والدین سے بات کر سکیں۔

مولانا صاحب ذیابیطس کے مریض ہیں اور ڈائبیٹکس انسٹیٹیوٹ پاکستان سے علاج کرواتے ہیں۔ ڈِپ سے ملحقہ ولنگ ویز اور صداقت کلینک میں نشے کے مریضوں کا علاج ہوتا ہے۔ مولانا صاحب پپو کے والدین سے بات کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ مولانا صاحب پپو کے والدین کو سمجھاتے ہیں کہ پپو کو علاج کی ضرورت ہے۔

سر شام ہی پپو کے والدین جامعہ اشرفیہ پہنچ جاتے ہیں۔ مولانا صاحب سے ملاقات کے بعد پپو کے والدین، پپو کو وہیں نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں اور ان کے چہروں پہ امید کی کرن جاگ اٹھتی ہے کہ شاید پپو کبھی سدھر جائے۔ مولانا صاحب اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں وِلنگ ویز یا صداقت کلینک جانے کیلئے کہتے ہیں۔ چھ ماہ بعد پپو نشہ چھوڑ بحالی اور خوشحالی کی منزلیں طے کرنا شروع کر دیتا ہے۔

آگے پڑھنے کیلئے جائیے لنک-47 پر۔

بھاگ پپو بھاگ

جب بھاگنے کا شوق من میں انگرائیاں لیتا ہے

اس گھناؤنے کھیل میں پپو کی کوشش یہیں پر اختتام پذیر ہوتی ہے ، یہ کوشش بار آور ہوئی یا نہیں، اس کا فیصلہ آپ خود کریں گے۔ آپ کو پپو کا پوشیدہ راز تو معلوم ہی ہے۔آپ کو پپو کے بھاگنے کی وجوہات بھی معلوم ہیں۔

کیا پپو کے اس مسئلے کا حل سڑک پر تھا؟

اگر آپ دوبارہ نئے سرے سے کھیل کھیلنا چاہتے ہیں تو ایک کوشش اور کر کے دیکھ لیجئے، اس مرتبہ پپو کے مسائل کیلئے مختلف حل پسند کیجئے گا۔یہ ایک بہت بڑی سہولت ہے جو عام طور پر گھر سے بھاگنے والے پپو جیسے لوگوں کو حاصل نہیں ہوتی۔

جب ایک نوجوان گھر سے بھاگتا ہے اور پھر سیکس ورکر بن جاتا ہے یا پھر وہ ایک مجرم بن کر جیل میں پہنچ جاتا ہے یا پھر وہ اٹھارہ سال کی عمر میں ہی جانوروں کی طرح کام کرنے لگ جاتا ہے تاکہ وہ اپنے بل ادا کر سکے اور اپنا خرچہ اُٹھا سکے یا پھر وہ نشے کی ادویات استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے یا اسے ایڈز ہو جاتی ہے یا پھر وہ اپنی زندگی ختم کرلیتا ہے۔ ان سب حالات میں اس کے پاس ایسی کوئی آپشن نہیں کہ اگر حل اس کی مرضی کا نہیں نکلا تو وہ کتاب کو دوبار ہ سے پڑھنا شروع کر دے۔ ہماری اصل زندگی کا انحصار ہمارے اعمال پر ہوتا ہے۔یہ ناممکن ہے کہ اس خوف اور تکلیف کو دوبارہ پیدا کیا جا سکے جس کا سامنا ایک گھر سے بھاگے ہوئے نوجوان کو سڑک پر ہوتا ہے، یہ آخری موقع ہوتا ہے سڑک پر آپ کو نہیں معلوم کہ خطرہ کس سمت سے آپ کی طرف بڑھے گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس قدر مضبوط اعصاب کے مالک ہیں یا آپ کتنے عقل مند ہیں یا کتنی آسانی سے آپ اپنے آپ کو پریشانی سے نکال سکتے ہیں۔ جب ایک نوجوان اپنی طاقت اور دوسروں کی مدد کے بل بوتے پر سڑک پر نکلتا ہے جیسا کہ اورنوجوان بھی کرتے ہیں اور جیسا کہ پپو نے بھی کیا۔ اس سے بڑی کوئی اور انہونی طاقت پہلے سے موجود ہوتی ہے جو آپ سے بڑی ، آپ سے زیادہ ہوشیار اور آپ سے زیادہ منہ زور ہوتی ہے اور جس کا سامنا کرنے پر تو آپ کے ہاتھوں کے طوطے ضرور اُڑ جاتے ہیں۔ اس کتاب میں باہر کی دنیا میں آپ کے لیے غصے، نشے،

ملال اور بیماری کے بہت زیادہ مواقع ہیں جو ہر وقت آپ کی زندگی کی خوشیوں کے ساتھ تصادم میں رہتے ہیں اور بسا اوقات صرف اپنے آپ کو سڑک سے ہٹا لینا ہی وہ واحد قدم ہے جو آپ کو ایک مطمئن زندگی کی طرف لوٹا سکتا ہے۔

مگر یہ صرف ایک کتاب ہے حقیقی دُنیا میں عین اس وقت ایسے نوجوان ہوں گے جو گھر سے بھاگنے کے بارے میں سوچ رہے ہوں گے ۔ ہر ایک کے پاس اپنا پوشیدہ راز ہے وہ نہیں جانتا ہے کہ اب اسے کیا کرنا ہے؟ ابھی بھی جیسا کہ آپ یہ کتاب پڑھ رہے ہیں، کچھ نوجوان اپنا سامان باندھ رہے ہیں، کچھ ایسے نوجوان پہلے سے ہی آبروریزی کا شکار ہوتے ہیں، کچھ تشدد کا شکار ہوتے ہیں، کچھ کے گھر والے نشے کے عادی ہوتے ہیں، کچھ کو سوتیلے پن کے مسائل درپیش ہوتے ہیں، کچھ کو والدین سے مسائل ہوتے ہیں، ان میں سے کچھ کے والدین اصلی نہیں ہوتے، کچھ جذباتی طور پر پریشان ہوتے ہیں، کچھ نشئی ہوتے ہیں، کچھ کو سکول پسند نہیں ہوتا، کچھ کو پابندیوں پر اعتراض ہوتا ہے، کچھ اپنا مؤقف ثابت کرنا چاہتے ہیں ، کچھ اپنے والدین کو سزا دینا چاہتے ہیں اور کچھ کو شوقیہ خطرہ مول لینے کی عادت ہوتی ہے۔ کچھ صرف کھڑکیاں، دروازے توڑتے ہیں، کچھ موٹر سائیکل کا پہیہ اوپر اُٹھاتے ہیں، پھر جب خراب نتائج حاصل کرتے ہیں تو پھر گھر جانے سے کتراتے ہیں۔ کسی بھی نوجوان کا گھر سے بھاگنے کا جو بھی جواز ہو یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سڑک پر نکل کر جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ یقیناًان پریشانیوں سے بڑی ہوتی ہیں جن کا سامنا گھر میں رہتے ہوئے ہوتا ہے۔ وہ نوجوان جن کو گھر میں جسمانی تشدد کا سامنا ہوتا ہے سڑک پر پہنچ کر وہ اس قدر جسمانی اذیت کا سامنا کرتے ہیں کہ قومے میں پہنچ جاتے ہیں۔

ایسے نوجوان جو گھروں میں آبرو ریزی کا شکار ہوتے ہیں، سڑک پر پہنچ کر انہیں اس تلخ تجربے میں سے باربار گزرنا پڑتا ہے کیونکہ اس کے بغیر ان کا زندہ رہنا مشکل ہوتا ہے۔ سڑک اور نشے کی ادویات جو کہ سڑک پر نکلنے والے ہر نوجوان کا مقدر بنتی ہیں کسی بھی نوجوان کی شخصیت کو کچھ ہی دنوں میں بالکل مسخ کر دیتی ہیں۔ ہمیں ایک پولیس افسر شفقات چوہدری نے بتایا ’’اگر پہلے دو ہفتوں میں آپ کسی گھر سے بھاگنے والے نوجوان تک نہیں پہنچ سکے تو اس کام میں مزید پیش رفت کی ضرورت نہیں، بہتر ہے اس کو بھول جائیں۔۔۔‘‘ شفقات چوہدری گھر سے بھاگنے والوں پر تحقیق کرتے رہے ہیں اور اس سلسلے میں صداقت کلینک میں زیر علاج مریضوں سے بھی ملتے رہے ہیں۔

فورٹ روڈ ،داتا دربار اور رائل پارک کے اردگرد گزارے ہوئے دو ہفتے کسی کی پوری زندگی پر بھاری ہیں۔ کوئی نوجوان خبطی بڑبولا بنتا ہے یا اس پر ہر وقت مُردنی سی چھائی رہتی ہے یا ہیروئن کے بدلے جسم فروشی شروع کر دیتاہے، اس سب کے لیے 14 دن کافی ہیں، وہ کس حالت کو پہنچتا ہے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس نے کون سا راستہ اپنایا؟

پولیس افسر کی رائے کے باوجود میں اور میرے ساتھیوں نے پیش رفت جاری رکھی اور نوجوانوں کو سڑکوں پر بے یارو مدد گار چھوڑنے سے انکار کر دیا۔گھر سے بھاگے ہوئے نوجوانوں کے حوالے سے میرے طویل تجربے کی وجہ سے مجھے پتہ ہے اگر کوئی نوجوان گھر سے بھاگ جائے اور پھر وہ ان بدمعاش، قابلِ نفرت نفسیاتی قاتلوں سے جان بچا کر کسی نہ کسی طریقے سے گھر پہنچ بھی جائے تو اس کی معقول وجہ یہ نہیں ہوگی کہ وہ بہت عقلمند ہے یا وہ بہت اچھے گھرانہ سے تعلق رکھتا ہے، اس کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ نوجوان یقیناًبہت خوش قسمت ہے۔ اکثر اوقات اُس کی خوش قسمتی کا انحصار کسی نہ کسی پروفیشنل مداخلت پر ہوتا ہے جو کسی کاؤنسلر کی طرف سے ملتی ہے جس میں اُن کا اولین مقصد اُس نوجوان کی زندگی بچانا ہوتا ہے۔

صداقت کلینک میں اپنے کام کے دوران میں بہت تواتر سے لوکل سکولوں، مسجدوں اور نوجوانوں کے اجتماعات میں شرکت کرتا رہا ہوں اور انہیں گھر سے بھاگنے کے خطرات سے آگاہ کرنے کے علاوہ ضروری مشورے اور لٹریچر فراہم کرتا رہا ہوں۔کسی بھی کلاس روم یا ہال میں نوجوانوں کے ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر میں اُن سے یہ سوال ضرور کرتا ہوں۔ ’’یہاں اس ہجوم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو بھاگنے کے بارے میں سوچتے ہیں؟‘‘چاہے وہ نوجوان کسی خستہ حال کلاس روم میں مردہ دلی سے بیٹھے ہوں یا کسی اعلیٰ درجے کے پرائیویٹ سکول میں بیٹھے ہوئے نوجوان ہوں، میں اُن کے اوپر اُٹھے ہوئے ہاتھوں کے سمندر کے درمیان اُن کے چہروں کو جانچنے کی کوشش کرنے لگتا ہوں تاہم میں نے اس خیال کو فوراً ہی جھٹک دیتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ دو ہفتے باہر سڑک پر رہنے سے یہ معصوم چہرے کس قدر گھناؤنے دلّال بن سکتے ہیں۔

میں جانتا ہوں ان کے ہاتھ ہوا میں کیوں ہیں؟
یہ نوجوان بالکل میری طرح ہیں جب میں بھی اُن کی عمر میں تھا، سڑک کی زندگی کو ایک بہادر انہ مہم سمجھتا تھا۔ لیکن ایک چیز جس نے مجھے ششدر کر دیا، جب میں ایک کاؤنسلر کی طرح کام کر رہا تھا اور ایک دفعہ ایک ویران عمارت میں پناہ لینے والے نوجوانوں میں بریانی کے پیکٹس بانٹ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ یہ گھروں سے بھاگنے والے نوجوان مطمئن تو بالکل نہیں تھے، نہ ہی یہ صاف ستھرے تھے، یہ جسمانی طور پر لاغر اور بیمار تھے، سب کے سب نشئی تھے اور دنیا کے غمگین ترین لوگ تھے۔ ان میں سے بہت سوں نے وہیں سے سفر کاآغازکیا تھا جہاں پر میں نے بہت سارے اُن بچوں کو اپنے سامنے ہاتھ اُٹھائے دیکھا تھا جو کہنا چاہ رہے تھے کہ ہم نے بھی گھر سے بھاگنے کا ارادہ کر رکھا ہے۔

ایک صبح اشراق سے کچھ پہلے، مجھے اور میرے ساتھی کو ایک خوفزدہ گھر سے بھاگے ہوئے نوجوان کی طرف سے ایک کال موصول ہوئی۔ عزیز وائن نامی یہ نوجوان لاری اڈہ بادامی باغ سے بات کر رہا تھا اور کچھ دیر پہلے ہی مظفرآباد سے پہنچا تھا۔ ہم جلدی سے بس اڈہ پر پہنچے۔ وہ پندرہ سال کا نوجوان تھا اور گھر سے اس لیے بھاگا تھا کیونکہ اُس کی ماں نے دوسری شادی کر لی تھی وہ اپنے سوتیلے باپ کو یہ فقرہ کہہ کے بھاگا تھا، ’’تم میرے باپ نہیں ہو، تم مجھے یہ نہیں بتا سکتے کہ مجھے کیا کرنا ہے؟‘‘

جب عزیز وائن جیسے نوجوان گھروں سے بھاگتے ہیں، اس کام پر اتنی زیادہ توجہ دے رہے ہوتے ہیں کہ وہ اس بارے میں بالکل سوچتے ہی نہیں کہ وہ کہاں جا رہے ہیں، وہ کیا کریں گے اور جب انہیں بھوک لگے گی تو وہ کیا کھائیں گے؟

مظفر آباد سے لاہور پہنچنے میں عزیز وائن کو دو دن اور دو راتیں لگیں اور جب بس اڈے پرپہنچا تو اُسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ بس اڈے پر سیکورٹی گارڈ نے عزیز کو ہمارے دفتر کا نمبر دیا۔

میں اور میرے ساتھی نے عزیز وائن کو وین میں بٹھایا اور شیلٹر میں لے جاتے ہوئے جان بوجھ کر ہم لاہور کے ایسے علاقوں سے گذر ے تا کہ عزیز وائن اُن بوسیدہ حال لوگوں کا جائزہ لے سکے جو گھروں کا سکون چھوڑ کر سڑک پر آگئے تھے اور اب چھتوں کے بغیر زندگی گزار رہے تھے۔ عزیز وائن کیلئے یہ دلدوز مناظر بہت سے لیکچرزسے زیادہ قائل کرنے والے تھے اور یہ سب دیکھنے کے بعد شاید وہ دوبارہ گھر سے بھاگنے کا ارادہ کبھی کرے ہی نا۔ اسی طرح سے یہ کتاب صرف تعلیم نہیں دیتی نہ ہی دھمکاتی ہے۔ یہ کتاب صرف گھر سے بھاگنے والوں کی ایسی حقیقت آشکارکرتی ہے، جو کہ اصل زندگی کے تجربات پر مشتمل ہے۔

جیسے ہی میں نے کہانیوں کا یہ گلدستہ تیار کیا۔ اس کی تیاری میں سب سے مشکل سوال یہ تھا کہ حقیقت سے کس قدر پردہ اُٹھایا جانا چاہیے؟ اور دوسری طرف میرے ذہن میں یہ خیال بھی تھا کہ اگر میں نے کچھ چھپایا تو کیا بات بن پائے گی؟ یہ ایک پریشان کُن عمل تھا، مجھے امید ہے کہ میں نے حقیقت کی صحیح تصویر کشی کی ہے، اتنی جس سے کہ کسی کو نقصان نہ پہنچے لیکن نوجوان ان سب حادثوں سے سچ مچ دوچار ہونے سے بچ سکیں گے۔

سڑکوں پر دربدر گزاری ہوئی زندگی لڑکیوں کیلئے لڑکوں کی نسبت اور بھی گھناؤنی ہے۔لڑکیاں ہر صورت عدم تحفظ کا شکار رہتی ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ گھر سے بھاگ کر کہاں پہنچتی ہیں۔ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کیلئے ایک بات تو یکساں ہے کہ وہ سب اُن حالات کو بدلنا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے وہ گھر سے بھاگے تھے۔

لیکن یہ کتاب آپ کو بتاتی ہے کہ ان مسائل کا حل سڑکوں پرہرگز موجود نہیں ہے۔ تو آخر پھر ان مسائل کا حل کہاں ہے؟ یہ کتاب بتاتی ہے کہ ایک نوجوان اپنے اس مسئلے کا کیا کرسکتا ہے؟ا س کا آسان جواب یہ ہے کہ وہ کسی سے کہہ سکتے ہیں۔
کسی سے بات کرنا نوجوانوں کو بہت پریشان کر دیتا ہے۔ یہ قدرتی بات ہے، اگر جو کچھ ہو رہا ہے، اس سب کے بارے میں بات کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو وہ پہلے ہی ایسا کر چکے ہوتے۔ ان کی اس گھبراہٹ کو سمجھتے ہوئے میں دوبارہ مشورہ دوں گا کہ وہ بات کرنے کیلئے کسی نہ کسی کا انتخاب ضرور کریں اور اس عمل میں وہ انتہائی احتیاط برت سکتے ہیں۔ بہت سے نوجوان جو گھر سے بھاگتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے کسی سے بات کر کے دیکھا تھا۔ پھر اُس شخص نے کیا کیا؟
کچھ نہیں.. کچھ بھی تو نہیں

کیوں نہیں؟ کیونکہ وہ ملوث نہیں ہونا چاہتے تھے۔ وہ سوچتے تھے کہ اگر وہ بات کو ٹال دیں گے تو نوجوان خود ہی اپنا ارادہ بدل دے گا۔ وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں کیونکہ وہ فیملی کے ساتھ کسی قسم کے ناگوار تعلقات پیدا نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ انہیں یقین نہیں ہوتا کہ یہ نوجوان سچ بول رہا ہے یا پھر وہ نہیں جانتے کہ ان مسائل کو کیسے سلجھایا جا سکتا ہے؟ اُن کا رویہ واضح ہوتا تھا جیسا کہ وہ کہنا چاہ رہے ہوں ’’یہ مسئلہ کسی اور کو حل کرنا چاہئیے۔‘‘

ذرا سوچئے کہ جب آپ یہ کہیں کہ آپ کے والدین میں سے کوئی ایک نشے کا مریض ہے یا آپ کو پیٹتا ہے یا آپ کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے، تو وہ کچھ نہیں کرتا۔ اس سے کتنی اذیت پیدا ہوتی ہے۔ ایسا ہوتارہتا ہے۔ بہت سے نوجوان پہلے ہی دنیا کی طرف سے ناامید ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی اُن کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔

ایک نوجوان کو اپنے خاندان یا کمیونٹی میں ایسے شخص کو ڈھونڈنا چاہئیے جو کہ واضح طور پر دردِ دل

رکھتا ہو اور وہ اس پوزیشن میں ہو کہ وہ ہر حالات میں آپ کی مدد کر سکے اور وہ آپ کی مدد کرنا بھی چاہتا ہو۔ اسکے علاوہ اگر کوئی بھی نوجوان 111-111-347پر کال کرے تو اسے ہمیشہ مفید مشورے کے لیے ایک ماہر نفسیات انتظار کرتا ہوا ملے گا۔

اگر نوجوان موڈی اور اپنی من مانی کرنے والا ہوگا تو پھر اُس کے مسائل سلجھانے کیلئے خودبخود کوئی آگے نہیں بڑھے گا۔ اپنے مسائل کو سلجھانے کیلئے نوجوان کو ازخود آگے بڑھ کر کسی سے بات کرنا ہوگی۔

اگر آپ کسی کو اپنے مسائل کے بارے میں بتائیں گے تو ہو سکتا ہے وہ یقین نہ کرے اور اس وجہ سے آپ کو جھوٹا اور گڑبڑی سمجھا جائے لیکن سوچئے کہ سچ کون بول رہا ہے؟

اپنی کوشش جاری رکھئے جب تک کہ آپ کو کوئی سچ مچ مدد فراہم نہ کر دے۔

آپ کس کو بتا سکتے ہیں؟ اگر آپ ایک نوجوان ہیں تو اُس وقت تک اس کتاب کو بند نہ کریں جب تک کہ آپ سوچنا شروع نہ کرلیں کہ آپ اپنے مسائل کے حوالے سے کس سے بات کریں گے؟ کس کو بتائیں گے کہ آپ گھر سے کیوں بھاگنا چاہتے ہیں؟
آخر وہ کون ہو سکتا ہے؟
آپ کے کالج کا کوئی ٹیچر؟
کوئی کاؤنسلر ہے؟
کوئی امام ہے؟ آپ کی مسجد کا کوئی نمازی۔
آپ کا کوئی رشتہ د ار، کوئی خاندانی دوست گھر سے بھاگے ہوئے بچوں کی ہاٹ لائن کا کاؤنسلر؟

بچوں پرتشدد کی ہاٹ لائن کا کاؤنسلر یا کوئی اور؟

اس کے بارے میں سوچئے..اس کے بارے میں ابھی سوچئے اور اگر آپ کوئی بڑی عمر کے فرد ہیں تو کوشش کیجئے کہ آپ ان لوگوں میں شامل ہو جائیں جو اُن نوجوانوں کو سڑکوں پر بھٹکنے سے پہلے ہی مدد فراہم کر دیتے ہیں۔ بہت سے افراد نوجوانوں کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ وہ اسے نوجوانوں کا ڈرامہ سمجھتے ہیں۔ کبھی کبھار یہ صرف ٹوپی ڈرامہ ہوتا ہے لیکن بہت سے نوجوان گھروں سے بھاگتے ہیں۔ کچھ زندہ نہیں بچتے، کچھ گھر نہیں لوٹتے اور کوئی بھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔